کھوار گیت کے اصل خالق تک پہنچنے کی جستجو: عطا حسن اطہر کا جدید تحقیقی طریقہ
تحریر: فخرالدین اخونزادہ
یہ امر نہایت حوصلہ افزا ہے کہ چترال کے لکھاری، بالخصوص اردو زبان میں لکھنے والے، اب معلومات تک رسائی، تجزیہ، اور نتائج کے اخذ کے لیے سائنسی اور تحقیقی طریقہ کار اپنانے لگے ہیں۔ چترال جیسے خطے میں، جہاں سن سنائی باتوں اور غیر مصدقہ روایات پر مبنی تحریروں اور کتابوں کی بھرمار رہی ہے، اس رجحان کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔
حالیہ دنوں میں عطا حسن اطہر کی شائع شدہ تحقیق اس تبدیلی کی ایک نمایاں مثال ہے۔ انہوں نے چترال کے معروف کھوار گیت “تہ بچین سوم ہوستہ انتظار کوری نیشی اسوم” کے اصل خالق کی تلاش کے لیے جو طریقہ اختیار کیا، وہ جدید تحقیق کے اصولوں—جیسے حوالہ جاتی تجزیہ، تاریخی تناظر، اور بین المتنی مطابقت—پر پورا اترتا ہے۔ ان کی کوشش اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ اب مقامی ادبی ورثے کو محض روایت نہیں بلکہ تحقیق کے تناظر میں بھی پرکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: چراغؔ کی ڈائری سے قشقارین بینڈ تک: لیکن اس گیت کا اصل خالق کون؟
اطہر صاحب نے اپنی تحقیق میں فرہاد یوسفی کے مضمون، جمہورِ اسلام کھوار رسالہ، اور انجمن کی شائع شدہ کتاب ققنوز جیسے معتبر ذرائع کا حوالہ دے کرمحمد الدین چراغ کو چترال کے ماضی کے ایک ممتاز شاعر کے طور پر پیش کیا ہے۔ ان حوالہ جات کے ذریعے انہوں نے یہ ثبوت فراہم کیا کہ چراغ میں وہ ادبی صلاحیت موجود تھی جس کے ذریعے وہ اس گیت کے اصل خالق معلوم ہوتے ہیں۔
یہ حوالہ جات اس لیے بھی اہم ہیں کہ چراغ، اطہر صاحب کے ہم عصر نہیں تھے اور چراغ کو دنیا سے رخصت ہوئے تین دہائیوں سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ یہ طریقہ تحقیق کی دنیا میں نہ صرف قابلِ قبول بلکہ مستند مانا جاتا ہے۔ تاہم، چترال کے زیادہ تر ماضی کے لکھاریوں میں دوسروں کے حوالہ دینے کا رجحان کمزور رہا ہے اور اسے بعض اوقات غیر ضروری سمجھا جاتا تھا۔ اطہر صاحب کی تحقیق اس روایت سے ہٹ کر ایک مثبت مثال پیش کرتی ہے، جو علمی دیانت، بین المتنی مطالعے، اور حوالہ جاتی ثقافت کو فروغ دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: شندور تنازعے سے متعلق تاریخی دستاویزات
اطہر صاحب نے اس موضوع پر متعلقہ ماہرین جیسے شہزادہ تنویرالملک اور فرید احمد رضا کی رائے شامل کی، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس نوعیت کے مسائل پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ کسی موضوع پر ماہرین یا متعلقہ افراد کی رائے لینا تحقیق کا بنیادی حصہ ہے، اور اس سے تحقیق کی گہرائی اور وسعت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی طرح، انہوں نے گیت کے اولین گانے والے، نعمہ نگار رحمت اللہ روشن کی رائے شامل کر کے تحقیق کو مزید گہرائی میں لے گئے۔ کیونکہ یقینا پہلے گانے والے کو علم ہوتا ہے کہ یہ گیت کس کا ہے اور اسے کس طرح پہنچایا گیا۔

ساتھ ہی انہوں نے ان افراد کی رائے لینے کی کوشش کی جنہوں نے ماضی میں اس نعمہ کو عزیر صاحب کی تخلیق قرار دیا تھا۔ ان کی طرف سے کوئی ثبوت فراہم نہ کرنا ان کے دعوے کو کمزور ثابت کرتا ہے۔
تاہم، عزیر اللہ عزیر صاحب کی اپنی رائے نہ دینے کی وجہ کا ذکر تحقیق میں نہیں کیا گیا۔ اطہر صاحب کو ذاتی طور پر ان سے ملاقات کی کوشش کرنی چاہیے تھی، کیونکہ کوشٹ اتنا دور نہیں ہے۔ اگر ملاقات ممکن نہ تھی، تو اس کا ذکر تحقیق میں ہونا چاہیے تھا تاکہ شفافیت برقرار رہے۔
یہ بھی پڑھیے: چترال کی تاریخی دستاویزات اور کتب پر ایک نظر
اسی طرح، اطہر صاحب نے چراغ صاحب کے گاؤں کا ذکر نہیں کیا، جو اس موضوع پر مزید تحقیق کرنے والوں کے لیے معاون ثابت ہو سکتا تھا۔ تحقیق میں یہ اصول اہم ہے کہ محقق دوسروں کے لیے راستہ ہموار کرے، اور اسی لیے مقالوں اور کتابوں میں حوالہ جات دیے جاتے ہیں۔
دونوں معزز شاعروں کے خاندان والوں کی رائے اس معاملے میں زیادہ اہمیت نہیں رکھتی، کیونکہ مفادات کا ٹکراؤ تحقیق میں ایک اہم عنصر ہوتا ہے۔ تاہم، چراغ صاحب کی ڈائری کو محفوظ کرنا اوراس تحقیق کے لیے فراہم کرنا ایک قابلِ قدر اقدام ہے۔ اس ڈائری پر کسی غیر جانبدار اور متعلقہ شخص سے رائے لینا ضروری تھا، جو بہتر انداز میں فیصلہ کر سکتا کہ چراغ کے شائع شدہ مواد اور ڈائری میں مطابقت ہے یا نہیں، اور آیا دونوں میں ہاتھ کی لکھائی ایک جیسی ہے۔
اطہر صاحب کی تحقیق ایک اہم سنگِ میل ہے، جو چترال میں تحقیقی شعور، حوالہ جاتی ثقافت، اور ادبی دیانت کی نئی راہیں کھولتی ہے۔ اگرچہ اس میں بہتری کی گنجائش موجود ہے، مگر یہ کوشش اس بات کا ثبوت ہے کہ چترال کے لکھاری اب تحقیق کو روایت سے الگ ایک علمی عمل کے طور پر دیکھنے لگے ہیں۔
Posted on 4 October 2025