آغاخان ہاسٹل چترال، چند یادیں
چترال شہر میں قائم آغاخان ہاسٹل اور لائبریری جو 1982 کے فرقہ ورانہ فسادات میں نذرِ آتش کیا گیا
تحریر: شیر ولی خان اسیرؔ
عام طور پر طلبہ کے تعلیمی اداروں کی بات ہوتی ہے لیکن اقامتی اداروں کی بات نہیں ہوتی۔ حالانکہ طلبہ کے تعلیمی سفر میں ان اقامت گاہوں کا اتنا ہی کردار ہوتا ہے جتنا ان تعلیمی اداروں کا ہوتا ہے۔
اسلامیہ کالج پشاور کے ساتھ رحیم شاہ وارڈ، اوریئنٹل ہاسٹل، چیمسفورڈ، ہارڈنگ اور عثمانیہ ہاسٹل نہ ہوتے تو چترال، سوات، دیر، قبائلی علاقوں، غرض پشاور سے باہر کسی بھی طالب علم کو اسلامیہ کالج پشاور میں پڑھنا نصیب نہ ہوتا۔
یہ بھی پڑھیے: لغلِ زمرود: چترال کی پہلی خاتون نرس انتقال کرگئیں
جس طرح سابق صوبہ سرحد میں اسلامیہ کالج کے ہاسٹلوں کی اہمیت تھی، بالکل اسی طرح چترال میں اسماعیلیہ ہاسٹل اور اسٹیٹ بورڈنگ ہاؤس کی اہمیت تھی۔ 1962 تک اپر چترال یعنی سابق ضلع مستوج میں ایک بھی ہائی اسکول نہیں تھا۔ 1962 میں اسٹیٹ مڈل اسکول بونی کو ہائی سکول کا درجہ دیا گیا۔ اگر متذکرہ دو رہائشی سہولیات میسر نہ ہوتیں تو آج چترال شہر، دروش اور بونی کے سوا باقی علاقوں کے لوگ تعلیم کے زیور سے محروم رہتے اور چترال خواندگی کی شرح کے لحاظ سب سے پیچھے ہوتا۔ خصوصاً اپر چترال کی پسماندگی کی کوئی نظیر نہیں ہوتی۔

اس لیے سابق اسٹیٹ ہائی سکول چترال (موجودہ سینی ٹینیئل ہائی اسکول) کو پورے چترال کے طلبہ کو تعلیم بہم پہنچانے کا جو اعزاز حاصل ہے اس میں مذکورہ بالا دو اقامتی اداروں کا بہت بڑا کردار رہا ہے۔ اسٹیٹ بورڈنگ ہاؤس چترال سن 50 کی دہائی میں قائم ہوا تھا یا شاید اس سے بھی پہلے محدود تعداد کے طلبہ کو داخلہ ملتا تھا۔ اس میں رہائش پذیر لڑکوں کو ملنے والی خوراک کی حالت بھی کوئی قابل رشک نہ تھی تاہم غربت کے اس دور میں یہ بھی بہت بڑی نعمت تھی۔
سن 1953 میں اس وقت کے اسماعیلی لیڈرز پیر سید منور شاہ آف چوئنج اور پیر سید کرم علی شاہ آف ہرچین لاسپور نے ریاست کے وزیر تجارت مرحوم حیدر احمد خان آف بونی کی قیادت میں چترال شہر میں اسماعیلیہ ہاسٹل کے لیے زمین خریدی۔ خریداری کے موقع پر ریاست کی طرف سے سفید خان، تحصیلدار آف کوجو موجود تھے۔
Also Read: 1987: Prince Karim Aga Khan’s visit to Chitral
ان بزرگوں کی نگرانی میں اسماعیلیہ ہاسٹل اور مسافر خانہ کی عمارت تعمیر ہوئی۔ 1956 میں پہلی دفعہ طلبہ کو داخلہ دیا گیا۔ ریکارڈز کے مطابق گرم چشمہ کے سینیئر ترین ریٹائرڈ استاذ امیر محمد صاحب ان اولین طلبہ میں سے تھے۔ جہاں اسماعیلیہ ہاسٹل نے دور دراز وادیوں کے طلبہ کے لیے اقامت اور خوردو نوش کی مفت سہولت بہم پہنچائی، وہیں اس کے ساتھ ملحقہ مسافر خانہ اور جانوروں کا اصطبل سودہ سلف خریدنے اور دوسرے کاموں سے چترال آنے والے دور دراز کے مسافروں اور ان کے بار برداری کے جانوروں کے لیے مفت ٹھکانا تھا۔ اس زمانے کے لحاظ سے یہ مسافر خانہ مسافروں کے لیے ایک نعمت غیر مترقبہ سے کم نہ تھی۔

میں جب 1964 میں مڈل اسٹینڈرڈ امتحان کی لیے یارخون سے چترال آیا تو اس ہاسٹل میں ہمیں رہائش دی گئی۔ میرے والد بزرگوار بھی میرے ساتھ تھے۔ ان کو مسافر خانہ مِیں ٹھہرنے کی جگہ مل گئی اور گھوڑے کو اصطبل میں باندھا گیا۔ پھر اسی سال میں نے اسٹیٹ ہائی اسکول چترال کی نویں جماعت میں داخلہ لیا تو مجھے اس ہاسٹل میں رہائش کا موقع ملا۔
Also Read: 2023: Kalash students to have textbooks on their religion
میرے کلاس فیلوز میں سید کریم علی شاہ ایڈوکیٹ، سلطان نادر مرحوم آف ریچ نوغور، بلبل بیگ (ریٹائرڈ پرنسپل، بریپ)، شہزادہ بہرام (ریٹائرڈ سب انسپکٹر پولیس)، شیر بچہ خان آف چنار مستوج (جس نے بعد میں اپنا نام عماد الدین رکھا)، افضل جان (ریٹائرڈ پوسٹ ماسٹر، مستوج)، شربت خان (ریٹائرڈ پوسٹ ماسٹر، بروک لاسپور)، مرحوم گلازار خان آف مُردان لوٹکوہ، خدا رحمت (ریٹائرڈ ٹیچر، لوٹکوہ)، صمد گل (ریٹائرڈ پرنسپل)، مطائب خان (ریٹائرڈ وی پی یو بی ایل)، سبز علی (بینک منیجر)، محمد گل مرحوم آف لوٹکوہ، جوان شاہ (ریٹائرڈ ٹیچر، ریشن)، زار خان (ریٹائرڈ ٹیچر ارکاری)، سید قاسم شاہ (ریٹائرڈ ٹیچر، بلوغ موردیر) اور رحمت غازی خان (ریٹائرڈ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ) شامل تھے جو میرے ساتھ اس ہاسٹل میں مقیم بھی رہے۔
ان کے علاوہ ہم سے سینیئر طلبہ میں ژانو خان (ریٹائرڈ ٹیچر، لون)، ڈاکٹر اعجاز علی شاہ آف لون، اعظم خان (ریٹائرڈ ڈائریکٹر نادرہ)، گل آباد خان (ریٹائرڈ صوبیدار، پرکوسپ)، بلبل آمان (ریٹائرڈ پرنسپل، بروک لاسپور) اور شیر عزیز (ریٹائرڈ استاد، بالیم لاسپور) ہمارے ہاسٹل فیلو رہے۔ لاسپور سے داد پناہ اور شیر اعظم اور پرکوسپ سے گل زرین خان ہم سے جونیئر تھے۔ کچھ دوست اور بھی تھے جن کے نام مجھ سے بھول گئے ہیں۔


بالائی چترال اور لوٹکوہ کے اسماعیلی تعلیم یافتہ طبقے کا 90 فیصد حصہ اس ہاسٹل کا مکین رہا ہے۔ اس وقت اسماعلیہ ہاسٹل چترال کے سپرنٹنڈنٹ مرحوم کیپٹن (ر) امیر خان تھے۔ ان کا تعلق مدکلشٹ سے تھا اور بڑے قابل آدمی تھے۔ ان کی بڑی رواں انگریزی تھی۔ ہمارے ساتھ انگریزی گفتگو کرکے ہماری زبان سدھارنے کی کوشش کیا کرتے۔ ہر وقت کوٹ پتلون اور ٹائی میں ملبوس ہوتے۔ بڑی نفاست پسند شخصیت کے مالک تھے۔ رعب اور دبدبہ والے آدمی تھے۔ انہیں 1965 میں قتل کیا گیا جب وہ گولدور میں اپنی رہائش گاہ میں محو خواب تھے۔ ان کی موت اسماعیلی ہاسٹل بلکہ مقامی اسماعیلیوں کی تاریخ میں بہت بڑا حادثہ تھی۔ اس تاریک دور کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخصیت کا بہیمانہ قتل ناقابل تلافی نقصان تھا جس کا آج بھی مجھے شدید افسوس ہے۔
Also Read: Global Pandemics and Chitral
ان کے قتل کی واردات آج بھی میرے لیے ایک معمہ ہے۔ ان کی شہادت کے بعد چپاڑیو لال صاحب نوازخان ہمارے انچارج ہوئے۔ ہمارے سیشن کے ختم ہونے کے بعد یکے بعد دیگرے مرحوم فدا حسین اور لیاقت علی ہاسٹل کے سپرنٹنڈنٹ رہے۔
علم کے متلاشیوں کی یہ پناہ گاہ 26 سال غریب طلبہ کو اپنی گود میں پالنے کے بعد 1982 میں مذہبی انتہا پسندی کا شکار ہوکر جماعت خانہ اور اپنی لائبریری سمیت نذر آتش ہوئی۔ اس وقت ہمیں ایسا لگا جیسا کہ اپنا پیارا آبائی گھر جل گیا ہو۔ اس میں کیا شک کہ جس مکان نے ہزاروں غریب طلبہ کے حصول علم کے لیے محفوظ رہائش اور کھانا پینا مہیا کیا ہو اس کی حیثیت ان طالبان علم کے لیے گھر جیسی ہی ہوتی ہے۔ آج جب بھی اس مقام سے میری گزر ہوتی ہے جہاں یہ ہاسٹل کھڑا تھا تو اس کی زندہ فلم میرے شعور کے پردوں پر جلوہ گرہوتی ہے اور دل سے آہ بھری آواز آتی ہے،
یہ تو وہی جگہ ہے گزرے تھے ہم جہاں سے۔
Posted on 29 June 2024
Courtesy: www.chitraltoday.com
Originally Published in 2018
1 thought on “آغاخان ہاسٹل چترال، چند یادیں”