چترال کی تاریخی دستاویزات اور کتب پر ایک نظر
E-Books on Chitral
ارشد عرفان
برصغیر پاک و ہند کی دوسری چھوٹی ریاستوں کی نسبت چترال،تاریخ کے حوالے سے اپنا ایک الگ مقام رکھتا ہے۔ یہاں کے تاریخی کتب اور دستاویزات پر نظر ڈالی جائے تو ہمیں بخونی اندازہ ہوگا کہ اپنے ملحقہ ریاستوں کی نسبت چترال میں موجود تاریخی کتب اور دستاویزات زیادہ مستند اور قابل اعتبار ہیں۔ چترال کی تاریخ کے بہت سارے مآخذ پہ کام ہو چکا ہے، لیکن ان تمام مآخذات میں سے تحریری مواد اور دستاویزات سب سے قابل اعتبار اور معتبر سمجھی جاتی ہیں۔ ان دستاویزات اور کتب کے تاریخی پس منظر کے حوالے سے چند وضاحتیں ضروری ہیں تاکہ آنے والے وقتوں میں تاریخ کے حوالے سے کام کرنے والے محققین خفقان کی اُلجھنوں میں اُلجھ کر نہ رہ جائیں۔
سید شاہ دل شاہ کا لکھا ہوا قرآنی نسخہ
سید شاہ دل شاہ چترال کے گاؤں ریچ کے سادات خاندان کا فرزند تھا اور ریشن میں رہائش پذیر تھا۔ اُنہوں نے اپنے زمانے میں قرآن کریم کا قلمی نسخہ تیار کیا۔ چترال کے بہت سارے لکھاری اس قرآنی نسخے کو چترال کی اولین تحریری نسخہ مانتے ہیں، جس کے آخیر میں شاہ دل شاہ لکھتے ہیں۔
بدست فقیر لحقیر شاہ دلخان ابن شاہ سید اکبر تمام شد این کلام، موضعیی ریشن درماہ جماد الاول روز پنجشبہ
شکر شد بتوفیق خدای الاینام این کلامت روز پنجشبہ تمام 1013 ہجری
جیسا کہ اوپر تاریخ درج ہے 1013، اگر اس تاریخ کو 1013 ہجری مان لیا جائے تو جورجین کلینڈر کے مطابق ستمبر 1604ء بنتی ہے۔ بظاہر دیکھا جائے تو یہ قرآنی نسخہ 1013ھ میں لکھی گئی ہے لیکن جب ہم سید شاہ وصی اور ان کی اولاد کے شجرۂ نسب پہ نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ شاہ دل شاہ بن سید اکبر بن سید رحیم ثانی بن سید مرزا شاہ بن شاہ نظر علی ابن شاہ نجی ابن شاہ وصی، اور شاہ دل شاہ کا 1013ھ میں زندہ ہونا ناممکن لگتا ہے۔ کیونکہ ان کے جد امجد سید شاہ وصی نے شاہ بابر رئیس کی بہن سمن بیگم سے تقریبا 1040ھ میں نکاح کیا تھا۔
شاہ دل ابن سید اکبر لفٹننٹ سید عبدالحسن چرون کے آباو اجداد میں سے تھے۔ ان کا شجرہ نسب کچھ یوں ہے؛ سید عبدالحسن ابن سید گل خندہ شاہ ابن سید عبدالرحیم ابن شاہ دل۔ بین الاقوامی اصول کے مطابق ایک جد کے لیے 30 سال کا دورانیہ مختص کیا جائے تو اس حساب سے شاہ دل شاہ 1850ء میں زندہ ہوتے ہیں۔اس قرآنی نسخے پہ درج تاریخ کی جانج کی جائے تو پتا چلتا ہے کہ شاید لکھنے والے نے عربی اور فارسی لکھنے کے قانون اور رسم الخط کی پابندی کرتے ہوئے ۱۳۱۰ھ لکھنے کے بجائے 1013ھ درج کیا ہو۔ پہلے 13 لکھ کر بعد 10 لگایا ہو۔ واللہ اعلم
چترال میں سادات خاندان کے شجرے اور قلمی نسخے
جب سادات عرب سے ہجرت کرکے وسط ایشیاء کے طرف بڑھے تو ان علاقوں کے لوگوں نے انھیں بڑی قدر کے نگاہ سے دیکھا اور وہ ان کی قدر کو اپنے ایمان کا جزو سمجھتے تھے۔ عام طور پر اس خطے میں لوگوں کی نقل مکانی بہت زیادہ تھی اور سادات کی پہچان ان کے شجر نسب سے کی جاتی تھی۔ سولہویں صدی عیسوی کے درمیان ان میں سے چند سادات نے دین کے فروغ کی خاطر چترال کا رخ کیا اور یہیں سکونت اختیار کی۔ آج بھی چترال میں ان سادات کے شجروں اور دوسرے قلمی نسخوں سے چترال کی تاریخ کے حقائق سے پردہ اُٹھایا جا سکتا ہے جن کی ایک مثال سید شاہ وصی کا شجرہ ہے جس میں شاہ بابر رئیس کا ذکر ہے۔
بادشاہ وقت کی طرف سے مختلف خاندانوں کو دیے گئے اسناد
چترال میں مختلف ادوار میں مختلف نسل کے لوگ آکے آباد ہوئے ہیں اور یہ اقوام مختلف وقتوں میں عروج و زوال کا شکار رہے ہیں۔ یہاں پہ بسنے والے مختلف اقوام اور خاندانوں کو اس وقت کے حکمرانوں کی طرف سے اسناد ملے ہیں جس میں مسند، زمین اور دوسرے حکومت کے کاموں کے حوالے سے اسناد ہیں۔ یہاں میں ملا بابا آدم کے خاندان کے پاس جو اسناد موجود ہیں ان پر تبصرہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں کیوں کے وہ تاریخی حوالے سے بہت اہم اسناد ہیں۔ مختلف تاریخ دانوں نے انہی اسناد کو بروئے کار لاکر چترال کی تاریخ کا ڈھانچہ مرتب کیا تھا۔ بابا آدم کے اولاد کے مطابق یہ اسناد 21 تھے۔ اس وقت کے حکمران نے انہیں ضبط کرکے ان میں سے 7 اسناد ان کے اجداد کو واپس کیے۔ ان اسناد میں مختلف حکمرانوں کی مہریں اور تاریخیں درج ہیں جن میں سے چند کا ذکر یہاں کرنا ضروری ہے۔
سند نمبر 1: محمود بن شاہ ناصر (جو چترال کا رئیس حکمران تھا) نے مخصوص حکومتی کام سے استثناء کی سند دی ہے اور اس سند میں ان کی مہر واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے اور نیچے تاریخ 1153ھ رمضان روز پنج شنبہ درج ہے یہ جارجین کیلنڈر کے مطابق 24 نومبر 1740 بنتی ہے۔
سند نمبر 2: مہتر محمد شفیع بن سنگ علی نے ملا بابا آدم کو چترال کا قاضی مقرر کرکے سند دی ہے او ر مہر بھی واضح ہے۔ اس سند کے نیچے تاریخ 1169 عربی طرز پہ درج ہے اور مہینہ اور دن درج نہیں اورجو رجین کیلنڈر کے مطابق 1755/56ء بنتی ہے۔
سند نمبر 3: مہتر محمد شفیع بن سنگ علی نے زکواۃ اور عشر ملا بابا آدم کو دینے کا حکم نامہ ہے اور اس سند میں مہر اور تاریخ واضح ہیں اور1169ھ عربی طرز میں درج ہے جو جارجین کیلنڈر کے مطابق /56 1755 بنتی ہے۔
سند نمبر 4: مہتر محمد شفیع بن سنگ علی نے اوپر کے دو سندوں کے دوسال بعد یعنی 1171ھ میں ملا بابا آدم کوعلاقہ اویر کا بھی قاضی بنا کر سند دی ہے جو جارجین کیلنڈر کے مطابق 1757/58ء بنتی ہے۔
سند نمبر 5: اس سند کے متعلق مختلف رائے قائم کی جاسکتی ہیں۔ اس سند میں شاہ افضل بن محترم شاہ کے دو مہریں لگی ہیں اور ایک مہر مہتر شاہ نواز کی ہے اور سند کے نیچے تاریخ 1171ھ درج ہے جو جارجین کیلنڈر کے مطابق 1757/58ء بنتی ہے۔ سند نمبر 4 اور سند نمبر 5 میں ایک ہی سال دو مختلف حکمرانوں نے دو الگ جگہوں کے متعلق سند دی ہے۔ پہلا امکان یہ ہے ہوسکتا ہے کہ اس پہ درج اولین مہر شاہ افضل بن محترم شا ہ اول کی ہے جو دروش کے علاقے کا حکمران ہو۔ بعد میں ان کے بیٹے بھی کافی عرصہ دروش کی حکمرانی پہ قابض رہے تھے۔ دوسرا مہر مہتر شاہ نواز کی ہے جو توثیقی مہر ہے اور اس مہر پہ تاریخ درج ہے جو واضح نہیں ہے اور تیسری مہر شاہ افضل بن محترم شاہ دوم کی ہے اور یہ مہر بھی توثیقی مہر ہے اور جس پہ تاریخ 1256ھ درج ہے جو جارجین کیلنڈر کے مطابق 1840ء بنتی ہے۔
سند نمبر 6: عبدالقادر بن شاہ محمود (جو رئیس حکمران تھے) نے 1176ھ میں ملا بابا آدم کو علاقہ اویر، لون، کوشٹ، موردیر اور موژگول کے قاضی القضاء کے عہدے پہ فائز کرکے سند دی ہے جو جارجین کیلنڈر کے مطابق 1762ء بنتی ہے۔
شاہ نامہ سئیر
مرزا محمد سئیر چترال کے پہلے تاریخ دان گردانے جاتے ہیں۔ انہوں نے ابو قاسم فردوسی کی مشہور زمانہ کتاب شاہ نامہ فردوسی کی طرز پہ شاہ نامہ سئیر لکھا جو چترال کی تاریخ پہ لکھی گئی پہلی کتاب کہلاتی ہے۔ جس کا زیادہ حصہ ان کے ہم عصر حکمران محترم شاہ دوم کی جنگوں کے گرد گھومتا ہے اور محترم شاہ دوم کے بیٹے فرخ سیر کے اپنے باپ کے ساتھ بغاوت پہ آکے ختم ہوتا ہے۔ شاہ نامہ سئیر سے اس وقت کے حالات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور مرزا سئیر نے اس شاہ نامے میں اس وقت کا مختلف مشاہیر کا بھی ذکر کیا ہے۔ شاہ نامہ سئیر کو بنیاد بنا کر بعد میں آنے والے تاریخ دانوں نے اس پر تحقیق کرکے مختلف کتب لکھے ہیں۔ شاہ نامہ سئیر کا اصل مسودہ ناپید ہے لیکن مختلف ادوار میں لکھاریوں نے اسے نقل کیا ہے جو آج بھی موجود ہیں۔ انہیں آج کل اکثر لکھاری مرزا سیر کے شاہ نامے کی اصل قلمی نسخہ سمجھتے ہیں جو کہ غلط ہے۔ مرزا سئیر کے شاہ نامہ کے بارے میں چترال کے ایک دوسرے تاریخ دان اور فارسی کے عالم مرزا غفران لکھتے ہیں۔ جو داری فارسی شاہ نامہ سئیر کے نقل کنندہ مسودوں میں ملتی ہے وہ مرزا سئیر کے علم کے معیار کے مطابق نہیں ہے جو اس نے اپنا دیوان مرتب کیا ہے۔ دیوان کا معیار کافی بلند ہے۔ مرزا غفران کے مطابق، مرزا سئیر کے شاہ نامہ سئیر کو نقل کرنے والوں نے غیر معیاری داری فارسی کے اضافیات کے ساتھ نقل کیے ہیں جو کہ مرزا سئیر کی علمی استعداد کے مطابق نہیں۔ مرزا سئیر فارسی زبان کے بہت بڑے عالم اور شاعر تھے۔ اتنے بڑے عالم کا شاہ نامہ سئیر میں داری فارسی کا استعمال نا قابل فہم ہے۔ مرزا غفران سئیر کی فارسی شاعری اور علم کے حوالے سے لکھتے ہیں، مرزا سئیر بلبل ہیں، شاخسار سخنوری کے اور گلزار فصاحت گستری کے اور ان کے کلام سہ نثر ظہوری کا مرتبہ رکھتے ہیں۔
انگریز لکھاری
جب انگریزوں نے مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو معزول کرکے پورے ہندوستان پہ اپنا قبضہ جمالیا تو اپنے سرحدات کو مستحکم کرنے پر غورکرنا شروع کیا۔ ان سرحدات کے بارے میں معلومات کے فقدان کی وجہ سے اپنی تذویراتی پالیسیوں کو انجام تک پہنچانا مشکل نظر آیا تو ان علاقوں میں اپنے وفد بیجھے جو اکثر سیاح کا روپ ڈھال کر وارد ہوئے۔ ان میں سے ایک شخص ولیم لیٹنر تھا جنہوں نے ان علاقوں کا تین بار دورہ کیا۔ وہ ایک برطانوی ماہر شرقیات تھے اور انکو پچاس زبانوں پہ عبور حاصل تھا۔ وہ اپنا نام عبدالرشید سیاح بتاتے تھے۔ انھوں نے اپنے کتاب دردستان، 1866,1886,1893,میں موجودہ چترال کے مشرقی علاقوں کا مختصر ذکر کیا ہے۔ اس وقت چترال پہ آمان الملک کی حکومت کا بھی ذکر ہے اور اس کتاب میں چترال کے چند مشاہیر کی تصویریں بھی دی گئی ہیں جو اس وقت غذر کے علاقے میں موجود تھے۔
جان بڈلف کی کتاب دی ٹرائب آف ہندوکش
جب مہتر چترال نے 1876ء میں مہاراجہ کشمیر کے ساتھ دوستانہ معاہدہ کیا اور دونوں ریاستوں کے بیچ تعلقات استوار ہوئے تو مہاراجہ کشمیر نے آمان الملک کو ایک خط میں ایک انگریز سیاح بڈلف کے چترال آنے کا ذکر کیا اور اسی سال 1876ء میں جان بڈلف چترال آئے۔ اُنہوں نے چترال اور گلگت پر بہت ہی عمدہ کتاب لکھی جسکا نام دی ٹرائیب آف ہندوکش تھا۔ اس کتاب میں اس علاقے کے اقوام کے علاوہ روایات، تہذیب و تاریخ کے حوالے سے بہت سے معلومات ملتی ہیں۔ بعد میں آنے والے انگریر لکھاریوں نے اکثر اسی کتاب کو بنیاد بناکر اپنی انٹیلیجنس رپورٹس اور گیزیٹیر مرتب کیے۔ یہ کتاب زیادہ تر اس وقت کے زبانی روایات اور دوسرے تاریخی ذرائع پر مصنف کی اپنی ادراک پر مشتمل ہے۔
لاکہارٹ مشن اور اس کی رپورٹ
اٹھارہ سو اسی میں جب چترال اور ملحقہ خطوں میں روسی مداخلت اپنے عروج پر تھی تو سیکرٹری سٹیٹ آف انڈیا نے 1885ء کو سر ولیم الیگزنڈر لاکہارٹ کو ایک مشن پہ ہندوکش کے پہاڑوں کی طرف بھیجا۔ اس مشن میں لاکہارٹ کے علاہ آرمی انٹلجنس کے افسران، ڈاکٹر اور سروے افسران شامل تھے۔ اس مشن کے چترال آنے کا مقصد بظاہر تو چترال کے مہتر آمان الملک کے ساتھ تعلقات استوار کرنا تھا۔ اس لئے اس مشن میں سینکڑوں جانوروں پہ لادے ہوئے بندوق اور دوسرے تحفے بھی کشمیر سے ہوتے ہوئے چترال پہنچے تھے۔ اس مشن کے انٹلجینس کی کمانڈ کیپٹن ایمنڈ بیرو کر رہے تھے۔ بعد میں اس مشن کا نام لاکہارٹ بونڈری کمیشن ٹو چترال، کافرستان، ہنزہ اینڈ وخان رکھا گیا۔ اس مشن نے چترال اور دوسرے مضافاتی علاقوں کا دورہ کیا اور ان علاقو ں کے حوالے سے جغرافیائی، طبقاتی، طبی، تاریخی اور دوسرے انتلیجنس پہلوں پر مرتب دو رپورٹ تیار کرکے برطانوی حکومت کے پاس جمع کرائیں۔ ان کا عنوان دی گلگت مشن 1885-86. اور دی گیزیٹئر آن ایسٹرین ہندوکش تھے، جو بعد میں برطانوی حکومت کے ہندوکش کے حوالے سے سٹریٹجک پالیسیوں میں بہت کا رآمد ثابت ہوئیں۔ ان دونوں رپورٹس میں چترال کے جغرافیائی سماجی اور تاریخی حوالوں سے بہت اہم معلومات ملتی ہیں لیکن بعض جگہوں پہ رپورٹ مرتب کرنے والوں نے چترال کے معاشرے کی منفی پہلوں کو بڑھا چڑھا کے بھی پیش کیا ہے۔
مہتر امان الملک کی وفات کے بعد چترال پر لکھی گئی انگریزی کتب
جب مہتر چترال مہتر امان الملک کی 1892 میں رحلت ہوئی تو ان کا بیٹے مہتر افضل الملک چترال کے تخت پر براجمان ہوا۔ مہتر امان الملک بہت قد آرور حکمران گزرے ہیں۔ مہتر چترال امان الملک کی وفات کے بعد بیرونی قوتوں کی نظر چترال کے تخت پہ پڑی اور ان کو یہ اندازہ تھا کہ ناتجربہ کار شہزادے چترال کی حکومت زیادہ دیر سنبھال نہیں پائیں گے۔ موقع کا فائدہ اٹھاکر امیر افغانستان نے مہتر آمان الملک کے بھائی شیر افضل خان جو کافی عرصے سے بدخشان میں جلاوطن تھے کو مدد دیکر چترال کی طرف بھیجا تو انھوں نے افضل الملک کو قتل کرکے چترال کی حکومت پر قبضہ کر لیا۔ دوسری طرف امیر افعانستان کی چترال کی حکومت پہ مداخلت سے حکومت برطانیہ کی کئی سالوں کی محنت اور مفادات کو سخت نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوا جو گریٹ گیم کا حصہ تھا۔ ایسے میں امان املک کا بیٹا نظام الملک جو گلگت میں معزول تھے ان کو انگریزوں نے فوجی مدد دیکر چترال کی طرف بھیجا جس کی خبر جب شیر افضل خان کو ہوئی تو وہ چترال کی حکومت چھوڑ کر واپس بدخشان بھاگ گیا۔ اسی طرح چترال کی حکومت پہ مہتر نظام الملک کی حکومت رہی۔ ان کی حکومت کے تقریباً 3 سال بعد 1 جنوری 1895ء کو ان کے بھائی شہزادہ امیر الملک نے ان کو قتل کرکے چترال کی حکمرانی پہ قبضہ کر لیا اور برطانوی حکومت سے ساز باز شروع کردی کہ وہ ان کو چترال کا حکمران تسلیم کرلے۔ اس معاملے کو سلجھانے کے لیے برطانوی حکومت کی طرف سے چیف پولیٹکل افیسر کے طور پر سر جارج سکوٹ روبرٹسن 13جنوری 1895ء کو چترال پہنچے۔ اسی دوران موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قریبی ریاست جندول کے حکمران عمرا خان اور شیر افضل خان نے چترال پر حملہ کردیا جس کی بناء پر برطانوی ہند کا ایک بہت اہم تاریخی واقعہ محاصرہ چترال رونما ہوا۔ ۳ مارچ 1895ء کو جارج اسکوٹ رابرٹسن تقریباً 500 دیگر لوگوں کے ساتھ قلعہ چترال میں محصور ہوئے۔ برطانوی حکومت کی طرف سے مدد کے لیے دو مختلف فوجی دستے چترال کی طرف بھیجے گئے جو دو مختلف راستوں سے پٹھان اور چترالی افواج سے لڑتے ہو ئے چترال پہنچے۔ گلگت سے جو مہم جوئی ہوئی ان کی کمانڈ کرنل جیمس کیلی نے کی اور جنوب سے آنے والی افواج کی کمانڈ سر رابرٹ کینلف لا کررہے تھے۔ اس مہم میں شریک بہت سارے آفیسرز نے اپنی آنکھوں دیکھے واقعات ڈائری میں درج کیے ہیں اور بعض نے کتاب کی شکل میں شائع کئے ہیں۔ یہ کتب اس وقت کی جنگوں اور لوگوں کے حالات کے بارے میں بہت ساری معلومات رکھتی ہیں۔ ان کتب کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ ان آفیسرز نے بہت کم عرصے چترال میں رہ کر چترالی معاشرے کی جو عکاسی کی ہے وہ حقیقت کے برعکس ہے۔ کسی بھی معاشرے کے لوگوں اور انکے روایات کو جاننے اور رائے قائم کرنے سے پہلے اس معاشرے کے بنیادی تصورات اور اسلوب کو جاننا یا اس معاشرے کا حصہ بن کر جانج کرنا ضروری ہے۔ ایک فوجی مہم جوئی پہ ایک جگہ سے گزر کر اس معاشرے کے بارے میں لکھنا ایک کٹھن کام ہے لیکن پھر بھی ان برطانوی آفیسرز نے بڑی خوش اسلوبی سے یہ کام سر انجام دیا ہے۔
مرزا غفران کی تاریخی یادداشتیں و تاریخِ چترال فارسی (اولین نسخہ 1893ء) (دوم 1902ء)
مرزا کے معنی فارسی میں صاحب علم کے ہیں۔ کئی مرتبہ استاد کے لیے بھی مرزا کا لقب استعمال ہوتا ہے۔ مغل اور تیموری شہزادوں کا لقب بھی مرزا ہوا کرتا تھا۔ ریاست چترال میں صاحبِ علم شخصیات کو رئیسوں کے دور سے ہی ملا اور مرزا کا لقب دیا گیا ہے جن میں سے ملا بابا آدم، مرزا اطہر، ملا زمانی، مرزا شکور غریب، مرزا سئیر، مرزا شیاق اور مرزا محمد غفران قابل ذکر ہیں۔ مرزا غفران کاری کے ایک متوسط گھرانے میں 1856ء میں پیدا ہوئے۔ پشاور کے مختلف مکتبوں سے علم حاصل کیا۔ جب ان کی علمی قابلیت کی خبر مہتر امان الملک کو ملی تو انھوں نے تقریباً 1879ء میں انہیں چترال بلوایا۔ امان الملک کے دربار میں ان کے علم کی وجہ سے بڑی قدر تھی۔ 1880ء کے بعد چترال کے مختلف واقعات ان کی یاداشتوں میں درج ہیں جن میں مختلف شہزادوں کی پیدائش اور سیاسی، سماجی واقعات کے بارے میں معلومات ملتی ہیں۔ تاریخ کے حوالے سے مرزا عفران نے امان الملک کے دور ہی میں کام شروع کیا تھا۔ ان کی تاریخی داستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ بہت سے تاریخی معلومات انہوں نے مہتر امان الملک سے حاصل کی تھیں۔ مہتر آمان الملک کی وفات کے بعد جب ان کا بیٹا مہتر افضل الملک 1892ء کو تخت نشین ہوئے تو انہوں نے مرزا غفران کو چترال کی تاریخ کے حوالے سے کتاب لکھنے کو کہا۔ جس کی تکمیل 1893ء میں انکے بھائی مہتر سردار نظام الملک کے دور میں ہوئی۔ مرزا غفران اس کتاب کے حوالے سے لکھتے ہیں۔ “میں نے جب چترال کی تاریخ کے حوالے سے کام شروع کیا تو میرے پاس مرزا سیر کے شاہ نامہ کے ٹوٹے پھوٹے ٹکڑوں کے سوا کچھ نہیں تھا، ان کو جوڑ کر میں نے تاریخ کے حوالے سے معلومات حاصل کیں۔ چترال کے لوگ شاعری کو پسند کرتے ہیں اور میں نے نثر میں تاریخ لکھنے کی کوشش کی ہے کیونکہ شاعری کی خوبصورتی ہی مبالغہ میں ہو تی ہے۔” یہ مختصر تاریخ چترال اس وقت چترال کی تاریخ کے حوالے سے ایک منفرد تحفہ تھی لیکن بعض جگہوں میں نسبت کے حوالے سے کمی بیشیاں موجود ہیں۔ پھر بھی اس کتاب میں تاریخ کے اکثر پہلوؤں پہ کام کیا گیا ہے جسے بعد میں چترال میں ایک برٹش ایجنٹ کے منشی، عزیز الدین سے کچھ اضافیات کے ساتھ اردو میں ترجمہ کرکے تاریخ چترال منشی عزیزالدین کے نام سے شائع کروایا گیا۔
چترال کے 1895 میں انگریزوں کے زیرِ اثر جانے کے بعد چترال کے سیاسی اور سماجی حالات بدل گئے تھے۔ مہتر شجاع الملک کے کہنے پہ مرزا غفران نے 102 صفحوں پر مشتمل ایک اور کتاب مرتب کی جس میں محاصرہ چترال انگریزون کی آمد، مہتر شجاع الملک کی تخت نشینی اور اسکے بعد کے حالات کے بارے میں معلومات موجود ہیں۔
بشکریہ چترال ٹوڈے
(چترال سے متعلق کتابیں حاصل کرنے کے لیے کلک کریں)