کھوار زبان کی ترقی میں ریڈیو پاکستان کا کردار

Radio pakistan chitral station

تحریر: فرید احمد رضا

(ریڈیو کے عالمی دن کے موقع پر خصوصی تحریر)

پاکستان میں ریڈیو کا قیام پاکستان کے وجود  میں آنے کے ساتھ ہی  14 اگست 1947ء کو عمل میں آیا۔ پاکستان بننے کے وقت تین ریڈیو اسٹیشن  لاہور، پشاور اور ڈھاکہ پاکستان کے حصے میں آئے۔ ان ریڈیو اسٹیشنز کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہی کے ذریعے پاکستان کی آزادی کا اعلان ہوا۔ یوں ریڈیو پاکستان نے اپنی نشریات کا آغاز 14 اگست 1947 سے کیا۔ اس کے بعد وقفے وقفے سے ریڈیو پاکستان کے اسٹیشنز کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا اور یہ عوام کو خبر پہنچانے کا ایک مؤثر ذریعہ بن گیا۔

ریڈیو معاشرے میں ابلاغ کا ایک اہم وسیلہ ہے، جو لوگوں کو باخبر رکھنے اور تفریح فراہم کرنے میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ یہ ایک سستا اور آسان ذریعہ ہے، جو دور دراز علاقوں تک بھی معلومات پہنچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ناجی خان ناجی، ایک لغت نویس کی رحلت

ریڈیو پاکستان ریاستی ترجمان کی حیثیت سے ہمیشہ معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا آیا ہے، کیونکہ کسی بھی معاشرے میں آگاہی پھیلانے، رہنمائی دینے، صحیح اور غلط میں فرق بتانے، اور ریاستی و حکومتی بیانیہ عوام تک پہنچانے میں ریڈیو کا کردار نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ریڈیو بطور سرکاری میڈیا ہمیشہ ملکی نظریاتی سرحدات کے تحفظ اور بیرونی پروپیگنڈے کو رد کرنے میں پیش پیش رہا ہے۔

ریڈیو پاکستان نے نہ صرف نظریاتی سرحدات کے تحفظ میں بلکہ چھوٹی زبانوں کی ترویج میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے، جس کی ایک مثال چترال میں بولی جانے والی کھوار زبان ہے۔ ریڈیو پاکستان نے کھوار زبان و ثقافت کے فروغ میں جو خدمات انجام دی ہیں، وہ سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہیں۔

نومبر 1965ء میں ریڈیو پاکستان پشاور کی طرف سے کھوار زبان کے لیے پانچ منٹ کا وقت مختص کیا گیا۔1 یہ اس وقت کی بات ہے جب کھوار میں باضابطہ لکھائی کا آغاز نہیں ہوا تھا، اور کھوار میں تحریری مواد نہ ہونے کے برابر تھا۔ کھوار لکھنے والے بھی بہت کم تھے۔ البتہ اس وقت شاعری کی محفلیں اور موسیقی کے پروگرام عام تھے، اور دادی امائیں لوریاں سنا کر بچوں میں ماں بولی کی محبت پیدا کرتی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے: کھوار ادب کا ایک منفرد شاعر عزیز الرحمن بیغشؔ

ایسے وقت میں ریڈیو پاکستان پشاور سے کھوار پروگرام کا آغاز حکومتِ پاکستان کی طرف سے کھوار کی ترقی کے لیے ایک مثبت اور مضبوط قدم تھا۔ اس سے کھوار اپنی جغرافیائی پابندیوں سے نکل کر دور دور تک سنائی دینے لگی۔ چترال سے باہر، پاکستان کے بڑے شہروں میں رہنے والے وہ کھوار بولنے والے بھی یہ پروگرام سن سکتے تھے جو عرصے سے اپنی زبان سننے کو ترس رہے تھے۔

یہ کھوار کی ترقی کے لیے ایک سنہری دور کا آغاز تھا، کیونکہ روزانہ پروگرام کے لیے اسکرپٹ لکھنا پڑتا تھا، جس میں موسیقی، لطیفے، ڈرامے اور قرآنِ مجید کی آیات کے تراجم تک شامل ہوتے تھے۔ یوں روزانہ کھو کمیونٹی کو اپنی زبان میں کچھ نہ کچھ سننے کو ملتا تھا۔ریڈیو پاکستان پشاور سے نشر ہونے والے ہفتہ وار ‘مایون پروگرام’ ابھی تک لوگوں کو یاد ہے جو بعد میں باوجوہ بند کردیے گئے۔

لوگ کھوار پروگرام کے لیے خط لکھنے لگے۔ کھوار گائیکوں کو اپنی آواز دوسروں تک پہنچانے کا پلیٹ فارم ملا۔ بعد میں پروگرام کا وقت بھی بڑھا دیا گیا، اور اس طرح کھوار لکھنے، پڑھنے اور سننے والوں میں دلچسپی بڑھتی گئی۔

ریڈیو پاکستان کھوار پشاور سے ابتدائی زمانے سے  وابستہ رہنے والوں میں پروفیسر اسرالدین،  ولی زارخان ولی،گل نواز خاکی ،ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی، غلام عمر ،اقبال الدین سحر اور محمد یوسف شہزاد سمیت اور بھی  قدآور شخصیت کے نام نمایاں  ہیں۔ 1967ء میں جب ’ٹرائبل پبلسٹی آرگنائزیشن‘ کی طرف سے کھوار رسالہ جمہور اسلام کھوار جاری ہوا تو یہی شخصیات اس کے بنیادی محرک اور معاون ثابت ہوئیں۔ بعد میں بھی کھوار کی ترقی کے جتنے بڑے کام ہوئے، ان میں زیادہ تر انہی لوگوں کا کردار شامل رہا جو ریڈیو پاکستان کھوار سے تربیت یافتہ تھے۔

یہ بھی پڑھیے: مہتر سیف الرحمٰن کی جہاز حادثے میں ہلاکت اور جانشینی کا مسئلہ

ریڈیو پاکستان کے ان کھوار  پروگرام شاعری، موسیقی، ڈرامے، مزاحیہ پروگرام، دینی اور تاریخی موضوعات پرمشتمل ہوتے تھے۔ ان سب کا باقاعدہ اسکرپٹ تیار کیا جاتا، جو تاریخی طور پر ریڈیو میں محفوظ ہیں۔ بعد میں ان میں سے کچھ مواد کتابی شکل میں بھی شائع ہوا، ان میں  پروفیسر اسرالدین کے ریڈیو کے لیے لکھے گئے اسکرپٹس کی کتاب ‘ملکھون تہ سلامی’ بھی شامل ہے۔

سن 1993ء میں ریڈیو پاکستان کھوار پشاور کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے چترال میں بھی ریڈیو اسٹیشن قائم کیا گیا۔ اگرچہ اس کی نشریات دور تک نہیں پہنچتیں، لیکن پھر بھی روزانہ تین گھنٹے کےکھوار پروگرامزنشر ہوتے ہیں، جس میں موسیقی، فیچر، مزاحیہ، مذہبی پروگرام، حمد، نعت، اور دیگر رفاہی موضوعات شامل ہوتے ہیں۔ ریڈیو پاکستان کے ان پروگراموں میں کھوار بولنے والے بڑی دلچسپی کا مظاہرہ  کرتے ہیں، پروگرام میں حصہ لیتے ہیں اور اپنے خط اور فون کے ذریعے سے اپنی پسندیدگی کا اظہار کرتے ہیں۔

ریڈیو پاکستان کھوار پشاور اور ریڈیو پاکستان چترال نے ادیبوں اور لکھاریوں کو اپنی صلاحیتیں نکھارنے کا موقع دیا، اور ان کی بدولت مقامی لوگوں کو روزگار کے مواقع بھی میسر آئے۔ اس ریڈیو نے چترال جیسے حساس علاقے کو نہ صرف نظریاتی طور پر پاکستان کے ساتھ جوڑے رکھنے میں نمایاں کردار ادا کیا، بلکہ مقامی زبان و ادب کی آبیاری اور تحفظ میں بھی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ آج کھوار زبان جس مقام پر ہے، اس میں ریڈیو پاکستان کھوار کا بڑا کردار ہے۔ اگر 1965ء میں ریڈیو پاکستان پشاور میں کھوار کے لیے وقت مختص نہ کیا جاتا تو شاید یہ زبان  اس مقام پہ نہ ہوتی۔


۔1 کتاب: ملکھون تہ سلامی از پروفیسر اسرار احمد، صفحہ 10


Posted on 13 February 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *