بیرا خان: گلگت سے تعلق رکھنے والا غلام جس نے دس ریاستوں کا سفر کیا

bira khan slave from gilgit hunza chitral central asia

تحریر: فخرعالم

غلاموں کی آزادی حاصل کرنے کے لیے غلامی سے فرار ہونے کی کوئی کہانی شاید آپ نے پڑھی ہو یا اس کے متعلق کوئی فلم دیکھی ہوگی۔ سینکڑوں کتابوں اور فلموں میں غلاموں کے فرار ہونے اور اس سے جُڑی پُرخطر اور سنسنی خیز خیالی اور حقیقی واقعات کو موضوع بنایا گیا ہے۔ 2019 میں بننے والی ہالی ووڈ فلم “ہیرئیٹ” بھی غلامی سے فرار ہونے والی ایک لڑکی کی کہانی ہے۔ مگر ایسے کئی واقعات ہمارے ہاں بھی پیش آئے ہوں گے جب یہاں کچھ علاقوں میں  غلام بنانے اور رکھے جانے کا رواج عام تھا۔

وسطی ایشیا اور پاکستان کے شمال میں موجود ہنزہ، گلگت اور  چترال کے علاقوں میں قدیم زمانے میں غلامی کا رواج عام تھا۔ یہ علاقے اس وقت آزاد ریاستیں تھیں۔ ان علاقوں میں لوگوں کو غلام بنانے کے عمل کو عموماً ریاستی سرپرستی حاصل ہوتی تھی اور بردہ فروشی مقامی حکمرانوں کی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ تصور کی جاتی تھی۔ یہاں سے غلاموں کی ایک بڑی تعداد وسطی ایشیائی ریاستوں کی منڈیوں میں بیچی جاتی تھی۔ ان میں سے زیادہ تر غلاموں کو دوبارہ اپنا وطن دیکھنا نصیب نہیں ہوتا مگر کچھ غلام ان علاقوں سے بھاگ کر دوبارہ اپنے وطن پہنچنے میں کامیاب ہوتے تھے۔ فرار ہونے کے دوران ان کو مصائب اور خطرات کا سامنا ہونا یقینی تھا مگر اس کے باوجود آزادی اور اپنوں سے ملنے کی خواہش میں کچھ غلام یہ قدم اٹھانے سے نہیں ہچکچاتے تھے۔ ایسے ہی ایک غلام، بیرا خان کے فرار ہونے کی سنسنی خیز کہانی ہم تک گلگت ایجنسی میں تعینات انگریز پولیٹکل آفیسر کرنل جان بڈلف کے ذریعے پہنچی ہے جو انہوں نے 1881 میں شائع ہونے والی اپنی مشہور کتاب “ٹرائبز آف ہندوکش” میں اس سابق غلام کی اپنی زبانی درج کی ہے۔

بیرا خان گلگت کے علاقے مناور کا مقامی شخص تھا۔ اس کا باپ اس کے بچپن میں وفات پا گیا تھا۔ دادا کو مقامی حکمران سلیمان شاہ نے قتل کردیا اور بیرا خان اور اس کے خاندان کو 100 دوسرے لوگوں کے ساتھ  غلام بناکر یاسین بھیج دیا جو اب تو گلگت بلتستان کا ہی حصہ ہے مگر اس وقت ایک الگ ریاست ہوا کرتا تھا۔ بیرا خان نے یاسین میں تین سال بطورِ غلام گزارنے کے بعد فرار ہونے کا منصوبہ بنایا اور اپنے آبائی علاقے گلگت پہنچا۔ یہ اس کا پہلا فرار تھا۔ آ نے والے وقتوں میں اسے جان ہتھیلی پہ رکھ کر متعدد بار فرار ہونا پڑا۔

گلگت واپسی پر اس نے چند سال آزاد شہری کے طور پر گزارے مگر پھر  یاسین کے حکمران گوہر امان نے گلگت پر حملہ کردیا اور واپسی پر 500 گلگتیوں کو اپنے ساتھ غلام بناکر یاسین لے آیا۔ تاریخ کی دوسری کتابوں میں درج ہے کہ یہ معرکہ 1841 میں پیش آیا تھا۔ ہم کہانی میں درج دوسرے واقعات کے دورانیوں کے جمع تفریق سے اندازہ لگاسکتے ہیں بیرا خان پہلی بار غالباً 1828 میں غلام بنائے گئے ہوں گے۔ اس وقت اگر اس کے بقول اس کی عمر 16 سال تھی تو  اس کی تاریخِ پیدائش تقریباً 1812 بنتی ہے۔

راجہ گوہر امان کے ہاتھوں غلام بننے والوں میں بیرا خان کے ساتھ اس کا بھائی بھی شامل تھا۔ گوہر امان نے دونوں کو اپنے ایک عزیز کے حوالے کیا جو انہیں چترال کے بالائی علاقے یارخون لے آیا۔ یارخون میں 4 ماہ گزارنے کے بعد بیرا خان اپنے بھائی اور ایک دوسرے گلگتی کے ساتھ دوبارہ فرار ہوتا ہے۔ وہ اجنبی راستوں سے ہوکر یارخون میں ایک درے کے اوپر سے گزر کر چترال کے ایک اور علاقے تورکھو پہنچ جاتے ہیں۔

Sketch of a street in Yarkand, Image by T. E. Gurdon

مگر قسمت نے ان کا ساتھ نہ دیا اور تورکھو میں انہیں اس علاقے کے گورنر امان الملک کے آدمیوں نے پکڑ لیا۔ یہ وہی امان الملک تھے جو  بعد میں چترال کے مشہور حکمران بن گئے۔ امان الملک نے  بیرا خان کو واخان کے حکمران فتح علی شاہ کو دے دینے کا فیصلہ کیا۔ بیرا خان کے بھائی کا کیا ہوا، اس بارے میں کہانی میں مزید کوئی تفصیل مذکور نہیں۔ دشوار گزار پہاڑوں پر سے تین دن کے سفر کے بعد بیرا خان کو واخان کی سرحد پر پہنچایا گیا مگر اس کے نئے مالک نے اسے اپنے ساتھ رکھنے کے بجائے بدخشان  کے ایک تاجر کے ہاتھوں کچھ تجارتی سامان کے عوض بیچ دیا جو تجارت کی غرض سے یارقند جارہا تھا۔ بیرا خان اس تاجر کا نام اِربابک بتاتا ہے۔ اربابک  اسے لے کر سریقول سے ہوتے ہوئے یارقند لے آیا۔ یارقند موجودہ چین کے صوبے سنکیانگ میں موجود ہے مگر اس زمانے میں یہ مشرقی ترکستان کا حصہ تھا۔ یہ شاہراہ ریشم پر کاشغر کے قریب موجود ایک اہم شہر ہوا کرتا تھا۔

یارقند پہنچ کر تاجر نے اسے ایک بیوہ خاتون کو ایک یامبو اور دس  تانبے کے تنگوں کے عوض فروخت کردیا۔ یامبو اور تنگا اس علاقے میں رائج کرنسی تھی۔ بڈلف نے ایک یامبو اور دس تنگا کی قیمت اس زمانے کے 17 پاؤنڈز کے برابر بتائی ہے۔ یہ خاتون ایک دوکان چلاتی تھی اور بیرا خان کے ذمے پانی اور لکڑیاں لے آنے کا کام لگا دیا گیا۔ ایک سال بعد اس خاتون نے اسی قیمت پر  بیرا خان کو ایک آدمی میر رحیم بائی کو فروخت کیا۔ میر رحیم کے پاس بڑی زمین تھی جس پر پندرہ دوسرے غلام بھی کام کرتے تھے۔

 بیرا خان ہمیں نہ صرف اپنی غلامی کے ایام کی کہانی سُناتے ہیں بلکہ جہاں جہاں وہ غلام بن کر گئے وہاں کی سیاسی، جغرافیائی اور سماجی حالات کے بارے میں بھی بتاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس زمانے میں یارقند پر چینیوں کی حکومت  قائم ہوچکی تھی۔ وہ مسلمان نہیں تھے مگر شہر میں اذان اور دوسری مذہبی سرگرمیوں کی اجازت تھی۔ یہاں تک کہ جو لوگ حج پر جانا چاہتے تھے ان کو سرکار کی طرف سے سہولیات بھی دی جاتی تھیں۔ بیرا خان کے مطابق اس زمانے میں یارقند میں ایک غلام بچے کی قیمت 2 یامبو، بالغ مرد کی قیمت ایک یامبو اور دس تنگا اور عورت کی قیمت 3 یامبو (اس زمانے میں قریباً 50 پاؤنڈ) تھی۔

یارقند میں دو سال گزارنے کے بعد بیرا خان نے ایک بار پھر فرار ہونے کا منصوبہ بنایا۔ انہوں نے گلگت پہنچنے کے لیے درہ مُستاغ کا انتخاب کیا۔ بلتستان میں دنیا کی دوسری بلند چوٹی کے -ٹو  کے عقب میں موجود یہ درہ نہایت دشوار گزار اور اونچائی پر واقع ہے۔ پہلے زمانے میں بلتستان اور یارقند یا کاشغر کے بیچ آمدورفت اسی راستے سے ہوتی تھی۔ بیرا خان نے 9 دوسرے غلاموں کو اپنے ساتھ ملایا، راستے میں کھانے کے  لیے خوراک کا بندوبست کیا اور غلاموں کا یہ ٹولہ خاموشی سے روانہ ہوگیا۔ پکڑے جانے کے خوف سے وہ صرف رات کو سفر کررہے تھے اور آبادی سے ہٹ کر راستوں کا انتخاب کرتے۔ بالآخر وہ درہ مستاغ کے قریب ‘کوگیار ‘ کے علاقے میں پہنچے مگر اس درے کو عبور کرنے سے پہلے ہی برفباری ہوئی اور انہیں مجبوراً ایک وادی میں پناہ لینا پڑی۔ جب لوگوں کو ان کے متعلق علم ہوگیا تو 15 گھڑسواروں کے ایک جتھے نے ان پر حملہ کردیا۔ بیرا خان اور ان کے ساتھیوں کے پاس ایک تلوار کے علاوہ کوئی ہتھیار نہیں تھا۔ بیرا خان نے تلوار سے جوابی وار کرکے ایک حملہ آور کو ہلاک کردیا اور اس کی بندوق اٹھاکر دوسرے کو فائر کرکے زخمی کردیا۔ بیرا خان کا ایک ساتھ بھی اس دوران مارا گیا۔ وہ زیادہ دیر حملہ آوروں کا مقابلہ نہ کرسکے اور وہ انہیں گرفتار کرکے دوبارہ یارقند لے  جایا گیا۔

Sketch of a Caravan in Mustagh Pass, Image by T. E. Gurdon

یارقند میں  انہیں علاقے کے چینی حاکم کے سامنے پیش کیا گیا جس نے انہیں سزا تو نہ دی مگر دوبارہ سے ان کے مالکوں کے حوالے کردیا۔ بیرا خان بتاتا ہے کہ اس کے مالک میر رحیم بائی نے اسے بھاگنے کی پاداش میں ایک مہینے تک اس حالت میں قید رکھا کہ اس کی گردن کے گرد لکڑی کا ایک تختہ حائل رہتا تھا۔ پھر ایک سال تک زنجیروں سے باندھ کر اس سے کام لیا گیا۔ اس کے بعد مالک نے اسے ایک دوسرے تاجر، محمد یونس بائی کو اسی قیمت پر فروخت کردیا جس قیمت پر خریدا تھا۔ بیرا خان دو سال اس شخص کے ساتھ کام کرنے کے بعد دوبارہ سے بھاگ نکلتا ہے۔ اس بار اس کے ساتھ چار غلام آدمی اور دو عورتیں شامل تھیں۔ 18 دنوں تک راتوں کو سفر کرتے ہوئے یہ لوگ اردوکسالدی نامی جگہ پہنچے۔ یہاں انہیں بلتستان سے تعلق رکھنے والے مسافروں کا ایک قافلہ مل گیا جس کے ساتھ یہ بھی شریک ہوگئے۔ دو دن مزید سفر کے بعد یہ لوگ مستاغ پاس عبور کرکے شگر کی جانب جارہے تھے کہ ان کے قافلے پر کنجوٹیوں نے حملہ کردیا، لوٹ مار کی اور بیرا خان سمیت  کچھ لوگوں کو اپنے ساتھ لے کر شمشال لے گئے۔ کنجوٹی پہلے زمانے میں ہنزہ کے باسیوں کو کہا جاتا تھا۔ وہ اردگرد کے دروں سے گزرتے قافلوں پر حملہ کرنے کے  لیے مشہور تھے اور ان کا خوف دور دور تک پھیلا ہوا تھا۔ شمشال سے بیرا خان کو سُوست لےجایا گیا جہاں وہ مزید ایک سال قید رہا۔ وہاں سے انہیں دوبارہ واخان کے حکمران میر فتح علی شاہ کے بھائی محمد علیم خان کو دو گھوڑوں کے عوض بیچ دیا گیا۔ بیرا خان کو پہلے باباغنڈی اور وہاں سے واخان لے جایا گیا۔ اس کے نئے مالک علیم خان نے کچھ عرصے بعد اسے بدخشان کے علاقے جرم میں ایک شخص کے ہاتھوں فروخت کردیا۔ بدخشان موجودہ دور میں افغانستان کا صوبہ ہے۔ وہاں سردی کا موسم گزارنے کے بعد وہ ایک بار پھر ایک قریبی علاقے میں فروخت کیا گیا۔

 دوسال مزید غلامی میں گزارنے کے بعد بیرا خان ایک بار پھر سے فرار ہوجاتا ہے!

تین دنوں تک قریبی پہاڑوں میں گھوم پھر کر راستہ تلاش کرنے کے بعد وہ ناکام واپس لوٹ گیا۔ واپسی پر  وہ جرم جانے کے بجائے  قریب ایک آبادی میں آکر روپوش ہوگیا۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس علاقے میں مولائیوں (اسماعیلی) کی تعداد زیادہ تھی جب کہ جرم میں سُنیوں کی۔ اس گاؤں میں ایک شخص سے اس کی دوستی ہوگئی جس نے اسے بھاگنے کا راستہ سمجھایا۔ وہاں سے رات کو سفر کرتے ہوئے وہ بدخشان کے ایک اور علاقے زیباک پہنچا۔ زیباک سے  بلندوبالا پہاڑ سر کرکے چترال کے موجودہ علاقے گرم چشمہ پہنچ گیا جسے اس زمانے میں انجگان کہا جاتا تھا۔ انجگان میں بدقسمتی سے وہ مقامی لوگوں کے ہتھے چڑھ گیا۔ یہ لوگ اسے واپس بدخشان بھیج ہی رہے تھے کہ بیرا خان کی کمال ذہانت کام آئی اور اسے ایک چال سوجھی۔ کچھ عرصہ پہلے چترال کے حکمران شاہ افضل کے بیٹے محترم شاہ ثالث جسے آدم خور کے نام سے جانا جاتا تھا، نے بدخشان کا دورہ کیا تھا۔ بیرا خان نے ان لوگوں کو بتایا کہ وہ ان کے شہزادے آدم خور کا ہی آدمی ہے جو ان  کے ساتھ بدخشان گیا تھا مگر وہاں بیمار ہونے کی وجہ سےان کے ہمراہ واپس نہ آسکا اور اب لوٹ رہا ہے ۔ ان لوگوں کو بیرا خان کی من گھڑت باتوں کا یقین آگیا اور اسے واپس بھیجنے کے بجائے آگے کا راستہ سمجھا کر جانے دیا۔

یہاں سے وہ سیدھا مرکزی چترال پہنچا اور تین مہینے قیام کیا۔ اس دوران آدم خور شہزادے نے اپنے والد یعنی شاہ افضل ثانی کے خلاف بغاؤت کی اور شکست کھاکر قریبی ریاست دیر بھاگ گیا۔ انگریزوں کی لکھی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بغاؤت 1849 میں ہوئی تھی۔ یعنی بیرا خان دوردراز کے علاقوں میں غلامی کی زندگی گزار کر چترال پہنچا تو گلگت سے نکلے آٹھ یا نو سال گزر چکے تھے۔ چترال میں وہ آدم خور شہزادے کی اس شکست خوردہ فوج کے ساتھ شامل ہوکر دیر چلا گیا۔ وہاں دو مہینے رہنے کے بعد سیدو شریف سے ہوکر سوات گیا۔ سوات سے پشاور اور پشاور سے سرینگر پہنچا ۔ سرینگر میں بیرا خان نے  ایک سال قیام اور وہاں سے بالآخر  ایک دہائی تک اجنبی علاقوں کی خاک چھاننے کے بعد آزادی حاصل کرنے کی اپنی کوششوں میں سُرخرو ہوکر اپنے آبائی وطن گلگت پہنچنے میں کامیاب ہوگیا۔

 اگر یاسین میں غلامی کے ایام ملائے جائیں تو بیرا خان کی غلامی کی کل مدت 12 یا 13 سال بنتی ہے۔ اس دوران وہ 11 مالکوں کی خدمت یا قید میں رہا اور 5 بار فرار ہوا۔ بیرا خان نے اُس زمانے میں اس خطے میں موجود 10 الگ ریاستوں کا سفر کیا جن میں یاسین، چترال، واخان، یارقند، بلتستان، ہنزہ، بدخشان، دیر، پشاور اور سری نگر شامل ہیں۔ موجودہ سیاسی انتظام میں ان علاقوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ کم از کم 4 ممالک بنتے ہیں۔ پاکستان میں شامل علاقوں کے علاوہ جن علاقوں میں بیرا خان رہا ان میں  یارقند چائنہ، واخان اور بدخشان افغانستان اور سری نگر  بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں واقع ہیں۔ اس کے سفر کے کل فاصلے کا تخمینہ لگانا مشکل امر ہے مگر گوگل میپ پر ان علاقوں کے درمیان سیدھی لکیر کھینچ کر فاصلہ ماپنے سے 3 ہزار کلومیٹر سے زیادہ بنتا جو زمینی راستوں پر چلنے سے طے ہونے والے فاصلے سے کہیں کم ہے۔ 

بیرا خان کی کہانی جہدِ مسلسل، ہمت، امید اور آزادی کی نہ ختم ہونے والی خواہش کی داستان ہے ۔وہ ہر بار غلام بنادیا جاتا ہے مگر ہمت ہارنے کے بجائے دوبارہ فرار ہوکر آزادی حاصل کرنے اور  اپنے وطن پہنچنے کی تدبیر کرتا ہے۔ اس کے لیے اسے جان جوکھوں میں ڈالنا پڑتی ہے، کہیں بلندو بالا پہاڑوں کے اوپر سے گزرنا پڑتا ہے اور کہیں راتوں کو اجنبیوں وادیوں میں سفر کرنا پڑتا ہے۔

Areas Bira Khan travelled as a slave, Map by Khowari

 بیرا خان ناخواندہ اور عمر کا پیشتر حصہ غلامی اور مشقت میں گزارنے کے باوجود ایک عقلمند، ہوشیار، باہمت اور مشاہدے اور یادداشت کی بہترین صلاحیتوں کا حامل انسان نظر آتا ہے۔ وہ ہمیں اپنے اوپر بیتے حالات اور فرار کی کہانی ہی نہیں بتاتا بلکہ ان علاقوں کے حکمرانوں کے نام، جغرافیہ، مذاہب، موسم، راستوں اور سماجی حالات کے بارے میں بھی درست معلومات فراہم کرتا ہے جہاں بطورِ غلام انہیں لے جایا گیا۔ اس کی کہانی میں بیان کیے گئے واقعات اور کرداروں کو تحقیقی زاویے سے دیکھنے اور پرکھنے کے بعد اس بات میں کوئی شبہ نہیں رہتا کہ اس نے یہ داستان صداقت اور کمال یادداشت سے بتائی ہے۔

بڈلف کی کتاب میں درج یہ مختصر کہانی پڑھنے کے بعد  تشنگی کا شدید احساس ہوتا ہے اور یہ حسرت دل میں مچلنے لگتی ہے کہ کاش کوئی اس جہاندیدہ اور باہمت شخص کی پوری کہانی تفصیل سے لکھ کر ہمارے لیے محفوظ کرتا۔


Published on 9 August 2023

1 thought on “بیرا خان: گلگت سے تعلق رکھنے والا غلام جس نے دس ریاستوں کا سفر کیا”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *