چترالی غلام جس نے 1872 میں لندن کا سفر کیا
تحریر: فخرعالم
ریاستِ چترال سے جو غلام کابل میں فروخت کیے جاتے تھے یا جنگوں میں پکڑے جاتے تھے ان میں بڑی تعداد کالاشوں یا ان سے ملتے جلتے مقامی غیرمسلم قبائلیوں کی ہوتی تھی۔ یہ قبائل چترال کی جنوبی وادیوں اور افغانستان کے علاقے کافرستان (موجودہ نورستان) میں آباد تھے۔ خود افغان بھی حملے کرکے وہاں کے افراد کو غلام بنا کر لے جاتے تھے۔ ایک ایسے کالاش غلام فرامورز تھے جس نے اپنی ذہانت سے افغانستان کے بادشاہ امیر شیر علی کے دربار میں اونچا مقام حاصل کیا۔ فرامورز 1871 میں ایک بغاوت میں مارے گئے۔ ان کا تعلق موجودہ نورستان کے علاقے کٹار سے تھا جو اس وقت چترال کا باج گزار علاقہ تھا۔
فرامورز خان کا بھتیجا جمشید امیر شیر علی کے بیٹے یعقوب علی کا خاص ملازم بنا۔ بعد میں یعقوب علی نے اپنے والد کے خلاف بغاوت کی تو انہیں قید کیا گیا۔ آقا کے جیل جانے کے بعد جمشید بھاگ کر راؤلپنڈی پہنچے جہاں ان کی ملاقات مشہور محقق اور مستشرق ڈاکٹر جی-ڈبلیو لیٹنر سے ہوئی۔
یہ بھی پڑھیے: جب مہترِ چترال اپنی رعایا کو غلام بناکر بیچا کرتا تھا
ڈاکٹر لیٹنر کو دردستان کے علاقوں پر تحقیق کا شوق تھا۔ وہ گلگت، چترال سمیت ان علاقوں پر گراں قدر تحقیق کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے ہی لندن میں پہلی مسجد “شاہجہان مسجد” کے نام سے تعمیر کی۔ اس کے علاوہ وہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی (جی سی یو) لاہور کے پرنسپل بھی رہے۔
یہ بھی پڑھیے:سابق کافرستان کے ‘بری’ اور چترال کے بہریہ کون؟
ڈاکٹر لیٹنر جمشید کو اپنے ساتھ 1872 میں لندن لے گئے۔ ایک منفرد نسل سے ہونے کی وجہ سے لندن میں جمشید کی خوب پذیرائی ہوئی اور اخباروں میں خبریں شائع ہوئیں۔ یوں وہ چترال سے ولایت پہنچنے والے اس زمانے کے پہلے معلوم شخص بن گئے۔
انگلستان میں محققوں نے جمشید پر تحقیق کی اور انسدادِ غلامی کی تنظیموں نے انہیں غلامی کے خلاف اپنی مہم کا حصہ بنایا۔ انگلستان سے جمشید کو واپس بھیجتے ہوئے غلامی کے خلاف سرگرم انگلینڈ کی مشہور تنظیم “برٹش انٹی سلیوری سوسائٹی” نے جمشید کو تاکید کی کہ وہ غلامی کا شکار ہونے والے اپنے قبیلے کو ان کی طرف سے خیرسگالی کا پیغام پہنچائے اور اپنے قبیلے کے بڑوں کو کہیں کہ وہ پنجاب میں انگریز حکومت کے پاس اپنی التجا لے کر جائیں۔


کافرستان کے قبائل کے سرداروں اور لوگوں نے نام اس خط کا ترجمہ ذیل ہے؛
!ضلع کٹار کے سرداروں کے نام
ہم نے آپ کے خیر خواہ، ڈاکٹر لیٹنر کے ذریعے سنا ہے کہ آپ کے ملک کے قریب کچھ قبائل آپ کے لوگوں کو اغوا کرتے ہیں اور انہیں غلامی میں بیچ دیتے ہیں؛ اس اطلاع نے ہمیں بے حد رنجیدہ کیا ہے۔
اگرچہ ہم نے آپ کی قوم کے بارے میں سنا تھا، لیکن ہم نے آپ کے کسی فرد کو نہیں دیکھا تھا جب تک کہ ڈاکٹر لیٹنر آپ کے ہم قبیلہ جمشید کو انگلینڈ نہ لے آئے۔ وہ خود کم عمری میں اغوا ہوا تھا اور اس نے ہمیں آپ کی تاریخ اور آپ کی قوم کی مشکلات کے بارے میں آگاہ کیا جو غلاموں کے شکاریوں کے سبب پیدا ہوئیں، جو آپ کے قبیلے کے افراد کو چوری کرکے غلام بناتے ہیں۔ انگلستان کے لوگ چاہتے ہیں کہ سب انسان آزاد ہوں۔ وہ غلامی اور غلاموں کی تجارت کے سخت مخالف ہیں اور جہاں بھی ممکن ہو، انہوں نے اسے ختم کر دیا ہے۔
ہم، آپ کے مخلص دوست، ایک ایسی انجمن ہیں جو کئی سال پہلے قائم کی گئی تھی، جس کا مقصد غلامی اور غلاموں کی تجارت کو جائز طریقوں سے دنیا کے ہر حصے میں ختم کرنا ہے۔ ہم نے آپ کے قبیلے کے خلاف اغوا کی کارروائیوں کے بارے میں اپنی حکومت سے درخواست کی ہے اور ان پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے کی مکمل تحقیق کریں اور آپ اور دیگر قبائل کو ملکہ کی حکومت کے ذریعے تحفظ فراہم کریں۔

ہم یہ جاننا چاہیں گے کہ آیا آپ اور قریبی قبائل کے افراد اب بھی ان لوگوں کے ظلم کا شکار ہو رہے ہیں جو آپ کو غلام بنانا چاہتے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آپ ہمیں کسی بھی اغوا کی کارروائیوں کی تفصیلات بھیجیں گے۔ ہم یہ بھی تجویز کریں گے کہ آپ ایک قابل اعتماد نمائندہ مقرر کریں جو کسی بھی اغوا کی کارروائی کو پشاور کے کمشنر یا برطانوی سرحد پر کسی اور برطانوی افسر کے علم میں لائے تاکہ وہ اس کی اطلاع حکومت کو دے سکیں جو بلاشبہ اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھے گی۔
یہ بھی پڑھیے: بیرا خان: گلگت سے تعلق رکھنے والا غلام جس نے دس ریاستوں کا سفر کیا
ہم مزید تجویز کرتے ہیں کہ وہ تمام قبائل، جو اپنے ہمسایوں کے غلام پکڑنے کے حملوں کا شکار ہیں، اپنی شکایات برطانوی حکومت کو پیش کریں۔
ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ اپنے علاقے کے قریب یا اندر سفر کرنے والے کسی بھی برطانوی باشندے کو اپنی حفاظت فراہم کریں اور ہم شیدر لین کے لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے 10 سال پہلے دو عیسائیوں، نور اللہ اور فضل الحق، کی مہمان نوازی کی تھی۔
خدا، جو سب انسانوں کا ہے، آپ کو درکار مدد عطا فرمائے اور آپ کی قوم کو غلامی کے اس بڑے عذاب سے نجات دلائے۔
ہم آپ کے خیر خواہ ہیں،
جوزف کوپر، ایڈمنڈ اسٹرج، رابرٹ السوپ (اعزازی سیکرٹریز)
بینجمن ملارڈ (سیکرٹری)
نیو براڈ اسٹریٹ، لندن، 27 نومبر 1874″

واپسی کے بعد جمشید کو آخری مرتبہ لاہور میں دیکھا گیا جہاں سے وہ ترکی چلا گیا اور وہاں کی فوج میں بھرتی ہوا۔
تاہم اس تنظیم اور خود برطانوی حکومت کی کوششوں کے باوجود کافرستان کے باسیوں کی مشکلات میں کمی نہیں آئی۔ برطانوی حکومت نے ڈیورنڈ لائن کھینچی تو کافرستان کا علاقہ افغانستان کو دیا گیا اور امیر عبدالرحمان نے 1895 میں اس علاقے پر قبضہ کرکے مقامی آبادی کو جبراً مسلمان بنا ڈالا۔ ان قدیم غیرمسلم قبائل میں سے صرف کالاش ہی بچ پایا جن کی وادیاں افغانستان کے بجائے چترال کے حصے میں آئی تھیں۔
حوالہ جات
1۔ Leitner, G. W. (1996). Dardistan in 1866, 1886, and 1893: Being an Account of the History, Religions, Customs, Legends, Fables, and Songs of Gilgit, Chilas, Kandia (Gabrial), Dasin, Chitral, Hunsa, Nagyr, and Other Parts of the Hindukush, as Also a Supplement to the Second Edition of the Hunza and Nagyr Handbook and an Epitome of Part III of the Author’s The Languages and Races of Dardistan. Asian Educational Services.
2۔ The British and Foreign Anti-slavery Society, (1969), The Anti-slavery Reporter: 1874-74 vol XIX, Third Series
3. Adamec, W. L. (1975). Historical and Political Who is Who of Afghanistan. Akademische Druck- u. Verlagsanstalt, Graz
Posted on 5 May 2025