سنوغر کے گمنام شاعر میر بادشاہ، جن کے اشعار زیرکؔ سے منسوب ہوئے
Booni Chitral, July 1968, Picture by T. H. Braham
تحریر: ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر علی جبار خان
میر بادشاہ، نور حیات کے پوتے تھے۔ نور حیات کی خاندانی عظمت سے کون واقف نہیں۔ آپ زوندرے قوم کے سر پر تاج تھے۔ خوشوقت اور کٹور دور کی راج کے زمانے میں آپ ان سب کے سیاسی مشیر تھے۔ ان کے تخت و تاج کے اتار چڑھاؤ میں آپ کا کلیدی کردار ہوتا تھا۔ آپ کا خاندان شجاعت اور بہادری میں یکتا تھا۔ چترال اور چترال سے باہر تمام جنگی مہمات میں آپ اپنے بیٹوں کے ساتھ بہادری کے کارنامے دکھاتے رہے۔ ہر محاذ پر ہمیشہ آپ کا پلّہ بھاری رہا۔
جنگِ ارمو میں سلیمان شاہ خوشوقتے کی گلگت کی بھاری فوج کے ساتھ تورکھو پر یلغار کا مقابلہ کٹور فوج کے لیے خاصا مشکل تھا۔ نور حیات اس جنگ میں سلیمان شاہ کے ہمرکاب تھے۔ عین محاذ پر گلگتی فوج کے شرافت شاہ نے حاتم بیگے کی بندوق کی گولی سے کٹور کا لڑکا مقرب شاہ زخمی ہو کر زمین پر گر کر زور سے چیخا کہ ’’کیا کوئی نہیں جو میرا قصاص لے سکے؟‘‘
یہ بھی پڑھیے: چترال میں تعلیمی ارتقاء کی تاریخ
چترالی فوج کی جانب سے روشن علی خان رضا خیل شاہین کی طرح گلگتی فوج پر جھپٹے۔ بہت زیادہ سپاہیوں کو تہہ تیغ کرنے کے بعد آپ کا مقابلہ آفت امان بن ملک امان سے ہوا۔ تلوار کے ایک ہی وار سے انہیں دو ٹکڑے کر کے عالی جناب خوشوقتے پر حملہ آور ہوئے اور انہیں بھی زخمی کرکے پچھاڑا تو نور حیات کے ساتھ آپ کا مقابلہ ہوا۔ دونوں کا مقابلہ شیروں کے مقابلے کے مترادف تھا۔ نور حیات کے کندھے پر زخم آئے اور روشن علی خان کی دو انگلیاں کٹ گئیں۔
میرزا محمد غفران، روشن علی خان کی بہادری کو اپنے شعر میں یوں بیان کرتے ہیں:
خرد شیر فرید چون شیر مست
سوئے دشمنان تیغِ ہندی بدست
تو گوئے مگر اژدہائے رسید
بدم ہر یکے را بخود میکشید
خوشوقتے حکمران سلیمان شاہ اور گوہر امان کے دور میں پورے گلگت کے احاطے میں ان کی اجارہ داری قائم رہی۔ گوہر امان کے خلاف کشمیر کے ڈوگرہ راجاؤں نے متعدد بار گلگت پر حملے کیے، مگر ہر بار منہ کی کھا کر پسپا ہوئے۔ جنگِ نیلی دار کے بعد کشمیریوں پر اتنی بڑی دھاک بیٹھ گئی کہ کشمیری عورتیں اپنے بچوں کو چپ کرانے کے لیے گوہر امان کا نام لیتی تھیں۔
مگر 1860ء میں گوہر امان کی وفات کے بعد کشمیر کے راجاؤں نے، جو پہلے ہی انتظار میں تھے، گلگت پر حملہ کر دیا۔ گلگت میں گوہر امان کا بھائی اکبر امان فرار ہو کر ورشگوم چلا گیا اور وزیر عبدالوہاب شہید ہو گئے۔ گوہر امان کا بیٹا ملک امان ثانی ورشگوم کا حکمران تھا۔ سلیمان شاہ کا بیٹا عظمت شاہ اور بروش شہزادے سب مہاراجا کی فوج میں شامل تھے۔
ڈوگروں نے گلگت پر قبضہ کرنے کے بعد ورشگوم پر بھی حملہ کر دیا۔ ان کی سرکوبی کے لیے مہتر چترال امان الملک نے اپنے بھائی شیر افضل کو ورشگوم بھیجا۔ شیر افضل خان نے انہیں بھگا کر ملک امان کو دوبارہ تخت پر بٹھایا اور واپس چترال آ گئے۔
ایک سال کے بعد مہتر امان الملک نے چترال کے نامور سورماؤں کو اکٹھا کرکے بھرپور تیاری کے ساتھ ڈوگروں کے خلاف گلگت پر حملہ کر دیا۔ اس لڑائی میں چترال کے نامور بہادروں میں روشن علی خان رضا خیل اور اس کا بیٹا بیگی جان، امان الملک کا رضاعی بھائی پنین بیگ، تورکھو کا سلطان علی رضا خیل، فتح علی شاہ، علاقہ خزرہ کے منار سنگلے اور بدل بیگ، نور حیات کے تینوں بیٹے گوہر حیات، مظہر حیات اور قباد شاہ (قوم زوندرے) شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیے: سابقہ کافرستان کے بری اور چترال کے بہریہ کون تھے؟
مشہور رضا خیل سردار شجاعل اور اس کے دونوں بیٹے اور علاقہ خزرہ کے جناب بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔ چترالی فوج نے ایک ماہ تک گلگت کے قلعے کا محاصرہ کرنے کے بعد چوہار کے قلعے سے عیسیٰ بہادر بروشہ کو آزاد کرکے، ڈوگرہ فوج میں شامل عافیت خان بروشہ کو قید کرکے اپنے ساتھ چترال لے آئے۔ راستے میں تمام قلعوں کو مسمار کرتے ہوئے واپس چترال پہنچ گئے۔
یکم جنوری 1895ء کو جب امیرالملک نے اپنے بڑے بھائی سردار نظام الملک کو بروز کے مقام پر قتل کر دیا تو پورا چترال افراتفری اور بدنظمی کا شکار ہوا۔ موقع سے فائدہ اٹھا کر جندول کے حکمران عمرا خان پانچ ہزار فوج لے کر لواری کو عبور کرکے چترال پر حملہ آور ہوا۔
ان کے مقابلے میں چترالی فوج کی تعداد صرف پانچ سو تھی۔ وہ بھی دو حصوں میں تقسیم تھی۔ دو سو نفوس شہزادہ کوکن بیگ اور شیر اعظم، حاکمِ دروش، کی سرپرستی میں قلعے کے اندر موجود تھے، جبکہ صرف تین سو سپاہی محمد افضل بیگ اور یادگار بیگ کی کمان میں گرومیل کے پشتے پر دشمن کے مقابلے کے لیے تیار ہوئے۔
مگر پانچ ہزار کا مقابلہ تین سو آدمیوں کے بس کی بات نہیں تھی۔ دشمن کی فوج نے چالیس آدمیوں کو قتل کرکے دروش کو فتح کیا۔ ہلاک ہونے والوں میں نصرت علی خان بروشہ (ریشن)، غلام حضرت رضا خیل (بونی) اور نور حیات کے دونوں بیٹے گوہر حیات اور سلطان حیات قابلِ ذکر ہیں۔
نور حیات کے بیٹوں میں قباد شاہ سیرت اور صورت کے اعتبار سے بھی نمایاں تھے۔ آپ واخان کے معزول حکمران علی مردان خان کے بہنوئی لگتے تھے۔ اسی توسط سے آپ کی رسائی امیرِ افغانستان تک تھی۔ مہتر پہلوان، جو آپ کے رضاعی بھائی لگتے تھے، ان کی آخری بار بشقار میں جلاوطنی کے دوران ان کے لیے کمک مانگنے کے لیے جب آپ امیرِ کابل کے دربار میں گئے تو آپ سے مخاطب ہو کر یوں کہا کہ ’’آپ اتنے پُراثر شخصیت ہیں، خود مہتر کیوں نہیں بنتے؟‘‘
جواب میں آپ نے کہا کہ ’’ہمارے ملک میں ایک ہی خاندان کی شخصی حکمرانی چلی آ رہی ہے، کسی دوسرے کی مداخلت کی گنجائش نہیں۔‘‘ عین اس وقت بشقار سے پہلوان کے اس کے بھائی ملک امان ثانی کے ہاتھوں قتل کی خبر کابل پہنچ گئی۔ چنانچہ آپ بددل ہو کر صوبہ بدخشان کے راستے واخان اور وہاں سے براستہ دارکوٹ گلگت پہنچ گئے۔
یہ بھی پڑھیے: چلی کے پہاڑوں کی تین بہنیں اور گرم چشمہ کا بِلاؤر
پھر واپس چپاڑی آ کر محمد اکبر خان کے ہمراہ بمبئی، ہندوستان، اپنے امام کے دیدار کے لیے چلے گئے۔ اس زمانے کے پُرمشقت سفر طے کرتے ہوئے دونوں بمبئی پہنچ گئے۔ امام کے دیدار کے بعد کچھ عرصے میں آپ ہیضے کی بیماری کا شکار ہو کر انتقال کر گئے۔ آپ کو امام کی ذاتی جاگیر پونا کے اسماعیلی قبرستان حسن آباد میں دفن کر دیا گیا۔
میر بادشاہ اور زار بادشاہ آپ کے بیٹے تھے، مگر دونوں نرینہ اولاد سے محروم ہیں۔ انہوں نے اپنی بچپن اور جوانی کا کچھ حصہ انتہائی ناز و نعم اور عیش و مستی میں گزارا تھا۔
میر بادشاہ، زیارت خان اور شیر ملک، تینوں گہرے دوست تھے۔ تینوں ایک دوسرے سے کبھی جدا نہیں ہوتے تھے۔ ایک ساتھ موڑکھو جاتے، ایک ساتھ سنوغر میں وقت گزارتے۔ گیت کا ایک شعر ایک کہتا، دوسرا دوسرا شعر کہتا۔ اکثر گانے زیارت زیرک ہی سے منسوب ہیں، البتہ ایک گانا شیر ملک اور زیرک کا مشترک ہے اور ایک گانا میر بادشاہ کا اپنا ہے، مگر زیارت خان کی شہرت کی وجہ سے یہ بھی اسی سے منسوب ہے۔ گیت یہ ہے:
ہردی پھت بکو یار مہ نکی لوان کو سوم دوم
الوئے تا پشیم ژان شریکی پروانہ کی بوم
میر بادشاہ کی جوانی کی مستی کے دنوں میں ان کے معشوق نے ان سے کہا، ’’مجھ سے شادی کیوں نہیں کرتے؟‘‘ جواب میں میر بادشاہ نے یوں کہا:
’’مجھے آپ سے رسمی شادی کا مزہ نہیں آئے گا۔ میں آپ سے اس وقت شادی کروں گا جب آپ کی شادی دوسرے سے طے ہو، آپ کی رخصتی کی رات ہو، اور اس شبِ عروسی کے لباسِ زر کے ساتھ آپ کو لے کر بھاگ جاؤں۔‘‘
مگر چرخِ نیلگوں اور گردشِ ایام کا تماشا کچھ اور دکھانے والا تھا۔ بہت جلد آپ کا خاندان اور زیارت خان کا خاندان مستوج بلوے کی سازش میں ملوث ہو کر سزا کے طور پر خانہ بدر کر دیے گئے۔ آپ کے خاندان کو استارو، تورکھو، اور زیارت خان کو گزو، موڑکھو، میں نظر بند کیا گیا۔
اس سراسیماں کے عالم میں اپنے نوبیاہتا معشوق کو ان کے میکے چھوڑ کر دربدری کی منزل کی طرف جب رختِ سفر باندھا تو معشوق سے جدائی اور اپنی کم مائیگی کا منظر یوں بیان کرتے ہیں:
راہی اریتم ژان شریکی تاتے خدایار
ورازنین پلیلیو قسما ہوتم اللہ تو مایار
اپنے اور اپنے دوست زیرک کی نظر بندی کا نقشہ یوں کھینچتے ہیں:
گزو اوچے استارو بطن کھاڑ ای ترازو
میرنو خفستور استاروُ زیرکو گزو
اپنی جلاوطنی کی دربدری کو اپنی جوانی کی خر مستیوں کا مکافاتِ عمل قرار دے کر یوں کہتے ہیں:
ومکرو مہ موخو گونیان دنیو بدل
آتش کدہ گیاؤ ذوخ سریران نوشروان عادل
اپنے آخری ایام میں اپنی بیوی کے بسترِ مرگ کے منظر کو دنیا کی بے ثباتی قرار دے کر کہا:
جوانو خور عزت دی نکی عشقو تماشہ ژانے
ہدم سر پور سف چھمونیان چھیر دونیو لاشہ
دنیار کیاغ گنی باغائے سکندر بادشاہ
ستم ظریفی یہ ہے کہ سنوغر میں سن رسیدہ لوگ جو حیات ہیں، انہیں میر بادشاہ کے بارے میں اچھی طرح معلوم ہے کہ میر بادشاہ نامی گرامی خاندان کے چشم و چراغ اور اپنے دور کے مایہ ناز شاعر تھے۔ ان کے خاندان سے بھی اچھے خاصے لوگ حیات ہیں۔ ان کی زندگی کے نشیب و فراز سے سب واقف ہیں۔ ان کے ایک ایک شعر سے ان کی زندگی کی عکاسی ہوتی ہے، مگر ان کے مذکورہ بالا مشہور گیتوں کو زیارت خان زیرک سے منسوب کرتے ہیں۔
زیارت خان زیرک کی شاعری کی عظمت سے کون واقف نہیں، مگر میر بادشاہ کے گیتوں کی حیثیت بالکل جداگانہ ہے۔
Posted on 20 August 2026
مگر جس طرح اس ہیڈماسٹر نے بغیر کسی تحقیق اور دلیل کے زیارت خان زیرک کی شاعری کو کسی اور سے منسوب کرنے کی کوشش کی ہے یہ اس کی تحقیق اور جستجو سے عاری ہونے کی خود دلیل ہے۔ یہ وہی رویہ ہے جو مولا نگاہ نگاہ اور گل نواز خاکی جیسے بونوں نے مذہبی دشمنی اور علمی کمین پن کی وجہ سے بہت سے اسماعیلیوں کی شاعریوں کو متنازعہ بنانے کی کوششیں کی اور تھورن نامی کتاب لکھی ۔ جس کا مقصد ہی اسماعیلی شعرا اور ادیبوں کی متنازع بنانا تھا ۔ جس کی وجہ سے کتاب کی رونمائی پر احتجاج کے سبب اس کی رونمائی نہ ہو سکی۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے