کمراٹ کا آخری کافر حکمران ڈاڈول باچا، جنہوں نے چترال میں پناہ لی
A.I depiction of Dadol Bacha
تحریر: عمران خان آزاد
سوات توروال سے تعلق رکھنے والے معروف اسکالرز سر زبیر توروالی، آفتاب احمد انجیل اور دیگر ساتھی ہر سال موسمِ گرما میں کمراٹ ویلی کا رخ کرتے ہیں۔ اب تک ہم کمراٹ ویلی، جاز بانڈہ اور اس کے گردونواح کے تقریباً تمام قابلِ ذکر مقامات دیکھ چکے ہیں۔ چنانچہ اس مرتبہ جب موسمِ گرما میں ان کی آمد ہوئی تو بطورِ میزبان میرے ذہن میں سوال یہ تھا کہ اب انہیں کہاں لے جایا جائے، کیونکہ بالائی کمراٹ ویلی کو چھوڑ کر تقریباً تمام معروف علاقے وہ پہلے ہی دیکھ چکے تھے۔
آخرکار خیال آیا کہ کیوں نہ خزان کوٹ کا رخ کیا جائے۔
خزان کوٹ کمراٹ ویلی کے مشہور مقام دوجنگا کے قریب واقع ایک تاریخی مقام ہے۔ مقامی روایات کے مطابق یہ وہ جگہ ہے جہاں ڈاڈول باچا نے پناہ لی تھی۔ اسی خزان کوٹ کے قریب واقع بتوٹ کے میدان میں مقامی گاؤری لوگوں نے اپنی دھرتی اور اپنے قدیم عقائد کے تحفظ کے لیے اپنی آخری اور فیصلہ کن جنگ لڑی تھی۔
یہ بھی پڑھیے: جب نواب آف دیر کے مظالم سے بھاگنے والی جوڑی کو چترال میں پناہ نہ ملی
بالآخر یہی فیصلہ ہوا اور ہم لوگ آبشار میں واقع اپنے ہوٹل سے نکل کر سیدھا دوجنگا کی طرف روانہ ہوگئے۔
دوجنگا جانے والی سڑک انتہائی خراب حالت میں تھی، لیکن ہم کسی نہ کسی طرح وہاں پہنچ گئے۔ چند سال قبل یہاں تقریباً کچھ بھی نہیں تھا، البتہ اب ایک دو ٹینٹ ہوٹل بن گئے ہیں۔ ہوٹل پہنچ کر ہم نے گاڑی وہیں پارک کی، چائے وغیرہ پی اور پھر پیدل خزان کوٹ کی طرف بڑھنے لگے۔
خزان کوٹ کا جغرافیائی محلِ وقوع
خزان کوٹ دوجنگا سے آگے، کونڈل جھیل اور شازور جھیل کی طرف سے آنے والی ندیوں کے درمیان واقع ایک گھنے جنگل میں موجود مقام ہے۔ دفاعی نقطۂ نظر سے یہ ایک نہایت اہم جگہ ہے۔ اس مقام سے ایک راستہ دائیں جانب کونڈل جھیل کی طرف جاتا ہے اور پھر آگے شندور پاس سے ہوتا ہوا غذر، گلگت بلتستان تک پہنچتا ہے، جبکہ دوسرا راستہ بائیں جانب تھالو پاس اور کاشکین پاس سے ہوتا ہوا چترال کے لاسپور تک جاتا ہے۔
آج اگرچہ یہاں سوائے پتھروں اور چند بکھرے ہوئے آثار کے بظاہر کچھ زیادہ باقی نہیں، لیکن مقامی روایات کے مطابق ماضی میں یہاں مشہور و معروف ڈاڈول باچا کا قلعہ ہوا کرتا تھا۔
اگر ڈاڈول باچا کو کمراٹ ویلی کا آخری مقامی غیر مسلم راجا کہا جائے تو شاید غلط نہ ہوگا، کیونکہ مقامی روایات کے مطابق کمراٹ ویلی کے بالائی علاقوں پر حکمرانی کرنے والا وہ آخری مقامی حکمران تھا۔
یوسفزئی حملے اور مقامی لوگوں کی نقل مکانی
مقامی روایات کے مطابق پندرہویں صدی عیسوی میں جب یوسفزئی قبائل نے زیریں دیر، سوات اور باجوڑ کے میدانوں پر حملہ کرکے وہاں قبضہ کیا تو مقامی داردی النسل گاؤری لوگوں میں سے جو لوگ مسلمان ہوگئے، وہ وہیں رہ گئے، جبکہ باقی لوگوں نے شمال کے برف پوش پہاڑوں میں پناہ لی۔
شمال کے دوسرے پہاڑی علاقوں کی طرح گاؤری لوگوں نے کمراٹ ویلی کے پہاڑوں میں بھی پناہ لی اور یہاں آباد ہوگئے۔

مقامی روایات کے مطابق کئی نسلوں تک یہ لوگ دنیا سے الگ تھلگ ان پہاڑوں میں امن سے آباد رہے، یہاں تک کہ حملہ آور یہاں بھی پہنچ گئے۔ یہ حملہ آور مقامی لوگوں کے دیہات پر حملے کرتے، لوگوں کو قتل کرتے اور مال مویشی، کمسن لڑکے اور جوان لڑکیوں سمیت جو کچھ ہاتھ لگتا، اٹھا کر واپس چلے جاتے۔
حملہ آوروں کے آئے روز کے حملوں کی وجہ سے مقامی لوگوں نے دریا کے کنارے واقع اپنے گاؤں اور دیہات چھوڑ کر بلند پہاڑی ڈھلوانوں پر قلعہ نما گھر اور بستیاں تعمیر کرنا شروع کردیں۔
یہ بھی پڑھیے: داردی لوگوں کی کہانی
اس زمانے میں آج کی طرح بندوقیں موجود نہیں تھیں۔ تلوار، نیزہ، تیر، کمان، کلہاڑی اور پتھر بنیادی ہتھیار ہوا کرتے تھے۔ بلند اور دشوار گزار پہاڑی ڈھلوانوں پر منتقل ہونے کا بنیادی مقصد خود کو حملہ آوروں کے حملوں سے محفوظ رکھنا تھا۔
اسی حوالے سے مشہور امریکی ماہرِ بشریات لنکن کائزر نے اپنی تحقیق میں ایک مقام پر لکھا ہے:
مقامی روایات کوہستان میں یوسفزئی حملہ آوروں کی آمد سے قبل موجود عمومی سیاسی بے چینی کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ لوٹ مار کے خواہش مند حملہ آوروں اور زمین و مویشیوں کے حصول کے لیے کوشاں لالچی ہمسایوں سے تحفظ کے لیے بستیاں بلند پہاڑوں میں ایسے ناقابلِ رسائی نشیبی مقامات، گھاٹیوں، پہاڑی کنگروں اور چھوٹے سطح مرتفع علاقوں میں پھیلی ہوئی تھیں، جن کے کچھ باقی ماندہ آثار آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔
ہر برادری اپنی دفاعی ذمہ داری خود ادا کرتی تھی، تاہم باہمی تحفظ کے لیے ہمسایہ برادریوں کے ساتھ سیاسی اتحاد بھی قائم کرتی تھی۔ موجودہ تھل کے اوپر وادی کے دونوں اطراف واقع پہاڑی دیہات خطرے کی آمد پر دھوئیں کے ذریعے ایک دوسرے کو خبردار کرتے اور قریب آنے والے حملہ آوروں کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہوجاتے تھے۔
Death Enmity in Thull، صفحہ 7
ڈاڈول باچا کی طرف بڑھتا ہوا خطرہ
مقامی روایات کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ حملہ آور زیریں علاقوں پر قابض ہوتے گئے اور مقامی لوگوں کو بزورِ طاقت اپنے عقائد تبدیل کرنے پر مجبور کیا گیا۔ ایک وقت ایسا آیا کہ زیریں علاقوں میں قدیم عقائد کے ماننے والے بہت کم رہ گئے اور بالائی علاقوں پر بھی حملہ آوروں کا دباؤ بڑھنے لگا۔
بالائی علاقوں میں آباد بچے کھچے قدیم عقائد کے پیروکاروں پر جب حملہ آوروں کا دباؤ بڑھا تو مقامی روایت کے مطابق ڈاڈول باچا نے کمراٹ ویلی کے جنگل کے اندر واقع خزان کوٹ میں پناہ لینے کا فیصلہ کیا۔
یہ بھی پڑھیے: چترالی غلام جس نے 1872 میں لندن کا سفر کیا
مقامی سفید ریش بزرگوں کے بقول ڈاڈول بالائی علاقوں کا آخری مقامی غیر مسلم حکمران تھا جو اس پورے علاقے پر بلا شرکتِ غیرے حکمرانی کرتا رہا، اس لیے اسے باچا کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد کوئی مرکزی حکمران نہیں رہا، البتہ ہر گاؤں اور ہر قبیلے کے اپنے اپنے سربراہ موجود تھے جنہیں راجا کہا جاتا تھا۔
ڈاڈول باچا اور کمراٹ کے تین بڑے قبائل
ایک سیاح، راحیل احمد صدیقی، نے 2014ء میں کمراٹ ویلی کا دورہ کیا تھا۔ اپنے اس سفر کے دوران انہوں نے مقامی لوگوں سے مقامی قبائل اور ان کے آخری غیر مسلم حکمران کے بارے میں معلومات جمع کیں، جنہیں انہوں نے انگریزی اخبار “دی نیوز” میں
“In Search of King Dodol’s Treasure”
کے عنوان سے شائع کیا۔
اپنے اس سفرنامے میں راحیل احمد صدیقی لکھتے ہیں:
“ہماری پہلی منزل ایک کھلے آسمان تلے قائم عارضی ریستوران تھا جہاں ہم نے مقامی طور پر تیار کیے گئے بسکٹ کے ساتھ چائے پی۔ محمد دین، جو سابق مقامی کونسلر تھے اور جنہوں نے گزشتہ رات ہمیں گاوری زبان میں دلکش لوک کہانیاں سنا کر محظوظ کیا تھا، نے اپنے قبیلے کی ابتدا اور ڈاڈول بادشاہ نامی حکمران کے بارے میں ایک اور داستان سنانے کے لیے وقت نکالا۔”
محمد دین نے اپنی روایت بیان کرتے ہوئے کہا:

“قدیم زمانے میں اس [کمراٹ] وادی میں تین بھائی رہتے تھے۔ سب سے بڑے کا نام میر، درمیانے کا نام سیل اور سب سے چھوٹے کا نام شوٹ تھا۔ ہر بھائی سے ایک خیل یا قبیلہ وجود میں آیا۔ چنانچہ میروار میر کی اولاد ہیں، سیلور سیل کی اولاد ہیں اور مینسکول خیل سب سے چھوٹے بھائی شوٹ کی اولاد ہے۔
روایتی طور پر سیلور اور مینسکول آپس میں شادیاں کرتے ہیں، زیادہ غالب حیثیت رکھتے ہیں اور پُرامن طور پر ایک ساتھ رہتے ہیں۔ لیکن میروار کو دوسرے دونوں خیل کمتر سمجھتے ہیں اور وہ سماجی و معاشی طور پر حاشیے پر ہیں۔
ان کے مطابق یہ تینوں خیل قدیم عقائد کے پیروکار تھے اور ڈاڈول نامی بادشاہ کی حکمرانی میں رہتے تھے۔ انہوں نے وادی کے تمام نمایاں مقامات پر بستیاں قائم کر رکھی تھیں اور ایک مطمئن زندگی گزار رہے تھے۔”
ان کے بیان کردہ قصے میں اگرچہ ان تین بڑے قبائل کو آپس میں تین بھائی بتایا گیا ہے، لیکن جدید تحقیق اس بات کی نفی کرتی ہے۔ اس وقت یہاں صرف یہ تین بھائی آباد نہیں تھے بلکہ ان کے ہم نسل بہت سے دوسرے لوگ بھی یہاں آباد تھے۔ تاہم، جیسا کہ اس خطے میں قبائلی و سماجی نسبت کا ایک رواج رہا ہے، یہاں آباد مختلف خاندان اور گروہ وقت کے ساتھ انہی تین بڑے بھائیوں سے منسوب ہوتے گئے اور آج بھی ان تینوں کو اپنا جدِ امجد ماننے کی روایات موجود ہیں۔
حملہ آوروں کی آمد
راحیل احمد صدیقی آگے چل کر افغان حملہ آوروں کے حملوں کے بارے میں لکھتے ہیں:
“لیکن وادی کا امن دیر کے میدانی علاقوں سے آنے والے مسلمان حملہ آوروں کی لوٹ مار پر مبنی کارروائیوں سے متاثر ہوا، جن کے چھاپہ مار حملوں نے ڈاڈول کے لوگوں میں شدید خوف و ہراس پیدا کردیا۔”
اس کے بعد محمد دین نے حملہ آوروں سے نمٹنے کے لیے مقامی لوگوں کی حکمتِ عملی کے بارے میں بتایا:
چنانچہ دین نے مزید بتایا: “انہوں نے اس بڑھتے ہوئے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک نئی حکمتِ عملی اختیار کی۔ جیسے ہی حملہ آور نظر آتے، وادی کے داخلی راستے پر قائم نگرانی کی چوکی سے دھوئیں کے ذریعے سگنل دیا جاتا۔ تمام صحت مند اور جنگ کے قابل مرد، تلواروں، پتھروں، کمانوں اور تیروں سے مسلح ہوکر وادی کی طرف دوڑتے اور حملہ آوروں کی پیش قدمی روکنے کی کوشش کرتے، جبکہ باقی آبادی جنگل میں فرار ہوجاتی اور خطرہ ٹلنے تک چھپی رہتی۔”
یہ بھی پڑھیے: بیرا خان: گلگت سے تعلق رکھنے والا غلام جس نے دس ریاستوں کا سفر کیا
راحیل احمد صدیقی مزید لکھتے ہیں:
انہوں نے بتایا کہ حملہ آوروں کے ہر نئے حملے کے ساتھ قدیم قبائل کی بستیاں مسلمانوں کے قبضے میں جاتی رہیں، جو یا تو گرفتار کیے گئے لوگوں کو مسلمان کرتے یا انہیں قیدیوں (یا غلاموں) کی حیثیت سے میدانی علاقوں کے اپنے شہروں میں لے جاتے۔ انہوں نے مزید کہا: “وقت گزرنے کے ساتھ تمام بستیاں حملہ آور مسلمانوں کے قبضے میں چلی گئیں اور تینوں خیل مسلمان ہوگئے۔”
یہ بات مقامی روایات سے مطابقت رکھتی ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا، مقامی قبائل میں سے بہت سے لوگوں کو جب بزورِ طاقت مسلمان کیا گیا تو ڈاڈول باچا بچے کھچے قدیم عقائد کے ماننے والوں کو اپنے ساتھ لے کر زیریں علاقہ چھوڑنے اور کمراٹ کے گھنے جنگل میں پناہ لینے پر مجبور ہوا۔
خزان کوٹ: ڈاڈول کی آخری بستی
راحیل احمد صدیقی اس بارے میں مزید لکھتے ہیں:
کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔ دین نے سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا: “ڈاڈول بادشاہ کی سلطنت بالآخر وادی کی آخری بستی، جسے خزان کوٹ کہا جاتا تھا، تک محدود ہوگئی۔ بادشاہ اور اس کے لوگوں نے اس بستی کا اچھی طرح دفاع کیا۔ مسلمانوں کی یلغار رک گئی، لیکن چونکہ یہ بستی سارا سال برف سے ڈھکی رہتی تھی، اس لیے یہاں زندگی کے حالات انتہائی دشوار تھے۔”
راحیل احمد صدیقی مزید لکھتے ہیں:
اس نے مزید بتایا کہ ایک دن بادشاہ ڈاڈول کی بیوی اور اس کی بیٹی جنگل میں لکڑیاں جمع کر رہی تھیں کہ ایک گزرتا ہوا کوّا، جو شمال میں واقع دروش (ضلع چترال) سے کمراٹ کی طرف پرواز کر رہا تھا، گندم کی ایک بالی کا ایک ٹکڑا (یا سرا) ان کے سامنے گرا گیا۔
انہوں نے گندم کی وہ بالی ڈاڈول کے پاس لے جاکر اصرار کیا کہ جس وادی کو انہیں چھوڑنے پر مجبور کیا گیا تھا وہ بہت زرخیز تھی، اور شمال میں جہاں سے یہ کوّا آیا ہے وہاں بھی زرخیز وادی ہے، لیکن جس جگہ (خزان کوٹ) میں وہ رہ رہے ہیں وہ انتہائی نامساعد ہے—وہاں فصلیں پیدا نہیں ہوسکتیں۔ لہٰذا ان کی زندگی انتہائی مشکل ہے اور بادشاہ کو اپنی رعایا کی فلاح کے لیے کچھ کرنا چاہیے۔
راحیل احمد صدیقی آگے لکھتے ہیں:
اس کے بعد دین نے کہا کہ ان کی جذباتی درخواستوں کا مطلوبہ نتیجہ نکلا۔ “اسی رات ڈاڈول نے اچانک اپنی قوم کو حکم دیا کہ اپنی تمام قیمتی اشیا سمیٹیں اور بستی چھوڑ دیں۔ اب خزان کوٹ برف کی حد سے اوپر، دو وادیوں کے سنگم پر واقع ہے۔ شمال مغرب کی طرف جانے والا راستہ چترال کے دروش کی جانب جاتا ہے، جبکہ دوسرا راستہ شمال مشرق کی طرف غذر کی جانب جاتا ہے۔ بادشاہ ڈاڈول نے اپنا کچھ خزانہ بستی میں دفن کیا اور اپنی قوم کو بائیں جانب والے راستے سے چترال کے ضلع دروش کی طرف لے گیا، جس کے بعد اس کی کوئی خبر نہیں ملی۔”
ڈاڈول کی بیٹیاں نیل اور میل
راحیل احمد صدیقی کی روایت کے مطابق:
“اندھیرے کی آڑ میں جلدی جلدی نقل مکانی کرتے ہوئے بادشاہ ڈاڈول غلطی سے اپنی دو بیٹیوں کو محل میں سوتا ہوا پیچھے چھوڑ گیا۔ جب بیٹیاں نیل اور میل صبح بیدار ہوئیں اور دیکھا کہ پورا قبیلہ بغیر کوئی نشان چھوڑے غائب ہوچکا ہے تو انہوں نے خود خطرہ مول لے کر اپنے بچھڑے ہوئے قبیلے کو تلاش کرنے کا فیصلہ کیا۔”
یہ بھی پڑھیے: نانو بیگال، چترالی لوک کہانی
راحیل احمد صدیقی مزید لکھتے ہیں:
اب دین کے مطابق نیل نے بائیں راستے کا انتخاب کیا اور غالباً اپنی قوم سے جاملیں، جبکہ میل نے دائیں راستے کا انتخاب کیا جو شندور پاس کے نیچے گلگت بلتستان کی غذر وادی کی طرف جاتا تھا، لیکن وہ راستہ بھٹک گئی۔
یہاں اس کہانی اور دوسری مقامی روایات میں قدرے فرق پایا جاتا ہے۔ اس روایت کے برعکس بعض مقامی روایات ڈاڈول باچا کی خزان کوٹ سے چترال کی طرف نقل مکانی اور اس کی بیٹیوں نیل اور میل کے پیچھے رہ جانے کی وجہ سخت موسم کے بجائے کچھ اور بیان کرتی ہیں۔
بتوٹ کی آخری فیصلہ کن جنگ
مقامی روایات کے مطابق جب حملہ آور زیریں علاقوں پر قابض ہوگئے تو آہستہ آہستہ خزان کوٹ کی طرف بھی بڑھنے لگے۔ آئے روز کے حملوں سے تنگ آکر ڈاڈول باچا اور اس کے رفقاء نے حملہ آوروں کے ساتھ آخری اور فیصلہ کن جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا۔
بٹوٹ خزان کوٹ سے نیچے واقع ایک سرسبز میدان کا نام ہے۔ مقامی سفید ریش بزرگوں کے مطابق ڈاڈول باچا نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا اور بتوٹ کے میدان میں حملہ آوروں کے سامنے کھڑے ہوگئے۔
اس وقت مقامی لوگ کلہاڑیوں اور تلواروں کے ساتھ ساتھ کاسوندور نامی درخت کی لکڑی سے بنے تیر اور نیزے استعمال کرتے تھے۔ مقامی لوگوں کے مطابق کاسوندور کی لکڑی ہلکی اور سخت ہوتی ہے۔ مقامی لوگ اس لکڑی سے نیزے اور تیر بناتے اور ان کے سروں کو آگ میں تپا کر اور رگڑ کر تیز کرتے تھے، جس سے وہ مضبوط اور نوکیلے ہوجاتے تھے۔
یہ بھی پڑھیے: جنگِ سکردو کی کہانی، کرنل مطاع الملک کی زبانی
مقامی لوگوں کے برعکس حملہ آوروں کے پاس نسبتاً بہتر اور مضبوط ہتھیار، یعنی لوہے کی تلواریں، تیر اور نیزے تھے۔ کم تعداد اور ناکافی اسلحے کی وجہ سے مقامی لوگ جلد ہی جنگ ہار گئے۔
مقامی سفید ریش بزرگوں کے بقول اس جنگ میں مقامی لوگوں کی ایک بڑی تعداد قتل ہوئی، جبکہ بچ جانے والوں کو مسلمان کیا گیا۔ گنتی کے چند لوگ بھاگنے میں کامیاب ہوئے، جن میں ڈاڈول باچا اور اس کے اہل و عیال سمیت کاش داد اور اس کی دو بیٹیاں بھی شامل تھیں۔
چترال کے حکمران سے مدد کی درخواست
سفید ریش بزرگوں کے بقول بتوٹ کی جنگ سے پہلے ڈاڈول باچا نے چترال کے مقامی حکمران کو مدد کا پیغام بھیجا تھا۔ تاہم چترال کے حکمران نے کوئی مدد بھیجنے کے بجائے انہیں چترال آنے اور اس کے ساتھ شامل ہوکر دروش کی حکمرانی کی دعوت دی تھی۔
بٹوٹ میں شکست کھانے کے بعد ڈاڈول باچا اپنے اہل و عیال سمیت تھالو پاس کے راستے چترال کی طرف بھاگ گیا، جبکہ کاش داد کاشکین پاس کے راستے چترال گیا۔

اس افراتفری میں ان کے کچھ بچے پیچھے رہ گئے، جن میں کاش داد کی دو بیٹیاں ایز گل اور روشن، جبکہ ڈاڈول باچا کی دو بیٹیاں نیل اور میل شامل تھیں۔
ایز گل، روشن، نیل اور میل کی روایات
مقامی لوک روایات کے مطابق کاش داد کی ایک بیٹی تھالو پاس جاتے ہوئے ایک مقام پر انتقال کرگئی، جبکہ دوسری بیٹی کونڈل جھیل سے آگے شندور اور غذر، گلگت بلتستان کی طرف جانے کی کوشش کے دوران راستے میں انتقال کرگئی۔
جہاں دونوں بہنوں کا انتقال ہوا، وہاں دو چراگاہیں آج بھی ان کے نام سے منسوب کی جاتی ہیں۔ تھالو پاس کی طرف واقع چراگاہ کو ایز گلو بانال، جبکہ کونڈل کی طرف واقع چراگاہ کو روشن بانال کہا جاتا ہے۔
اسی طرح ڈاڈول باچا کی بیٹیوں کے بارے میں روایت ہے کہ میل تھالو پاس کے راستے اپنے والد کے پیچھے چلتے چلتے چترال پہنچ گئی تھی، جبکہ دوسری بیٹی نیل نے کاش داد کی بیٹی روشن کی طرح تھالو پاس کے بجائے کونڈل جھیل اور آگے شندور پاس سے غذر، گلگت بلتستان جانے کی کوشش کی، لیکن راستے ہی میں ایک پتھر کے غار میں دم توڑ گئی۔
یہ بھی پڑھیے: بدھ مت کے قدیم ترین مخطوطے گلگت سے کیسے ملے اور ان پر جواہر لال نہرو نے کیوں ‘قبضہ’ کیا؟
نیل کی ہڈیاں ابھی کچھ سال پہلے تک کمراٹ سے شندور جانے والے ٹریک کے قریب ایک پتھر کے غار میں پڑی ہوئی تھیں۔ ممکن ہے کہ آج بھی وہاں موجود ہوں۔
اگرچہ نیل کا انتقال حالتِ کفر میں ہوا تھا، لیکن مقامی لوگ آج بھی اس کا ذکر بڑے احترام سے کرتے ہیں۔
راحیل احمد صدیقی ڈاڈول باچا کی بیٹیوں کے بارے میں مزید لکھتے ہیں:
“دین کے مطابق نیل نے بائیں راستے کا انتخاب کیا اور غالباً اپنی قوم سے جاملیں، جبکہ میل نے دائیں راستے کا انتخاب کیا جو شندور پاس کے نیچے گلگت بلتستان کی غذر وادی کی طرف جاتا تھا، لیکن وہ راستہ بھٹک گئی۔”

وہ مزید لکھتے ہیں:
وہ بھوک سے ہلاک ہوگئی اور اس کی (ممی شدہ) باقیات آج بھی غذر جانے والے راستے کے قریب ایک غار میں پڑی دیکھی جاسکتی ہیں۔ یہ غار جزوی طور پر پتھر کی ایک سل سے بند ہے اور وہاں سے گزرنے والے شکاری گروہ اور آوارہ چرواہے مسلسل ڈاڈول، کمراٹ کے آخری غیر مسلم بادشاہ، کی بیٹی میل کی باقیات دیکھنے کی اطلاع دیتے رہے ہیں۔
راحیل احمد صدیقی مزید لکھتے ہیں:
محمد دین کی جانب سے خیلوں کی ابتدا اور کمراٹ وادی سے بادشاہ ڈاڈول اور قدیم قبائل کے اچانک غائب ہوجانے کی داستان اس بات کی حیرت انگیز یاد دہانی ہے کہ بعض تاریخی حقائق جب داستان کی صورت میں بیان کیے جاتے ہیں اور نسل در نسل لفظ بہ لفظ منتقل ہوتے رہتے ہیں تو وہ بالآخر افسانوی روایات کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔
وہ مزید لکھتے ہیں:
چرواہوں نے گزشتہ سال غار میں میل کی ممی شدہ لاش دیکھنے کی اطلاع دی تھی۔ غار میں مٹی کے برتنوں کے ٹکڑے اور ‘لیگیر’ (گھی رکھنے کے لیے استعمال ہونے والے مٹی کے برتن کے لیے مقامی لفظ) بھی دیکھے گئے، جو غالباً تدفینی رسومات کے ایک حصے کے طور پر وہاں چھوڑی گئی ذاتی اشیا تھیں۔ سابق یو سی ناظم حضرت عمر نے مزید بتایا کہ مقامی لوگوں میں یہ مضبوط روایت موجود ہے کہ ڈاڈول کی بیٹی کی باقیات کی بے حرمتی نہیں کی جانی چاہیے۔
ڈاڈول باچا اور دروش کی روایت
ڈاڈول باچا کے چترال، خصوصاً دروش، جانے اور وہاں حکومت کرنے کا کوئی واضح تاریخی ثبوت فی الحال موجود نہیں۔ البتہ مقامی لوک روایات اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ وہ چترال، خصوصاً دروش، گیا تھا، جہاں چترال کے مقامی راجا کے حکم سے اسے دروش میں کالاش لوگوں کا حکمران بنایا گیا تھا۔
چترال کی مقامی تاریخ اس بارے میں خاموش ہے، البتہ چترال کے کچھ مقامی دوستوں کے بقول بعض قدیم مقامی روایات میں کمراٹ کے ڈاڈول باچا کی چترال آمد کا ذکر ملتا ہے۔
یہ روایت تاریخی تحقیق کے لیے ایک اہم سوال ضرور پیدا کرتی ہے، لیکن جب تک چترال کے مقامی تاریخی ماخذوں، نسب ناموں، قدیم دستاویزات یا دیگر شواہد سے اس کی تصدیق نہ ہوجائے، اسے مقامی روایت ہی کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔
خزان کوٹ کا خزانہ
مقامی سفید ریش بزرگوں کے بقول ڈاڈول باچا بہت امیر تھا اور اس نے یہاں اپنے خزانے کا ایک حصہ چھپا کر رکھا تھا تاکہ بعد میں چترال سے واپس آکر اسے لے جائے۔
اسی خزانے کی وجہ سے اس مقام کو خزان کوٹ کہا جاتا ہے، یعنی “خزانے کا قلعہ”۔
اس خزانے کے لالچ میں مقامی لوگ برسوں تک اس جگہ کی کھدائی کرتے رہے۔ معلوم نہیں کسی کو اس دوران کچھ ملا یا نہیں، لیکن اس کھدائی کے نتیجے میں اس قدیم قلعے کے ممکنہ آثار وقت کے ساتھ مزید مٹتے گئے۔
آج وہاں صرف قدیم قلعے کی دیواروں کے بکھرے ہوئے پتھر، اس زمانے میں کاشت کیے گئے بعض جنگلی سیب اور اخروٹ کے درختوں کے علاوہ زیادہ کچھ باقی نہیں۔
تاہم، اس قلعے کے مادی آثار اگرچہ تقریباً ختم ہوچکے ہیں، لیکن مقامی لوک کہانیوں میں ڈاڈول باچا، اس کا قلعہ، بتوٹ میں ہونے والی آخری فیصلہ کن جنگ، ڈاڈول باچا کی بیٹیاں، کاش داد اور اس کی بیٹیوں سے منسوب واقعات آج بھی زندہ ہیں۔
ڈاڈول باچا کے مذہبی عقائد: بدھ مت یا قدیم داردی عقائد؟
ڈاڈول باچا مقامی داردی عقائد کا پیروکار تھا، یعنی ایسے قدیم مذہبی و ثقافتی عقائد کا حامل تھا جو بعض پہلوؤں میں آج کے کالاش عقائد سے مشابہت رکھتے ہیں۔ تاہم، غلط فہمی کی وجہ سے بعض لوگ انہیں بدھ مت کا پیروکار سمجھتے ہیں۔
اسی وجہ سے خزان کوٹ کے مقام پر بعض پتھروں پر یہ لکھا ہوا ملتا ہے کہ یہ جگہ بدھ مت کے پیروکاروں کی آخری پناہ گاہ تھی۔
Also Read: The Trail to the Oxus: Visiting Panjsher during the war
تاہم، اس دعوے کا حقیقت سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔ گاؤری لوگوں میں سے اگرچہ ماضی میں کچھ افراد یا گروہ بدھ مت کے زیرِ اثر رہے ہوں، لیکن مقامی روایات کے مطابق اسلامائزیشن کے زمانے تک یہاں آباد لوگوں کی بڑی تعداد اپنے قدیم داردی مذہبی عقائد پر عمل پیرا تھی۔
ان قدیم عقائد کی آخری زندہ مذہبی جھلک جنوبی چترال میں آباد کالاش لوگوں کے مذہبی نظام میں دیکھی جاسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کمراٹ کے مقامی لوگ جب اپنے قدیم عقائد کا ذکر کرتے ہیں تو وہ انہیں عموماً بدھ مت یا ہندومت نہیں بلکہ “کالاش” کہتے ہیں۔
خزان کوٹ کی تاریخی اہمیت
خزان کوٹ آج بظاہر ایک خاموش، جنگلات سے گھرا ہوا اور پتھروں کے درمیان واقع ایک معمولی سا مقام ہے، لیکن مقامی تاریخی حافظے میں اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ یہ مقام ڈاڈول باچا کی داستان، کمراٹ کے قدیم گاؤری باشندوں، یوسفزئی دور کے حملوں، قدیم دفاعی نظام، بتوٹ کی آخری جنگ، چترال کی طرف ہجرت، کاش داد اور اس کی بیٹیوں، نیز ڈاڈول باچا کی بیٹیوں نیل اور میل سے متعلق متعدد روایات کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔
خزان کوٹ کی سب سے بڑی اہمیت شاید اس خزانے میں نہیں جسے مقامی لوگ صدیوں سے یہاں تلاش کرتے رہے، بلکہ اس تاریخی اور ثقافتی حافظے میں ہے جو آج بھی کمراٹ کے لوگوں کی زبان، لوک داستانوں، جغرافیائی ناموں اور مقامی روایات میں زندہ ہے۔
اس پوری داستان کو نہ تو بغیر تحقیق کے مکمل تاریخی حقیقت قرار دینا مناسب ہے اور نہ ہی اسے محض ایک افسانہ سمجھ کر نظرانداز کرنا۔ زبانی روایات کسی بھی معاشرے کے اجتماعی حافظے کا اہم حصہ ہوتی ہیں۔ ان میں تاریخی واقعات، جغرافیائی حقیقتیں، قبائلی یادداشتیں اور بعد کے ادوار میں شامل ہونے والے افسانوی عناصر ایک دوسرے میں مدغم ہوسکتے ہیں۔
Also Read: Khowar Folktales (Khowar), 2019
اسی لیے خزان کوٹ، ڈاڈول باچا اور کمراٹ کے قدیم گاؤری معاشرے پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ بالخصوص آثارِ قدیمہ، بشریات، لسانیات، مقامی جغرافیائی ناموں، قبائلی نسب ناموں اور کمراٹ و چترال کی زبانی روایات کا تقابلی مطالعہ اس داستان کے تاریخی پس منظر کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔
خزان کوٹ کے مادی آثار اگرچہ وقت کے ساتھ تقریباً مٹ چکے ہیں، مگر اس مقام سے وابستہ داستانیں آج بھی زندہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خزان کوٹ کو محض ایک سیاحتی مقام نہیں بلکہ کمراٹ کی زبانی تاریخ، مقامی ثقافتی حافظے اور قدیم گاؤری تہذیبی ورثے کی ایک اہم علامت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
Posted on 30 August 2026