مہتر سیف الرحمٰن کی جہاز حادثے میں ہلاکت اور جانشینی کا مسئلہ
چترال ایئرپورٹ پر پی آئی اے کا مسافر بردار ڈوگلس طیارہ، 1962ء
ترجمہ و تحقیق: سرور صحرائی
(اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ چترال سردار بہرام خان کی 15 روزہ ڈائری سے اقتباس)
اکتوبر 10، 1954 کو میں چترال پہنچا اور 12 اکتوبر کو مہتر سیف الرحمٰن جہاز کے حادثے کا شکار ہوئے۔
مہتر اور جہاز کے پائلٹ کی میتیں لانے کے لیے میں دروش کی طرف روانہ ہوا۔ دروش سے چترال سکاوٹس کے میجر آغا اصغر علی اپنے ساتھ ایک ڈاکٹر کو لیکر پہلے جائے حادثہ کے قریب پہنچ ہی چکے تھے کہ لواری ٹاپ پر سکاوٹس کے جوان میتوں کو لیکر سامنے آئے۔

میتوں کو لے کر میجر اصغر علی دو جیپوں میں روانہ ہوا۔ راستے میں شہزادہ حسام الملک کو اس نے ساتھ لیا اور شیشی نالہ میں ان سے جا ملا۔ راستے میں خان بہادر دلارم خان کو بھی اسکے گاؤں سے ساتھ لیا۔ ہم سیدھا نغور (قلعہ) گئے۔ مہتر کا جنازہ وہاں رکھا۔ لوگوں سے تعزیت کی اور صبر کی تلقین کی۔
یہ بھی پڑھیے: جنگِ سکردو کی کہانی، کرنل مطاع الملک کی زبانی
غسل دینے اور جنازے کو خواتین کے حصے میں منتقل کرنے سے پہلے ڈاکٹر بھیج کر زخموں کو سلوایا۔ اعلان کیا گیا کہ نماز جنازہ کل (13 اکتوبر) کو صبح 9:30 پر قلعے کے لان میں ادا کی جائے گی اور سب اس پر متفق ہوگئے۔
اگلی صبح 8 بجے (جنازے کی نماز سے پہلے) مولانا نور شاہدین اور عبد الرشید جو ایڈوائزری کونسل کا نامزد ممبر ہے، میرے پاس آئے اور مہتر کے جانشین کے اعلان کا مطالبہ اس بات کو سامنے رکھ کیا کہ جانشین کے اعلان کے بیغیر شریعت کے تحت تکفین نہیں ہوسکتی۔ مگر میں نے بتایا کہ جانشین کا فیصلہ حکومت پاکستان کرے گی اس کے لیے تدفین کے عمل کو التوا میں نہیں ڈالا جاسکتا تاہم یہ اشارہ میں نے دے دیا کہ مرحوم کا بیٹا ہی غالباً ان کا جانشین ہوگا۔
مہتر کی تدفین کے بعد میں اور پولیٹکل ایجنٹ ملاکنڈ چترال پوسٹ کی طرف گئے اور وہاں مرحوم پائلٹ عبد الحمید غزنوی کی نماز جنازہ پڑھی اور چھاؤنی کے نزدیک اسے دفنایا گیا۔
شہزادہ گان حسام الملک دروش، مطاع الملک شغور، شہاب الدین ڈی سی چترال، اسد الرحمن ڈی سی مستوج، برہان الدین توشی (دولومس)، خان بہادر دلارام خان گہریت، سب کے سب صبح کی تعزیتی نشست میں قلعے میں موجود تھے۔ ان سب کو شاید معلوم تھا کہ ان کی گزشتہ تاریخ کے پیش نظر ان کے مہتر بننے کے کوئی مواقع موجود نہیں اس لیے مرحوم مہتر کے بڑے بیٹے شہزادہ سیف الملک کی موجودگی میں مہتری کا دعوی کرنے کی ہمت نہیں رکھتے تھے۔ البتہ خورد سال سیف الملک کا ریجنٹ (نائب) بننے یا ریجنسی کونسل کے ممبرشپ کے لیے انہوں نے آپس میں خفیہ میٹنگوں کا سلسلہ شروع کیا۔
Also Read: Muhammad Isa Khan: A legend of all times
حسام الملک اور مطاع الملک نے ریجنسی کے حصول کے لیے کچھ حمایتیوں کے دستخط پڑھے مگر ان کے کچھ حمایتیوں نے ساتھ ساتھ مرحوم مہتر کے بھائی اسد الرحمن کے حق میں بھی دستخط کیے۔
بات چیت کے دوران ہر اہم اور سرکردہ شہزادے کی طرف سے خفیہ طور پر مہتر کا ریجنٹ بنوانے کی درخواستیں ہوتی رہیں۔ انہوں نے یہ درخواستیں پی اے ملاکنڈ، سیکرٹری ٹو گورنر صوبہ سرحد اور خود میرے سامنے بھی کیں مگر ہم نے بتایا کہ اس کا فیصلہ حکومت پاکستان اس خورد سال شہزادے، اس کے خاندان اور چترال کے لوگوں کے بہترین مفاد میں خود کرے گی۔

اس دوران مسلم لیگ کے راہنماؤں کی بہرحال یہ مسلسل درخواست رہی کہ کوئی بھی شہزادہ ریجنٹ نہ بننے پائے۔ اے پی اے چترال خود ریجنٹ بنے، اگر یہ ممکن نہیں تو مہتر کے بھائی اسد الرحمان کو عارضی طور پر ریجنٹ بنایا جائے۔
وزیر اعلیٰ سرحد، پی اے ملاکنڈ، پولٹیکل سیکرٹری ٹو گورنر اور میں اے پی اے چترال نے شہزادوں اور مسلم لیگ پارٹی اور دیگر معتبرات کے ساتھ باتیں کیں اور انہیں سکون سے حکومت کے احکامات کا انتظار کرنے کو کہا گیا۔
Also Read: 2017: Lowari Tunnel Inaugurated in Chitral
تین دنوں کے سوگ کے بعد حسام الملک، مطاع الملک، برہان الدین، خان بہادر دلارام خان کو نرمی کے ساتھ درخواست کی گئی کہ اب آپ مہربانی کرکے اپنے اپنے گھروں کی طرف جائیں۔ انہوں نے سواری کی سہولت مانگی جو انہیں مہیا کی گئی اور وہ 15ویں تاریخ کو اپنے گھروں کی طرف روانہ ہوئے۔
اپنے آپ کو حکومت پاکستان کے ذریعے مہتر کا ریجنٹ مقرر کروانے کی مہم کے سلسلے میں شہزادہ حسام الملک نے اپنے ملازمین رحیم بیگ، عبد الواحد ایون، گل اکرم عشریت اور خواجہ امین اللہ مروئی کو زیارت، ایون، چترال اور مستوج کے علاقوں کی طرف اپنی حمایت لوگوں سے مل کر ان کے دستخط/نشان انگشت حاصل کرنے کے لیے روانہ کیا مگر لوگوں کی طرف سے رد عمل بہت کمزور رہا کیونکہ ہر جگہ مسلم لیگیوں کی طرف سے ان کی اس مہم کی مخالفت ہوئی۔

سیف الرحمن کے حادثے کی ذمہ داری حکومت پاکستان پر ڈالی گئی۔ 22 اکتوبر (1954) کو صبح سویرے چترال بازار میں ایک ہمفلٹ لگا ہوا ملا جسے ہٹاکر میرے پاس لایا گیا۔ اس پر کسی کے دستخط یا نشان انگشت نہیں ثبت نہیں تھے۔ دھمکی آمیز اشتہار کے مندرجات یوں تھے: مرحوم ہزہائنس سیف الرحمن کو حکومت پاکسان نے پشاور سے چترال تک سفر کے لیے ایک خراب ہوائی جہاز مہیا کرکے قتل کیا۔ حکومت نے یہ کام ارادتاً کیا اور مہتر کو قتل کرنے کی نیت سے ایک غریب پائلٹ کی جان بھی لے لی۔ مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت ہزہائنس کے قتل کے ذمہ دار کو سامنے لائے یا اس کی ذمہ داری خود قبول کرے۔ اس بات کا امکان ہے کہ نواب دیر نے دیر کے علاقے کے اوپر اڑتے ہوئے جہاز پر حکومت پاکستان کی منظوری سے بندوقوں سے فائر کرایا ہے۔
آخری میں یہ دھمکی دی گئی تھی کہ اس کا بدلہ پاکستانی افسروں کی جانیں لے کر لیا جائے گا جو پولیٹیکل ایجنٹ یا چیف سکرٹری وغیرہ بھی ہوسکتے ییں۔
پولیس کو شک ہے کہ یہ اشتہار شہزادہ حسام الملک کے آدمیوں نے لگایا ہے جو 21 اکتوبر کو چترال آئے تھے۔
میں نے اس احمقانہ اشتہار کو کوئی اہمیت نہیں دی اور لوگوں کو بتایا کہ حکومت پاکستان کو مرحوم ہزہائنس پر بڑا اعتماد تھا اور وہ ایک اچھے دوست اور قابل حکمران سے محروم ہوئی ہے۔ مزید بتایا کہ پاکستانی افسر اپنی زندگیوں کے بارے میں کبھی کوئی ڈر نہیں رکھتے۔ پاکستان کی خدمت کے لیے جب بھی ان کی جانیں درکار ہوں وہ تیار ہیں۔ جہاں تک میرا اپنا تعلق ہے میں نے انہیں زور دے کر بتایا کہ میں حقیقی طور پر خوش قسمت ہوں گا اگر میری جان پیارے ملک کے لیے چلی جائے۔ اس کے بعد کوئی واقعہ نہیں ہوا۔
اکتوبر 26 کو مسلم لیگ کے راہنماؤں نے متفقہ طور پر مذکورہ دھمکی آمیز اشتہار کی مذمت کی اور 500 روپے انعام کا اعلان کیا تاکہ اس اشتہار کے پیچھے اصل مجرم اور اس کے لکھنے والے کو ڈھونڈ نکالا جاسکے۔ مقامی لیگی رہنما ملا نور شاہدین نے ذاتی طور پر اس مقصد کے لیے 100 روپے کے انعام کا اعلان کیا۔
شہزادہ مطاع الملک نے بھی ریجنسی کے لیے کچھ افراد کی حمایت حاصل کی۔ یہ وہ لوگ تھے جو 1948 کی جنگ اسکردو میں اس کے ساتھ تھے۔ انہوں نے نشان انگشت لگا کے ایک لمبی فہرست پیش کی۔ اکثر نشان انگشت جعلی لگتے ہیں۔
مہتر مرحوم کا چھوٹا بھائی شہزادہ اسد الرحمن بھی اپنی حمایت میں کچھ حمایتی پیدا کرنے میں کامیاب ہوا۔ یہ فہرست اس کے حمایتیوں نے پیش کی۔

جہاں تک عام پبلک کی بات ہے، وہ ریجنسی کے حصول کے لیے شہزادوں کی دوڑ دھوپ سے کوئی سروکار نہیں رکھتے۔
ریڈیو پاکستان پشاور پر 29 اکتوبر 1954 کی شام 7:45 بجے مرحوم مہتر سیف الرحمن کے بڑے بیٹے 4 سالہ سیف الملک ناصر مہتر چترال تسلیم کیا گیا اور ان کی تقرری کا اعلان کیا گیا۔ ان کی والدہ کو اس کی کم عمری کے دور میں ان کا ذاتی گارڈئین (سرپرست) مقرر کیا گیا۔ اے پے اے چترال کو بدستور وزیر اعظم اور مشیر کے طور پر کام جاری رکھنے کا حکم ہوا جبکہ پولیٹکل ایجنٹ ملاکنڈ کو ریجنٹ مقرر کیا گیا جو مہتر کی کم عمری کے دوران حکمران کے فرائض سنبھال لے گا۔ (یاد رکھیے کہ ریجنٹ حکمران کی کم عمری یا معذوری کے دوران حکمرانی کے فرائض کرنے والے کو کہا جاتا ہے۔ گویا آئینی طور پر اگرچہ نہیں، لیکن عملی طور پر وہ ایک طرح سے حکمران جتنی حیثیت رکھتا ہے، مترجم)
یہ بھی پڑھیے: گریٹ گیم، چترال اور انگریزوں کی مداخلت
یہ اعلان شہزادہ حسام الملک اور اسد الرحمن کے لیے ایک خوفناک صدمہ تھا جو ریجنسی کے عہدے کے متمنی تھے۔ بہت تھوڑی تعداد میں ان کے جو حمایتی تھے وہ بھی حیرت زدہ رہ گئے۔ اتالیق سرفراز شاہ جیسے کچھ سرکردہ لوگوں کو حکومت کی طرف سے یہ فیصلہ پسند نہیں آیا کیونکہ اس کو یہ توقع تھی کہ شہزادوں میں سے کسی کی ریجینٹ شپ حکومت کی طرف سے منظور نہ ہونے کی صورت میں ریجنسی کا موقع اس کے لیے فراہم ہوگا۔
اس اعلان کے بعد ناراض لوگوں نے حکومت پاکستان کے خلاف زیر زمین پروپیگنڈا شروع کیا کہ پی اے ملاکنڈ کو ریجنٹ کیوں مقرر کیا گیا، اس موقف کو لے کر کہ ریجنٹ اور وزیر اعظم دونوں عہدے پاکستانی افسروں کو کیوں ملے۔ انہوں نے اسے یہ کہہ کر ایک غلط رنگ دیا کہ اس اعلان کی شکل میں حکومت پاکستان نے چترال پر مکمل تسلط کے عمل کو پورا کر ڈالا۔
اگلے دن میں مسلم لیگ کے رہنماؤں اور دوسرے لوگوں سے ملا اور انہیں سمجھایا کہ یہ جو سب کچھ کیا گیا ہے یہ مسلم لیگ اور عوام کی خواہشات کی بنیاد پر کیا گیا کیونکہ انہوں نے بہت سے مواقع پر اس بات کا اظہار کیا تھا کہ شہزادوں کو انتظامی عہدوں سے دور رکھا جائے۔ چنانچہ وہ متفق ہوئے اور میری ہدایات کے مطابق شہزادوں کے پروپیگنڈوں کا مقابلہ شروع کیا۔
ادارتی نوٹ: حادثے میں جاں بحق ہونے والے مہتر سیف الرحمان کی یاد میں مشہور کھوار شاعر اور موسیقار امیر گل کا مرثیہ یہاں سے سُنیے۔
Posted on 22 March 2023