سابقہ کافرستان کے بری اور چترال کے بہریہ کون تھے؟
Kui Begum, a Kalash, helps her husband during the traditional winemaking process in Bumburet Kalash, Picture by Komal Ghazaali، 2025
تحریر: سرور صحرائی
قدیم زمانے میں جب کسی علاقے پر بیرونی حملہ آور اپنی عملداری قائم کرتے تو وہاں کے اصل باشندوں کو سماجی اور سیاسی طور پر اپنے سے کم تر سمجھتے اور ان کے لیے مختلف نام استعمال کیے جاتے۔ کلاشہ دور میں چترال کے قدیم باشندوں کے لیے ایک مخصوص اصطلاح مستعمل تھی۔ نہیں معلوم ان کی اپنی قبائلی شناخت کیا ہوتی تھی تاہم کلاشہ دور میں وہ بہری یا بہریہ کے ناموں سے موسوم ہوتے تھے۔ محققین کے مطابق حملہ آور کلاشوں نے انہیں اپنا غلام قرار دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: کافرستان سے نورستان تک: جب افغانوں نے ہندوکش کے”کافر” قبائل کو جبراً مسلمان کیا
دیر اور سوات میں پندرہویں عیسوی صدی کے آخر میں یوسفزئی پشتون قبیلے کے لوگ کابل سے آکر جب دیر سوات پر قابض ہوگئے تو وہاں پر پہلے سے موجود قدیم آبادی کے لوگوں کو، جن کی اکثریت غیر پشتون تھی، فقیر مسکین کا نام دیا۔
چترال پر یارکند کے چغتائی ترکوں اور بدخشان کے رئیسہ دور کی عملداری کے دوران یہاں کے قدیم باشندوں کے لیے مختلف نام استعمال کیے گئے۔ ان میں سے ایک “یُرت” کی اصطلاح کو غالباً یارکندیوں نے اپنے دور میں پرانے باشندوں کے لیے استعمال کیا تھا کیونکہ “یُفت” منگول اور ترک زبان میں ملک کو کہا جاتا ہے۔ رفتہ رفتہ لگتا ہے کہ یہی “یرت” مقامی لہجے میں “یُفت” میں تبدیل ہوا جو چترال میں اپنی زمین رکھنے والے متوسط طبقے کی اقوام کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
اس سے پہلے کہ مضمون کے تتمے کے طرف جا نکلیں، اس اصطلاح بہریہ کا کچھ پس منظر جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ آیا یہ لفظ چترال کی مقامی زبان کا لفظ تھا یا چترال کے کلاش حکمرانوں کی اپنی تخلیق تھی یا پھر یہ ایک درآمد کی گئی اصطلاح تھی؟

1889ء میں انگریز فوجی افسر جارج اسکاٹ رابرٹسن کے دورہ کافرستان (موجودہ نورستان) کے دوران وہاں ایک گروہ کی موجودگی کا ذکر ملتا ہے جسے وہ باری یا بری کا نام دیتا ہے۔ بری نام سے موسوم لوگ کاٹیر اور کام کافروں کے غلام ہوتے تھے۔ رابرٹسن کا خیال ہے کہ ممکنہ طور پر یہ بری علاقے کے اصل باشندوں میں سے ہیں جنہیں اس علاقے میں اپنی آمد کے بعد کافروں نے مفتوح کیا یا پھر یہ جزوی طور پر جنگی قیدیوں کی اولاد میں سے بھی ہوسکتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں وہ کافروں کے ہم نسل نہیں تھے۔ مگر نورستان (سابق کافرستان) کے راویوں سے یہ بھی سنا گیا ہے کہ یہ بری غلام کاٹیر اور کام کافروں کے ساتھ باہر سے آئے تھے۔
رابرٹسن کے مطابق کافروں کے یہ بری یا باری غلام کاریگروں جیسے ترکھان، بت تراش، جلاہے، لوہار اور ڈرم بجانے والے موسیقاروں اور گھریلو غلاموں پر مشتمل ہوتے تھے۔
Also Read: An Annotated Bibliography of Nuristan (Kafiristan) and the Kalash Kafirs, 1969
چترال میں مختلف لکھاری اس لفظ کو مختلف لہجے اور تلفظ میں لکھتے رہے ہیں۔ مثلاً مرزا محمد غفران رابرٹسن کی طرح نورستانیوں کے حوالے سے ‘بری’ لکھتے ہیں جب کہ شومبرگ کا تلفظ بیرہ یا بائرہ اور البرٹو، اگسٹو برادران کا بھائرہ ملتا ہے۔

اسی طرح محمد حسام الملک مذکورہ اصطلاح کا تلفظ ‘بحری’ کرتے ہیں اور ایک اور مصنف رحمت کریم بیگ بھی مقامی لہجے میں اس گروہ کے لیے بہریہ کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ خود ایک کلاش راوی نے ‘باریہ’ کا لفظ استعمال کیا، مزید بتایا کہ جب ان کے کلاشہ دستور کی خلاف ورزی کرکے اپنے والدین کے پشت کی کسی لڑکی کے ساتھ کوئی کلاش شادی کرے تو ایسے شخص کو گروہ سے بے دخل کیا جاتا ہے اور اس شخص کو ‘باریہ’ کہتے ہیں۔
شومبرگ، محمد حسام الملک اور رحمت کریم بیگ اپنی تصنیفات میں اس بات کو یقینی بنا چکے ہیں کہ چترال میں بہری یا بحری نام والے لوگ کلاش دور میں کلاشوں کے ریاستی اور ذاتی غلام ہوتے تھے۔ غالب گمان یہ ہے کہ مقامی باشندوں کے لیے ‘بری’ کی اس اصطلاح کو کافرستان کی وادی وائگل سے آکر چترال میں اقتدار قائم کرنے والے کالاش لوگوں نے مروج کیا اور یہ لفظ اور رسم دونوں سابق کافرستان سے درآمد شدہ معلوم ہوتے ہیں۔
اگرچہ یہ لفظ بنیادی طور پر ایک قبائلی نام نہیں تاہم بہرہ اور بہریہ نام چترال کے اندر کچھ قبیلوں کے لیے بھی استعمال ہوکر ریاستی ریکارڈ میں پایا جاتا ہے۔ بہریاندور (بہریوں کا محلہ) کے نام سے بالائی چترال میں ایک جگہ بھی موجود ہے۔ تاریخی طور پر بہرحال یہ بات طے ہے کہ بہریہ پس منظر رکھنے والے لوگ جہاں کہیں بھی ملیں وہ چترال کے اصل باشندوں کی باقیات ہوسکتے ہیں۔
Posted on 2 August 2023
1 thought on “سابقہ کافرستان کے بری اور چترال کے بہریہ کون تھے؟”