ٹیکسٹ بک بورڈ خیبرپختونخوا کی معاونت سے کھوار کا پہلا قاعدہ کیسے تیار ہوا؟

chitrali khowar writers in Terichmir hotel chitral 2012

تحریر: فرید احمد رضا

کھوار زبان کی ترقی کی راہ میں کئی ایسے مواقع آئے جنہیں اس کی تاریخ میں سنگِ میل قرار دیا جا سکتا ہے۔ ان مواقع میں بیسویں صدی کے آغاز کا ایک اہم مرحلہ وہ تھا جب سر ناصرالملک نے کھوار کی مخصوص آوازوں کے لیے اضافی حروف وضع کیے۔

اس کے بعد 1958ء میں چترال میں کھوار زبان کی ترقی کے لیے ‘انجمن ترقی چترال’ کے نام سے ایک تنظیم قائم کی گئی، جس کا نام بعد میں بدل کر ‘انجمن ترقی کھوار’ رکھ دیا گیا۔ 1965ء میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے ایک اہم اقدام یہ اٹھایا گیا کہ ریڈیو پاکستان پشاور سے کھوار زبان کے لیے پانچ منٹ کا وقت مختص کیا گیا۔

حکومت کے تعاون سے 1969ء میں شائع ہونے والے ایک پشتو رسالے میں کھوار کے لیے چند صفحات مخصوص کیے گئے۔ بعد ازاں کھوار زبان میں ماہنامہ ‘جمہورِ اسلام کھوار’ کا اجرا بھی عمل میں آیا۔

اسی طرح 1993ء میں چترال میں ریڈیو اسٹیشن قائم ہوا۔ اگرچہ اس اسٹیشن کی رسائی محدود علاقوں تک ہے، تاہم یہ روزانہ تین گھنٹے کا پروگرام کھوار زبان میں نشر کرتا ہے۔

Khowar Qaida Book
کھوار قاعدہ

یوں مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد کھوار ایک ادبی اور علمی زبان کے طور پر ابھر کر سامنے آئی، لیکن کھو کمیونٹی کا ایک دیرینہ خواب ابھی باقی تھا، اور وہ خواب کھوار کو نصاب کا حصہ بنانا تھا۔ اس مقصد کے لیے متعدد کوششیں کی گئیں۔ افراد سے لے کر ادبی تنظیموں تک سب نے جدوجہد کی، سیاسی زعماء سے لے کر حکومتی اداروں تک مطالبات پہنچائے گئے۔

بالآخر یہ خواب اُس وقت شرمندۂ تعبیر ہوا جب خیبر پختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی حکومت نے ریجنل لینگویج اتھارٹی ایکٹ، 2011 کے تحت فیصلہ کیا کہ مقامی زبانوں کو فروغ دیا جائے اور انہیں اسکولوں میں پڑھایا جائے۔ اس نوٹیفکیشن کے تحت صوبے میں بولی جانے والی پانچ زبانوں، پشتو، سرائیکی، ہندکو، کھوار اور انڈس کوہستانی، کو نصاب میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اس نوٹیفکیشن کے بعد ان زبانوں میں نصاب سازی اور تعلیمی مواد کی تیاری کے لیے ڈائریکٹوریٹ آف کریکولم خیبر پختونخوا اور ٹیکسٹ بک بورڈ خیبر پختونخوا نے ایک باقاعدہ طریقۂ کار وضع کیا۔ اس کے مطابق پہلے کھو کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے کھوار زبان کے لکھاریوں اور اسکالرز کا انتخاب کیا گیا، پھر ان کے لیے ورکشاپس منعقد کی گئیں۔ انہی ورکشاپس کے دوران سب سے پہلے کھوار قاعدے کی تدوین ہوئی، جس کے بعد نصابی کتاب کی تیاری اور گائیڈ لائن کے مطابق درسی کتابوں پر کام شروع ہوا۔

کھوار قاعدہ مرتب کرنے کے لیے ٹیکسٹ بک بورڈ پشاور کی طرف سے پہلی میٹنگ 15 جون 2011ء کو اس کے دفتر حیات آباد، پشاور میں منعقد ہوئی۔ اس میٹنگ کا یک نکاتی ایجنڈا کھوار الف ب (حروفِ تہجی) کو متفقہ بنانا اور قاعدے پر کام کا آغاز کرنا تھا۔

اس میٹنگ میں کھو کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے مختلف پس منظر کے ادیب، ماہرینِ تعلیم اور زبان و ادب سے وابستہ شخصیات کو مدعو کیا گیا۔ ان میں مولا نگاہ نگاہ، پروفیسر اسماعیل ولی اخگر، گل نواز خاکی، مولانا نقیب اللہ رازی، پروفیسر شمس النظر، مقبول الٰہی، محمد یوسف شہزاد، پروفیسر مفتاح الدین، مس زہرہ طلال، صاحب الرحمن، مہربان الٰہی حنفی، فرید احمد رضا، بی بی صالحہ، سعید احمد خان، حسن بصری ہمراہی اور حیدر ولی خان شامل تھے۔

اس میٹنگ کے لیے کھوار اسکالرز سے رابطے کی ذمہ داری علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر مقبول الٰہی کی تھی، اور مالی معاونت جی آئی زی اورنگرانی ٹیکسٹ بک بورڈ پشاور کی طرف سے فراہم کی گئی۔

اس سے قبل کھوار حروفِ تہجی کی ترتیب اور بعض وضع کردہ نشانات میں اختلاف پایا جاتا تھا، لیکن اس میٹنگ میں متفقہ طور پر کھوار کے بنیادی حروف کی منظوری دی گئی۔ یوں خوشگوار ماحول میں ابتدائی کام کا آغاز ہوا۔

Maula Nigah
کھوار ادیب مولا نگاہ قاعدہ پر گفتگو کررہے ہیں، 2012، تصویر بشکریہ فرید احمد رضا

دوسری تین روزہ ورکشاپ 13 سے 15 جولائی کو تریجمیر ہوٹل چترال میں منعقد ہوئی۔ اس میں مولا نگاہ نگاہ، گل نواز خاکی، محمد عرفان عرفان، پروفیسر ممتاز حسین، مکرم شاہ، تاج محمد فگار، مولانا نقیب اللہ رازی، صالح ولی آزاد، ظفراللہ پرواز، ذاکر محمد زخمی، صادق اللہ صادق، زار ولی شاہ زاہد، افضل اللہ افضل، خالد ظفر، محبوب الحق حقی، فرید احمد رضا، انیس الرحمن چغتائی، اکبر علی عاطف، سید نظیر حسین شاہ اور عطا حسین اطہر شریک ہوئے۔

اس ورکشاپ میں کھوار کی بنیادی نکات پر بحث کی گئی اور عملی طور پر چارٹس کے ذریعے مواد تیار کیا گیا۔ ان میں کھوار میں دنوں کے نام، ا سے ی تک حروف سے بننے والے اسماء، افعال سے بننے والے الفاظ، ہائے والے حروف، اور کھوار میں اعداد شامل تھے۔ خاص طور پر کھوار الفاظ کے املا پر تفصیلی بحث ہوئی۔

تیسری اور آخری دو روزہ میٹنگ 12 اور 13 نومبر 2012ء کو ٹیکسٹ بک بورڈ کے دفتر حیات آباد میں کھوار قاعدے کے ریویو کے لیے منعقد ہوئی۔ اس میں بورڈ کے افسران کے علاوہ ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی، مولا نگاہ نگاہ، محمد یوسف شہزاد، پروفیسر ممتاز حسین، مولانا نقیب اللہ رازی، فرید احمد رضا اور عطا حسین اطہر نے شرکت کی۔

اس میٹنگ میں فرید احمد رضا نے قاعدے کا مسودہ کمیٹی کے اراکین اور بورڈ کے نمائندگان کے سامنے پیش کیا۔ اس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ قاعدے میں ہر حرف کے لیے تین الفاظ شامل کیے جائیں، جن کی واضح تصویر بن سکے۔ نیز کھوار میں مہینوں کے نام، دنوں کے نام اور دس تک اعداد بھی شامل کیے جائیں۔ اس طرح معمولی ترامیم کے بعد مسودہ حتمی طور پر منظور کر لیا گیا اور فرید احمد رضا کو ہدایت دی گئی کہ اسے کمپیوٹرائزڈ شکل میں مرتب کر کے متعلقہ افسر کو سافٹ کاپی فراہم کریں۔

اسی میٹنگ میں مؤلف کے نام کے حوالے سے بورڈ کے افسر کے سوال پر ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی نے تجویز دی کہ فرید احمد رضا کا نام بطور مؤلف درج کیا جائے جبکہ دیگر اراکین کے نام مشاورتی کمیٹی میں شامل کیے جائیں۔ اس تجویز پر سب نے اتفاق کیا۔ پروفیسر حمیداللہ سنیر (سپروائزر انگلش/کورڈینیٹر ریجنل لنگویجز) اور محترمہ حمیدہ مراد (پروف ریڈر، ٹیکسٹ بک بورڈ پشاور) کی طرف سے احسان طریقے سے اپنی ذمہ داری انجام دی گئی۔

یوں خوشگوار ماحول میں یہ تاریخی کام کھو ادباء، ٹیکسٹ بک بورڈ افیشل اور کھوار کریکولم کمیٹی کی باہمی رضامندی سے مکمل ہوا۔ فروری 2013ء میں اسے طبع کر کے اسی سال پرائمری نصاب میں شامل کر لیا گیا۔ یہ کھو کمیونٹی اور کھوار زبان و ثقافت سے محبت کرنے والوں کے لیے ایک یادگار اور خوشی کا لمحہ تھا۔

نوٹ: یہ روداد صرف کھوار قاعدے کی تیاری سے متعلق ہے۔ اس کے بعد کریکولم ڈیپارٹمنٹ نے کھوار نصاب سازی کا باقاعدہ کام شروع کیا۔ اب کھوار کی نصابی کتاب مکمل ہو چکی ہے اور اس کی رہنمائی میں نویں جماعت تک کی ٹیکسٹ بکس تیار ہو کر اسکولوں میں پڑھائی جا رہی ہیں۔ اس کی تفصیل پھر کبھی بیان کی جائے گی۔


Posted on 11 March 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *