چترال کے مشہور ‘زیرکھان گاز’ کی تاریخ
تصویر: سرور صحرائی
تحریر: سرور صحرائی
آج کل لوئر چترال میں واقع پیر ہاؤس گول دور اور اس میں موجود چنار کے درختوں اور سبزہ زاروں کا بٹوارا ہو رہا ہے۔ سر دست اس کے جنوبی حصے کو پلاٹوں میں تقسیم کرکے ارد گرد کی جدید تعمیرات کے طرز پر سیمنٹ اور سریوں کے پہاڑوں میں تبدیل کرنے کا منصوبہ ہے کیونکہ اس کے مالک نے اپنا حصہ خریداروں کو کروڑوں میں فروخت کر ڈالا ہے۔
پیر ہاؤس کے مذکورہ حصے کے جنوب مغربی کونے پر ایک چھوٹی سی مسجد بھی ایستادہ ہے جس میں اردو گرد کے باسی اس کی تعمیر کے بعد سے عبادت کر تے آرہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: چترال میں نامعلوم زبان کے نام اور قدیم باشندوں کی شناخت
کچھ لوگوں کو گولدور چترال ٹاؤن میں چناروں کی جھرمٹ اور چاروں طرف اونچی فصیلوں کے اندر واقع اس تاریخی مقام کو اپنی اصل حالت میں برقرار رکھے جانے کا خیال بھی دامن گیر ہے اور وہ سوشل میڈیا میں اس بارے لکھتے رہتے ہیں مگر لگتا ہے کہ تبدیلی کے سمندر کو روکنا بہت مشکل ہے۔
اس صورت حال میں خیال آیا کہ گولدور اور اس پیر ہاؤس یا پیرو دور کے بارے میں کچھ دستیاب تاریخی پس منظر کو قارئین کے ساتھ بانٹا جائے۔

نہیں معلوم پائین چترال میں رئیسہ (شاہ رئیسہ) اسلامی فتوحات اور موجودہ جنگ بازار کے مقام پر پہلی بار قلعہ تعمیر کرنے سے پہلے قلعے کے ارد گرد واقع دیہات اپنے مخصوص ماحول، ثقافت اور رائج الوقت زبان کے حوالے سے کس نام سے پکارے جاتے تھے۔
تاہم لگتا ہے کہ ان کے موجودہ نام یہاں پر اسلامی فتوحات، کھوار بولنے والوں کی آباد کاری، نئی تعمیرات اور دھیرے دھیرے کھوار زبان کی ترویج کے بعد سے تعلق رکھتے ہیں۔ جیسے ڈوک دور (رئیسہ قبرستان اور سابق وزیر تجارت مرحوم کی اولاد وغیرہ کی رہائش گاہوں پر مشتمل حصہ)، گولدور، جنگ بازار (ݱانگ بازار) مغلاندہ، ڈنگیریکاندہ، زرگراندہ، قاضیاندہ، توری دہ، موڑی دہ، شالدین وغیرہ۔
البتہ روایات کے مطابق موجودہ گولدور اسلامی فتوحات سے پہلے دو کلاش سرداروں ‘ڈوڈ’ یا ‘ڈوٹ’ اور زرکھان’ کے درمیان تقسیم تھا۔ موجودہ پیر ہاؤس سے اوپر کے حصے پر ‘ڈوڈ’ یا ‘ڈوٹ’ قابض تھا اور پیر ہاؤس سمیت نیچے قلعے اور زرگراندہ کی حدود زرکھان’ کی ملکیت میں شامل بتائے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: آغاخان ہاسٹل چترال، چند یادیں
یہی پس منظر نظر آتا ہے جس کے تحت پیر ہاؤس کا پرانا نام فتوحات کے بعد ‘زرکھان’ گاز’ معروف تھا جو اب اکثر لوگوں کے ذہنوں سے محو ہو چکا ہے۔ زرکھان نام سے کسی آبادی کے وجود کا نہیں پتہ البتہ ڈوٹ کی نسبت سے ‘ ڈوٹے قبائل’ نام سے کچھ لوگوں کا ذکر 1911 کی مردم شماری فہرست میں پایا جاتا ہے بلکہ اب بھی گولدور میں موجود ہیں۔

پیر ہاؤس (پیرو دور) اور ایک وقت میں اس کے جنوبی حصے پر موجود مقامات اور عمارات دور کٹوریہ میں ریاستی ملکیت میں ہوتے تھے، کسی کی ذاتی جاگیر نہیں تھے البتہ پیر ہاؤس مختلف اوقات میں مہتروں کے احکامات پر مختلف شخصیات کے زیر استعمال رہتا آیا ہے اس لیے اس کا قدیم نام ‘زرکھان گاز’ بھی تبدیلی کے زیر اثر آیا۔ چنانچہ غالباً مہتر سردار نظام الملک کے دور میں پیر ہاؤس ایک اہم بدخشی شخصیت محمد لطیف کے نام کیا گیا تھا۔ یوں ‘لطیفو گرزین’ کی اصطلاح اس کے بعد سے معروف ہوئی تھی۔
گولدور کے حلقوں میں یہ بھی روایت کی جاتی ہے کہ شاہی مسجد اور بازار مسجد کے سامنے واقع قدیم مہمان خانہ اور تجارتی منڈی کے پکی اینٹوں سے بنے دروازہ خانوں کے طرز پر ایک دروازہ خانہ موجودہ پیر گلی کے آغاز پر بھی مہتر شجاع الملک نے محمد لطیف بدخشی اور چترال مورخ مرزا غفران کے ناموں پر بنوایا تھا کیونکہ یہ دونوں اس محلے کے رہائشی تھے۔
یہ بھی پڑھیے: چترال میں پہلی گاڑی کی آمد
اسقال محمد لطیف بدخشی کے بعد ‘زرکھان گاز’ مہتر کے حکم پر سید عبد الرزاق پاچا کی رہائش گاہ کے طور پر مستعمل رہا اور اس دور میں ‘پاچو گاز’ سے معروف رہا۔ عبد الرزاق پاشا کا تعلق دیر سے تھا مگر مہترِ چترال سے رشتے داریاں تھیں اس لیے چترال میں مقیم رہے۔ دروش کے گورنر مقرر ہوئے اور قلعہ دروش اور قلعہ نغر انہوں نے بنائے۔ راؤلپنڈی سے اسلحہ ساز خِرادی چترال لائے اور ساتھ ہی ہندوستان سے پہلی بار گاڑی مع ڈرائیورچترال لائے۔
یہ مقام آخر میں پیروں کے حصے میں آیا۔ مہتر شجاع الملک کے دور میں بغداد سے پیر سید جمال الدین گیلانی ریاستِ قلات اور وہاں سے چترال تشریف لے آئے۔ وہ عبدالقادر جیلانی کی نسل میں سے ہونے کی وجہ سے مہتر ان کا بہت احترام کرتے تھے اور اپنی بیٹی کا رشتہ بھی انہیں دے دیا۔ وہ بعد میں بمبئی چلے گئے اور وہی فوت ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ مہتر مظفر الملک نے پاچا خاندان سے لے کر یہ گھر پیر زادوں کو دیا۔ تب سے اب تک یہ ان کی ملکیت میں ہے اور ‘پیرو دور’ (پیر ہاؤس) کے نام سے معروف رہا ہے جس کا نصف جنوبی فروخت کے بعد ا ب کنکریٹ میں تبدیل ہونے جا رہا ہے۔
Posted on 23 September 2025