کافرستان سے نورستان تک: جب افغانوں نے ہندوکش کے”کافر” قبائل کو جبراً مسلمان کیا
Amir Abdul Rehman, on the rightside
فخرعالم
چترال میں منفرد ثقافت اور عقائد رکھنے والے کالاش قبیلے کے بارے میں سب نے سنا ہوگا لیکن یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں ڈیڑھ سو سال قبل تک کالاش جیسے غیرمسلم قبائل نہ صرف چترال میں موجودہ تین کالاش وادیوں، بلکہ افغانستان کے موجودہ نورستان صوبے میں بھی آباد تھے جسے اس زمانے میں کافرستان اور اس کے باسیوں کو غیرمسلم ہونے کی وجہ سے کافر کہا جاتا تھا۔ پھر کیا ہوا کہ چند ہی سالوں میں نہ صرف غیرمسلم قبائل باقی نہ رہے بلکہ کافرستان کا نام تک تبدیل کرکے نورستان رکھا گیا؟
یہ بھی پڑھیے: جب مہترِ چترال اپنی رعایا کو غلام بناکر بیچا کرتا تھا
ہندوکش کے پہاڑوں میں گھرا نورستان موجودہ افغانستان کا مشرقی صوبہ ہے۔ اس کے شمال میں افغان صوبہ بدخشان، مغرب میں پنجشیر اور جنوب میں لغمان اور کنڑ واقع ہیں جبکہ مشرق میں پاکستان کا ضلع لوئر چترال موجود ہے۔ اس علاقے کو “کافرستان” کا نام اردگرد کی مسلم آبادی نے دیا تھا تاہم یہ قبائل ایک دوسرے کو مقامی ناموں سے پکارتے تھے اور مجموعی طور پر ان کا کوئی ایک نام نہیں تھا۔ یہ خطہ قدیم زمانے سے خودمختار قبیلوں کے مسکن کے طور پر موجود رہا، البتہ باشگل نامی اس کی ایک بڑی وادی ریاستِ چترال کی بالادستی قبول کرتی تھی اور اسے ہر سال خراج بھی ادا کرتی تھی۔ اس کے علاوہ کالاش کافروں کی تین وادیاں، بمبوریت، رمبور اور بریر مکمل طور پر چترال کے زیر تسلط تھیں۔
کافرستان کے لوگ کون تھے؟
کافرستان کا علاقہ کئی ایک پہاڑی وادیوں پر مشتمل تھا جہاں ایک اندازے کے مطابق 60 ہزار کے قریب کافر آباد تھے[1]۔ باہر کی دنیا سے اس کا پہلا تفصیلی دورہ 1888 میں انگریز فوجی افسر جارج اسکاٹ رابرٹسن نے کیا جنہوں نے زیرین باشگل میں ایک سال گزار کر “دی کافرز آف دی ہندوکش” نام سے ایک تحقیقی کتاب لکھی۔ اس سے قبل یہاں کے قبائل کے بارے میں بیرونی دنیا کو علم نہ ہونے کے برابر تھا اور وہ ان میں تفریق صرف ان کے پہناؤں کی بنیاد پر کرتے تھے اور اس بنیاد پر انہیں دو گروہوں یعنی سفید پوش اور سیاہ پوش میں تقسیم کرتے تھے۔ تاہم رابرٹسن نے ان کے درمیان رہ کر جائزہ لینے کے بعد کافرستان میں کم از کم 8 مختلف قبائل اور کئی دوسری ذیلی شاخوں کا ذکر کیا[2]۔ ان میں کاٹی، قام، مڈوگل ، پریسون اور وائی زیادہ بااثر قبیلے تھے۔ موجودہ کالاش کو یہ تمام قبائل نچلی ذات کا سمجھتے اور انہیں مجموعی طور پر غلام قبیلہ تصور کیا جاتا تھا۔

کافرستان کے قبائل کے مذہب میں قدیم ہندومت ، کہانت اور فطرت پرستی کے عناصر شامل تھے جس میں مختلف دیوتاؤں اور فطری مظاہر پر ایمان رکھا جاتا تھا۔ یہ لوگ موسیقی ، رقص، گیتوں اور قربانیوں کے ذریعے اپنے دیوتاؤں کو خوش رکھتے تھے، ان کے بُت تراشتے اور ان کی یاد میں معبد تعمیر کرتے تھے۔
یہاں کے قبائل آپس میں لڑتے اور کبھی کبھار چترال سمیت دیگر مسلم علاقوں میں چھاپہ مار کارروائیاں کرتے اور مسافروں اور مقامی رہائشیوں سے سامان لوٹ کر فرار ہوجاتے تھے۔ موجودہ دور میں لواری سے ہوکر چترال شہر تک جانے والا راستہ اُس زمانے میں ان قبائل کے حملوں کی وجہ سے غیرمحفوظ خیال کیا جاتا تھا۔
Also Read: An Annotated Bibliography of Nuristan (Kafiristan) by Shuyler Jones
یہ قبائلی کسی مسلمان کو قتل کرنے کو اعزاز سمجھتے تھے۔ ایسا کرنے والے شخص کو علاقے میں ہیرو مانا جاتا تھا۔ کوئی اگر مسلمان کو قتل کرنے کے ارادے سے وادی سے نکلتا تو اسے خصوصی رسومات کے بعد رخصت کیا جاتا۔ وہ شخص اپنے دشمن کو قتل کرنے میں کامیاب ہوجاتا تو لاش کا سر یا کان کاٹ کر اپنے ساتھ نشانی کے طور پر گاؤں لے آتا جہاں دوسرے قبائلی اس کے استقبال کے لیے جمع ہوجاتے اور اسے مخصوص ہار پہناتے۔ ایسا کرنے والا شخص اپنی ٹوپی میں پرندوں کے پر سجانے کا حقدار سمجھا جاتا جن کی تعداد اس شخص کے ہاتھوں قتل ہونے والے مسلمانوں کی تعداد کو ظاہر کرتی تھی۔

موجودہ کالاش وادیوں کی طرح کافرستان میں بھی شراب کا رواج عام تھا۔ مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر اپنی یادداشتوں میں لکھتے ہیں کہ “ہر کافر اپنے گلے میں شراب کی ایک چرمی بوتل لٹکاتا ہے ، وہ پانی کی جگہ بھی شراب پیتے ہیں[3]“۔ یہی مشاہدات پرتگالی مشنری بینیڈک گوئس کے بھی تھے جو 1603 میں چین جاتے ہوئے پشاور پہنچے تو ایک زائر نے انہیں کافرستان کے بارے میں بتایا اور وہاں کی آبِ انگور بھی پیش کی[4]۔
اُنیسویں صدی میں انڈیا میں موجود انگریزوں اور روس کے درمیان چپقلش شروع ہوگئی جو تیزی کے ساتھ وسطی ایشیا کے علاقوں کو قبضے میں لے رہا تھا۔ برطانیہ کو ڈر تھا کہ کہیں وسطی ایشیا کو قبضے میں لینے کے بعد روس ہندوستان کے میدانوں کا رُخ نہ کریں۔ اس لیے انگریزوں نے روس کی توسیع پسندی کے خلاف اقدامات شروع کردیے ، اس دور کو گریٹ گیم کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ انگریزوں نے ضروری سمجھا کہ چترال، گلگت، ہنزہ، بدخشان اور واخان جیسی آزاد مقامی ریاستوں کو یا تو اپنے زیرِ اثر لایا جائے یا پھر افغانستان کے قبضے میں دیا جائے جہاں کے حکمران امیر عبدالرحمان اس وقت انگریزوں کا اتحادی بن گئے تھے۔ نتیجتاً اولذکر تین ریاستوں میں انگریزوں نے اپنے پسندیدہ حکمران تعینات کیے اور افغانستان کو آزادی اور معاونت دی کہ وہ بدخشان، واخان، ہزارہ جات، شغنان اور پھر آخر میں کافرستان کو اپنے قبضے میں لے لیں۔ یوں امیر عبدالرحمان کے دور میں انگریزوں کی مدد سے جدید افغانستان کی بنیاد رکھی گئی۔
گریٹ گیم اور افغانوں کو انگریزوں کی سرپرستی
1893 میں انڈیا اور افغانستان کے درمیان ڈیورانڈ لائن کھینچی گئی تو بہت سارے نئے علاقے افغانستان کے حصے میں آئےتاہم معاہدے کے تیسرے نکتے میں واضح طور پر لکھا گیا کہ افغانستان باشگل کی وادی پر قبضہ نہیں کرے گا جو چترال کے زیرِ اثر تھی لیکن امیرِ کابل نے معاہدے میں علاقوں کے ناموں اور نقشے میں چند غلطیوں کا فائدہ اٹھاکراصرار کیا کہ کافرستان ان کا علاقہ ہے۔ انگریز افسر رچرڈ اُڈنی نے اس ڈر سے کہ کہیں افغان امیر پورے معاہدے کو ہی منسوخ نہ کردیں،اپریل 1895 میں ہونے والے باشاگام معاہدے کے تحت کافرستان کو افغانستان کا حصہ قرار دے دیا جو اصل ڈیورانڈ معاہدے کے خلاف فیصلہ تھا[5]۔ انگریزوں کو راضی کرنے کے بعد امیر عبدالرحمان نے فوراً ان علاقوں پر عملداری قائم کرنے کی تیاری شروع کی۔
یہ بھی پڑھیے: گریٹ گیم، چترال اور انگریزوں کی مداخلت
انہوں نے 1895 کی گرمیوں میں کافرستان پر تین اطراف یعنی بدخشان، لغمان اور اسمار سے چڑھائی کرنے کا منصوبہ تیار کیا۔ سب سے پہلی فوج اسمار کی طرف سے بھیجی گئی جس کی کمان غلام حیدر چرخی نامی سپہ سالار کے ہاتھ میں تھی۔ اس حملے کی تفصیلات مرزا شیر احمد جلال آبادی نامی افغان شاعر کی ایک طویل نظم “فتح نامہ کافرستان” میں ہمیں ملتی ہیں۔

وہ لکھتے ہیں کہ غلام حیدر کی چڑھائی کی اطلاع ملی تو کافروں کے نمائندوں نے اسمار میں آکر ان سے ملاقات کی۔ شاعر کے بقول غلام حیدر نے انہیں “غیرمہذب کتا” کہہ کر مخاطب کیا اور کہا کہ اگر وہ مسلمان نہیں بنتے تو انہیں قتل کیا جائے گا۔ کافر سردار آپس میں مشورہ کرنے واپس چلے گئے لیکن مقررہ وقت پر واپس نہیں آئے تو چرخی نے پیش قدمی شروع کی۔ بریکوٹ کے علاقے سے آگے کافروں کے دو نمائندے آئے اور کہا کہ اگر ہمیں مذہب چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جاتا ہے تو ہم تختِ کابل کی اطاعت کرنے اور خراج دینے کے لیے تیار ہیں[6]۔ دوسری طرف یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ کامدیش کے کافرو ں نے مسلمان بننے اور افغانستان کی اطاعت قبول کرنے کی پیشکش کی تھی اور بدلے میں فوج کشی نہ کرنے کی درخواست کی تھی تاہم افغان کمانڈر نے نہ صرف مسلمان بننے اور خراج دینے کی شرط رکھی بلکہ کافرستان میں سڑک کی تعمیر، 120 افراد کو فوج میں شامل کرنے اور چند خوبرو لڑکیوں کو شاہی حرم کے لیے پیش کرنے کا بھی کہا۔ یہ شرائط کافروں کو منظور نہ تھیں[7]۔

سپہ سالار نے اپنے دو آدمی ان سرداروں کے ساتھ حالات کا جائزہ لینے کے لیے بھیجے۔ انہوں نے واپسی پر بتایا کہ وہاں کی وادیاں بہت تنگ و مشکل گزار ہیں اور اس وقت وہاں حملہ کرنا مناسب نہیں۔ اس پر چرخی نے فیصلہ کہ فی الحال ہم خراج لینے پر اکتفا کرتے ہیں یہاں تک کہ برف پڑ کر وادیوں کو کافروں کے فرار ہونے کے لیے بند نہیں کرتی۔ امیر عبدالرحمان نے اپنی خودنوشت سوانح حیات میں ایک اور وجہ بھی بیان کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ مجھے خدشہ تھا کہ کہیں کافرستان پر حملے کی خبر عیسائی مشنریوں کو نہ پہنچے جو پہلے ہی افغانوں کے ہاتھوں کافروں کے استحصال پر آواز اٹھاتے تھے اور انگریز سرکار سے مداخلت کا مطالبہ کررہے تھے[8]۔ یوں افغان فوج تین مہینے برف باری کے انتظار میں رہی اور اس دوران حملے کی تیاری کے طور پر نقل و حرکت کے لیے بریکوٹ سے باشگل تک سڑک کی تعمیر شروع کی۔ اگست 1895 میں لوٹ دیہہ کے کافروں کا وفد چترال خراج لے کے آئے تھے جہاں انہیں خبر ملی کہ ان کی سب سے اہم وادی گواردیش پر افغانوں نے قبضہ کردیا ہے، خبر سُنتے ہی وہ رونے لگے[9]۔
یہ بھی پڑھیے: سابقہ کافرستان کے ‘بری’ اور چترال کے بہریہ کون تھے؟
دوسری طرف کافر اس اچانک فوج کشی سے پریشان تھے۔ انہوں نے چترال کے مہتر اور وہاں تعینات انگریز حکام کو متعدد نمائندے بھیج کر افغانوں کو حملے سے رُکنے پر راضی کرنے کی درخواست کی مگر مہتر شجاع الملک، جسے اس سال صرف 14 سال کی عمر میں اقتدار کی جنگ کے بعد انگریزوں نے تخت پر بٹایا تھا، کچھ نہیں کرسکتا تھا اور انگریز اپنے وسیع سیاسی مفاد میں اس معاملے میں افغانوں کو مداخلت کرکے ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے۔ مجبوراً کافر کچھ دنوں میں بڑی تعداد میں خراج لے کر غلام حیدر چرخی کے سامنے حاضر ہوئے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ انہیں افغان فوج کے غیض و غضب سے بچا لے گا لیکن یہ ان کی غلط فہمی تھی۔ اس دوران کافروں کا مذہبی رہنما جسے “اوتا” کہا جاتا ہے، چرخی سے ملنے آیا تو انہیں ان کے 20 ساتھیوں سمیت گرفتار کیا گیا۔
باقاعدہ حملہ
جھڑپیں مہم کے شروع سے ہورہی تھیں لیکن باقاعدہ حملے کا آغاز 19 نومبر 1895 کو ہوا۔ چرخی کے آنے کی خبر ملنے پر کافروں نے اپنے گھروں کو آگ لگا دی اور اوپر پہاڑوں کی طرف بھاگ گئےلیکن جو لوگ ہاتھ آئے ان کو تین دنوں تک چن چن کر قتل کیا گیا۔ اس دوران بازگل، نصرتگل، ہم جز، وُرو مورو، سورت، کموبا اور میردیش پر افغان فوج نے قبضہ کیا۔ چوتھے دن ایک اور اہم علاقے کامدیش پر بھی قبضہ ہوا اور مردوخواتین کو قتل کیا گیا۔




بھاگے ہوئے 6 ہزار کافروں نے “منڈاگل” کی انتہائی دشوار گزار وادی میں جمع ہوکر پناہ لی اور شاعر کے بقول، “خنزیر کی طرح مضبوطی سے کھڑے رہے”۔ چرخی نے توپوں سے ان پر آگ برسائی اور دو سمتوں سے فوجی دستے بھیجے جس سے وہ تین گھنٹے بعد ہی شکست کھاگئے۔ اس کے بعد ان کی بڑی تعداد کو قتل کیا گیا۔ پہلے سے پکڑے گئے اوتا کو ان کے 20 ساتھیوں سمیت نومسلموں کے سامنے قتل کیا گیا اور یوں ڈر کے مارے مزید کافروں نے اسلام قبول کرنے کی پیشکش کی۔
غلام حیدر چرخی نے حکم دیا کہ کافر اپنے جوانوں کو ان کے سامنے بطورِ یرغمالی پیش کریں جنہیں وہ کابل بھیجنا چاہ رہا تھا۔ نظم میں بتایا گیا ہے کہ کچھ دنوں بعد قام اور کاٹی قبیلے اپنے بچوں اور خواتین سمیت آکر اسلام قبول کیا۔ منڈاگل وادی کے باسی بھی حاضر ہوئے اور چرخی نے انہیں مجبور کیا کہ وہ ان کے سامنے اپنے چار بڑے دیوتاؤں یعنی مانی، گیش، ماری اور اُمرا کے بت ہتھوڑوں سے توڑ ڈالے۔
یہ بھی پڑھیے: داردستان کے قبائل کی قدیم دیویاں اور دیوتا
کافرستان کے قبائل جو اپنی بہادری اور جنگجوانہ صفات کی وجہ سے مشہور تھے، اب افغانوں سے جان بچانے کی کوشش کررہے تھے مگر ان کے پاس بھاگنے کو کوئی جگہ نہیں تھی۔ شروع میں 3 ہزار کافر چترال آگئے جہاں کے مہتر کو وہ اس سے قبل باج دیتے تھے اور اپنے مسائل اس کے سامنے رکھتے تھے تاہم اس بار وہاں تعینات انگریز حکام نے ان کی آمد کی حوصلہ شکنی کرکے انہیں واپس بھیج دیا۔ بلندوبالا اور برفیلے دروں کو بچوں، بزرگوں اور خواتین سمیت سردیوں میں عبور کرنا کتنا مشکل ثابت ہوا ہوگا اس کا ہم اندازہ ہی کرسکتے ہیں۔

چرخی نے سینکڑوں مولوی اور فوجی مفتوحہ وادیوں میں بھیج دیے جنہوں نے وہاں گھوم پھر کر تبلیغ کی ، ان کی قدیم عبادتگاہوں کو نذرِ آتش کیا اور ان کی جگہ مسجدیں بنائیں۔ دوسرے اطراف سے حملہ آور فوج کو ابتدائی طور پر سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑی تاہم انہیں بھی بعد میں کامیاب ملی۔ شاعر کے مطابق، “وہاں کے اکثر کافر دوزخ کی آگ کی نذر ہوگئے اور باقی نے اسلام قبول کرکے جان بچائی۔ ” امیر عبدالرحمان کے بقول صرف 40 دنوں میں کافرستان کا پورا علاقہ ان کے قبضے میں آگیا۔
کافرستان کا سقوط
کہا جاتا ہے کہ اس حملے میں قریباً 10 ہزار کافروں کا قتل عام ہوا اور 16 ہزار مقامی لوگوں کو جبراً دوسرے علاقوں میں بسایا گیا[10]۔ مارچ کے مہینے تک 4 ہزار قیدی کابل منتقل کیے جاچکے تھے اور یہ سلسلہ جاری تھا۔ غلام حیدر نے 1600 قیدی اور جنگ کے دوران لوٹے گئے سامان کا بڑا ذخیرہ 100 اونٹوں پر لاد کر کابل بھیجا جہاں اس فتح کا جشن منایا گیا[11]۔ ان میں سونے سے بنے دس قیمتی بُت بھی شامل تھے[12]۔ 1896 کے موسمِ بہار میں کافرستان کی مزید وادیوں کو کنٹرول میں لایا گیا۔ مارچ کے مہینے میں وائیگال، پارون اور رمگال کی وادیاں افغانوں کے قبضے میں چلی گئیں[13]۔

کافروں پر ہونے والے حملے اور ظلم و زیادتی کی خبریں جب برطانیہ پہنچیں تو وہاں کی پارلیمنٹ اور کچھ تنظیموں میں اس پر بحث ہوئی اور حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اس پر ایک چھوٹی تعداد میں کافروں کو چترال کی کالاش وادیوں میں بسنے کی اجازت تو دی گئی تاہم امیر عبدالرحمان کو علاقے پر قبضے اور لوگوں کا مذہب جبراً تبدیل کروانے سے نہیں روکا گیا۔
یہاں کے لوگ اپنے عقائد اور خودمختاری سے دستبردار کیے جانے اور افغانوں کے ظلم و ستم سے خوش نہیں تھے۔ ایک بار کابل بھیجے گئے کافروں کی تلاشی لی گئی تو ان سے ان کے دیوتاؤں کے 90 چھوٹے چھوٹے بُت ملے جن کو وہ بظاہر مسلمان بننے کے باوجود چھپ کر پوجتے تھے[14]۔ کافروں کو مسلمان بنانے کے لیے متعین افغان مولویوں کا رویہ بھی ناقابلِ برداشت تھا۔ مولویوں نے بعض جگہ کافر خواتین سے جنسی زیادتی سے بھی دریغ نہیں کیا۔ مثلاً 3 مارچ 1897 کی ایک رپورٹ کے مطابق جو انگریز حکام کو موصول ہوئی تھی، کافروں نے 4 مولویوں کو اپنی عورتوں سے زیادتی کرنے پر قتل کردیا۔ دوسری طرف پہلے سے کابل بھیجے گئے کئی یرغمالی مرگئے تھے اور افغان حملہ آور اب مزید یرغمالیوں کا مطالبہ کر رہے تھے[15]۔
یہ بھی پڑھیے: چترال کا 1877ء میں کشمیر کے ساتھ ہونے والا معاہدہ کیا تھا؟
اس سب سے تنگ آکر مئی 1897 میں بالائی باشگل کے کافروں نے بغاوت کی اور کئی مولویوں اور افغان فوجیوں کو قتل کیا۔ وہ دوبارہ سے اپنے پرانے مذہب پر آگئے۔ تاہم جلد ہی اس بغاوت کو کچلنے کے لیے کامدیش سے افغان دستے بھیجے گئے جنہوں نے چار سو افراد کو قتل کیا اور بغاوت ناکام بنا دی[16]۔ اس کے بعد بھی ہمیں مقامی آبادی کی بے چینی کے شواہد ملتے ہیں۔ 1897 میں پیچ اور لوٹ دیہہ نامی وادیوں میں بغاوتیں ہوئیں جن میں درجنوں افغان فوجی اور مولوی مارے گئے۔

امیر عبدالرحمان نے 3 ہزار افغان بھی کافرستان میں بسنے کے لیے بھیجے تاکہ مقامی آبادی پر گرفت مضبوط کی جاسکے۔ یوں صدیوں سے اپنی خودمختاری کا کامیابی سے دفاع کرنےوالے اس علاقے نے نہ صرف اپنی آزادی کھو دی بلکہ اپنی منفرد شناخت اور روایات سے بھی جبراًمحروم کی گئی۔
یہ واقعہ کافرستان کے باسیوں کی یادداشت میں ایک تلخ تجربے کے طور پر زندہ رہا اور ان کی شاعری میں بھی جابجا اس کا ذکر ملتا ہے۔ ایک گیت میں مقامی شاعر افغان حملے کی نذر ہونے والے سکیلک نامی اپنے کسی عزیز کو یاد کرتا ہے ؛
افسوس! یہ جانکاہ خبر ہمیں ملی ہے
کاٹی قبیلے کے 13 خانوادوں کو کابل لے جایا گیا ہے
افسوس اے سکیلک! کہ تمہاری انمول ہڈیاں بکھیر دی گئیں[17]
کافرستان کے سقوط کے بعد چترال کی تین کالاش وادیاں اس بھولے بسرے خطے کی یاد کے طور پر باقی رہیں اور برطانیہ کا ایک مشہور سمندری جہاز جس کا نام “کافرستان” رکھا گیا تھا۔ تاہم اس کارگو جہاز کا انجام بھی اس خطے کی طرح المناک ہوا۔ دوسری جنگِ عظیم شروع ہونے کے محض 17 دن بعد یہ جہاز چینی لے کر کیوبا سے انگلینڈ آ رہا تھا کہ ایک جرمن یو-بوٹ آبدوز نے اسے اپنے تارپیڈو کا ہدف بنایا۔ عملے کے کچھ افراد ہلاک ہوگئے اور درجنوں کو بچا لیا گیا۔ یہ دیوہیکل جہاز دیکھتے ہی دیکھتے بحر اوقیانوس کی اتھاہ اور تاریک گہرائیوں میں ہمیشہ کے لیے ایسے ڈوب گیا جس طرح کافرستان کی تہذیب وقت کی پہنائیوں میں ڈوب گئی ہے۔
حوالہ جات
[1] Jones, S., (1969). An Annotated Bibliography of Nuristan (Kafisristan) and the Kalash Kafirs of Chitral, Volume I, II. p. 257
[2] Robertson, G. S. (1896). The Kafirs of the Hindu-Kush. Lawrence & Bullen, Limited.
[3] Waddington, C. (Ed.). (1826). Memoirs of Zehir-Ed-Din Muhammed Baber: Emperor of Hindustan. P. 232
[4] Cathay and the Way Thither, Being a Collection of Medieval Notices of China, Vol. IV (London, 1916), pp. 203-4
[5] Jones, S., (1969). p. 77
[6] The Imperial and Asiatic Quarterly Review and Oriental Colonial Record, Third Series, Vol II, 1896, p. 285
[7] Jones, S., (1969). An Annotated Bibliography of Nuristan (Kafisristan) and the Kalash Kafirs of Chitral, Volume I, II. p. 89
[8] Khan, M. (Ed.). (1900). The Life of Abdur Rahman, Amir of Afghanistan. (Vol. 1). J. Murray. p. 289
[9] Jones, S., (1969). p. 91
[10] Saikal, A. (2012). Modern Afghanistan: A history of struggle and survival. I.B. Tauris & Co. Ltd. p. 38
[11] Jones, S., & Campbell, K. F. (1974). Men of influence in Nuristan: A study of social control and dispute settlement in Waigal Valley, Afghanistan. p. 14
[12] Jones, S., (1969). p. 217
[13] Jones, S., & Campbell, K. F. (1974). p. 16
[14] Jones, S., (1969). p.221
[15] ibid, p. 248
[16] Cacopardo, A. (2006). My Heartrendingly Tragic Story. Shaikh Muhammad Abdullah Khan ‘Azar’. p. 72
[17] To Honor Roman Jokobson, Essays on the Occassion of his 70 Birthday, 11 October 1966, Vol II، 1967, Essay by Georg Morgenstierne, p. 1382
Posted on 29 October 2025