چترال میں تعلیمی ارتقاء کی تاریخ

Boys at Bumboret School Chitral 1979 by Ludo Kuipers.jpeg

Boys at Bumburet School Chitral 1979, Picture by Ludo Kuipers

تحریر: ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر علی جبار خان

بیسویں صدی کے پہلے عشرے سے قبل چترال میں باقاعدہ نظامِ تعلیم کی کوئی روایت نہیں ملتی۔ البتہ ریاستِ چترال میں غیر رسمی تعلیم کا آغاز اعلیٰ حضرت شجاع الملک کے عہد کے پہلے عشرے کے دوران شاہی قلعہ چترال کے مغربی مینار سے ہوا، جہاں شہزادوں اور خواص کے بچوں کو ناظرہ قرآن کے علاوہ دینیات اور فارسی انشا پردازی کی تعلیم دی جاتی تھی۔ میرے چچا استاد کیکاؤس مرحوم کے بقول، اس غیر نصابی تعلیم کا استاد ژوغور سے تھا، جو گرمیوں میں طلبہ کو قلعے کے نیچے چنار کے درختوں کے سائے میں بٹھا کر پڑھایا کرتا تھا۔

سال 1922ء میں مہتر اعلیٰ حضرت شجاع الملک نے چترال شہر میں پن بجلی گھر کی تعمیر کا منصوبہ بنایا۔ اس مقصد کے لیے ہائی سکول چترال اور پرانے پی آئی اے چوک کے درمیان بہنے والی نہر پر ایک بڑا کمرہ تیار کروایا گیا۔ بجلی گھر چلانے کے لیے اس جگہ مطلوبہ آبشار نہ بننے کی وجہ سے بجلی گھر کو شاہی مسجد کے پاس منتقل کر دیا گیا اور قلعے میں قائم مکتب کو بجلی گھر کے لیے بنائے گئے خالی کمرے میں منتقل کر دیا گیا۔ اس میں خواص کے علاوہ دربار سے وابستہ افراد کے بچے بھی مروجہ تعلیم حاصل کرنے لگے۔ یہ مکتب 1926ء تک غیر رسمی تعلیم کا مرکز رہا۔ 1926ء میں اعلیٰ حضرت نے اسی درسگاہ کو باقاعدہ پرائمری سکول کا درجہ دیا، جہاں رسمی اور نصابی تعلیم دی جانے لگی۔

اس درسگاہ کے پروان چڑھنے میں کچھ بیرونی محرکات بھی اثرانداز ہوئے۔ وہ اس طرح کہ 1923ء میں ایک اسماعیلی مشنری، پیر سبز علی، جو سر سلطان محمد شاہ آغا خان کے حکم پر اسماعیلی جماعت کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے چترال، گلگت اور بدخشان کے دورے پر آئے، چترال کی پسماندگی اور تعلیمی تاریکی پر رنجیدہ ہوئے۔ انہوں نے اسماعیلی بستیوں میں خواندہ افراد کی مدد سے سکول کھولنے کا بندوبست کیا۔ بعد میں باقاعدہ طور پر کراچی سے اساتذہ، کتب اور اساتذہ کی تنخواہوں کا نظام ترتیب دینے کا معاہدہ کیا گیا۔ اسی طرح چترال اور گلگت میں ایک ساتھ تعلیم کا اجرا ہوا۔

مگر چترال میں سنی علمائے کرام اور مہترِ چترال نے اس بات کا سختی سے نوٹس لیا اور مہترِ چترال کے حکم سے یہ سکول فوری طور پر بند کر دیے گئے۔ ان کی جگہ دینی مدارس کا بندوبست کیا گیا۔ اس کے ساتھ مہترِ چترال حج سے واپس آکر اسماعیلی عمائدین سے جوڑ توڑ کرکے اسماعیلیوں کو سنی مسلک اختیار کرنے کی تبلیغ کرنے لگے۔ چنانچہ موڑکھو اور تورکھو کے بہت سے اسماعیلی سنی مسلک اختیار کر گئے۔ انہیں بے جا مراعات اور انعامات سے نوازا گیا، جبکہ جو لوگ اپنے سابقہ مسلک پر قائم رہے، ان پر عرصۂ حیات تنگ کر دیا گیا۔

سر محمد ناصر الملک اس معاملے میں پیش پیش تھے۔ چنانچہ وہ اس مہم کے سلسلے میں لاسپور اور یارخون کے دورے پر مستوج پہنچے تو یارخون کے باشندے احتجاجاً براستہ شندور اور براستہ تھوئی گلگت پہنچ گئے۔ انہوں نے انگریز سرکار کو اپنی عرضداشت پیش کی۔ اس کے جواب میں انگریز پولیٹیکل ایجنٹ نے انہیں باور کرایا کہ ان پر کسی بھی حالت میں مسلک تبدیل کرنے کے لیے جبر نہیں کیا جائے گا۔ وہ لوگ مطمئن ہو کر اپنے ملک واپس چلے جائیں۔ چنانچہ یہی لوگ واپس چترال پہنچ گئے اور ساتھ ہی ایک تحقیقاتی ٹیم ملاکنڈ سے چترال پہنچ گئی۔ اس ٹیم نے باضابطہ طور پر اعلان کیا کہ جو لوگ واپس اسماعیلی مسلک اختیار کرنا چاہیں، انہیں مکمل آزادی حاصل ہے۔

اس کے باوجود بہت کم لوگ واپس اسماعیلی مسلک پر آئے۔ تاہم اسماعیلی مسلک کا ایک حصہ سنی مسلک اختیار کرنے پر مجبور ہوا۔ اہلِ سنت والجماعت اسے اسماعیلیوں کا اپنے عقائد سے رجوع، جبکہ اسماعیلی اسے ’’سنی کوریک‘‘ کہتے ہیں۔

یہاں اس امر کی طرف اشارہ کروں کہ درجہ بالا اسماعیلی مشنری ایک سیدھے سادے خواجہ تھے۔ انہیں سر سلطان محمد شاہ آغا خان نے صرف چترال، گلگت اور بدخشان کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے بھیجا تھا۔ جونہی وہ چترال آئے، تمام نامساعد حالات اور پسماندگی کے مقابلے میں تعلیم کے میدان میں چترال کی تاریکی ان کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ تھی۔ چنانچہ انہوں نے اس جانب سب سے پہلے پیش رفت کا ارادہ کیا۔

دوسری طرف گلگت اور ہنزہ میں اسی دور سے باقاعدہ تعلیم کا آغاز ہوا اور وہ لوگ تعلیم کے میدان میں ہم سے بہت آگے نکل گئے۔ اسی اثنا میں چترال میں اسماعیلی مسلک کی جبری تبدیلی اور رسمی تعلیم کے قیام پر بندش کے سلسلے میں چترالی اسماعیلی عمائدین، برٹش حکام، بمبئی کے اسماعیلی قائدین، مہترِ چترال اور سر سلطان محمد شاہ آغا خان کے مابین خطوط کا لامتناہی سلسلہ جاری رہا۔ اسماعیلی امام نے چترال میں تعلیم عام کرنے کے سلسلے میں اپنی تمام خدمات پیش کیں، مگر مہترِ چترال نے اس کے جواب میں اپنی طرف سے اسماعیلی کمیونٹی کے ساتھ ہر قسم کی رواداری کا بھرپور یقین دلایا۔ مگر زمینی حقائق یکسر اس کے برعکس رہے۔

اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کرنا چاہیے کہ اسی مشنری کا یہی ایک قدم چترال میں تعلیم کی تحریک کا سبب بنا اور اس کے ردِعمل کے طور پر چترال کے اندر تمام مذہبی تعلیمی ادارے وجود میں آئے۔ حالانکہ اس سے قبل رئیس دور میں کسی باقاعدہ تعلیمی ادارے کی سند نہیں ملتی۔

بعد ازاں بیسویں صدی کے دوسرے عشرے کے آخر میں، جب مہترِ چترال کے بیٹے دہرہ دون انڈیا میں تعلیم حاصل کر رہے تھے، وہ گرمائی ایام میں اپنے استاد کو اپنے ساتھ لے کر مہترِ چترال کی ایما پر چترال لے آئے۔ مہترِ چترال جہاں بھی ہوتے، استاد اور شاگردوں کا یہی قافلہ ان کے ساتھ ہوتا۔ ان کے لیے فوری طور پر ایک کمرہ تیار کیا جاتا۔

ان حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اتالیق سرفراز شاہ اور حکیم لاسپور نے مہترِ چترال سے درخواست کی کہ وہ چترالیوں کے بچوں میں سے اپنے بچوں کے لیے ایک ایک شہدار (ذاتی ملازم) رکھیں اور ان کو بھی تعلیم دیں۔ اسی طریقے سے چترال میں موبائل سکول کا آغاز ہوا۔ یہی سکول چترال میں علم کی روشنی کی پہلی کرن تھا۔

ان حالات و واقعات کے تناظر میں یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ انگریزوں کے چترال میں آنے کے بعد چترال میں خون خرابے، قتل و غارت اور بردہ فروشی جیسے دلخراش واقعات کا خاتمہ ہوا۔ انہوں نے چترال میں سڑکیں بنوائیں، نہریں کھدوائیں، دفاعی نظام کو مضبوط کیا اور ڈاک کا انتظام بھی کیا۔ لیکن 1895ء سے 1937ء تک کے طویل عرصے میں اسی محکوم قوم کو تعلیم دینے کی راہ میں کوئی بھی قدم نہیں اٹھایا۔ ساتھ ہی والیانِ ریاست قوم کی آگاہی اور سوچ بوجھ کو اپنی حکومت کے لیے خطرات سمجھتے تھے۔

اس تنگ و تاریک ماحول میں چترال کے شاہی خاندان کا پہلا تعلیم یافتہ، درویش صفت اور عادل حکمران سر محمد ناصر الملک، جو اسلامیہ کالج پشاور کے گولڈ میڈلسٹ گریجویٹ تھے، اپنی تخت نشینی کے ایک سال بعد 1937ء میں موجودہ ہائی سکول کی عمارت میں موجود پرائمری سکول کو مڈل کا درجہ دینے کا ارادہ فرمایا۔ 1938ء میں چھٹی جماعت میں باقاعدہ پڑھائی کا آغاز ہوا اور مہتر موصوف نے صاحبزادہ خورشید سے، جو اس وقت چترال میں پولیٹیکل آفیسر تھے، سکول کی عمارت کی بنیاد رکھوائی۔

سکول کی بنیاد رکھوانے کی وجہ یہ تھی کہ ان کے چچا، صاحبزادہ سر عبدالقیوم خان نے اسلامیہ کالج پشاور کی بنیاد رکھ دی تھی۔ ان کے خاندان کے ساتھ ہز ہائی نس کے خاندان کے گہرے مراسم تھے۔ اسی سکول کی بنیاد رکھتے ہوئے مرحوم مہترِ چترال نے یوں کہا: ’’میں آج اپنے شاہی قلعے کے لیے بم رکھ رہا ہوں، اس سکول سے فارغ ہونے والے اس قلعے کی عمارت کو ڈھا دیں گے۔‘‘

اس کے جواب میں ان کے مرحوم چچا دلارم خان، وزیرِاعظم چترال، نے کہا کہ بات آپ کی اچھی طرح جانتے ہیں، ہم کیا کہیں گے۔ ہز ہائی نس نے اس کے جواب میں کہا کہ میں اپنے باورچی خانے میں مڈل پاس آدمی رکھوں گا۔ ساتھ ہی اس موقع پر مہتر موصوف نے یوں کہا کہ ’’یہی نہیں بلکہ اس ملک کے کونے کونے میں اس قسم کے سکول قائم ہوں گے۔ یوں پوری قوم تعلیم یافتہ ہو کر اس غلام قوم کی تقدیر بدل دے گی۔‘‘

Janab Shah Secretary of Education with the staff of State High School Chitral 1967.
وزیر تعلیم جناب شاہ 1967 میں اسٹیٹ ہائی سکول چترال کے اسٹاف کے ہمراہ

اس کے جواب میں ان کے سسر میر حکیم لاسپور نے یوں کہا کہ اگر سارے لوگ تعلیم یافتہ ہوں گے تو ہماری زمینوں پر کام، کاشت کاری اور دیگر خدمات کون انجام دے گا؟ تو ہز ہائی نس جذباتی ہو کر یوں کہا: ’’آپ لوگ اس قوم کے بیش قیمت جوانوں کو کیچڑ ہی میں رکھنا چاہتے ہیں۔‘‘ ان کی پیش گوئی حرف بہ حرف پوری ہوئی۔ وقت نے ثابت کیا کہ دو عشروں کے دوران ہی چترال کے تعلیم یافتہ نوجوان ملک کی مشینری چلانے کے اہل ثابت ہوئے۔

مہترِ چترال نے سکول کی عمارت کی تعمیر و تکمیل اپنی زیرِ نگرانی کرائی، جو موجودہ وقت میں سنٹینل ماڈل ہائی سکول کی عمارت کا مرکزی حصہ ہے، اور مغل طرزِ تعمیر کا یہ شاہکار اب تک اپنی اسی آب و تاب کے ساتھ قائم ہے۔ 1939ء میں آپ نے ڈائریکٹر تعلیمات صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) جناب شاہ عالم خان کو پشاور سے بلا کر اس کا باقاعدہ افتتاح کرایا۔

ریاستِ چترال میں یہ پہلا واحد مڈل سکول تھا، جہاں ریاستِ چترال کے کونے کونے سے علم کے متلاشی داخلے کے لیے آنے لگے۔ زیورِ علم بانٹنے کی کسوٹی پر اس کا موازنہ بجا طور پر اسلامیہ کالج پشاور اور علی گڑھ یونیورسٹی ہندوستان سے کیا جا سکتا ہے۔

سال 1937ء سے 1943ء تک سات سال کے عرصے میں ہز ہائی نس نے سکول کی ترقی کے لیے دوررس اقدامات کیے۔ درس و تدریس کے لیے پشاور سے قابل اساتذہ بلا کر مقرر کیے۔ آپ کثرت سے سکول کا معائنہ کیا کرتے تھے۔ بچوں کے ساتھ ڈیسک پر بیٹھ کر ان کی حوصلہ افزائی کرتے اور ان میں خودداری اور خوداعتمادی بیدار کرنے کی کوشش کرتے۔

اس دور کے مایہ ناز اساتذہ کرام کے اسمائے گرامی یہ ہیں: ژوغور کے استاد عبدالقادر؛ یہ صاحب غالباً شاہی قلعہ کے مکتب کے وہی استاد تھے جو کوچ میں چنار کے درخت کے نیچے حلقہ بنا کر بچوں کو پڑھایا کرتے تھے۔ استاد خادم دستگیر (ژوغور)، حمید اللہ عرف مداکیچی، استاد شروغ میں سکول کے ہیڈ ماسٹر تھے۔ شریف اللہ عرف ورکوپی استاد راقم کو 1966ء سے 1968ء تک ان کی شاگردی کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔ استاد عبدالمنان (کوغذی)، برنس کے استاد و فاضل، ژوغور کے استاد عمر حیات اور اورغوچ کے استاد اکبر وغیرہ اس سکول کے درخشندہ ستارے تھے۔

سال 1942ء میں اس سکول کا پہلا بیچ مڈل پاس کرکے فارغ ہوا۔ اپنی ہی سرزمین سے پہلی دفعہ سند حاصل کرنے والے خوش قسمت نگینے یہ تھے: مہتر ژاؤ سلطان حکیم شاہ صاحب (پریت)، بابائے ایوب (چمرکھن)، محمد حسین صاحب (اوچسٹ)، جناب فدا محمد صاحب (دنین)، جناب وزیر علی شاہ صاحب (زرگراندہ)، جناب ظفر احمد صاحب (موڑدہ)، جناب حاصل پناہ صاحب (چرون اویر) اور جناب کیکاؤس خان صاحب (آوی)۔

سال 1944ء میں اس سکول کی قسمت اس وقت جاگی جب محمد جناب شاہ اس سکول کے مقدر کا ستارہ بنے۔ آپ نے ابتدائی نامساعد حالات میں اپنے تدریسی عملے کو ساتھ لے کر سکول ہٰذا کو پروان چڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

ڈائمنڈ جوبلی سکولوں کی مخالفت

سن 1946ء کے شروع میں، جب چترال میں ہز ہائی نس مظفر الملک کی حکومت تھی، بمبئی میں سر سلطان محمد شاہ آغا خان کی ڈائمنڈ جوبلی کی تقریبات کے سلسلے میں گلگت اور چترال کے نمائندوں کے ساتھ ایک میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ میں آغا خان سوم نے ڈائمنڈ جوبلی کی رقم سے چترال اور گلگت میں پبلک سکول قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔ اس سکیم کے تحت گلگت اور چترال میں پبلک سکولوں کے لیے سالانہ سولہ ہزار روپے دیے جائیں گے، جس میں سے بارہ، بارہ ہزار روپے سکولوں کے اخراجات ہوں گے۔ باقی چار ہزار روپے نادار اسماعیلی بچوں کی فیس کے لیے ہوں گے۔

اس موقع پر ہز ہائی نس نے میرِ ہنزہ اور مہترِ چترال کے نام علیحدہ علیحدہ خطوط لکھے۔ مہترِ چترال کے نام خط سید نادر شاہ ابن شاہ عبدالحسن کی معرفت سے بھیجا گیا۔ خط کا مضمون یہ تھا کہ مہترِ چترال اپنے علاقے میں خود ان سکولوں کی سرپرستی کریں۔ صرف رقم ہز ہائی نس کی طرف سے ہوگی۔

مہترِ چترال نے اس کے جواب میں سید نادر شاہ کو یہ کہہ کر جواب دیا کہ مہترِ چترال اپنے علاقے میں تعلیم کا خود ذمہ دار ہے، کسی دوسرے طریقے سے سکول قائم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس موقع پر گلگت کے نمائندوں نے اس عطیے کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور وہاں فوری طور پر پینتالیس کے قریب پبلک سکول قائم ہوگئے۔ جبکہ مکھی نادر شاہ کے پاس ایک سال تک یہ رقم پڑی رہی۔

ہز ہائینس کی ڈائمنڈ جوبلی کے موقع پر مہترِ چترال کی طرف سے تحفے کے طور پر خلعت (چوغہ) بھیجا گیا تھا، جسے اسماعیلی امام نے مکھی نادر شاہ کے ہاتھوں واپس بھیج دیا۔ چنانچہ حالات کے ہاتھوں مجبور ہو کر اسماعیلی وزیروں نے بمبئی کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اسماعیلیوں کے بچوں کے لیے وظائف پر نشستیں مخصوص کیں۔ لیکن چترال میں اسماعیلی کمیونٹی کے قدآور اکابرین، جیسے حاکم صاحبان ریشن، چرون، لاسپور، چپاڑی اور یارخون اور چرویلان صاحبان بونی اور میراگرام وغیرہ نے اس نازک مرحلے پر ان مراعات سے فائدہ حاصل کرنے میں ناکامی کا مظاہرہ کیا۔

انہوں نے مہترِ چترال کی خوشامد کو اپنے لیے غنیمت سمجھ کر اپنے خاندانوں کا مستقبل داؤ پر لگا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی اولاد تاحال تعلیمی پسماندگی کا شکار رہی۔ صرف زوندرے قوم کے ایک خاندان کی دوراندیش نگاہیں ان حقائق کو بھانپ سکیں اور وہ اپنے بچوں کو اس ادارے میں داخل کرا سکے۔ چنانچہ بونی کے افضل علی صاحب اور پی ایم جی صاحب اس ادارے کے فارغ التحصیل ہیں۔ پی ایم جی صاحب چترال کے پہلے سی ایس ایس افسر بنے۔

وزیر تعلیم جناب شاہ کا کردار

پاکستان بننے کے بعد ریاستِ چترال ملاکنڈ ایجنسی کا حصہ بنی اور اسے دو اضلاع میں تقسیم کر دیا گیا۔ 1950ء کی دہائی میں چترال کی قسمت کا ستارہ چمک رہا تھا کہ انہیں جناب شاہ جیسے انسان دوست اور خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار انسان ریاست کے وزیرِ تعلیم کے طور پر میسر آئے۔ آپ اسلامیہ کالج کے پہلے چترالی گریجویٹ اور چترال کے پہلے گریجویٹ کی حیثیت سے وزیرِ تعلیم کے طور پر سامنے آئے۔

جب اس غلام ملک کے باشندے غلامی کی زنجیریں توڑ کر آزاد ہوئے تو معیشت بدحال تھی۔ لوگ کوڑی کوڑی کے محتاج تھے۔ آپ کے ہاتھ میں نوکریوں کے بے شمار مواقع تھے۔ آپ چاہتے تو لوگ نوکریوں کے لیے اپنی جائیدادیں بھی آپ کے قدموں پر نچھاور کرتے۔ لیکن ان حالات میں آپ نے بلاتفریق کھلے عام مسجدوں، بازاروں، غم اور خوشی کے اجتماعات میں بے روزگار نوجوانوں سے ان کے تعلیمی کوائف پوچھ پوچھ کر نوکری کا پروانہ ان کے ہاتھوں میں تھما دیتے۔ یہ وہ مثال ہے جس کی کوئی نظیر کسی دور میں پیش نہیں کی جا سکتی۔ آپ نے اپنی ذات کے لیے کسی کے ہاتھ سے ایک گلاس پانی بھی نہیں پیا۔

Chitral's first education minister Janab Shah
چترال کے پہلے وزیر تعلیم جناب شاہ

آپ ریاست کے تعلیمی بجٹ کے مطابق اساتذہ کی تنخواہیں مقرر کرکے دونوں ضلعوں میں آبادی کے تناسب سے پرائمری سکول کھلواتے۔ اس زمانے میں پرائمری، مڈل اور ہائی سکول بھی عوام الناس اپنی مدد آپ کے تحت تیار کرتے۔ زمین آپ کی مرضی کے مطابق وقف کرتے۔

جب یہ سلسلہ شروع ہوا تو اسماعیلی کمیونٹی کے لوگ یکلخت آپ پر ٹوٹ پڑے کہ ہمارے علاقوں میں سکول کھولے جائیں۔ اس کے جواب میں آپ نے اسماعیلی کمیونٹی کے لیڈروں سے مشورہ کیا کہ آپ کے علاقے میں سکول کھولنے کے لیے میں سرکار کے خزانے سے پانچ روپے ماہوار استاد کی تنخواہ مقرر کروں گا، باقی کچھ تعاون آپ اپنے ادارے کی وساطت سے خود کریں۔ اسی طرح دونوں کے اشتراک سے استاد کی تنخواہ مقرر ہوگئی۔ حکومت کے مالی وسائل کی بحالی تک یہ سلسلہ جاری رہا۔

اس سلسلے میں امام سر سلطان محمد شاہ کے وزیر آغا مجید خان سات روپے ماہوار تنخواہ کی رعایت پر راضی ہوگئے۔ میرے چچا استاد کیکاؤس خان کہا کرتے تھے کہ میں اسی طریقے سے بارہ روپے ماہوار تنخواہ پر آوی اور میراگرام کے گاؤں کے لیے استاد مقرر ہوا۔ گاؤں کے لوگوں نے دو مہینے کے اندر تین کمرے تیار کر لیے۔

سن 1960ء تک تنخواہ کا یہ سلسلہ جاری رہا۔ 1950ء کی دہائی میں اس طریقے سے چترال کے طول و عرض میں پرائمری اور مڈل سکولوں کا قیام عمل میں آیا۔ اس رعایت سے فائدہ اٹھا کر جناب شاہ نے چترال کے طول و عرض میں سکولوں کا جال پھیلا دیا۔ آپ کے زمانے میں سور لاسپور، یارخون لشٹ، ریچ، تریچ، کھوت، ارکاری، گوبور، ارندو، عشیریت اور مداک لشٹ، ہر جگہ پرائمری سکول کھل چکے تھے۔

جناب شاہ 1970ء میں پنشن ہوئے۔ اس زمانے میں چترال میں پانچ ہائی سکول بنے تھے: ہائی سکول دروش، ایون، چترال، بونی اور وریجون۔ مڈل سکولوں کی تعداد بھی کافی زیادہ تھی۔ آپ کے ماتحت عملے میں دونوں ضلعوں میں ایک ایک ڈسٹرکٹ انسپکٹر مدارس تھے۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ہمارے ضلع مستوج میں جناب غلام محی الدین صاحب مرحوم ورکھوپ، جو میٹرک جے اے وی تھے، ڈسٹرکٹ انسپکٹر آف سکولز تھے۔ آپ اپنی خداداد صلاحیت سے ان تمام سکولوں کا پیدل چل کر معائنہ کرتے تھے۔ آپ اویر آن سے لوٹکوہ، تریچ آن سے موڑکہو، کھوتان سے یارخون، دشوار گزار پہاڑوں کے اوپر سے سفر کرکے پہاڑوں کی چوٹیوں سے دوربین کے ذریعے سکولوں کا جائزہ لیتے۔

آپ نے جس محنت کی بنیاد رکھی، اس کے طفیل آج ہمارا ضلع پورے صوبے میں تعلیمی لحاظ سے چوتھے نمبر پر ہے۔ حالانکہ پشاور ریجن، نوشہرہ، مردان، چارسدہ اور ہزارہ ڈویژن کو ترقی کے میدان میں چترال سے موازنہ کرکے چترال کی تعلیمی حالت پر سوچتے ہوئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ آپ نے چترال کی تعلیمی حالت کو کہاں سے کہاں تک پہنچایا تھا۔

اس زمانے میں سکولوں کے ہیڈ ماسٹرز کی کلاس ون پوسٹ پر بھرتی کے لیے وزیرِاعظم کے سامنے انٹرویو دینا ہوتا تھا۔ چنانچہ جناب وقار احمد صاحب، عبدالوسیع صاحب، غلام عمر صاحب اور فضل الدین صاحب کی تقرری اس طریقے سے ہوئی تھی۔

ایک دلچسپ واقعہ یہاں بیان کروں۔ جناب امیرزادہ صاحب، جناب غلام یحییٰ صاحب اور فضل الدین صاحب ایک ساتھ اس وقت کے وزیرِاعظم سردار بہرام خان کے سامنے انٹرویو کے لیے گئے۔ سب سے پہلے امیرزادہ صاحب کا انٹرویو ہوا۔ وزیرِاعظم صاحب نے پوچھا کہ آپ کس بنیاد پر اس عہدے کے لیے اپنے آپ کو موزوں سمجھتے ہیں؟ جواب میں امیرزادہ صاحب نے کہا کہ میرے ممبرز بھی زیادہ ہیں، ساتھ ہی سینیٹر بھی ہوں۔

پھر یحییٰ صاحب کی باری آئی۔ آپ نے کہا کہ میں پورے چترال میں پہلا بی ایس سی ہوں۔ موجودہ دور میں سائنس کی اہمیت سب پر واضح ہے، آنے والے دور کے تقاضوں کے مطابق قوم کے بچوں کو سائنس کی تعلیم دینا میری اولین ترجیح ہے۔

سب سے آخر میں فضل الدین صاحب کی باری آئی تو آپ نے کہا کہ دونوں کی باتیں بالکل درست ہیں۔ میرے نمبر بھی کم ہیں، نہ میں سینیٹر ہوں اور نہ ہی سائنس والا ہوں، لیکن اللہ کا نام لے کر میں بھی گھر سے نکلا ہوں۔ تب وزیرِاعظم صاحب نے کہا کہ میں آپ سب کو منتخب کرتا ہوں۔ اسی طریقے سے فضل الدین صاحب کی تقرری عمل میں آئی۔

سال 1952ء سے پہلے سکولوں میں پڑھانے کے لیے صرف خواندگی شرط تھی۔ زیادہ تر سکولوں میں پرائمری پاس اساتذہ تعینات تھے۔ 1952ء کے بعد تمام سکولوں کے ملازمین کو مستقل کیا گیا۔ سکولوں میں جے وی، جے اے وی، ایس وی، او ٹی، ڈی ایم، پی ای ٹی، ٹی ٹی اور ایس ای ٹی کے کیڈر کے مطابق کوالیفائیڈ اساتذہ بھرتی ہونا شروع ہوگئے۔

history of evolution of education in chitral
گورنمنٹ ہائی اسکول دروش کے طلبہ و اساتذہ، سال 1981

لیکن پھر بھی ٹی ٹی اکثر و بیشتر صرف قرآنِ شریف کے معمولی خواندہ افراد ہوتے تھے اور پی ای ٹی صرف اَن پڑھ فوجی ریٹائرڈ افراد ہوتے تھے۔ جے وی پوسٹوں پر اکثر تعداد مڈل پاس اساتذہ کی تھی، جبکہ کچھ انڈر مڈل تھے۔ جے اے وی والے میٹرک اور ایس ای ٹی اساتذہ بی اے کوالیفائیڈ تھے، لیکن تقریباً سارے غیرتربیت یافتہ تھے۔ ملازمت میں آنے کے بعد گنجائش کے مطابق تربیت کے لیے جاتے تھے۔ پورے صوبے میں ایک ہی تربیتی سکول تھا، جس کے لیے کوٹے کے مطابق سالانہ تربیت پر جاتے تھے۔

دوسرے محکموں کی حالت یہ تھی کہ فوج اور پولیس کے لیے تعلیم کی کوئی قید نہیں تھی۔ فوج اور پولیس کے افسران سارے اَن پڑھ تھے۔ تمام تحصیلدار صاحبان انگوٹھا چھاپ تھے۔ ضلع کے ڈپٹی کمشنر کے معاون تھے۔ انتظامی امور کے ساتھ ساتھ دیگر محکموں کی نگرانی بھی ان کے سپرد تھی۔ سرکاری گودام، جو عشر کے ذریعے قائم تھے، وہ ان کی نگرانی میں تھے۔ سب سے بڑھ کر عدلیہ کا کوئی علیحدہ محکمہ نہ تھا۔ تمام فیصلے تحصیل کی سطح پر ہوتے تھے۔ آخری فیصلہ ریاست کے وزیرِاعظم کے سامنے ہوتا تھا۔ وزیرِاعظم کے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق ملک کے سربراہِ مملکت کو حاصل تھا۔

جب ذولفقار علی بھٹو اقتدار میں آئے تو 1971 کے بعد تمام محکموں میں بے تحاشا ترقیاں عمل میں آئیں۔ چترال سکاؤٹس اور پولیس میں بھرتی کے لیے متعلقہ افسران دور دراز علاقوں تک پیدل سفر کرکے بے روزگار نوجوانوں کو چترال لاکر معمولی طبی معائنے کے بعد بھرتی کرنے لگے۔ چترال میں بہت حد تک بے روزگاری کا خاتمہ ہوا۔

پرائمری مدارس کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ کیا گیا اور بہت سے سکول اپ گریڈ ہوئے۔ تمام محکموں میں سروس رول کے کیڈر کے مطابق بھرتیاں شروع ہوئیں۔ پرائمری مدارس کے طویل سروس والے اساتذہ کو ریفریشر کورسز کے ذریعے تربیت دی گئی۔ اعلیٰ کوالیفائیڈ اساتذہ کے ترقی کے مواقع سامنے آگئے۔ چترال کو پسماندہ علاقہ قرار دے کر کالج سطح تک تمام زیرِتعلیم طلبہ کے لیے وظائف کا انتظام کیا گیا۔ اسی طرح تعلیم کے میدان میں جان پڑ گئی۔

مگر اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ شرحِ خواندگی کو شماریات میں اضافے کے ساتھ دکھانے کے لیے پرائمری تعلیم میں خودکار ترقی کا سلسلہ رائج ہوا، جس نے معیاری تعلیم کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔

پیپلز پارٹی کی حکومت کے بعد رفتہ رفتہ قابل اساتذہ صوبے کے پبلک سروس کمیشن کے امتحان میں شامل ہونا شروع ہوگئے۔ چترال سے اساتذہ برادری میں علی اکبر صاحب، سابق پرنسپل، پہلے پبلک سروس کمیشن پاس کرنے والے افسر ہیں۔ اس کے بعد دوسرے صاحبان بھی سامنے آنا شروع ہوگئے۔

چترال کی تعلیمی ترقی کے سلسلے میں اعلیٰ ثانوی اور یونیورسٹی لیول پر سہولیات میسر کرنے میں گورنمنٹ کالج پشاور اور اسلامیہ کالج پشاور کا بڑا ہاتھ ہے۔ اس تنگ و تاریک دور میں، جبکہ لوگوں کو کھانے کو بھی کچھ میسر نہیں تھا، مگر چترال کے لوگوں کی علم کی تشنگی اس حد تک تھی کہ بہت حد تک لوگ اپنے بچوں کو ان اداروں میں داخل کرا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ شروع کے تمام اعلیٰ افسران ان اداروں کے فارغ التحصیل ہیں۔

دوسرے نمبر پر وہ لوگ ہیں جو آغا خان مسافر خانہ، کھارا در کراچی کے پروردہ ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو صبح کی شفٹ میں کارخانوں وغیرہ میں محنت مزدوری کرکے شام کی شفٹ میں کالجوں میں داخلے کے قابل ہو سکے۔ ان کے لیے مفت رہائش کی سہولیات اسی مسافر خانے میں حاصل تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے کراچی کے تمام ڈگری ہولڈرز اسی ادارے سے وابستہ ہیں۔

چترال کی تعلیمی ترقی میں اقامتی اداروں کا کردار

سال 1937ء میں جب پہلی مرتبہ چترال کے پرائمری سکول میں تعلیم شروع ہوئی تو اس کے ابتدائی طالب علم شاہی دربار سے وابستہ حضرات کے بچے تھے، جن میں سے سلطان حکیم شاہ مہتر ژاؤ اس ننھیال میں رہتے تھے۔ جناب محمد حسین صاحب اوچشٹ، جناب فدا محمد صاحب دنین، جناب وزیر علی شاہ صاحب زرگراندہ اور جناب ظفر احمد صاحب موڑدہ سب مقامی تھے، جبکہ چچا کیکاؤس خان آوی اور حاصل پناہ صاحب چرون اویر اپنے والدین کے ساتھ رہائش پذیر تھے۔

Aga Khan Hostel and Jamatkhana Chitral
چترال شہر میں قائم آغاخان ہاسٹل اور لائبریری جو 1982 کے فرقہ ورانہ فسادات میں نذرِ آتش کیا گیا

ان کا باقاعدہ راشن مہترِ چترال کے حکم سے شاہی قلعہ کے باورچی خانے سے ملتا تھا۔ چچا محترم کہا کرتے تھے کہ ایک دفعہ کسی وجہ سے توشہ خانے کے صوبیدار اشرف خان سنوغر نے یہ کہہ کر راشن دینے سے انکار کیا کہ آپ تو طالب علم ہیں، یہاں تو کبھی کبھی حاکموں اور کونسل اراکین کو راشن نہیں ملتا۔ اس کے جواب میں میں مہترِ چترال کے سامنے بالمشافہ جا کر درخواست کی تو مہترِ چترال نے صوبیدار کو بلا کر انہیں تنبیہ کی کہ درباری عملے کا راشن موقوف ہو سکتا ہے، لیکن طلبہ کا راشن کسی بھی حالت میں بند نہیں ہوگا۔

اسی طرح مڈل کے ہائی کلاس میں اپ گریڈ ہونے تک یہی سلسلہ چلتا رہا۔ جب ہائی سکول اپ گریڈ ہوا تو اس کے سامنے دو کمرے بورڈنگ ہاؤس کے طور پر تعمیر کیے گئے۔ بعد میں ان کمروں میں بھی طلبہ کے لیے رہائش کی گنجائش ختم ہوئی تو موجودہ عدلیہ کونسل کے عقب میں موجود دو کوٹھڑیوں میں بچوں کی رہائش کا بندوبست کیا گیا۔

بقول جناب مکرم شاہ صاحب، سابق ڈی ای او، یہ وہی کوٹھڑیاں تھیں جہاں کسی زمانے میں نوابِ دیر سے شادی سے انکاری خاتون کو اپنے نوبیاہتا شوہر کے ساتھ قتل کیا گیا تھا۔ انہیں چیو ڈوک میں شہید شہزادوں شاہ ملک، بہرام ملک اور وزیر ملک کے پہلو میں دفن کیا گیا تھا۔

اسی طرح 1950ء کی دہائی کے آخری ایام میں اسماعیلیوں نے اپنے ادارے کی وساطت سے کڑوپ ریشت میں آغا خان ہاسٹل کی بنیاد رکھی۔ یہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی، رواداری اور امن و آشتی کا وہ دور تھا کہ اس دور کے جید عالم، جناب قاضی نظام صاحب ایون اور نور شاہدین صاحب چمرکھن نے اس ہاسٹل کی بنیاد رکھ دی۔

اسی ہاسٹل کے قیام سے چترال کے طول و عرض، جیسے ارکاری، گبور، مداک لشٹ، لاسپور، یارخون، تریچ، کھوت اور ریچ سے طلبہ داخلے کے لیے ہائی سکول چترال آنا شروع ہوگئے۔ ورنہ ان کے لیے چترال کے اس گنجان آباد ترقی یافتہ قصبے میں سر چھپانے کی جگہ کہاں تھی۔

اسی طرح ان اقامتی اداروں، یعنی ریاستی بورڈنگ ہاؤس اور آغا خان ہاسٹل چترال، کے طفیل علم کی روشنی چترال کے گاؤں گاؤں اور قریہ قریہ میں پہنچ گئی۔ تاہم بعدازاں 1982ء میں یہ ہاسٹل مع لائبریری اور جماعت خانے کے فرقہ ورانہ فسادات میں نذر آتش کیا گیا۔

اس کے بعد جب بونی میں ہائی سکول کا قیام عمل میں آیا تو اس کے ساتھ بھی تین کمروں والی بورڈنگ ہاؤس کی عمارت تھی۔ اپر چترال کے بہت سے افسران اسی بورڈنگ ہاؤس کے پروردہ ہیں۔ موجودہ دور میں تمام اداروں کے لیے ہاسٹل بھی ہیں، جبکہ تجارتی بنیادوں پر بھی ہاسٹل کی سہولیات میسر ہیں۔

چترال کی تعلیمی ترقی میں نجی شعبے کا کردار

سن 1980ء کی دہائی سے پہلے چترال میں پبلک سکولوں کا وجود برائے نام بھی نہ تھا۔ 1980ء کی دہائی کے شروع میں چترال کے اشرف الدین صاحب نے موڑدہ چترال میں چترال پبلک سکول کے نام سے ایک ادارے کی بنیاد رکھی۔ مگر اس میں بھی پورے ٹاؤن ایریا سے آنے والے طلبہ کی تعداد خال خال تھی۔

اسی دہائی میں آغا خان ایجوکیشن سروس نے چترال کے اسماعیلی مضافات میں صرف لڑکیوں کے لیے سکول کھولنا شروع کیے۔ اس کے لیے انتظامی اور تدریسی عملے کے سلسلے میں خاطر خواہ افراد میسر نہ آسکے۔ صرف غیرتربیت یافتہ میٹرک لڑکے اور لڑکیاں تدریسی عملے کے طور پر کام کرنے لگے، لیکن ادارے نے اپنی حکمتِ عملی سے بہت جلد ان سکولوں کو سنبھال لیا۔

AKHSS Chitral
سین لشٹ چترال میں قائم آغاخان ہائر سیکنڈری سکول

ادارے کی فوری حکمتِ عملی یہ تھی کہ حکومت سے قابل اور تعلیم یافتہ اسٹاف کو ڈیپوٹیشن پر مکمل تنخواہ دے کر اپنے انتظامی اور تدریسی عملے میں شامل کیا گیا۔ ان افراد کی وساطت سے گاہے بہ گاہے ریفریشر کورسز کے ذریعے اپنے عملے کی تربیت شروع کی گئی۔ ان کی سرپرستی میں غیر ملکی طریقۂ تدریس کے مطابق اپنے سکولوں میں درس و تدریس کا طریقہ اپنایا گیا اور سکولوں میں تدریسی معاونات وافر مقدار میں مہیا کرنا شروع کیے گئے۔

ان قابل اساتذہ کی زیرِتربیت بار بار کے ریفریشر کورسز کی بدولت یہی عملہ بہت کم عرصے میں صحیح تعلیمی سمت کی جانب گامزن ہوگیا۔ ملک میں تعلیمی ترقی کے ساتھ ساتھ آغا خان سکولوں میں بھی بھرتی کے لیے میرٹوکریسی پر عمل شروع ہوا اور بہت جلد آغا خان ایجوکیشن سروس ایک کامیاب تعلیمی ڈھانچے کے طور پر کام کرنے لگی۔ اساتذہ کو ان کی قابلیت اور کیڈر کے مطابق تنخواہیں مل رہی ہیں اور ان کے لیے باقاعدہ سروس رول جاری ہے۔

آغا خان ایجوکیشن سروس تعلیمِ نسواں کے سلسلے میں دور افتادہ مقامات پر حیرت انگیز حد تک پیش رفت کر چکی ہے۔ آغا خان سکول کوراغ اور آغا خان سکول دلوموچ اپنی نوعیت کے کامیاب تعلیمی ادارے ہیں۔

لینگ لینڈ نے چترال میں پبلک سکول کھول کر چترال کی تقدیر ہی بدل دی۔ اس سکول کے طلبہ پاکستان بھر کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ اگرچہ کمرشل ہی سہی، لیکن پھر بھی گلی گلی پرائیویٹ سکول، جیسے آرمی پبلک سکول، قتیبہ اور پامیر سکول، اپنی تعلیمی شہرت کا لوہا منوا رہے ہیں۔

چترال کی تعلیمی ترقی کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ پچھلے سال چترال کے بارہ، اٹھارہ گریڈ کے افسران نے پی سی ایس کی وساطت سے ترقی حاصل کی، اور امسال پچیس تک تعداد میں سکول ایڈمنسٹریشن اسٹاف کی ترقی بھی پی سی ایس کے ذریعے عمل میں آئی۔ ان میں اکثر آغا خان ایجوکیشن سروس سے وابستہ اسٹاف تھا۔

چترال تعلیم کے میدان میں پورے صوبہ خیبر پختونخوا میں چوتھے نمبر پر ہے۔ اگر تمام ترقی کے تناظر میں دیکھا جائے تو مردان، نوشہرہ، ایبٹ آباد اور پشاور ریجن کے ساتھ چترال کو کسی بھی لحاظ سے ہم پلہ نہیں کیا جا سکتا، مگر تعلیم کے میدان میں یہ ان کے مقابلے میں کھڑا ہے۔


Posted on 10 August 2026

4 thoughts on “چترال میں تعلیمی ارتقاء کی تاریخ”

  1. Thank you so much for such a comprehensive article on this important topic dear Miki .
    Thoroughly enjoyed reading it. Looking forward to more of your writings.

  2. It was a fantastic morning read. My sincere thanks to Khowari and Ali Jabbar Sahib for documenting this beautiful journey of how education took root and gradually spread across Chitral.

    The history of education in Chitral is a fascinating story of perseverance, vision and, at times, contestation. While there were certainly instances of unnecessary resistance and hindrances to educational development associated with the Aga Khan III’s position and approach, it is equally important to acknowledge that the State of Chitral was, by and large, welcoming and encouraging towards the spread of modern education.

    Understanding this history in its entirety – rather than through a single narrative – helps us appreciate the many individuals and institutions that contributed to transforming Chitral’s educational landscape. It is a story worth documenting, preserving and discussing for generations to come.

  3. استاد محترم عبدالجبار خان لال صاحب کا
    مضمون محض چترال کے تعلیمی ارتقاء کی تاریخ نہیں بلکہ ایک پورے عہد کی علمی، سماجی اور تہذیبی یادداشت ہے۔ آپ نے ذاتی مشاہدات، بزرگوں سے سنی روایات، تاریخی واقعات اور تعلیمی اداروں کے ارتقائی سفر کو جس خوبصورتی سے یکجا کیا ہے، وہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔
    خصوصاً چترال میں جدید تعلیم کے ابتدائی مراحل، ماضی کے اساتذہ کی خدمات، مختلف اداروں کے کردار اور ان مشکلات کا ذکر نہایت اہم ہے جن سے گزر کر آج چترال تعلیمی میدان میں اس مقام تک پہنچا ہے۔ ایسے مضامین ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ آج کی تعلیمی ترقی کے پیچھے کئی نسلوں کی محنت، قربانیاں اور علم دوستی پوشیدہ ہے۔
    استاد محترم کو اس قابلِ قدر تاریخی کاوش پر دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ اور امید ہے کہ استاد محترم اغا خان ایجوکیشن سروس کی خدمات پر بھی مشید تفصیل سے اسی طرح ایک تاریخی مضمون لکھیں گے۔
    ضرورت اس امر کی ہے کہ چترال کی تعلیمی تاریخ کے ایسے مزید گوشوں کو بھی محفوظ کیا جائے، تاکہ ہماری نئی نسل اپنے تعلیمی سفر کی جڑوں، اپنے اساتذہ اور اپنے محسنوں سے واقف ہو سکے۔ یہ تحریر واقعی محفوظ رکھنے اور بار بار پڑھنے کے لائق ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *