جنگِ سکردو کی کہانی، کرنل مطاع الملک کی زبانی
تحریر: کرنل شہزادہ مطاع الملک (مرحوم)
سن 1585ء میں مرزا محمد بیگ کے بیٹوں نے چترال کے حکمران رئیس خاندان کو شکست دے کر تخت پر قبضہ کر لیا۔ بڑا بھائی شاہ محترم شاہ اول چترال کے تخت پر بیٹھا اور چھوٹا بھائی شاہ خوشوقت گلگت کا حکمران بنا۔ خوشوقت خاندان میں چند مشہور مہتر گزرے ہیں جنہوں نے دونوں ریاستوں یعنی گلگت اور چترال پر حکومت کی۔
شاہ فرامرد (حکمرانی 1717 تا 1724) کی بادشاہت کے حدود بونجی گلگت سے چقن سرائے افغانستان تک اور چیلاس سے جرم بدخشان تک پھیلی ہوئے تھے۔ شاہ خیراللہ (حکمرانی 1741 تا 1787) بھی اپنے فتوحات کے لیے مشہور ہیں اور اس نے بھی دونوں ریاستوں، چترال اور گلگت پر حکمرانی کی۔ مجاہد مہتر گوہر امان بھی ڈوگرہ کے خلاف جہاد کے لیے نامور ہیں۔ اس نے گلگت میں نیا قلعہ بنایا اور جب تک زندہ رہا ڈوگرہ فوج کو گلگت سے آگے نہ بڑھنے دیا۔ انہوں نے 1852ء میں نیلی درہ میں جنرل بھوپ سنگھ کے زیر کمان 3000 ڈوگرہ فوجیوں کا صفایا کیا۔ یہ جگہ بھوپ سنگھ سے لڑائی کی وجہ سے اب تک مشہور ہے۔
مہتر گوہر امان کی وفات کے بعد 1870ء میں مہاراجہ کشمیر کی فوج گلگت میں داخل ہوئی اور آگے بڑھنے لگی۔ چترال کے آخری خود مختار بادشاه امان الملک 1852 تا 1892 نے بھی دونوں ریاستوں چترال اور گلگت کو اپنی حکمرانی میں متحد بنایا تھا۔ اس نے لشکر کشی کرکے مہاراجہ کی فوجوں کو پنیال سے نکال کر گلگت کا محاصرہ کرلیا۔

چونکہ وہ ہمیشہ شمال کی طرف بدخشان کے میروں کے ساتھ اور جنوب میں خانانِ دیر اور آسمار کے ساتھ جنگ میں مصروف رہتا تھا۔ اس لیے اس نے گلگت کا محاصرہ اٹھایا اور 1872 میں ایک معاہدہ پر دستخط ہوئے جس کی رو سے یہ طے پایا کہ مہاراجہ کی فوجیں گلگت کے حدود سے پنیال کی طرف نہیں بڑھیں گی اور چترالی پنیال کے حدود سے گلگت کی طرف حملہ آور نہیں ہوں گے۔ شاہ امان الملک کو عظیم مہتر کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ اس نے مہاراجہ کی فوج کو گلگت سے آگ نہیں بڑھنے دیا۔ میر محمود شاہ والئیِ بدخشان کو درہ بروغل میں فیصلہ کن شکست دے کر چترال کو بچایا۔ خان آف دیر کو لواری پر شکست دی۔ خان آف آسمار کو تربیت میں شکست دی اور کافرستان موجودہ نورستان کی بغاوت کو برگہ مثال کی جنگ میں شکست دی۔ اس کی بادشاہت کے حدود گلگت سے چقان سرائے افغانستان تک اور چیلاس سے نورستان تک پھیلے ہوئے تھے۔
اب میں اپنے مختصر حالات بتاتا ہوں۔ میں ہزہائی نس سر شجاع الملک، والئی چترال (حکمرانی 1895 تا 1839) کا بیٹا ہوں اور میری والدہ نواب بادشاه خان والئیِ دیر کی ہمشیرہ تھیں۔ میں نے پرنس آف ویلز رائل انڈین ملٹری کالج ڈیرہ دون میں تعلیم حاصل کی۔ 1937 میں میں نے دہلی میں پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کیا۔ اس امتحان میں میرے ساتھ پاس ہونے والے جرنل حمید خان، میجر جنرل رحیم خان اور صدر جنرل یحییٰ خان شامل تھے اور کامیاب ہونے والے 15 لڑکوں میں سے ہم چار مسلمان تھے۔ 1939 تا 1940 میں نے فرسٹ بٹالین ویسٹ پارک شیر رجمنٹ کے ساتھ سکندر آباد میں ٹریننگ پائی۔ پھر ۲/۱۵ پنجاب رجمنٹ مری میں تعینات ہوا۔ میں اس رجمنٹ میں پہلا ہندوستانی افسر تھا۔ 1940 میں پلٹن کے ساتھ سنگاپور گیا اور اپریل 1941 میں کپتان کے عہدہ پر ترقی پائی۔
میری پلٹن سراواک بورنیو میں تھی جب جاپانیوں کا حملہ شروع ہوا اور نتیجتاً انگریزوں نے ہتھیار ڈال دیے اور ہم جاپانیوں کی قید میں چلے گئے۔ اس کے بعد سنگاپور میں 1942ء کے شروع میں جاپان نے (قید میں موجود انہی انگریزی فوجیوں کی مدد سے ہندوستان میں انگریز راج کے خلاف بغاوت کرنے کے لیے) انڈین نیشنل آرمی بنائی۔ یہ نمبر ا ڈویژن اور نمبر ۲ ڈویژن سابقہ انڈین آرمی کے فوجیوں سے بنائی گئی تھی اور نمبر ۳ ڈویژن میں نصف سابقہ فوجی اور نصف مقامی آبادی کے ہندوستانی تھے۔ شروع میں اس کا کمانڈر کپتان (جنرل) موہن سنگھ تھا۔ بعد میں اسے ہٹا دیا گیا اور لیفٹنٹ کرنل (میجر جنرل) بھونسلے (۔۔۔۔۔؟)۔ میں بھی 1943ء کے آغاز میں انڈین نیشنل آرمی میں شامل ہوا۔
اس فوج میں پہلے میں جی او سی آئی نمبر 3 ڈویژن میں مقرر ہوا اور بعد میں کمانڈر 8 گوریلا بریگیڈ میں۔ 1945 میں جاپانیوں نے ہتھیار ڈال دیے مگر سنگاپور کے شہنشاہ کے حکم پر اور ہتھیار ڈالنے کو ذلت سمجھتے ہوئے بہت سے جاپانی افسروں نے خودکشی کی۔ انڈین نیشنل آرمی کے لوگوں کو انگریزوں نے گرفتار کرلیا۔ انگریزوں نے بادشاہ کے خلاف جنگ کرنے کا چارج لگا کر تین افسروں پر ایک ساتھ مقدمہ شروع کیا۔ کپتان (میجر جنرل) شاه نواز خان، کپتان (لیفٹنٹ کرنل) ڈھلوں اور لیفٹنٹ کرنل سہگل۔ کانگریس، مسلم لیگ اور اکالی نے اس کے خلاف تحریک چلائی۔ نیوی اور ائر فورس میں بغاوت کا اندیشہ ہوا اور انگریزوں نے یہ چارج یعنی بادشاہ کے خلاف جنگ کا الزام واپس لے لیا اور صرف ان افسروں کے خلاف مقدمہ چلایا جن کے خلاف باغی انڈین نیشنل آرمی میں شامل ہونے کا الزام تھا۔ اس سلسلے میں مجھے بھی رہائی ملی اور میں اپریل 1947ء میں میں چترال پہنچا اور اپنے موروثی عہدہ گورنر علاقہ خذرہ میں فائز ہوا۔
اپریل 1948ء کے اپریل میں میں بھی مہترِ چترال ہزہائی نس مظفر الملک کے ساتھ پشاور آیا۔ قائداعظم نے ہمیں ملاقات کا شرف بخشا اور ہزہائی نس کو فرمایا کہ سردیوں میں کراچی آئیں اور محمد مطاع الملک کو بھی اپنے ساتھ لائیں۔ اس وقت کشمیر کی آزادی کی جنگ شروع تھی۔ قبائل، دیر اور سوات کے لشکر اس میں حصہ لے رہے تھے اور قربانیاں دے رہے تھے۔ جب ہم چترال واپس لوٹے تو ہزہائینس مظفر الملک نے مجھ سے کہا کہ میں (جنگِ آزادیِ گلگت میں ڈوگرہ فوج کے خلاف) چترالی باڈی گارڈز اور چترال سکاؤٹس کی قیادت کروں۔ میں نے بلا تامل یہ پیش کش قبول کر لی کیونکہ شروع ہی سے مجھے اسلام کی خدمت کا شوق تھا۔

باڈی گارڈز کی نفری تقریباً دو ہزار تھی۔ یہ دو سو کی ٹولیوں میں قلعہ آتی اور ایک مہینہ گارڈ ڈیوٹی میں گزار کر واپس چلی جاتی اور دوسری ٹولی آ جاتی۔ ان کو کوئی پیشہ وارانہ ٹریننگ نہیں دی جاتی اور موجودہ جنگی چالوں سے بالکل ناواقف تھے۔ سوائے اس کے کہ ہر چترالی قدرتی شکاری ہوتا ہے۔ ان میں سے میرے سپرد صرف 400 آدمی کیے گئے۔ حالانکہ میرا اصرار تھا کہ نفری زیادہ ہونی چاہیے۔ شروع سے ہی ہمارے ساتھ جھوٹے وعدے کیے گئے۔ مجھے بتایا گیا کہ ہمارا کام گلگت میں رہ کر اس کی حفاظت کرنا ہوگا۔ ملیشیا کی تنخواہ کے برابر تنخواہ ملے گی اور راشن مفت ہوگا۔ 15 مئی 1948 کو ہم چترال سے روانہ ہوئے اور میں راستے میں شب باشی کی جگہ بھی اپنے دستے کو ٹریننگ دیتا رہا کہ وہ موجودہ جنگ کی سب چالوں سے واقف ہو جائے۔ حملہ، دفاع اور ہوائی حملہ سے بچاؤ اور رائفل، سنگین اور ہینڈ گرینڈ کا استعمال میں نے انہیں سیکھایا۔ بونجی پہنچتے ہوئے میں نے باقاعدہ فیلڈ فائرنگ کرائی اور اصلی گولوں کی بارش میں حملہ بھی کرادیا۔ چونکہ مجھے انہیں ٹرینگ دے کر فٹ یعنی تندرست حالت میں محاذ پر پہنچانا تھا۔ اس لیے میں اوسطاً 1 میل سفر کرتا رہا۔
جب ہم گوپس پہنچے تو مہتر راجہ انور خان آف پنیال اور گورنرانِ غذر، اشکمن اور یاسین وہاں میرے استقبال کے لیے موجود تھے۔ ان کے علاوہ کمانڈنٹ گلگت سکاؤٹس لیفٹنٹ کرنل ایم جی جیلانی بھی آیا ہوا تھا۔ جیلانی کو میں سنگاپور سے جانتا تھا۔ وه 4،19 حیدر آباد رجمنٹ کا افسر تھا۔ بعد میں آئی این اے میں شامل ہوا۔ مگر اس نے انگریزوں کو اپنے اعتماد میں ایسے لیا کہ وہ واحد افسر تھا جسے دوبارہ انڈین آرمی میں واپس لیا گیا۔
جیلانی نے مجھے کہا کہ اسے میرے مجاہدین کو تنخواہ دینے کے بارے میں ہدایات نہیں ملیں اور یہ کہ انہیں گلگت میں حفاظتی کام دینے کے لیے نہیں بلکہ محاذ پر جانے کے لیے احکامات تھے۔ یہ خبر ہمارے جوانوں کے لیے ایک دھماکہ سے کم نہیں تھی۔ کیونکہ چترال میں ان کے ساتھ تنخواہ کا اور دو مہینے گلگت میں حفاظتی دستے کے فرائض انجام دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ جب میں پولو کھیل کر واپس آیا تو فوج کے سردار وہاں جمع تھے اور مجھے بتایا کہ سپاہی راشن لینے سے انکار کر رہے ہیں اور احتجاج کر رہے ہیں کہ ان کے ساتھ وعدہ خلافی ہوئی ہے۔ میں نے ان کے سامنے مختصر تقریر کی اور جہاد اور اسلام کی سربلندی کے لیے قربانیاں دینے کی اپیل کی۔ میں نے کہا کہ اگر وہ میدان میں جانے کے لئے تیار نہیں تو میں اکیلا جنگ کے لئے جاؤں گا۔ اس کا خاطر خواہ نتیجہ نکلا اور انہوں نے مجھے لکھ کر دیا کہ وہ میری قیادت میں میدان جنگ میں جانے کے لئے تیار ہیں۔
بعد میں اس یقین دہانی کو توڑ مروڑ کر ایسا پیش کیا گیا کہ انہوں نے مجھے چترال کے تخت پر بٹھانے کا حلف لیا تھا۔ گلگت کے بعض سیاسی عناصر ہمارے گلگت میں داخلے پر خوفزدہ تھے کیونکہ گلگت کا علاقہ سابقہ دور میں چترال کا ہی حصہ تھا۔ کرنل جیلانی چاہتا تھا کہ میں جلدی سے یہ فاصلہ طے کروں مگر مجھے یہ منظور نہیں تھا اور میں نے اپنے پروگرام کے مطابق سفر جاری رکھا۔ شندور کی 12 ہزار فٹ بلندی کراس کرتے ہوئے جب ہم علاقہ گلگت میں داخل ہوئے تھے تو مجھے یہ دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی کہ زیادہ تر لوگ کھوار زبان جانتے تھے۔ میں راجہ محمد انور خان والئیِ پنیال کی مہمان نوازی ہمیشہ یاد کرتا کروں گا۔ وہ گوپس سے لیکر پنیال کی حدود ہمارے ساتھ رہا۔ وہ اور راجہ اشکن ہمارے اپنے برادری کے تھے۔ مگر یاسین اور غذر میں انگریزوں نے دوسرے راجے مقرر کیے تھے۔ گلگت میں سردار محمد عالم خان پولیٹکل ایجنٹ تھا۔ اس نے ہمارا استقبال کیا اور مجھے اپنی رہائش گاہ پر رہنے کی دعوت دی۔ اس نے یہ وعدہ کیا کہ سکردو کے فتح پر سارا مالِ غنیمت ہمارا ہوگا۔ یہ بھی سابقہ وعدوں کی طرح جھوٹ ثابت ہوا۔
سفر جاری رکھتے ہوئے بججی پہنچے تو مجھے یہ دیکھ کر بڑی خوشی حاصل ہوئی کہ اس طویل سفر کے دوران میرے جوان بالکل ماہر لڑاکا بن گئے تھے۔ چلم چوکی پر جو برزیل پاس کے دامن میں واقع ہے، کرنل محمد اسلم خان سے ملاقات ہوئی۔ وہ محاذ کا کمانڈر تھا۔ اس کا چھوٹا بھائی ائر مارشل اصغر خان رائل انڈین ملٹری کالج میں میرے ساتھ رہے اور بریگیڈئر محمد اسلم خان بطور کیڈٹ ریاست کشمیر میں میرے انڈین ملٹری اکیڈیمی کے ساتھی تھے۔ اس نے بتایا کہ گذشتہ سردیوں سے سکردو کا محاصرہ جاری ہے مگر تاحال سکردو میں کھارپوچو قلعہ کی تسخیر میں ناکامی ہوئی ہے۔ اس نے بھی سردار محمد عالم خان کے لفظ دہرائے اور کہا کہ سکردو میں سارا مال غنیمت ہمارا ہوگا اور جنگ کے اختتام پر تمام چھینے ہوئے ہتھیار بھی ہمیں دیے جائیں گے۔ یہ سارے وعدے جھوٹ نکلے۔ گلگت پہنچنے پر مجھے جب یہ معلوم ہوا کہ سکردو میں قلعے اور مضبوط مورچہ بندیاں ہیں تو میں نے مہترِ چترال مظفرالملک کو تار دیا کہ مجھے توپیں بھیجیں تاکہ قلعہ بندیوں کو توڑا جا سکے۔ کرنل اسلم کو بھی میں نے میں کہا کہ توپیں جلد مہیا کرنے کی کوشش کریں۔
سفر جاری رکھتے ہوئے 12 جون کو ہم کوہ عالم پیر پاس کے دامن میں پہنچے۔ جس جگہ ہم رات ٹھہرے وہاں برف تھی۔ صبح 5 بجے ہم پہاڑ کو عبور کرنے کے لیے روانہ ہوئے اور اس کو عبور کرکے شام 5 بجے 12 گھنٹے برف میں سفر کرتے ہوئے شکار تھنک گاؤں پہنچے۔ دوسرے دن ہم کچواہ پہنچے جہاں راجہ سکردو ہمارے استقبال کے لیے آئے ہوئے تھے۔ مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ راجہ اور دوسرے معززین سکھوں کی طرح پگڑیاں باندھے ہوئے تھے اور ویسے ہی ہاتھ جوڑ کر سلام کرتے تھے۔ 15 مئی کو چترال سے روانہ ہو کر ہم 17 جون کو سکردو پہنچے۔

گلگت اور چلم چوکی میں ہمیں یہ بتایا گیا تھا کہ دشمن کی حالت پتلی ہے اور یہ کہ اس کے پاس گولہ بارود اور راشن بہت کم ہے اور ہتھیار ڈالنے والا ہے۔ اگر یہ باتیں صحیح ہیں تو وہ اب تک ہتھیار کیوں نہیں ڈال رہے تھے۔ اصل حقیقت معلوم کرنے اور دشمن کی طاقت کا تجزیہ سے 19 جون کی درمیانی رات میں اگلے مورچوں پر گیا اور اپنے زیر نگرانی ایک چھوٹے دستے سے بموں سے حملہ کرایا۔ صبح صادق تک ہم پر دشمن نے گولوں اور بموں کی بارش کی اور ہیڈ کوارٹر واپس آکر میں تھوڑا سونا چاہتا تھا کہ ہوائی جہازوں کی گڑاہٹ ہوئی اور ہمارا ہیڈ کوارٹر جو سندوس گاؤس میں تھا ان کی بمباری کی زد میں آگیا۔ ہم نے جلدی سے نالوں میں جا کر پناہ لی کیوں کہ یہاں ہوائی جہاز سے بچاؤ کے لئے کوئی خندقیں نہیں تھیں۔ جنگ کے شروع سے اب تک جو فوج کھرپوچو قلعہ میں 7 مہینوں سے محاصرے میں تھی دشمن کے جہازوں نے ایک دفعہ بھی اس طرف رخ نہیں کیا تھا۔ ایسا کیوں؟ کیونکہ یہاں لڑائی برائے نام تھی اور دشمن اپنے آپ کو خطرے میں نہیں سمجھتا تھا۔ 19 تاریخ کی رات کے حملہ سے قبل میں نے ایک جنگی قیدی کے ہاتھ دشمن کو پیغام بھیجا تھا کہ ہتھیار ڈال دیں اور وہ میرے دستخط کو کرنل مطاع الملک کی جگہ کرنل ملک الموت پڑھ کر خوف زدہ ہوگئے تھے! جون 19 کے بعد دشمن کے جہاز 14 اگست تک متواتر حملہ کرتے رہے تاکہ اپنی فوج کا حوصلہ بلند رکھیں۔
سکردو میں اس طرح لڑائی چلتی رہی۔ میری جنگی چال یہ رہی کہ چھوٹے اسلحوں کے فائر کی آڑ میں دشمن پر مسلسل دباؤ ڈالتا رہوں اور رات کو چھوٹے دستے مسلسل گشت پر بھیجتا رہوں۔ اپنے پرانے ہیڈ کوارٹر سندوس کے اردگرد میں نے نقلی مورچے کھود رکھے تھے تا کہ ہوائی حملے وہاں پر ہوتے رہیں اور میں نے اپنا ہیڈ کوارٹر وہاں سے ایسی جگہ تبدیل کیا جہاں سے ہمارے سارے مورچے نظر آتے تھے اور ساتھ ہی اس کے ایک نالہ دہوسائی کے میدان کو جاتا تھا اور یہی کشمیر جانے کا راستہ تھا۔ اس سبب سے ہوائی جہازوں کے متواتر حملوں کے باوجود ہوائی حملوں میں ہمارا صرف ایک جوان سنتری کی پوزیشن میں مشین گن چلاتے ہوئے مارا گیا اور اس کے بعد اور کوئی زخمی یا ہلاک نہ ہوا۔

اس دوران فرنٹیر کانسٹبلری کی ایک کمپنی زیر کمان صوبیدار نعمت خان سکردو پہنچی تھی۔ میں ان کے استقبال کے لیے گیا اور ان کو بہت بے حوصلہ پایا۔ صوبیدار نے مجھے ایک درد ناک کہانی سنائی۔ وہ اس فوج میں شامل تھا جو تراگبل پاس کا دفاع کر رہی تھی۔ ان میں گلگت سکاؤٹس اور فرنٹیر کانسٹبلری شامل تھے۔ وہ تراگبل کی چوٹی پر تھے اور وادی کشمیر ان کے سامنے تھی۔ ہندوستان کی فوج تراگبل کے دوسری طرف دامن میں جمع ہو رہی تھی اور ایک غلط افواہ کی بنیاد پر کہ ہندوستانیوں کا حملہ شروع ہوا ہے، ہماری یہ دفاعی فوج 30 میل پیچھے دریائے کشن گنگا تک بٹ گئی تھی۔ وہاں پر میجر نیک عالم نے دفاعی پوزیشن سنبھالی تھی۔ یہ ایک نہایت افسوس ناک واقعہ تھا اور اس دوران دیوسانی کا راستہ جو سکردو آتا تھا دشمن کے حملہ کے لیے غیر محفوظ چھوڑ دیا گیا تھا۔ علاقہ کے کمانڈر کرنل جیلانی نے اس کے متعلق مجھے بالکل بے خبر رکھا تھا اور جو امدادی فوج مجھے چترال سے روانہ کی گئی تھی اور اس کی کمان کرنل برہان الدین خان اور میجر محی الدین خان کر رہے تھے ٹٹ دال پاس کی دفاع کے لیے چلی گئی۔ اس لیے میرے اور کرنل جیلانی کے درمیان تلخ پیغاموں کا تبادلہ ہوا۔
اس دوران مجھے وادی نوبرہ کے دستے سے پیغام ملا کہ انہوں نے پہلے ہاتھ سے نکلی ہوئی جگہ بیوغ ڈنگ پر دوبارہ قبضہ کر لیا تھا اور آگے بڑھ رہے ہیں۔ اسی دوران صوبیدار مہدی خان (توپوں کے ہمراہ؟) سکردو پہنچا مگر اس کے ساتھ نشانہ لینے کا آلہ سائٹ نہیں تھا اور اس لیے وقتی طور پر بیکار تھا۔ اور ہمیں اس کی آمد کا انتظار کرنا پڑا۔ 5 اگست کو 5 بجے شام سے صبح 3 بجے تک شدید لڑائی ہوئی اور دشمن نے ہمارے مورچوں کی طرف پیش قدمی کی کوشش کی مگر ہم نے انہیں پسپا ہونے پر مجبور کر دیا اور جوابی حملے کیے جس میں ان پر دستی بم گرائے گئے۔ دوسری صبح پھر دشمن کے چار جہازوں نے ہم پر بمباری کی اور دشمن جو تاریخی قلعہ کھریوچو میں تھے آہ و فغان کرتے سنے گئے۔ دشمن کو کافی نقصان پہنچایا گیا۔ 7 اگست کی کامیابی کی بریگیڈئر شیر خان کی طرف سے مبارک باد لی۔

آخر کار 10 اگست کو توپ کا سائٹ آگیا اور میں نے پروگرام بنایا کہ ڈیڑھ گھنٹے کی شدید بمباری کی آڑ میں ہم دشمن کے چار مورچوں پر حملہ آور ہوں گے۔ دشمن کے ہوائی حملہ کو نظر میں رکھتے ہوئے حملے کا وقت 2:30 بجے مقرر کیا گیا۔ 30 چترالی اور 10 کانسٹبلری کے جوان گولوں کی آڑ میں اسکول پر حملہ آور ہو کر دیوار کے ساتھ تک پہنچ گئے مگر اندر داخل نہ ہو سکے اور دشمن نے جوابی دستی بموں کی بوچھاڑ کی۔ ہمارا دستہ باحفاظت واپس اپنے مورچوں میں آگیا۔ اسی دوران دوسرا حملہ آور دستے نے ڈاک بنگلہ پر قبضہ کیا جو سکول اور پائین قلعہ کے درمیان واقع تھا۔ توپ کے ساتھ صرف 200 گولے بھیجے گئے تھے اور اب صرف چند ہی باقی رہ گئے تھے۔ اب تک توپ کمانڈر ایک بھی صحیح نشانہ لگانے سے قاصر تھا۔ شاید وہ دشمن کے مشین گن کے فائر سے کچھ گھبرا رہا تھا۔ اس لیے میں نے فیصلہ کیا کہ توپ کو فائر آرڈر میں خود دوں گا اور اس غرض کے لئے 13 اگست کو میں نے گردوارہ کے مورچے اور یاسین قلعہ کا انتخاب کیا۔
اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس دفعہ گولے ٹھیک نشانے پر لگے اور فائرنگ کے دوران ایک سپاہی پیغام لے کر آیا کہ دشمن نے فائر بندی کی درخواست کی ہے اس وعدے پر کہ کل یعنی 14 اگست کی صبح وہ ہتھیار ڈال دیں گے۔ 14 اگست 1948 کی صبح اگلے مورچوں کی رپورٹ کا انتظار کر رہا تھا جب ایک گاؤں کا آدمی پریشان حالت میں دوڑتا ہوا میرے پاس آیا اور بتایا کہ اس نے دشمن کے دس آدمیوں کو اس مقامی باشندوں کے ساتھ 7 بجے صبح گرمی نالہ سے ہوتے دیوسائی میدان کی طرف جاتے دیکھا تھا۔ جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا ہے کہ میں اپنا ہیڈکوارٹر سندوس گاؤں سے گرگی نالے کے دامن میں واقع گاؤں تبدیل کیا تھا اور دشمن اسی نالے کے راستے کو بچ نکلنے کے لیے استعمال کر رہا تھا۔ قریباً دو سوانفری جو رائفلوں، برین گنوں اور مارٹروں سے مسلح تھے اور ہر ایک نے 100 گولے کارتوس اٹھائے ہوئے تھے ہمارے اگلے مورچوں کے درمیان سے رات کے وقت نکل آئے تھے اور گرگی نالہ کے اندر جاکر آرام کر رہے تھے۔ میں نے ایک دم اپنے ہیڈ کوارٹر کے جوانوں کو نالہ کے دونوں دہانوں پر چڑھایا اور جو ریزرو کمپنی لیفٹننٹ سردار امان شاہ کے زیرِ کمان میرے پاس تھی اس کو نالہ کے اندرون میں حملے کا حکم دے کر پیش قدمی کروائی۔ دشمن خیال کرتے ہوئے کہ وہ بچ نکلا ہے اور محفوظ ہے، گرگی نالہ کے اندر بے خبر آرام کر رہا تھا۔ ہماری پیش قدمی پر ایک دم فائرنگ شروع ہوئی۔ دشمن نے دیکھتے ہوئے کہ وہ گھیرے میں آگیا ہے مقابلے سے دست بردار ہوگیا اور خود کو گر فتار کروا دیا۔
بالآخر 14 اگست کو 1 بجے ہندوستانی پرچم سرنگوں ہوگیا اور پاکستانی پرچم کو تاریخی قلعہ کھرپوچو پر، جو پہاڑ کی چوٹی پر واقع ہے، لہرایا گیا۔ 14 اگست کو سدپارہ، دیوسائی اور برگیلا کے راستوں کو جو کشمیر کو جاتے ہیں دشمن سے صاف کیا گیا اور اسی دوران نوبرہ بھیجے جانے والے میرے دستے نے دشمن کو بھگاتے ہوئے تبت اور چین کے حدود تک پہنچا دیا۔

شروع ہی سے سکردو مہم کو غلط طریقے سے نبھایا گیا اور متواتر غلط وعدے کیے گئے تھے۔ اگر توپیں جلدی پہنچ جاتی تو سکردو جلدی فتح ہو جاتا اور میں بیچ لداخ کی طرف پیش قدمی کر سکتا تھا۔ ہم سے مفت راشن کا وعدہ کیا گیا تھا مگر حقیقت یہ تھی کہ اپنے جوانوں کے لیے بھی اور دوسرے محاذوں کے لیے بھی مجھے گاؤں والوں سے راشن جمع کرنا پڑا کیوں کہ سپلائی کا کوئی بندوبست نہیں تھا۔ اس کے علاوہ گولہ بارود کے لیے مجھے قلی جمع کرکے درہ عالم پیر (18000) فٹ پار کر کے استور بھیجنا ہوتا جس کا سکردو سے 4 دن کا راستہ تھا۔
اس طرح کام لینے سے مقامی باشندوں سے بدمزگی ہونا لازمی تھا مگر میرے بس میں نہیں تھا کہ کوئی دوسرا طریقہ استعمال کروں۔ 15 مئی کو روانگی کے وقت میرے جوانوں کے بدن پر وردی تھی جو 4 ماہ میں تار تار ہو چکی تھی۔ میرے پاس ہزہائی نس مظفر الملک کا ایک خط بھی موجود ہے جس میں اس نے لکھا ہے کہ حکومت پاکستان نے آپ کے زیر کمان افسروں اور سپاہیوں کے لئے سکاؤٹس اسکیل تنخواہ اور مفت راشن کی منظوری دیدی ہے۔ میں نے بارہا اس بارے میں حکومت کو یاد دہانی کرائی مگر کوئی سنتا ہی نہیں تھا۔ حالانکہ سکردو کے فتح سے سارا بلتستان پاکستان میں شامل ہو گیا۔
سکردو کے فتح کے بعد ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو میرے لیے سنگین مصیبت بن گیا۔ میری تمام خدمات اور قربانیاں ضائع ہوگئیں۔ انعامات اور اکرامات کی جگہ میں قید و بند کی مصیبت میں پھنس گیا۔ (کھرپوچو قلعہ میں) جنگی قیدیوں میں ایک کپتان گنگا سنگھ تھا۔ جو پاکستانی باشندے دشمن کے علاقے میں تھے ان کا ایک وفد میرے پاس آیا اور شکایت کی کہ احاطہ کے اندر ایک مسجد تھی جسے دشمن کے سپاہیوں نے قحبہ خانہ بنایا تھا اور اس میں ان کے مستورات کو لے جا کر ان کی عصمت لوٹ لی جاتی۔ ان میں گنگا سنگھ زیادہ ظالم تھا۔ انہوں نے التجا کی کہ میں گنگا سنگھ کو ان کے حوالہ کروں۔ اس وقت لاکھوں مسلمانوں کے قتل اور عصمت دری اور اغوا کے واقعات تازہ تھے اور ہم بدلہ لینے کے جذبے سے سرشار ہو کر جہاد پر گئے تھے۔ بعد میں مجھے ہیڈ کوارٹر سے پیغام ملا کہ اس پر مقدمہ نہ چلاؤ اور تفصیل بتاؤ۔ میں نے کوڈ میں جواب دیا۔ “گنگا سنگھ باقی نہ رہا۔” ہمارے تمام پیغامات خفیہ لفظوں یعنی کوڈ میں ہوتے تھے۔ ہندوستان کو ہمارے کوڈ کا پتہ تھا۔ مگر جب اس نے میرا یہ پیغام پکڑا تو اس سے برداشت نہ ہو سکا اور پاکستان کو دھمکی دی۔ اس پر ہمارے ہیڈ کوارٹر کو کوڈ کے دشمن کے ہاتھ لگ جانے کا پتہ چلا اور ہمارا کوڈ فوراً بدلا گیا۔ اس کوڈ کے پکڑے جانے سے مجھے تو نقصان ہوا مگر ہماری فوج کو فائدہ ہوا۔ پنڈت جواہر لال نہرو کی دھمکی پر ہمارا ڈیفنس سیکرٹری سکندر مرزا نے گلگت کا دورہ کیا اور انہوں نے خفیہ طور پر فیصلہ کر چھوڑا کہ گلگت پہنچنے پر مجھے گرفتار کیا جائے۔
واپسی کے سفر میں جب میں استور پہنچا تو کرنل جیلانی نے مجھ سے درخواست کی کہ میں اپنے جوانوں کی رائفلیں وہاں چھوڑوں تاکہ وہ رضا کاروں کے کام آئیں۔ میرے دماغ میں بھی نہیں تھا کہ یہ میری گرفتاری کی ایک چال ہے۔ میں تو انعامات کی توقع میں تھا۔ میں نے رائفلیں ان کے حوالے کیں۔ 11 ستمبر کو میں گلگت پہنچا۔ گلگت سکاؤٹس کے کمانڈنٹ نے مجھے اپنی رہائش گاہ میں آنے کی دعوت دی اور میجر طفیل محمد (بعد میں نشان حیدر) نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مجھے پشاور طلب کیا گیا ہے۔ اس لیے 12 ستمبر کو ایک جہاز کے ذریعے مجھے پشاور پہنچایا گیا اور وہاں سے سگنلز آفیسرز میس پہنچا کر زیر حراست لیا گیا۔ ایک افسر روزانہ مجھ پر ڈیوٹی دیتا تھا۔ میرے جوانوں کو لوٹ لینا اور مجھے حراست میں لینا ہماری مجاہدانہ خدمات کا صلہ تھا! 15 مئی سے 12 ستمبر 1949 تک مجھے اس میس میں رکھا گیا اور اس دوران مہتر ہز ہائی نس مظفر الملک بھی میرے خلاف صف آرا ہوئے۔ انہوں نے حکومت کو شکایت کی کہ میں واپسی پر تختِ چترال پر قبضہ کرنا چاہتا تھا اور سپاہیوں نے میرے ساتھ وفاداری کا عہد کیا تھا۔ یہ بھی سراسر جھوٹا الزام تھا۔
میرا اگر یہ ارادہ ہوتا تو میں اپنے اسلحہ پیچھے نہ چھوڑتا اور نہ کوئی مجھے گلگت میں گر فتار کرنے کی جرات کرتا۔ 1949 کے جنوری میں جب ہزہائی نس مظفرالملک کا انتقال ہوا تو مجھے سنٹرل جیل پشاور بھیجا گیا کہ میس سے کہیں میں فرار نہ ہو جاؤں۔ میں نے حبس بےجا کے خلاف درخواست دیدی اور حکومت نے بنگال ریگولیشن 1818 کا سہارا لیا کہ گورنر جنرل کسی کو بغیر کوئی وجوہ بتائے قید و بند میں رکھ سکتا ہے۔ یہ قانون سیاسی لیڈروں کے لیے بنا تھا مگر ایک فاتح مجاہد کو اس کا نشانہ بنانا سراسر ظلم کے سوا اور کچھ نہیں تھا۔ اس ریگولیشن کی رو سے اس شخص کو سٹیٹ قیدی کا درجہ ملتا ہے۔ اسے خود اور گھر بار کو مناسب وظیفہ بھی ملتا ہے۔ مگر حکومت نے اس شق کو نظر انداز کیا اور ایک سال کے قید و بند کے درمیان مجھے بہت نقصان اٹھانا پڑا۔
جب اخبارات کو میری قید و بند کی اصلی وجوہ معلوم ہوئیں تو میرے لیے انصاف اور آزادی کے لیے آواز بلند کی گئی اور اداریے لکھے۔ میری سکردو سے واپسی کے تھوڑے دن بعد ہندوستانی فوج نے زوجیلا کا پہاڑ عبور کر کے دراس اور کارگل پر قبضہ کیا اور لیح سے بھی پیش قدمی کی۔ یہ افسوس کا مقام ہے کہ حکومت اب تک ہماری خدمات کو نظر انداز کر رہی ہے اور تنخواہ کے جو وعدے کیے اب تک پورے نہیں کیے۔ میں درخواستیں دیتا رہا ہوں۔ اتنی بڑی کامیابی پر جس سے سارا بلتستان پاکستان کا حصہ بن گیا مجھے کسی انعام سے نہیں نوازا گیا۔

نوٹ: یہ مضمون مجلہ “سد پارہ” کے خصوصی شمارہ “ہندوکش قراقرم”، زیرِ ادارت منظوم علی، پبلشر گورنمنٹ کالج گلگت، سال 1985 میں شائع ہوا تھا جسے معمولی تبدیلیوں کے بعد کھواری میں شائع کیا گیا ہے۔
Good to see this article on your site ,This is taken from my Facebook post , a little credit would have been appreciated.But good job on refining it.
Apologise this is different from the one I shared