چترال کے قدیم تمدن اور رسومات سے متعلق حسام الملک کی کتاب ہمیں کیا بتاتی ہے؟
صوبہ سرحد کے انگریز چیف کمشنر کا قافلہ چترال بازار سے گزر رہا ہے، 1919، تصویر: لفٹننٹ کرنل جی جے ڈیوس
تحریر: شہزادہ تنویر الملک
کتاب تمدنِ چترال شہزادہ حسام الملک (1902ء تا 1977ء) کی اہم تصنیف ہے جو جنوبی چترال میں دروش کے گورنر رہے۔ دو زبانوں میں لکھی اس مسودے کو اردو میں تمدنِ چترال اور انگریزی میں “نوٹس آن چترال” کا نام دیا گیا تھا۔ حیات مستعار نے شہزادہ موصوف کو اتنی مہلت نہ دی کہ ان کی زندگی میں یہ کتاب چھپ کر منظر عام پر آجاتی۔ 1971 میں ایک برطانوی محقق پروفسیر کارل جیٹمار نے شہزادہ حسام الملک سے اس کتاب کے مسودے کی نقل حاصل کرکے اپنے مقدمے اور شرح کے ساتھ ترتیب دے کر کتابی صورت میں “نوٹس آن چترال” کے نام سے لندن سے شائع کرنے کا ارادہ کیا لیکن نامعلوم وجوہات کی بناء پر یہ کام پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔
یہ بھی پڑھیے: بابائے کھوار شہزادہ محمد حسام الملک کی شاعری
تمدنِ چترال کا اصل نسخہ گم ہوچکا ہے، فی الوقت شہزادہ حسام الملک کی ذاتی لائبریری میں بھی موجود نہیں۔ تاہم اس مسودے کی نقل چترال کے ایک سینئر لکھاری وزیر علی شاہ مرحوم کی لائبریری میں موجود ہے۔ 2012ء میں راقم الحروف نے شہزادہ حسام الملک کی حالات زندگی پر کتاب تحریر کرتے وقت متذکرہ نقل حاصل کرکے اس کتاب کا حصہ بنایا تھا۔ یوں شہزادہ موصوف کی انتقال کے 54 برسوں بعد یہ مسودہ منظر عام پر آگئی تھی۔ اب کوشش کررہے ہیں کہ یہ مسودہ ‘تمدنِ چترال’ کے نام سے ہی کتابی صورت میں منظر عام پر آئے۔

تمدنِ چترال 6 ابواب پر مشتمل ہے اور ہر باب میں مخصوص اور منتخب موضوعات کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ جن کی تفصیل اختصارکے ساتھ کچھ یوں ہے؛
پہلا باب: مقامی ادب اور فنون لطیفہ
پہلے باب میں کھو ثقافت پر بحث کرتے ہوئے آداب گفتگو، شعروشاعری، موسیقی اور خاص موقعوں پر بجائے جانے والی کھوار موسیقی کے دُھنوں کی تفصیل ہے۔ مثلاً اعلان جنگ کے لئے ژانگ وار، دشمن پر حملہ کے وقت بکارش وار، کسی معزز مہمان کی آمد پر پونوار، رخصت پر اُزبکی پونوار، شادی بیاہ کے موقع پر پونوار، دشمن کو مار بھگانے پر ڑوؤ وار، پولوکے لیے غاڑوار، مہترکے مارخور یا آئی بیکس کے شکار سے واپسی پرلال بایو، دلہا کے عروسی جامہ زیب تن کرتے وقت موراڑی جیسی قدیم دُھنوں پر قلم کشائی کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: چترال کے ریاستی دور میں طبقاتی نظام
ان کے علاوہ رقص جو کھو ثقافت کالازمی جزو سمجھا جاتا ہے، پر بحث کرتے ہوئے نہایت دلچسپ پیرایہ اختیار کیا ہے اور رقاص کی حرکات وسکنات کی وضاحت کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ رقص میں اکثروبیشتر پرندوں کی پرواز، مختلف اوقات میں جانوروں کے جسم کی جنبش، آلات کاشتکاری اور جنگی آوزاروں کے استعمال کاطریقہ یا حملہ آور سپاہی کی چست حرکات کی نقل کی جاتی ہے۔کھوارکی مشہور دُھن بروازی کو بطور مثال پیش کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ بروازی ایک معمر عورت اور ایک پتلے جسے بروازی کہتے ہیں، کے تیزرو ندی کو تیر کر عبور کرنے کی نقل ہے۔
شب دراز میں خواب آلود ملازم کی حرکات نظر آتی ہیں، ققنوزکے ساز پر رقص میں عقاب کے پرواز کی جھلک موجود ہے۔ تتاڑی واواڑی نامی رقص مرغابیوں کے تالاب میں اترنے اور اٹھنے کا ڈرامہ ہے۔ ممہ شش قدیم دور آتش پرستی کی یادگارہے جب آتش پرست لوگ اپنے نذرانوں کو جلانے کے بعد ان ٹوکروں کو جس میں نذرانے لائے گئے تھے، نیم جلی حالت میں واپس لے جاتے تھے۔

اسی طرح رقص کے قدیم اقسام پھستوک اور نوہرتک کو اعلیٰ جسمانی ورزش کا نمونہ بتایا ہے۔ اڑغانی، باشگلی، کروئی چوُڑی اور چونگ ریگیشی وغیرہ جیسے اصطلاحات استعمال کرکے بتایا ہے کہ قدیم کھو معاشرے میں اس نام کے اسٹیج ڈارمے ہوا کرتے تھے جوخوشی، شادی بیاہ کے موقعوں پر موسیقی کی محفلوں میں اسٹیج کیے جاتے تھے۔
اس باب میں ان موضوعات کے علاوہ مختصراً کھو معاشرے میں رائج بچوں، بڑوں، عورتوں اور کم عمر بچیوں کے روایتی کھیلوں کے بارے میں بھی بتایا ہے۔
حسام الملک نے کھو طرز تعمیرکے عنوان کے تحت نہایت تفصیل سے یہاں کے طرز تعمیر پر قلم اٹھایا ہے۔ مکان کے مرکزی کمرے کے ساتھ وابستہ دیگر تعمیرات کا دلچسپ پیرائے میں تذکرہ کیا ہے جن میں راتھینی، امبارانو گونج، گرزین، نخ، کھارغیر، شین، شیشی، مہمت خانہ، قوش خانہ، آخرانو، مسجد، شالدین، شالمودی، پھرپ، کھول، پھستی، دائی، لاوار وغیرہ شامل ہیں۔
Also Read: Houses in Chitral: Traditional Design & Function by Shahzada Hussam ul Mulk
ان ناموں یا اصطلاحات سے آج کل کی نئی نسل شاید ہی واقف ہو کیونکہ طرز زندگی میں روزبروز رونما ہونے والے تغیرات کے نتیجے میں یہاں کی طرزِ تعمیر یکسر تبدیل ہورہی ہے۔ چترال شہر میں گنتی کے چند ایک گھروں میں قدیم طرزکے مکانات بائیپش یا کھوار ختان موجود ہیں۔ تاہم شہزادہ حسام الملک جیسے قلم کاروں کے طفیل اب کھو طرز تعمیر کتابوں میں محفوظ ہے۔
دوسرا باب: روایتی طرزِ حکمرانی
تمدنِ چترال کے دوسرے باب میں ریاست چترال کے طرز حکمرانی پر بحث کی گئی ہے۔ فاضل مصنف نے شروع میں ہی واضح کیا ہے اور فرماتے ہیں کہ اس تحریر کا مقصد اس طریقہ حکومت کی حمایت یا وکالت ہرگز نہیں کہ میں ان قدیم دستور و روایات کو صحیح اور حق بجانب ثابت کروں یا ان غلطیوں پر پردہ ڈالوں جو کہ اس دور کے حکمرانوں سے ذاتی یا انفرادی طور پر سرزد ہوئیں کیونکہ قانون کا غلط استعمال ہر طرز حکومت اور کاروبار مملکت میں ممکن ہوا کرتا ہے۔ اس لیے کسی فرد کی غلطی کو طرز حکمرانی کی خرابی پر محمول نہیں کیا جاسکتا۔
اس بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ کسی ملک کے انتظام حکومت یعنی ایڈمنسٹریشن پر تحقیق میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ مضمون اس لیے دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ یہاں کے حکمرانوں نے کس طرح بغیر نقد آمدن اور نہایت کم جنسی آمدن کے کئی صدیوں تک اس ملک کا انتظام حکومت نہایت کامیابی سے چلایا۔

اس موضوع پر بحث کرتے ہوئے مصنف بتاتے ہیں کہ ریاستی حکمرانوں نے نظام حکومت چلانے کے لیے زرعی زمینوں کو بنیاد بنایا۔ چونکہ نقد تنخواہ کی گنجائش نہیں تھی اس لیے ہر ریاستی عہدے کے لیے جاگیر اور زمینیں اس عہدے کی حیثیت کے پیش نظر مقرر تھے۔ یوں اس جاگیر یا جائیداد سے استفادہ کرکے وہ ریاستی عہدیدار اپنی ذمہ داریاں نبھاتا۔ یہ جائیداد اس عہدیدار کی اس عہدے پر موجودگی سے مشروط ہوتا۔ عہدہ واپس لیا جاتا تو جاگیر بھی واپس لی جاتی۔ تاہم ریاستی عہدے عموماً وراثت میں بیٹوں کو مل جاتے اس طرح عہدے سے متعلق جاگیر بھی پشت درپشت صدیوں تک ایک ہی خاندان کے پاس رہتی۔
بندوبست اراضی کے علاوہ نظام ریاست چلانے کے لیے حکمران یا ریاستی عہدے دارریاست کے طول عرض میں دورے کرتے جسے غاژئیک کہا جاتا۔ اس کے علاوہ شاہ داری یعنی حکمرانوں سے مصاحبت کا دستور قائم تھا جو ریاستی امور کی انجام دہی میں حکمران کو مشورہ دیتے۔ محرکہ یعنی شاہی نشست کااہتمام ہوتا جہاں محفل میں ریاستی امور نمٹائے جاتے۔ رعایا میں سے کسی کو مختلف چیزیں مثلاً جاگیر، زمین، بندوق، گھوڑا اور خلعت وغیرہ دے کر خوش کیا جاتا۔ شیر موژی، چشٹ، تھنگی اور رشتے ناطے بھی ریاستی نظام کو آگے چلانے میں بنیادی کردار ادا کرتے۔
Also Read: Khwan-e-Chitral (Chitrali Foods & Dishes) by Shahzada Hussam ul Mulk
اس کے علاوہ اس باب میں ریاستی عہدیداروں یعنی مہتر، اتالیق، حاکم، دیوان بیگی، اقسقال، چارویلو، براموش، چھاربو/ارباب، یساؤل، محرام اور ملک کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ یہاں کے اس وقت کے جغرافیائی حالات بیان کیے گیے ہیں۔ ریاستی عہدوں سے متعلق جاگیروں کی تعارف کی گئی جیسا کہ حاکم دوری، چارویلو دوری، اشیمت دوری، رایت دوری، بولی دوری، شادار گاڑو، مہربانی گاڑو، خانہ زادگاڑو، شیرموژ گاڑو، دارالی، ہنڈال بشو وغیرہ۔
موروثی زمینات کی تعریف کرتے ہوئے ان کی تین درجہ بندی معتبرات کی زمینات، شاہ داری زمین اور صدقہ کی زمین کے نام سے کی ہے۔ ریاست کے مزید ذرائع آمدن کے عنوان سے کچھ دوسرے ذرائع کا تذکرہ بھی کیا ہے۔
محرکہ جو ریاستی دورکے حکمرانوں کی معتبرات کے ساتھ نشست ہوا کرتی تھی، کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔ محرکہ کی تعریف شاہی ضیافت کے نام سے کرتے ہوئے بڑی تفصیل سے دلچسپ انداز میں اس محرکہ کی نشست و برخاست، شرکاء کی نشستوں کی ترتیب، شرکاء کے مقام و مرتبے، محرکہ میں بیٹھنے کی اہلیت، اس نشست کے منتظم یعنی یساؤل کی ذمہ داریوں کے علاوہ اس نشست میں مہتر اور شرکاء کی سرگرمیوں اور مشاغل پر سیر حاصل روشنی ڈالی ہے۔

اس باب میں مصنف نے اس دورکے چترال کی ایک اور اہم دستور جلاوطنی جسے کھوارمیں گیرزک کہا جاتا ہے پر مختصراً روشنی ڈالی ہے اور بتایا کہ یہاں کے حکمران یا حکومت کے دعویدار عموماً کیوں اور کن علاقوں میں جلاطنی اختیار کرتے تھے اور اس جلاوطنی کے منفی اور مثبت اثرات پر بحث کی ہے۔ مصنف نے اس موضوع پر بھی قلم کشائی کی ہے کہ اگر حکمران وقت کسی شخص یا قبیلے کے کسی اچھے کام یا کارنامے پر خوش ہوتا تو اس کی عزت افزائی کس طرح کرتے۔
اسی باب میں چترال کی تاریخ پر اپنا مختصر نقطہ نظر پیش کیا ہے اور ریاست چترال کی علاقائی تقسیم اور صوبوں کی تفصیل، ریاست کے انتظامی ڈھانچے اور ریاستی عہدیداروں کا تعارف پیش کیا ہے۔حکومت اور بیرونی تعلقات کو مضبوط کرنے کی حکمت عملی کے عنوان کے تحت یہاں کے حکمرانوں کے چترال کے اردگرد کی ریاستوں کے حکمرانوں سے رشتہ مناکحت قائم کرنے کے علاوہ ریاست کے اندر مختلف بڑے قبیلوں میں رشتے کرنے کے ساتھ ساتھ یہاں کے مختلف قبائل کے ساتھ رضاعت کے رشتے قائم کرنے کو ایک کامیاب حکمت عملی کے طور پر بیان کیا ہے۔
تیسرا باب: مقامی جشن اور تہوار
کتاب کے تیسرے باب میں جشن ہائے قومی کے عنوان کے تحت قدیم الایام سے یہاں کے مختلف علاقوں میں رائج تہواروں مثلاً غاری نیسک، غاریوغ، پھیندک، اَشٹون، قاق لشٹو اوچ وان، جشتان ڈیکئیک، سال غیرئیک، جشن نوروز اور غاری خومک وغیرہ کے بارے میں دلچسپ معلومات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ کالاش قبیلے کے تہواروں پر بھی معلومات بہم پہنچائی ہیں۔
چوتھا باب: گھریلو رسومات اور تقاریب
اس کتاب کے چوتھے باب میں ژیری کے عنوان کے تحت بچے کی پیدائش، عقیقہ، رضاعت، بچے کے دانت نکلنے پر سجائی جانے والی تقریب، پہلا قدم رکھنے اور ختنہ کی رسم ادا کرنے سے لے کر شادی بیاہ کی رسومات، طریقہ کار اور ان خوشیوں کو منانے کے طریقہ کار پر دلچسپ انداز میں روشنی ڈالی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: داردستان کے قبائل کی قدیم دیویاں اور دیوتا
پانچواں باب: سفارت کاری اور مہمان نوازی
پانچویں باب ریاستی حکمرانوں کے آداب مہمان نوازی سے متعلق ہے۔ مصنف کے مطابق یہ طریقہ ریاستی حکمرانوں کے بیرونی سفارتکاری کا لازمی جزو تھا جس کے مطابق اردگرد کی ریاستوں کے حکمرانوں کو اپنے ہاں بطور مہمان مدعو کیا جاتا تھاجسے ”ژئیک“ کہا جاتا تھا۔ اس کے لیے یہاں کا حکمران اپنے دو خاص معتبرات کو تحفہ تحائف دے کر اس کے پاس روانہ کرتے تاکہ وہ اپنے حکمران کا دعوت نامہ اس حکمران تک پہنچائیں۔ پیغام لے جانے والے اشخاص کو ژاک دوئیو کہا جاتا تھا۔ مہمان حکمران کی آمد پر میزبان حکمران اپنے چند معتبرات اور اہل کاروں کو معزز مہمان کے استقبال کے لیے اپنے ملک کی سرحد تک بھیجتا۔

شاہی محل میں پون وار کی دھن بجائی جاتی تاکہ ہر عام و خاص کو معلوم ہو کہ کوئی بڑا مہمان آنے والا ہے۔ یوں پیدل و سوار جمع ہو کر اپنے حکمران کے ہمراہ آنے والے معزز مہمان کے استقبال کے لیے روانہ ہوتے اور شہر سے چند میل دور نکل کر کسی مناسب اور پرُفضا مقام پر انتظار کرتے۔ ان استقبالیوں کو پروشٹ دوئیو کہا جاتا تھا۔ مہمان قافلے کے نمودار ہونے پر میزبان حکمران کے ہمراہ موجود فنکار ’’پون وار“ بجانا شروع کر دیتے۔
یہ بھی پڑھیے: گریٹ گیم، چترال اور انگریزوں کی مداخلت
مہمان حکمران اور ان کے مصاحبیں میزبان حکمران پر نظر پڑتے ہی کافی دور اس کے احترام میں اپنے گھوڑوں سے اتر کر آگے بڑھتے جسے خومیک کہا جاتا تھا۔ مہمان کے نزدیک پہنچنے پر میزبان حکمران اپنے ہمراہیوں کے ساتھ کھڑے ہوجاتے۔ ایک دوسرے کے ساتھ معانقے میں رتبہ اور عمر کا خیال رکھا جاتا۔ اگر دونوں حکمران ہم عمر ہوں تو آپس میں بغل گیر ہو کر ایک دوسرے کی گردن پر بوسہ دیتے ہیں اگر ایک عمر میں کم اور ایک بڑا ہو تو معمر کم عمرکے پیشانی اور آنکھ پر بوسہ دیتا ہے جسے ”دوچھار بک“ کہا جاتا تھا۔ اگر ایک رتبے میں دوسرے سے کم ہو تو دوسرے کا ہاتھ چومتا ہے جسے ”ہوستہ ویچھیئک“ کہتے تھے۔

ریاست کا کوئی زیر عتاب باشندہ مہمان حکمران کے زیر سایہ آجاتا تواس کوموڑی اُوتک کہا جاتا تھا۔ مہمان حکمران کی سفارش پر اس کا جرم معاف کیا جاتا جو غیچی نیزک کہلاتا تھا۔ رخصتی کے وقت مہمان حکمران کے علاوہ اس کے ہمراہیوں کو بھی حسب مراتب خلعت اور تحفے دیے جاتے۔ تحفوں میں گھوڑے، باز اور تلوار شامل ہوتی۔ میزبان مہمان کی رخصتی کی شب اور صبح پون وار بجاتے ہوئے انہیں رخصت کرنے کے لیے ان کے ہمراہ چند میل تک جاتے جسے ”پرویزک“ کہتے تھے۔
چھٹا باب: جنگی حکمت عملی اور مہارتیں
تمدنِ چترال کا آخری باب قدیم وقتوں سے یہاں رائج جنگ کے فن اور سامان جنگ سے متعلق ہے کہ یہاں کے حکمران اورب اسی تنگ گھاٹیوں میں گھری اس چھوٹی سی ریاست کا دفاع اردگرد کے قبائل اور طاقتور ریاستوں اور حملہ آوروں سے کس طرح کرتے ہیں۔ اس موضوع پر بحث کرتے ہوئے مصنف رقمطراز ہیں کہ اہل چترال ہمسایہ اقوام سے نسلی طور پر جدا اور تعداد میں کم ہونے کے سبب بچاؤ اور دشمن پر غلبہ پانے کے لیے کئی جنگی حکمت علمی اختیار کرتے جو اکثر کارگر ٹھہرتی۔
اس حوالے سے مصنف نے سکندر اعظم کی فوج سے کھو قبیلے کے دریا چترال/کنڑکے مقام پر مقابلے اور سکندر کے تیر لگ کر زخمی ہونے،1591ء میں الغ بیگ کی سرکردگی میں میں ظہیرالدین بابرکے فوج کے دستوں کامقابلہ کرکے ارندوکے مقام سے انہیں پسپا کرنے کے علاوہ 1852ء کی جنگ نیلی دار، 1868ء کی جنگ دربند اور 1919ء کی جنگ بریکوٹ (تیسری اینگلو-افغان جنگ) کو اہل چترال کی بہترین حکمت عملی اور جنگی منصوبہ بندی کے اعلیٰ مثال کے طور پر پیش کیا ہے۔

اہل چترال کی جنگی حکمت عملیوں کو ترتیب وار سرویل چھینک، چراٹی کھوشتئیک، پھوبارش، باٹی انگیگ، چوکول کورِک، سرنگ لگانا، شین بوتیک، شب خون، آب رسانی کے ذرائع پر قبضہ، فریب دہی اور چٹی بوئی جیسے ناموں سے یاد کیا ہے۔ جنگی حکمت عملی کے علاوہ اس زمانے میں رائج جنگی اسلحہ جات کے بارے میں دلچسپ معلومات بہم پہنچائی ہیں۔ اسلحے کے ضمن میں تلوار اور اس کی کئی اقسام کا ذکر کیا ہے، بارود کے استعمال اور اسے محفوظ کرنے کے آلات، کمرکیسہ، قوطی اور ویزمہ دان وغیرہ کے بارے میں بتایا ہے۔
بندوق بننے کے بعد جو بندوق یہاں متعارف ہوئیں اور اہل چترال کے زیر استعمال رہیں ان کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔ پہلی بار جو بندوق چترال میں متعارف ہوئی وہ روس کی بنی ہوئی تھی اس لیے اسے روسی کے نام سے یاد کیا ہے۔ پھر فرنگ یا فرنگی (انگریزی)، چی کیت، سیاہ کمان، کپہ کش، نائی سر، چماخی، کتہ کمان وغیرہ کا ذکر ہے۔ نئی بندوقیں متعارف ہونے پر ابتدا میں سنائیڈر یعنی پٹاخی دار، دمبالہ برد، بارشتی، ہنری (پیتی)، 303 اور چھرا دار کا ذکر ہے۔
اس مختصر جائزے سے آپ کو بخوبی اندازہ ہوگیا ہوگا تمدنِ چترال کس خاصے کی تصنیف ہے۔ شہزادہ حسام الملک مرحوم نے قدیم چترال کی دم توڑتی خوبصورت ثقافتی روایات اور فنون کے بارے میں جوقابل قدر معلومات بہم پہنچائی ہیں میں نے ان کی ایک ہلکی جھلک دکھانے کی کوشش کی ہے۔ اس سے آپ بخوبی اندازہ لگاسکتے ہیں کہ اس کتاب کے اندر کتنے لعل وجواہر پوشیدہ ہیں۔ اس کتاب کی اہمیت اور وقعت اس لیے بھی دوچند ہوجاتی ہے کہ ایک علاقائی حکمران ہونے کے ناطے اس کتاب میں مذکور بیشتر واقعات مصنف کے دیدہ و شنیدہ تھے۔
نوٹ: یہ مقالہ شہزادہ حسام الملک کی یاد میں چترال ٹاؤن ہال میں منعقدہ ایک سیمینار میں 27 ستمبر 2025 کو پیش کیا گیا
Posted on 4 October 2025