ناجی خان ناجی، ایک لغت نویس کی رحلت

WhatsApp Image 2023-05-15 at 4.02.55 PM

عنایت اللہ فیضی

لغت نویس، ادیب اور شاعر ناجی خان ناجی 81 برس کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ 8 مئی 2023 کو ان کی وفات حسرت آیات کی خبر آئی تو افسوس، دکھ اور صدمہ کے ساتھ ان کی قلمی، ادبی اور سماجی خدمات کی فلم ذہن کی سکرین پر آہستہ آہستہ چلنے لگی۔ 12 اکتوبر 1942 کو خیبر پختونخواہ کے پہاڑی گاؤں شوتخار میں متوسط خاندان سے تعلق رکھنے والے زمیندار وزیر خان کے گھر پیدا ہونے والے ناجی خان ناجی جب 7 سال کے ہوئے تو پرائمری اسکول گاؤں سے 6 کلومیٹر دور تھا۔ مڈل اور ہائی اسکول 4 دنوں کی پیدل مسافت پر تھے۔ بظاہر تعلیم کے مواقع میسر نہیں تھے تاہم باپ نے حوصلہ دیا، بیٹے نے ہمت کی، حالات کا مقابلہ کیا اور حصول علم کے بعد اپنے گاؤں کے سکول میں مدرس لگ گیا۔ یوں جس نوجوان کو تعلیم کی سہولت میسر نہیں تھی اُس نے شوتخار نامی گاؤں میں نونہالوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے پر اپنی تمام تر توانائیاں صرف کیں اور استادوں کا استاد کہلوایا۔ پھر یہ پیغمبرانہ پیشہ اپنے بیٹے نور الہادی ناجی کوسپرد کرکے دیا سے دیا جلانے اور شمع محفل بن کر روشنی پھیلانے کا سلسلہ صدقہ جاری کے طور پر جاری رکھنے کا اچھا اہتمام کیا۔

خیبر پختونخواہ کے مشہور و معروف اساتذہ ڈاکٹر سعید اللہ قاضی، جہاں بادشاہ، پروفیسر عبیدالرحمن، خیراللہ حواری، ضیاء الدین، ڈاکٹر ہارون الرشیدتبسم، پروفیسر عزیز الرحمن عزیز اور بخیار زمین کے ساتھ آپ کے دوستانہ اوربرادرانہ تعلقات تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ استاد صرف کمرہ جماعت میں استاد نہیں ہوتا کمرہ جماعت سے باہر بھی استاد ہوتا ہے۔ اپنے قول کے مطابق انہوں نے کمرہ جماعت کے اندر بچوں کو پڑھایا۔ کمرہ جماعت سے باہر بڑوں کے معاشرے کی اصلاح کا بیڑوہ اُٹھایا۔ غیر اسلامی رسومات اور خود ساختہ بدعات کے خلاف زبان و قلم سے جہاد کا علم بلند کرکے سماج کو اسلامی اصولوں کے مطابق سنوارنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ اس کام میں انہیں مولانا مودودی کے لٹریچر، حاجی مہدی محمد کی ترغیبات، دعوت القرآن اور صدیقی ٹرسٹ کی دعوتی سرگرمیوں سے مدد ملی۔ قاری فیض اللہ چترالی، حاجی نور سایہ خان، حاجی محمد حسین اور حاجی اموخت علی نے ان کاساتھ دیا۔ ان کے اردو کلام کا مجموعہ ”ضرب قلم“ کا ایک ایک شعر اور مصرعہ اس جدوجہد کی یاد دلاتا ہے۔ حاجی مہدی محمد کی جدائی پر اُنہوں نے پوری نظم لکھی اور بجاطور پر کہا۔قرآن کی دعوت لیکر+اخوت ومروت لیکر نرالی اک خدمت لیکر+وہ وادی کا مسافر پھر کبھی نہ آئے گا+کوئی اُسے نہ پائے گا۔

ناجی خان ناجی نے ہمہ جہت مصروفیات میں اپنی مادری زبان کھوار کو وقت دیا۔ کھوار اردو لغت ان کی اہم یادگاروں میں شامل ہے۔ اس لغت کی صورت میں انہوں نے تن تنہا ایک اکیڈمی اور ادارے کا کام اپنے ہاتھوں سے انجام دیا۔ کھوار کے ساتھ ان کی محبت بچپن سے تھی لیکن اظہار کا ذریعہ نہیں تھا۔ 1965 میں ریڈیو پاکستان پشاور سے کھوار پروگرام آیا، پھرجمہور اسلام کے ماہانہ مجلے میں کھوار چھپنا شروع ہوا تو خطوط اور نگارشات کے ذریعے پروگرام اور مجلے میں ناجی خان ناجی نے بھرپور حصہ ڈالا۔ یوں آپ کا نام شہزادہ حسام الملک، پروفیسر اسرار الدین، وزیر اعلی شاہ، غلام عمر، چنگیز خان طریقی، ولی زار خان ولی، گل نواز خان خاکی، عزیزالرحمن بیغش، رحمت اکبر خان رحمت، مرزا فردوسی اور بابا ایوب کی طرح نامور قدما کی فہرست میں لیا جاتا ہے۔

آپ کے کھوار کلام کا پہلا مجموعہ”تروق زوالو“ یعنی تلخ وشرین کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔ آپ کے کلام میں مولانا الطاف حسین حالی اور ماہر ۱لقادری کا رنگ جھلکتا ہے۔ اس لئے جو کلام ریڈیوپاکستان سے نشر ہوا یامشاعروں میں پڑھا گیا وہ سامعین کو بےحد پسند آیا۔ آپ کی موجودگی مشاعرے کی کامیابی کی ضمانت ہواکرتی تھی۔ آپ کی غیر مطبوعہ کتابوں میں آئینہ اردو، پگڈنڈیوں سے شاہراہ تک (سوانح عمری)، معلم کھوار، کلیات ناجی اور آئینہ کھوار شامل ہیں۔ زبان و ادب اور تہذیب و ثقافت کے لئے آپکی خدمات کے اعتراف میں آپ کو کمال فن ایوارڈ، تریچ میر ایوارڈ، اقراء ایوارڈ، غلام عمر ایوارڈ، کھوار اہل قلم ایوارڈ اور انجمن ترقی کھوار کی طرف سے بابائے کھوار ایوارڈ عطا کئے گئے۔

زندگی کے آخری سالوں میں آپ کا معمول تھا کہ سردیاں کراچی میں اپنے بیٹے مولانا سراج النبی کے ہاں گذارتے تھے۔ آخری سال کمزوری کی وجہ سے سفر نہ کرسکے۔ اپنے گاؤں شوتخار میں وفات پائی اور وہیں مدفون ہوئے۔ آسمان تری لحد پہ شبنم افشانی کرے+سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے۔

Elina Bashir on Naji Khan Naji's Demise
امریکی ماہرِ لسانیات ایلینا بشیر کا استاد ناجی مرحوم کی رحلت پر ظہور الحق دانش کو تعزیتی ای میل
کھوار اردو لغت khowar urdu dictionary
استاد ناجی مرحوم کی مرتب کردہ کھوار زبان کی پہلی لغت
khowar chitrali poet writer naji khan naji
استاد ناجی مرحوم، ستمبر 1989
Elina Bashir on Naji Khan Naji's Demise
استاد ناجی خان ناجی مرحوم چوتھی ہندوکش کانفرنس کے موقع پر ایلینا بشیر کے ہمراہ

1 thought on “ناجی خان ناجی، ایک لغت نویس کی رحلت

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *