بدھ مت کے قدیم ترین مخطوطے گلگت سے کیسے ملے اور ان پر جواہر لال نہرو نے کیوں ‘قبضہ’ کیا؟

gilgit manuscripts in india nehru history

تحریر: فخرعالم

یہ وہ دن تھے جب نوزائیدہ ممالک پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشمیر کے مسئلے پر 1948 میں جنگ چھڑ چکی تھی۔ ایسے میں دہلی سے پرواز بھرنے والا ایک خصوصی جہاز سری نگر میں اترتا ہے۔ اس جہاز میں شری پرتاب سنگھ میوزیم سری نگر سے لاکر چند صندوق رکھے جاتے ہیں جن میں درخت کی چھالوں کے قدیم اور بوسیدہ قلمی نسخے موجود ہیں اور جہاز دہلی کی طرف واپس محو پرواز ہوجاتا ہے۔

یہ بظاہر بوسیدہ نسخے اتنے اہم تھے کہ جنگ کے دوران حفاظت کے پیش نظر ان کی سری نگر سے دہلی منتقلی کا فیصلہ بھارتی وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے خود کیا تھا۔

نہرو نے یہ حکم دینے سے قبل جموں کشمیر میں قائم ایمرجنسی حکومت کے سربراہ شیخ عبداللہ کو اس قدم پر راغب کیا۔ جنگ ختم ہوئی اور پھر شیخ عبداللہ کی حکومت بھی چلی گئی مگر بھارت نے یہ مخطوطے جموں کشمیر کو واپس نہیں کیے۔ کشمیری مورخ محمد یوسف ٹینگ کے مطابق 1975 میں دوبارہ جموں کشمیر کا وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے بعد ان کی درخواست پر شیخ عبداللہ نے بھارتی وزیر اعظم اور نہرو کی بیٹی اندرا گاندھی کو خط لکھ کران کے والد کا وعدہ یاد دلایا اور مخطوطوں کی واپسی کا مطالبہ کیا مگر بھارتی حکومت نے اس پر کان نہ دھرا1۔

یہ مخطوطے کہاں سے ملے؟

گلگت کے نواح میں موجود نَوپور کے علاقے میں 1931 کو چرواہے اپنے جانوروں کو چرا رہے تھے جب انہیں ایک ویران ٹیلے پر موجود کھنڈرات میں لکڑی کا ستون ملا۔ انہوں نے ملبہ ہٹایا تو نیچے ایک بڑا صندوق پڑا تھا۔ اس میں مزید 4 چھوٹے چھوٹے صندوق رکھے ہوئے تھے جنہیں کھولنے پر ان میں سے بھوج پتر کی چھالیں، جس پر نامعلوم زبان میں تحریر بھی رقم تھی، برآمد ہوئیں (دت)۔

واضح رہے کہ بھوج پتر یا بِرچ کے درختوں کی چھالیں قدیم زمانے میں کاغذ کی جگہ  لکھنے کے لیے استعمال ہوتی تھیں، یہ چھالیں صدیوں گزرنے کے باوجود موسم کے اثرات سے محفوظ رہتی ہیں اس لیے گلگت اور چترال میں انہیں لکھنے، چھت پر ڈالنے اور بعض اوقات جنازوں کو کفنانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

یہ صندوق اور اس میں موجود چھالیں چرواہوں کے کسی کام کی نہیں تھیں تاہم انہیں معلوم تھا کہ یہ پرانے دور کے آثار ہیں اس لیے انہوں نے یہ صندوق گلگت ایجنسی میں تعینات وزیر کے حوالے کردیا جو اس وقت علاقے میں مہاراجہ کشمیر کا نمائندہ تھا۔

gilgit manuscripts by fakhre alam
گلگت سے بدھ مت کے قدیم نسخے ملنے کی خبر 25 جولائی 1931 کو انڈیا کے دی سول اینڈ ملٹری گیزٹ میں بھی شائع ہوئی

اس سے قبل کہ وزیر یہ نوادرات مہاراجہ کو بھیج دیتا اتفاقاً ہنگری کے مشہور ماہرِ آثار قدیمہ اور محقق آریل اسٹین گلگت میں نمودار ہوئے جو وسطی ایشیا سے ایک تحقیقی مہم کے بعد واپس آرہے تھے۔

اسٹین اس سے قبل 1900ء میں جب ایک ایسی ہی مہم کے دوران وسطی ایشیا جا رہے تھے تو انہیں گلگت میں نوپور کے قریب کارگہ نالے میں چٹان پر کندہ بدھا کا عظیم الشان نقش نظر آیا تھا۔ صدیاں گزرنے کے بعد اپنی تاریخ سے بے خبر مقامی آبادی اس بدھا کو ہیبت ناک چڑیل سمجھتی تھی جسے ان کے آباواجداد نے صدیوں تک پوجا تھا، ان کے بقول اس چڑیل کو کسی بزرگ نے چٹان میں چن دیا تھا۔ تاہم اس وقت اسٹین کو معلوم نہیں تھا کہ قریب موجود قدیم کھنڈرات کے نیچے اس سے بھی اہم آثار دفن ہیں۔

اسٹین کو ابتدائی معائنے سے ہی معلوم ہوا کہ یہ قدیم سنسکرت تحریریں دراصل بدھ مت کی بنیادی کتابیں ہیں۔ ان اہم کتابوں کے چینی اور تبتی زبان میں تراجم پہلے سے موجود تھے مگر اصل سنسکرت کتابیں کہیں سے نہیں مل رہی تھیں۔ گویا یہ صدیوں پہلے کھویا ہوا ایک خزانہ تھا۔

آریل اسٹین نے اس اہم دریافت کی خبر لندن کے اخبار ‘ٹائمز’ اور کلکتہ کے ‘اسٹیٹس مین’ کو رپورٹ لکھ کر دی جس سے ہندوستان اور باہر کے متعلقہ ماہرین کی توجہ ان کی طرف مبذول ہوگئی اور انہیں ‘گلگت مینو اسکرپٹس’ کا نام دیا گیا۔ اسٹین نے ان مخطوطوں کے کچھ اوراق برٹش میوزیم بھیجے جو اب بھی وہاں موجود ہیں۔

باقاعدہ کھدائی

گلگت کے یہ مخطوطے جب سری نگر پہنچے تو اس وقت کے مہاراجہ کشمیر ہری سنگھ نے ان میں خاصی دلچسپی لی اور انہیں شری پرتاپ سنگھ میوزیم میں رکھنے کا حکم دیا۔ 1938 میں سنسکرت متون کے ماہر ایم ایس کول شاستری مہاراجہ کے دربار سے اجازت لے کر گلگت آئے اور نوپور کے کھنڈرات کی باقاعدہ کھدائی کی۔ چرواہوں نے صرف ایک خانے سے مخطوطے برآمد کیے تھے لیکن یہاں تین اور منہدم کمروں کے کھنڈرات بھی تھے جن کے دروازے اور کھڑکیاں نہیں تھیں (یہ عمارت کتب خانہ تھی، خفیہ مدفن، راہبوں کا مسکن یا پھر کوئی اسٹوپا، اس بارے میں ماہرین کی رائے منقسم ہے)۔

Naurpur Gilgit Manuscripts Digging by MS Kaul Shastri 1938
ایم ایس کول شاستری کی ٹیم نوپور میں کھدائی کر رہی ہے، 1938

صرف 6 دن میں شاستری اور ان کی ٹیم کو ان کھنڈرات میں سے نہ صرف مخطوطوں کے سینکڑوں اوراق ملے بلکہ قدیم سکے، دستی سائز کے اسٹوپا، تصویریں، ظروف، زیورات، مہر، تعویز اور مٹی کی منقش تختیاں بھی ملیں۔

شاستری نے 1939 میں اپنی دریافت سے متعلق رپورٹ شائع کی جس میں انہوں نے ان مخطوطات کو ساتویں سے نویں صدی عیسوی کے درمیان کے دور کا قرار دیا جبکہ نوپور کے کھنڈرات کی انہوں نے ایک قدیم بدھ خانقاہ اور اسٹوپا کے طور پر نشاندہی کی۔ انہیں بھوج پتر کی چھالوں کے ساتھ ساتھ وہاں ایک کاغذی نسخہ بھی ملا جو یقیناً چین سے وہاں لایا گیا تھا اور شاہراہِ ریشم پر اس زمانے آمدورفت اور مذہبی و ثقافتی تبادلوں کا مظہر تھا۔

اس کے بعد 1956 میں اٹلی کے ایک محقق جوسیپے توچی کو راولپنڈی میں ایک فوجی افسر آغا محمد شاہ سے ان مخطوطوں کے مزید حصے ملے جو پہلی کھدائی کے وقت گلگت کی بونجی چھاؤنی منتقل کیے گئے تھے اور 1947 میں یہ افسر انہیں وہاں سے اپنے ساتھ راولپنڈی لے آیا تھا (ہاکل، 2024)۔ توچی نے اُنہیں خرید کر کراچی میوزیم کو عطیہ کردیا جہاں وہ آج بھی موجود ہیں۔ راولپنڈی سے ملنے والے ان نسخوں پر بدھا کی زندگی کا احوال لکھا تھا۔ (جیٹمر، کوڈو)

سری نگر میں کچھ عرصہ پڑے رہنے کے بعد کشمیر کے وزیر اعظم گوپال سوامی ایانگر نے انہیں پڑھنے اور ان پر تحقیقی کام کے لیے بدھ مت کے اسکالر ڈاکٹر نلی ناکشہ دت کی خدمات حاصل کیں جنہوں نے ان پر 8 جلدوں کی کتاب ‘گلگت مینواسکرپٹ’ کے نام سے شائع کی۔

گلگت مینواسکرپٹس میں کیا لکھا ہے؟

گلگت میں دریافت ہونے والے نایاب نسخے  بدھ مت تہذیب سے جڑے متعدد مذہبی اور غیر مذہبی موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں جن میں بدھ مت عقائد، رسومات و طرز زندگی، فلسفہ، نقاشی، لوک کہانیاں، مقامی حکمرانوں کے بارے میں معلومات اور آیور ویدک طب جیسے موضوعات شامل ہیں۔

gilgit manuscripts in national archives of india dehli
گلگت مینو اسکرپٹس کی نمائش، ٹویٹر
gilgit manuscripts in national archives of india dehli
گلگت مینواسکرپٹس میں رقم سنسکرت تحریر

ان میں بدھ مت کے مشہور سدھرم پُندریکا سوترا (لوٹس سوترا) اور سمادھی راجا سوترا جیسے اہم اور بنیادی متون بھی شامل ہیں جو بدھا کے پندونصائح پر مشتمل ہیں2۔ یہ متون قدیم سنسکرت اور پراکرت زبانوں کی آمیزش میں لکھے گئے تھے جسے عموماً ‘بدھ سنسکرت’ کہا جاتا ہے۔ البتہ ان مخطوطوں کی لکھائی اس زمانے کے براہمی اسکرپٹ سے جداگانہ تھی جس کی وجہ سے انہیں اور بعد میں سامنے آنے والے دوسرے نسخوں کی اسی طرز کی لکھائی کو الگ سے ‘گلگت اسکرپٹ’ کا نام دیا گیا۔

دراصل یہ کتابیں گلگت کے مقامی بدھ حکمران اور امرا کے حکم پر لکھی گئی تھیں کیوں کہ اس زمانے کے بدھ مت کے پیروکاروں میں نذرانے کے طور پر مقدس مذہبی کتابوں کی اشاعت کا رواج عام تھا۔

ایم ایس کول شاستری کے مطابق ان میں سے ایک مخطوطے پر گلگت کے اس وقت کے حکمران کا نام شہانوشاہی نواسوریندرا وکرامادیتیا نندی دیوا جبکہ ملکہ کا نام اننگادیوی درج تھا (شاستری)3۔ اس حکمران کا نام پنیال میں حاتون کی منقش چٹان پر بھی درج ملا۔ واضح رہے کہ ان کا تعلق پالولہ شاہی نامی مقامی حکمران خاندان سے تھا جو بدھ مت کا پیروکار تھا۔

ایک لوٹس سوترا پر 43 مخیر مرد و خواتین کے نام درج ہیں جنہوں نے اس نسخے کی اشاعت کروائی یا یہ جن کے نام کیے گئے تھے۔ تحریر سے واضح ہے کہ ان میں سے کچھ اُس وقت وفات پاچکے تھے۔ کچھ افراد کے ناموں کے ساتھ ان کی ماؤں کے نام بھی درج ہیں جو اس زمانے کے گلگت میں خواتین کی مرکزی حیثیت کی نشاندہی کرتا ہے۔ بعض نام بروشسکی زبان کے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مخطوطے باہر سے نہیں لائے گئے بلکہ مقامی طور پر تیار کیے گئے اور بدھ مت کا مقامی ثقافت اور زبانوں سے ملاپ موجود تھا (اوسکر ہینوبر)۔

یہ نسخے بدھ مت تہذیب ہی نہیں بلکہ متعلقہ زبانوں کے ارتقا اور اس خطے کے سیاسی اور سماجی حالات کے بارے میں بھی اہم معلومات فراہم کرتے ہیں۔

ماہرین کو اصل ‘بدھ سنسکرت’ متون کی تلاش

بدھ مت کی دو اہم شاخیں تھیرواد اور مہایان ہیں۔ اول الذکر سری لنکا، ہندوستان، تھائی لینڈ اور میانمار کے میدانی علاقوں میں رائج رہی جبکہ مہایانہ چین، کوریا، جاپان اور ویتنام میں پھلی پھولی۔ لداخ، تبت اور نیپال میں بدھ مت بھی اسی کی ایک قسم ہے۔ گلگت مینو اسکرپٹس کا تعلق اس دوسری شاخ مہایان سے ہے۔

ہندوستان میں شروع میں بدھا کی تعلیمات کو لکھنے کا رواج نہیں تھا بلکہ بھکشو انہیں زبانی یاد کرتے تھے لیکن بعد میں انہیں چھالوں اور پتوں پر لکھنے کا رواج شروع ہوا۔ مہایان بدھ مت کی تعلیمات سنسکرت یا بدھ سنسکرت زبانوں میں محفوظ ہوئیں اور تھیرواد کی تعلیمات پالی زبان میں۔

بعد میں مختلف وجوہات کی بنا پر بدھ مت کا اثر ہندوستان میں کم ہوگیا اور ساتھ ہی ان تعلیمات کو سنسکرت میں لکھنے کا رواج بھی ختم ہوگیا۔ اس سے قبل چین اور وسطی ایشیا سے بدھ مت کے زائرین نے ہندوستان سے ‘بدھ سنسکرت’ کتابوں کو اپنے علاقوں میں منتقل کرکے اپنی اپنی زبانوں میں ان کا ترجمہ کیا تھا۔

Bodhisattvas Maitreya (Buddha of the coming age) and Avalokiteshvara (Bodhisattva of compassion), two holy figures, with two Patrons (left), painted on the cover of a Gilgit manuscript preserved in Shri Pratap Singh Museum, Srinagar; Picture by R. Linrothe
Bodhisattvas Maitreya (Buddha of the coming age) and Avalokiteshvara (Bodhisattva of compassion), two holy figures, with two Patrons (left), painted on the cover of a Gilgit manuscript preserved in Shri Pratap Singh Museum, Srinagar; Picture by R. Linrothe

آریل اسٹین واپسی پر مقامی حکام کو لالچ دے کر محض 130 پاؤنڈ کے عوض 10 ہزار سے زائد نسخے اپنے ساتھ ہندوستان لے آیا۔

اصل سنسکرت نسخوں کے نہ ہونے کی کئی وجوہات میں سے ایک اہم وجہ موسم تھا۔ ہندوستان میں بدھ تعلیمات کو پتوں اور چھالوں پر لکھا گیا جو میدان علاقوں کے گرم اور مرطوب ماحول میں کہیں بھی زیادہ دیر محفوظ نہیں رہ سکے۔ البتہٰ جو مخطوطے ہندوستان سے باہر موجودہ تبت، نیپال، افغانستان، وسطی ایشیا اور چین وغیرہ لے جائے گئے یا وہیں تحریر ہوئے وہ اُن علاقوں میں سرد اور خشک موسم کی وجہ سے تادیر محفوظ رہے اور انیسویں اور بیسویں صدی میں ماہرین کے ہاتھ آئے۔ تاہم بدھ مت کے اصل وطن ہندوستان میں یہ نسخے نہیں ملے تھے۔ گلگت چونکہ اس دور میں برطانوی ہند کا حصہ تھا اس لیے وہاں سے جب یہ مینو اسکرپٹس ملے تو انہیں ہندوستان میں ملنے والے بدھ مت کے واحد اور قدیم ترین نسخے قرار دیا گیا۔

گلگت بلتستان میں بدھ مت

گلگت بلتستان میں بدھ مت پہلی صدی عیسوی کے بعد کشان سلطنت کے زمانے میں باقاعدہ طور پر متعارف ہوا۔ اس سے قبل اشوکا کے زمانے میں بھی اس کا بدھ مت سے رابطہ بعید از قیاس نہیں۔ احمد حسن دانی کے مطابق کشان حکمران ویما کڈفیسس کے دور میں گلگت کشان ریاست کے زیرِ نگین آیا۔ اس حکمران کا ذکر چلاس اور ہنزہ کے منقش چٹانوں پر ملتا ہے۔ (دانی)

Three Buddhas painted on the inside of the bottom of a pair of Gilgit manuscript preserved in Shri Pratap Singh Museum Srinagar Picture by R Linroth
Three Buddhas painted on the cover of a Gilgit manuscript preserved in Shri Pratap Singh Museum Srinagar; Picture by R. Linroth

ویما کڈفیسس کے بیٹے کنیشکا کے دور میں بدھ مت ہندوستان سے شاہراہِ ریشم کے ذریعے چین پہنچا تو اس وقت گلگت اس شاہراہ پر اہم پڑاؤ کی حیثیت رکھتا تھا۔ کشان حکمرانوں نے قدیم ہندومت، بدھ مت اور زرتشتیت، تینوں مذاہب کی سرپرستی کی۔ تاہم چھٹی صدی عیسوی سے لے کر آٹھویں صدی عیسوی تک گلگت میں پالولہ شاہی نامی مقامی ریاست قائم ہوئی جس کے حکمران مکمل طور پر بدھ مت کے پیروکار تھے۔ انہیں میں سے ایک بادشاہ کا نام گلگت مینواسکرپٹس میں بھی ایک جگہ مرقوم ہے۔

جرمن ماہر آثارِ قدیمہ کارل جیٹمر نے ان نسخوں کا اس دور کے سیاسی ماحول کے تناظر میں جائزہ لے کر ایک مفروضہ پیش کیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ہوسکتا ہے یہ نسخے گلگت کے بجائے بلتستان میں لکھے گئے ہوں جسے اس وقت گریٹر بلور کہا جاتا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ چینی متون میں ہمیں پلولہ شاہی بادشاہوں کے جو نام ملتے ہیں وہ گریٹر بلور کے تھے اور گلگت مینو اسکپرٹس پر بھی اسی خاندان کے بادشاہوں کے نام موجود ہیں4۔ ان کے مطابق وہاں تبتی فوج کے حملوں کی وجہ سے اس وقت کے پالولہ شاہی حکمران گلگت یعنی ‘لٹل بلور’ آیا تو اپنے ساتھ یہ نسخے بھی لے آئے۔ تاہم آٹھویں صدی کے وسط میں تبتی فوج نے گلگت اور آس پاس کے علاقوں کو بھی فتح کیا (جیٹمر)۔ گلگت کے حکمران کے بلتستان سے ہجرت کرکے وہاں آنے کا ذکر اس زمانے میں اس چترال، بلستان اور گلگت آنے والے کورین زائر ہیکو نے بھی اپنے سفرنامے میں کیا ہے۔5

پلولہ شاہی حکومت کے خاتمے کے بعد بلور سیاسی چپقلش کا مرکز رہا۔ اس دور میں عباسی خلیفہ المامون کی فوج بھی یہاں نمودار ہوئی جس نے کابل، چترال، بلور اور تبتی سلطنت کو شکست دی اور واپس چلی گئی۔ (جیٹمر)

گلگت میں نوپور کے قریب کارگہ نالے میں موجود چٹان پر بدھا کی کندہ کاری

جیٹمر کا کہنا ہے کہ نویں صدی کے وسط میں تبتی سلطنت کمزور پڑ گئی اور کشمیر کی درادہ شاہی سلطنت نے اپنا اثر لٹل تبت تک بڑھا دیا۔ گو کہ ان کا مذہب بھی بدھ مت ہی تھا لیکن جیٹمر کے خیال میں گلگت کے خطے کے لوگوں کو بدھ مت کی پلولہ شاہی، تبتی اور درادہ شاہی شکل مکمل طور پر قبول نہیں تھی اور ان کے لیے یہ بیرونی اشرافیہ کا مذہب ہی تھا جو سیاسی طور پر ان پر تھونپا گیا تھا۔ یہاں کے عام باسیوں پر بون مت عقائد کا گہرا اثر تھا جو بدھ مت سے قبل ان کا مذہب تھا۔ بدھ مت کو بھی انہوں نے اپنے پرانے عقیدے کے امتزاج کے ساتھ مقامی رنگ دے کر قبول کیا تھا۔

جیٹمر کا کہنا ہے کہ تبت کے زیرِ نگین جانے کے بعد سیاسی خلفشار کے درمیان مقامی طور پر سرکاری سرپرستی رکھنے والے بدھ مت کے خلاف مقامی لوگوں میں مزاحمت سامنے آئی اور انہوں نے اپنے مقامی عقائد اور علامات کا احیا کیا۔ اس کے آثار چلاس کے قریب موجود منقش اس زمانے کے پتھروں پر ملتے ہیں جہاں بدھ مت کے ساتھ ساتھ مقامی علامات مثلاً سورج، آئی بیکس اور شکار وغیرہ کی بھی بہتات نظر آتی ہے بلکہ ایک جگہ سورج سے مزین ایک دیوتا اپنی فوج کے ہمراہ ایسے لوگوں سے جنگ لڑ رہا ہے جو ایک بدھ اسٹوپا کا دفاع کر رہے ہیں۔

گو کہ دسویں صدی میں بدھ مت نے ایک بار پھر داردہ شاہیوں کے ساتھ ریاستی سرپرستی میں یہاں اپنی تجدید کی لیکن اس زمانے تک سابقہ پلولہ شاہی خاندان کے یہ نسخے لسانی اور سیاسی تغیرات کی وجہ سے اپنی اہمیت کھو کر غیر اہم اور ناقابلِ تفہیم ہوچکے تھے۔ البتہٰ ان سے تقدس کا عنصر اب بھی جڑا تھا اس لیے نئے داردہ شاہی حکمرانوں کو ان کا بہترین مصرف یہ نظر آیا کہ انہیں تبرکاً ہمیشہ کے لیے محفوظ کیا جائے۔ اس لیے انہوں نے انہیں تاریک اور بے روزن و در اسٹوپاز میں ہمیشہ کے لیے بند کردیا جہاں یہ قریباً ایک ہزار سال چرواہوں کے آنے کے منتظر رہے۔

جیٹمر کا یہ مفروضہ درست ہے یا غلط، یہ تحقیق طلب امر ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ گلگت بلتستان اور چترال میں ایک دور میں بدھ مت کا راج رہا ہے۔ گلگت مینو اسکرپٹس میں دو پالولہ شاہی بادشاہوں کے علاوہ ہمیں پنیال میں حاتون اور گلگت میں دنیور کی منقش چٹانوں پر بھی پالولہ شاہی حکمرانوں کے نام ملتے ہیں6 (اگروال)۔ بدھ مت کا یہ ذخیرہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ غیرمتعلق ہوتا گیا۔ اس کے باوجود اس دور کے گلگت بلتستان کا ایک انمول مذہبی، تہذیبی، لسانی اور سیاسی ورثہ ہے۔

گلگت مینواسکرپٹس کی موجودہ صورتحال

گلگت مینو اسکرپٹس کا سب سے بڑا ذخیرہ نیشنل آرکائیوز آف انڈیا، نیو دہلی میں موجود ہے جب کہ کچھ حصے سری نگر کے سری پرتاپ سنگھ میوزیم، برٹش میوزیم (لندن)، وکرام یونیورسٹی اوجین (انڈیا) اور کراچی میوزیم میں بھی محفوظ ہیں۔ اندازتاً گلگت سے 60 سے زائد نسخے ملے تھے جن میں 1600 سے زائد اوراق شامل ہیں (کوڈو)۔ 2012 میں انڈین کشمیر کی حکومت نے بھارتی وزارت ثقارت سے ان نسخوں کی واپسی کا مطالبہ کیا تاہم نیشنل آرکائیوز نے ان کے نقول فراہم کیے اور اصل نسخوں کی واپسی سے انکار کیا۔

بی بی سی کی 21 اکتوبر 2014 کی خبر کے مطابق اُس سال سری نگر میں آنے والے تباہ کن سیلاب کی وجہ سے عجائب گھر میں موجود گلگت مینواسکرپٹس کو بھی نقصان پہنچا۔ اس ورثے کو 2017 میں یونسیکو نے اپنے ‘میموری آف دی ورلڈ رجسٹر‘ میں شامل کیا۔

نریندرمودی نے 12 ستمبر 2025 کو دہلی میں  قدیم ہندوستانی نسخوں کو ڈیجیٹل طریقے سے محفوظ کرنے کے اہم منصوبے کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ گلگت مینو اسکرپٹس ہمیں کشمیر کی ‘اصل’ تاریخ کے بارے میں بتاتے ہیں۔ ہندوستان کےنایاب نسخوں پر 30 منٹ فی البدیہہ تقریر کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دنیا بھر سے نایاب نسخے بھارت لاکر ڈیجیٹل طریقے سے محفوظ کیے جائیں گے۔

ہندوستان میں گلگت مینو اسکرپٹس سے حکمرانوں کی دلچسپی نہرو سے لے کر مودی تک اب بھی قائم ہے۔ لیکن کیا ہم سوچ سکتے ہیں کہ ہمارے حکمرانوں کو دہلی کے نیشنل آرکائیوز کی بند الماریوں میں موجود اپنے اس تاریخی ورثے کی موجودگی کا سرے سے علم ہی ہوسکتا ہے؟


Notes

  1. “When Sheikh (Abdullah) Sahib came to power in 1975, I brought up the subject and he told me to draft a letter seeking the return of the Gilgit manuscripts. “The letter was sent to Madam Indira Gandhi, but nothing happened after that,” Taing said in IANS interview ↩︎
  2. Buddha says in the Samādhirāja Sūtra of the Ms. that there would be in future monks, who, though donning on yellow robes, would abuse the privileges of a monk, adhere to the notion of the existence of self, and avoid out of fear listening to the doctrine of sunyata, but still they would be respected by the people. Candraprabha (disciple) was warned not to place faith in them. see Dutt, N. (1941). Gilgit manuscripts (Vol. II). Srinagar, Kashmir: His Highness’, Calcutta Oriental Press, Ltd. p. xxiii ↩︎
  3. Chakravarti found name of the second Palola king, Paṭōladēva Shāhi Vajrādityanandi, while studying the manuscripts. See: Chakravarti, N. P. (1953–1954). Hatun rock inscription of Patoladeva. Epigraphia Indica, Vol. 30, pp. 226-232. ↩︎
  4. The name of this king reappears in the Hatun inscriptions in Punial. It was written by one of his military commanders, Makarasiṁha, from the Kāñchudī tribe (Kunjud or Hunza), who declares himself as the deputy of the Patola Shahi king in the city of Giligittā. This indicates that Gilgit itself was not the capital of the central Patola Shahi rulers; rather, a seat of a deputy governor. ibid ↩︎
  5. “Greater Bolor was originally the place where the king of Lesser Bolor resided. It was because the Tibetans have come that he fled and shifted his residence to Lesser Bolor”, The Hye Ch’o Diary, p. 48. ↩︎
  6. Shastri found the name Shāhānushāhi Paṭōlashāhi śrī-Nava-Surēndrādityanandidēva in the manuscript he found in 1938. His queen was Anaṅgadēvī. The king’s name reappeared in the Hatun inscription. In the 1931 manuscripts, names of two kings were found; Śrīdēva Shāhi Surēndra Vikramāditya Nanda with queen Śamidēvī-Trailōkadēvī-bhaṭṭārikā and Vihali. Chakravarti found another name, Paṭōladēva Shāhi Vajrādityanandi. Chakravarti, p.229
    “The fourth ruler, mentioned at the pedestal of a bronze statue (location of where it was found has not been determined), is Maharaja- dhiraja Paramisvara Patola Shahi Sri Arya Nandi Vikrarnaditya Nandi Deva. This is dated in the year 90 of an unspecified era. A fifth ruler is known from Hodur inscription, whose name is Sri Palola Shahi Surendraditya Nandi (Dani does not make it clear how it differs from the Shastri’s one)…. Another inscription at Danyor (not yet published) which is Early History dated in the year 6, gives the name of Paramesvara Sri Jayamangala Vikramaditya Nandi deva, Mahahhattaraka. The purpose of the inscription appears to be some conquest in the upper Indus valley. The name of the last ruler is obtained from the Sacred Rock of Hunza, where he is called Deva Sri Chandra Vikramaditya. Thus, we get the names of seven (Patola Shahi) rulers from the manuscripts and inscriptions.” Dani. P.147. There are other Shahi names from Chilas too.
    ↩︎

References

  1. Agarwal, J. N. (2001). Inscriptions of Haryana, Himachal Pradesh, Punjab, Kashmir and adjoining hilly tracts. Indian Council of Historical Research. pp.27-30.
  2. Historian Mohammed Yousuf Taing’s interview originally published in IANS: Ahmed, F. “Kashmiri historian knows where 2,000-year-old Buddhist relic is.” TwoCircles.net, 10 Apr. 2010. (twocircles.net)
  3. Civil and Military Gazette. (1931, July 25).
  4. Dutt, N. (1939). Gilgit manuscripts (Vol. 1). Srinagar, Kashmir: His Highness’ Government, Jammu and Kashmir, Calcutta Oriental Press, Ltd.
  5. Dani, A. H., (1991), History of Northern Areas of Pakistan
  6. HYE, C. (1984). The Hye Ch’o Diary Memoir of the Pilgrimage to the Five Regions of India, trans. Y. Han-Sung, J. Yün-Hua, I Shotaro and LW Preston.
  7. Government of India, Press Information Bureau. (2025, September 12). Prime Minister Narendra Modi addresses the International Conference on Gyan Bharatam in New Delhi (Press Release No. 2166120). https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2166120&reg=3&lang=2
  8. Jettmar, K. (1990). The Gilgit manuscripts and the political history of Gilgit. Pakistan Archaeology, 25, 305-314.
  9. Kudo, N. (2019). On and around the Gilgit manuscripts in the National Archives of India. The Journal of Oriental Studies, 29, 168–181.
  10. Nehru’s letter to Kashmir’s Prime Minister Bakhshi Ghulam Mohammad: Nehru, J., Fund, J. N. M., & Palat, M. K. (1984). Selected Works of Jawaharlal Nehru, Second Series. Vol 7. p. 541
  11. Shastri, M. K. (1939). Report on the Gilgit Excavation in 1938. Quarterly Journal of the Mythic Society, 30(1), 1-12.
  12. The Civil and Military Gazette, July 25, 1931
  13. UWest Department of Religious Studies. (2024, February 21). The State of Research on the Gilgit Buddhist Manuscripts — Dr. Muiz Hakal [Video]. YouTube.
  14. Von Hinüber, O. (2012). The Saddharmapundarıkasutra at Gilgit: Manuscripts, Worshippers, and Artists. The Journal of Oriental Studies, 22, 52-67.

Posted on 24 November 2025

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *