بابائے کھوار شہزادہ محمد حسام الملک کی شاعری
شہزادہ حسام الملک
تحریر: معیز الدین بہرام
مہتر چترال ہزہائنس شجاع الملک کے چہیتے فرزند شہزادہ حسام الملک (1902ء تا 1977ء)، جسے کھوار بولنےوالے “بابائے کھوار” کے نام سے یاد کرتے ہیں، 2 اگست 1902 کو شاہی قلعہ چترال میں پیدا ہوئے۔
آپ”حسام” تخلص رکھتے تھے، کھوار زبان و ادب کو پروان چڑھانے میں آپکی ابتدائی اور بنیادی کوششوں کے سبب چترال میں ادبی حلقہ جات آپکے معترف ہیں۔
Also Read: Khwan-e-Chitral (Chitrali Foods & Dishes) by Shahzada Hussam ul Mulk
جس طرح مولوی عبدالحق 1930 میں “انجمنِ ترقئ اردو” کے صدر بنے اور بابائے اردو کا لقب پایا اسی طرح محمد حسام الملک نے 1956 میں “انجمنِ ترقئ کھوار” کے نام سے پہلی کھوار ادبی تنظیم کی بنیاد رکھی جس نے آگے جا کر اس زبان کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا اور ہنوز کررہی ہے۔ شہزادہ مرحوم اس کلیدی تنظیم کے پہلے صدر بنے اور کھوار کے قدردانوں کی طرف سے آپ کو بابائے کھوار کا لقب دیا۔
مجھے برادر عزیز صدر انجمن جناب شہزادہ تنویر الملک صاحب کی لکھی ہوئی کتاب “بابائے کھوار شہزادہ محمد حسام الملک، حالات زندگی اور تخلیقی کام” اور اس کے علاوہ بابائے کھوار کی دو پرانی کاپیاں جن میں آپ کی اپنی اور آپ کے کہنے پر رفقاء کے ہاتھوں لکھی ہوئی آپکی شاعری محفوظ ہے، میسر آئیں۔
انتہائی کم وقت میں ان مواد کی چھان بین اور مطالعے سے مجھے یہ اندازہ لگانے میں کوئی دقت پیش نہیں آئی کہ بابائےکھوار کی مختصر شاعری دو حصوں میں منقسم ہے۔
پہلا حصہ ان کی ایام جوانی کے شروع سے آخر تک کی زندگی کا احاطہ کرتا ہے۔ اس حصے میں آپنے رومانوی اندازِ شاعری اپنا کر روز و شب کی آنکھ مچولی، ہجر و وصال، عشق و محبت، عشوہ و گداز اور محبوب کی بے اعتنائی کو اپنا موضوع بنایا ہے۔
جبکہ دوسرا حصہ آپکے ان اشعار پر مشتمل ہے جس میں آپنے حمد اور نعتیں، سیاست اور وطن کی محبت پر نظمیں لکھیں اور دنیا کی بے ثباتی اور آخرت کی فکر پر اشعار کہے۔
اس حصے کی شاعری کو ہم بابائے کھوار کے آخر دور کی شاعری کہہ سکتے ہیں جس میں انہوں نے روایتی انداز شاعری کو اپنایا ہے۔
میں آج بابائے کھوار کی پہلے حصے کی شاعری پر مختصراً اپنی رائے پیش کروں گا۔
یہ بھی پڑھیے: ناجی خان ناجی، ایک لغت نویس کی رحلت
یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ بابائے کھوار کی شاعری زیادہ تر غیر مردف کلام پر مشتمل ہے، گویا آپنے اپنے لیے ایک الگ راستہ چنا اور اپنے پسندیدہ راستے پر تیز قدم چلنے کو ترجیح دی۔ شاید یہی تیز گامی آپکے اکثر کلام کے نا مکمل رہنے کی وجہ بنی ہو۔ اگرچہ شاعر کی شاعری کا زیادہ تر حصہ غیر مردف کلام پر مشتمل ہونا بجائے خود ایک سوال ہے۔ لیکن شاعر کا کمال حوصلے سے اپنے کلام کے لیے مشکل ترین قافیوں کا انتخاب اور کمال مہارت سے ان مشکل ترین قافیوں کو مصرعوں کے آخر میں جوڑنا اس عیب کو چھپانے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔
یہاں بابائے کھوار کی غیر مردف شاعری میں بھی ایسی ہی حوصلے اور کمال مہارت کی جھلک ہمیں دکھائی دیتی ہے۔ آپ کی شاعری کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ آپ نے اپنی شاعری میں ان الفاظ کا انتخاب کیا ہے جو دوسرے زبانوں سے کھوار میں داخل ہونے کے بعد اپنی ہیئت تبدیل کرکے مکمل طور پر کھوار کے الفاظ بن چکے ہیں۔
آج کل ایسے الفاظ کو بحالت اصل یا بصورت اصل لکھنا رواج پا رہا ہے اور لکھاریوں کو ایسا لکھنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ اس سے کھوار کا ذاتی لہجہ، منفرد طرز اور اصل روح متاثر ہونے کا شدید احتمال ہے۔
بابائے کھوار نے اپنی شاعری میں کمند کو کھامند، خنجر کو قنجر، آرواح کو اروَہ اور زیاد کو “ت” کے ساتھ زیات لکھ کر الفاظ کی صوتی اعتبار سے ادائیگی کو خصوصی اہمیت دی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: محمد عرفان عرفان کو “لائف ٹائم ایچیومنٹ ایوارڈ” سے نوازا گیا۔
شہزادہ تنویر الملک صاحب اپنی مذکورہ بالا کتاب میں بابائے کھوار کی شاعری کے بارے میں یوں لکھتے ہیں؛
“شہزادہ محمد حسام الملک وہ کوئی پیدائشی شاعر نہیں تھے، انہوں نے کھوار زبان کی ترقی و تحفظ، کھوار نویسی اور کھوار شاعری کو رواج دینے کے لیے اس کوچے میں قدم رکھا تھا۔”
مجھے اس بات سے اتفاق نہیں ہے بابائے کھوار کی مختصر اور قلیل شاعری کو پڑھنے سے قاری کو یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ آپ پیدائشی شاعر تھے اور سچے دل کے شاعر تھے۔ آپ نے شاعری میں فصاحت و بلاغت کا خیال رکھا ہے، آپ کی شاعری کے موضوعات انتہائی دلچسپ ہیں، محاوروں اور استعاروں کی بہتات ہے، تراکیب اچھوتے ہیں، خیالات کی نزاکت سر چھڑ کر بولتی ہے اور شاعری کا بنیادی وصف یعنی رومانوی کیفیتِ اظہار اپنی پوری آب تاب سے نظر آتی ہے۔

بیٹھے ہوئے، دائیں سے: شہزادہ مظفرالمل، ٫شہزادہ ناصرالملک، گورنردروش شہزادہ حسام الملک
کھڑے ہوئے، دائیں سے: سید عبدالرزاق باچھا، شہزادہ غازی الدین آف نغر، گورنرموڑکھو شہزادہ خدیوالملک، مہترژاو خان بہادر، سابق وزیراعظم ریاست چترال دلارام خان، تصویر بشکریہ تنویر الملک
کہتے ہیں:
تہ ہمی پھتوک دروست درونو ویشو
کھامندو غونہ تہ درونگ درونگ پریشو
لغل تہ شون، دون درِ لولو
تہ چوستیو کیچہ کھوشتیر یہ شہ پورو
ارمان چھیئسیر تو کہ مہ بیسو
چھوم چھوم ہوساؤ مہ نسہ گیسو
یا؛
قنجر برؤانتے مہ یہ پاز کھیڑی
تہ پروشٹہ چاٹیم تان لیئو پیڑی
تہ غمو نیگیم رے چھوئے انوس کیڑی
ارمان چھیئسیر تہ موختو لوڑی
یہاں غور فرمائیے کہ پہلے کلام میں “ویشؤو غون پھتوک” اور “کھامندو غون پھریشو” کی تشبیہات، “لغل شون” اور “دون درِ لولو” کے استعارے کس خوبصورتی کے ساتھ استعمال ہوئے ہیں۔ جبکہ دوسرے کلام میں ایک شعر کا یہ مصرع “تہ غمو نیگیم رے چھوئے آنوس کیڑی” یعنی غم جدائی کا داغ دن رات اپنے آنسووں سے دھو لوں۔ گویا شاعر نے جدائی کے غم کا علاج اپنے آنسووں سے دھونے کا انوکھا طریقہ اپنایا ہے۔ یہ مصرع شاعر کے اس عزم اور کوشش کو ظاہر کرتا ہے، جس کی بنا پر وہ اپنے ہر کلام میں کچھ نہ کچھ نیا کر دکھائے کی کوشش میں نظر آتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: مستوجو نوغورا 1928 عیسویہ پھتاک، شہزادہ حسام الملک
اچھے شاعر کے منفرد خیالات لب کھولے بغیر بتا دیتے ہیں کہ ہم میں انفرادیت ہے، خیالات کی پاکیزگی کے ساتھ خلوص کا گہرا رشتہ نظر آتا ہے، جذبے معصوم اور شرارتی ہوتے ہیں۔ یعنی،
اؤل کوراؤ تو متے غیچھی
وا کھیوتے بغاؤ مہ بق پیڅھی
حتار شوخڅی شیر تہ باغو اوݯھی
تہ کھیو ژیبیئتام تان غیچھان روݯھی
خور کوس نو لاڑیم مہ غیچھان روچی
ہردیو کوچھائے پھت مہ نو پوچی
ان اشعار میں شاعر کے خیالات کو منفرد اور ممتاز بنانے کے لیے “غیچھان روچھی” اور ” غیچھان روچی” جیسے اچھوتے تراکیب کس طرح نمایاں نظر آتے ہیں۔ ایسی منفرد ترکیب سازی کے لیے بابائے کھوار بلا مبالغہ داد کے مستحق ہیں۔
“غیچھان روچھیک” حسن کے خوبصورت سبزہ زار میں آنکھوں کو چرنے کے لیے چھوڑنا یعنی محبوب کی خوبصورتی اور دلکش اداؤں سے محظوظ ہونا اور “غیچھان روچی گانیک” یعنی آنکھوں کا روزے سے ہونا۔ گویا یہ ممکن ہی نہیں کہ آنکھیں محبوب کی موجودگی میں کسی اور حُسن کی جانب دیکھیں۔
پھوڑا پہلے نکلتا ہے اس کے بعد عرصے تک سخت رہتا ہے۔ پھر آہستہ آہستہ پکنے یعنی نرم ہونے کے بعد پھٹتا ہے تب جاکے مریض کو اس سے نجات کے بعد راحت اور سکون کا احساس ہوتا ہے۔
لیکن”ہردیو کوچھائے پھت مہ نو پوچی” کے مذکورہ مصرعے میں شاعر نے غبار خاطر یعنی دل کے روگ کو ایک ایسے پھوڑے سے تشبیہ دی ہے جو بغیر پکے پھٹ جاتا ہے۔ اس جانکاہ عمل میں مریض کا درد سوا ہوجاتا ہے۔ ایسے مشاہدات کو شعر میں بیان کرنا شاعر کی شاعری کے لیے سند کا درجہ رکھتی ہیں۔
میں “بابائے کھوار کی شاعری پر نفسیاتی عوامل کےاثرات” پر بات کرنا بھی ضروری سمجھوں گا۔
انسانی نفسیات کے بارے میں علم بہت وسیع ہے۔ ایک نفسیاتی کیفیت جس کو ماہرِ نفسیات پیراڈاکزیکل لَو یا پیراڈاکزیکل اٹریکشن کا نام دیتے ہیں۔ اس کا ہم اردو ترجمہ “تضاد کی محبت” یا ” تضاد کی کشش” کرسکتے ہیں، یعنی ایک ایسی کیفیت جس میں کوئی شخص قید یا یرغمال بنے یا جس پر کوئی ظلم اور جبر کیا جا رہا ہو، وہ اس ظلم اور جبر کرنے والے شخص سے ہمدردی، محبت اور گہری وابستگی محسوس کرتا ہے۔
اس قسم کی نفسیاتی کیفیت میں انسان خود سے شدید نفرت کرنے والے اور ہمیشہ منہ موڑنے والے شخص سے محبت کرنے لگتا ہے، مزاحمت کا راستہ ترک کرکے دشمنِ جاں کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے رہنے کو پسند کرتا ہے۔
Also Read: Houses in Chitral, Traditional Design & Function by Shahzada Hussam ul Mulk
ممکن ہے بابائے کھوار بھی کسی ایسی ہی کیفیت سے دوچار ہوکر مزاحمت کی بجائے دشمن جان کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہونے کو پسند کیا ہو اور نتیجتاً یہ اشعار کہے ہوں۔
یوسفو سنتہ دی مشرف ہوا
سے دروسو بدیلہ تہ حقہ بوا
بندی جیلاری خلص کو مہ خدائے
مہ آب و دانہ کورین کوئے آوائے
پھر فرماتے ہیں؛
تہ ژان نو پولوئیرا کہ ڑوئیتام
کرا مہ خیشیر وخَجم کہ کروئیتام
تہ غم مہ سوستئے کہ ران موئیتام
یا ݱوغ بیتی درونوک نوئیتام
عشقو پھوردؤو تہ کھارا بوئیتام
تہ ماریم ریکو خوشانیئن زوئیتام
یا پھر یہ اشعار؛
تہ یادان کورونیان لاؤریار شندورا
مشقولگی ہوئے مہ ہجرت ہر دورا
پھت دلاسا کونیان پھت مارینیان
بختوران تان مقصدی تارینیان
کہ بوژیتاؤ درست ملکانتے اخبار
مہ کوریتاؤ تھے تان سوم برابار
دوست اوچے دوݰمان مہ حقہ ای تیڑی
مہ مقابلہ مِت بونیان شاپیر کیڑی
بابائے کھوار کی شاعری میں ایسے اشعار کی کمی نہیں ہے، البتہ میں نے وقت کی کمی کو مدنظر رکھ کر مذکورہ چند اشعار پر اکتفا کیا ہے۔
آخر میں بابائے کھوار کی حمد اور نعت کے کچھ اشعار پیش خدمت ہیں؛
الہی رب تو کریم آسوس
حق راہ حق جہادہ موکو مہ سوست
تو خالق الہَ العالمین
رویانتے آفیت کوروئے زمین۔
اور نعت کے دو شعر؛
عشق تان اللہو سوم زیات وا خور کرا کوروئے
یور اوچے مسو غونہ عربو دردانہ کوروئے
تو غفار اے خدایا بخشندہ کو مہ اُمتو
یہ اوشوئے خدایوتے، سوال اسپہ محمدو
نوٹ: یہ مقالہ شہزادہ حسام الملک کی یاد میں چترال ٹاؤن ہال میں منعقدہ ایک سیمینار میں 27 ستمبر 2025 کو پیش کیا گیا
Posted on 28 September 2025