کھوار زبان کیسے پھیلی؟

کھوار کو پھیلنے میں مدد دینے والے عوامل کیا تھے؟

Khowar language and its expansion

کسی زبان کا ترتیب پانا اور اسکا پھیلاؤ اپنے اپنے پس منظر کی نسبت سے دونوں علیحدہ عمل ہوتے ہیں۔ زبانوں کے وجود میں آنے میں کسی علاقے کے مخصوص ماحول، وہاں موجود مختلف زبانوں اور ثقافتوں کے میل ملاپ کا عمل کار فرما ہوتا ہے۔ اس ماحول میں وہاں کے مختلف اللسان لوگوں کی یہ مجبوری ہوتی ہے کہ وہ کچھ دوسروں سے سنیں اور اخذ کرتے رہیں اور کچھ اپنی سنائیں اس طرح دوسروں کی بولیوں میں اپنی بولیوں کے الفاظ داخل کرتے رہیں۔

آپس میں شادی بیاہ اور مختلف معاشرتی میل ملاپ بھی اس عمل کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کرتے ہیں جس کے نتیجے میں اس معاشرے میں مختلف بولیوں کے الفاظ یکجا ہوکر ایک نئی بولی یا زبان کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ عمل دھیرے دھیرے اور غیر محسوس طریقے سے آگے بڑھتا ہے۔ اس میں دن رات، مہینے بلکہ سالوں کے دورانیے کو معلوم کرنا ممکن نہیں ہوتا یہی وجہ ہوتی ہے کہ کسی نئی زبان کے وجود میں آنے کا درست وقت یا سال یقین کے ساتھ بتانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ کسی ایک دور کے آس پاس زمانے کا محض تخمینہ لگایا جاسکتا ہے اور یہ تخمینہ بھی ذاتی خواہش یا اندازوں کی بجائے خطے میں قدیم اور بعد انسانی آبادکاری، لسانی معلومات، معاشی اور معاشرتی حالات اور سیاسی تاریخ کو بطور دلیل سامنے رکھ کر ہی ایک محتاط انداز میں لگایا جاسکتا ہے۔

با این ہمہ اس میں آگے پیچھے ہونے کے امکانات موجود رہ سکتے ہیں۔ یہ صورت حال کھوار زبان کی پیدائش کے زمانے کے تعین کے سلسلے میں درپیش ہے۔

دوسرا عمل زبانوں کا پھیلاؤ ہے جو ہمارا آج کا موضوع ہے۔ اس میں دوسرے چھوٹے بڑے عوامل کے ساتھ ساتھ سیاسی عمل یعنی ایک منظم ریاستی اقتدار کا قیام ایک بنیادی عنصر ہوتا ہے جس کے تحت باشندوں اور ارد گرد کے علاقوں میں ریاست کے انتظامی، سیاسی، عدالتی، اور معاشی معاملات کی انجام دہی اور طبقاتی نظام کے تحت باشندوں کے ساتھ روزمرہ کے رابطے کا عمل شامل ہوتے رہے ہیں۔ یہی وہ کام ہوتے ہیں جو حکمران طبقے یا انکے ریاستی کارندوں کی زبان میں انجام پایا کرتے ہیں۔ اس صورت حال کا ہماری چترالی کھوار زبان کے ارتقا، ترویج اور پھیلاؤ کا گہرا تعلق رہا ہے، جو قدیم وقتوں میں حکمرانوں کی زبان کو پھیلانے میں اور بھی زیادہ موثر کردار اس لیے ادا کرتی تھی کہ ان وقتوں میں خواندگی نہیں تھی، لوگ اپنی اپنی بولیوں کے سوا کوئی دوسری بولی یا زبان سمجھنے سے قاصر تھے۔ اس لیے جو حکمرانوں کی زبان ہوتی اسے سیکھنے کا عمل دوسری زبان والوں کے لئے ضروری ہوتا۔ چنانچہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ چینی ترکستان، وسط ایشیا، واخان، بدخشان، تاجکستان، سریقل، یسین، ہونزا، گلگت، دیر و سوات کوہستانات، داریل تانگیر اور سابق کافرستان (باشگل) وغیرہ کے علاقوں کے لوگ جو وقتاً فوقتاً یہاں چترال میں آکر بس چکے ہیں، انکی اپنی اپنی بولیاں/ زبانیں ہوتی تھیں، وہ یقینا یہاں بہت دیر تک اپنی اپنی زبانیں بولتے رہے ہوں گے۔ لیکن ایک طرف معاشرتی ضرورت کے تحت انکی زبانیں ٹوٹ پھوٹ کر ایک نئی زبان کا حصہ بنتی گئیں تو دوسری طرف رفتہ رفتہ ان مختلف اللسان لوگوں کو ریاستی نظام کے جبر کے تحت حکمرانوں کی زبان کو اپنی اپنی زبانوں اور بولیوں کے خاتمے کی قیمت
پر اپنانا پڑا۔

ماہر لسانیات جارج مارگنسٹائرن جو 1929 میں چترال آکر کھوار زبان پر کام کرچکے تھے، کا کہنا ہے کہ کھوار کی ترویج کا کام کٹوریہ حکمران طبقہ سرکاری طور پر دلچسپی لے کر کیا کرتا تھا۔

اس یک لسانی عمل کے پھیلاؤ نے ریاست کے ان حصوں میں خاص کر زیادہ کام دکھایا جہاں صوبائی اور مرکزی صدر مقام ہوتے تھے یا انکے ارد گرد کے علاقے ہوتے تھے، یعنی ریاست کی بڑی بڑی وادیوں میں کھوار زبان تیزی سے پھیلنا شروع ہوئی۔ اس میں حکمرانو کا کردار واقعتاً موجود تھا۔ ماہر لسانیات جارج مارگنسٹائرن جو 1929 میں چترال آکر کھوار زبان پر کام کرچکے تھے، کا کہنا ہے کہ کھوار کی ترویج کا کام کٹوریہ حکمران طبقہ سرکاری طور پر دلچسپی لے کر کیا کرتا تھا۔ پائین چترال کے دور دراز اور تنگ وادیوں میں رہنے والوں یعنی گواربتی، کوہستانی، پھلولہ، مدکلشٹی، کتی شیخ، کلاشہ، یدغہ بولنے والوں کی زبانیں اور انکی ثقافت پر کھوار کے اثرات نہ ہونے کے برار رہے اور اب تک وہی صورت حال ہے۔ یہ صورت حال وہاں بھی دوسری جگہوں کی طرح ہوجاتی اور انکی زبان اور ثقافتیں ختم ہو جاتیں اگر ریاستی حکومت بیغیر کسی مداخلت کے اب تک جاری رہ چکی ہوتی۔

چنانچہ لگتا ہے کہ کھوار زبان کے پھیلاؤ کی یہی صورت حال شندور پار قدیم ورشگوم (موجودہ غذر یسین وغیرہ) کے علاقوں میں بھی پیش آ چکی تھی۔ ہمیں معلوم ہے کہ چترال کے حکمران خاندان کی شاخ خوشوقت کی حکمرانی مستوج کے ساتھ ساتھ شندور پار علاقوں میں 18ویں صدی کے آغاز میں قائم ہوچکی تھی۔ چنانچہ وہ کھوار بولنے والے حکمران وہاں کے یسین، غذر، پونیال، اور اشکمن کے قصبات جیسے مقامات میں پھیل کر حکمرانی کر رہے تھے۔ ان کے ساتھ یہاں سے کھوار بولنے والے ریاستی فوج کے لوگ، حکام اور دیگر اشرافیہ بھی ضرور جاچکے تھے اور یہاں سے وہاں عام لوگوں کس آنا جانا بھی ہوتا رہتا تھا۔ ناخواندگی کی صورت حال وہاں بھی وہی تھی جو چترال کے اندر تھی۔ اس لیے ورشگوم کے علاقوں میں بروشسکی، شینا، گوجری، پشتو وغیرہ بولنے والے ساری رعایا چترال کے طرز پر اس دوران اس ریاستی زبان کو دھیرے دھیرے سیکھنے اور بولنے پر مجبور ہوتے گئے جسے وہاں کے خوشوقتے حکمران بولتے تھے۔

یہ ایک خیالی اندازہ نہیں بلکہ وہاں کی ڈیموگرافی کا اگر جائزہ لیا جائے تو چترال کی طرح وہاں پر بھی مختلف قبائل باہر کے علاقوں سے آکر آباد ہیں۔ ہم غذر کی مثال لیتے ہیں جہاں کی آبادی موجودہ وقت میں ایک لاکھ پینتیس ہزار بتائی جاتی ہے مگر وہاں کی اکثریت وہ زبان بولتی ہے جو وہاں کے چترالی حکمرانوں کی زبان رہی ہے۔

غذر کے اندر بنیادی طور پر کس نسل اور زبان کے باشندے رہتے ہیں اور کہاں سے آچکے ہیں وہ باقاعدہ تحقیق کے تحت معلوم ہوچکا ہے۔ وہاں پر خوشوقتوں کی حکمرانی سے پہلے کھوار بولنے والوں کی کوئی آبادی موجود ہونا ثابت نہیں ہے۔ وہاں کے علاقے بنیادی طور پر وہاں کے قدیم بروشو باشندوں کی سرزمین ہیں۔ بعد میں شین اور چترالی وغیرہ غذر اور دیگر علاقوں میں آباد ہوتے رہے ہیں۔
چنانچہ پاکستان، جرمن ریسرچ پراجیکٹ نامی ایک تحقیقی پروگرام کے تحت 1993-95 کے دوران دیگر تحقیقی امور کے ساتھ غذر میں کھوار بولنے والی آبادی کا سروے کیا گیا اور انٹرویو کیے گئے جنہیں جرمن خاتون محقق نجیمہ سوسومو نے سرانجام دیا۔ تفصیلات کے مطابق تقریباً ستر قبائل کی فہرست ان کے اصل مقامات مہاجرت کے ساتھ ترتیب دی گئی تھی۔ اس کی یہ رپورٹ دیگر مضامین کے ساتھ جرمنی سے 1998 میں کتابی شکل میں شائع ہوچکی ہے۔ مذکورہ تحقیق کے چیدہ چیدہ نتائج حسب ذیل ہیں
تقریبا 60 کے قریب قبائل کے اجداد یا افراد مختلف جگہوں مثلا گوپس، داریل، تانگیر، گلگت، کوہستان، ہندراب، گور، سائی، سازین، کشمیر، مردان، چیلاس، واخان، بالائی سوات سے مختلف وقتوں میں آکر غذر میں آباد ہیں۔

حاکمے قوم کا جد ‘سوکُو’ چیلاس کے نزدیک ہدور سے آکر آباد تھا جسکا پڑپوتا رحمت مہتر گوہر آمان کے دور میں چیف جاگیردار بنا تھا اور مقامی حاکم رہا۔

خواجہ قبیلے کا جد واخان سے مستوج، پھر یارقند اور وہاں سے غذر آکر آباد ہے۔ اسماعیلی پیر خاندان سے تعلق ہے۔

چترال سے صرف ان قبیلوں کے لوگ جاکر غذر میں آباد ہیں
رایت ( جو راجہ کے کارندے تھے)، شیخانے، لامانے، کوضیئے/ قوضیے، ڈوشے، شالے، بڈورے، خونے۔

داشمنے قبیلے کو کچھ غیر تسلی بخش طور پر وہاں کا اصل باشندہ دکھایا گیا ہے۔

مذکورہ محقق بتاتی ہے، “میرا یہ مبہم خیال تھا کہ یہ لوگ ایک ہی نسلی گروہ کے لوگ ہونگے اس لیے شروع میں دوران تحقیق میں نے اپنے اس تصور کے بارے میں کوئی سوال بھی نہیں پوچھا لیکن جوں جوں میں نے کھوار بولنا شروع کیا تو یہ صورت حال واضح ہوگئی کہ وہ اپنے آپ کو ‘کھو’ نہیں کہتے تھے۔

درحقیقت بہت کم لوگوں کو اس اصطلاح ‘کھو’ کا علم ہے اور جنہیں اس کا تھوڑا سا علم ہے بھی تو وہ کسی کتاب کے ذریعے سے سنا ہوا نام ہے یعنی انکے روز مرے میں یہ نام شامل نہیں۔ وہ کھوار بولنے والوں کو کوئی واحد لسانی گروہ نہیں سمجھتے۔

ان کے مطابق شندور سے ان کی طرف کے لوگوں اور انکی زبان کے لیے صرف قشقاری یا چترالی کی اصطلاح لاگو ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی قشقاری یا چترالی زبان کھوار سے معمولی حد تک فرق رکھتی ہے۔

جب میں نے ان سے کھوار لفظ کی تشریح مانگی تو بہت کم لوگ مجھے جواب دے سکے۔ جن جن کے پاس کوئی جواب تھا وہ یہ تھا کہ ‘کھو’ لفظ توریکھو اور موڑیکھو کے علاقوں کا نام ہے۔ ان کے مطابق یہی وہ جگہیں ہیں جہاں سے اس زباں کا اصل تعلق ہے۔

یہ صورت حال بتاتی ہے کہ وہاں کے لوگ اپنے دستاویزات میں اپنے اپنے قبائلی نام لکھتے رہے ہیں۔ مختلف قبائلی اور نسلی پس منظر رکھنے کی وجہ سے اپنے آپ کو کھو کی نسلی شناخت نہیں دیتے بلکہ نسلی اور ثقافتی شناخت دونوں کو قشقاری یا چترالی بتاتے ہیں”۔
غذر میں کھوار انجمن کا آغاز اس تحقیق کے چھ سال بعد غالباً 1999 میں ہوچکا ہے۔ اس تحقیق کے بعد اب تک تقریباً 29 سال ہونے والے ہیں، نہیں معلوم نوزائیدہ نسل قشقاری یا چترالی کی شناخت سے نکل کر اب تک”کھو” کی اصطلاح اپنا چکی ہے کہ نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *