کھوار ادب کا ایک منفرد شاعر عزیز الرحمن بیغشؔ

عزیز الرحمان بیغش Aziz Ur

Aziz Ur Rehman Beghash, Khowar Poet

میر سیما آمان

مرحوم عزیز الرحمان بیغیش 18 اپریل 1934کو شاگرام تورکھو میں پیدا ہوئے۔ 5 سال کی عمر میں سٹیٹ ہائی سکول چترال میں داخل ہوئے۔ 1949  میں جب ان کے والد محمد مظفر الملک رضا الہیٰ سے وفات پاگئے تو انکے بڑے بھائی سیف الرحمان انکے جانشین ہوئے۔ چونکہ اس وقت کم عمر بھی تھے اور انتظامی امور سنبھالنے کے لئے تجربہ ناکافی تھا لہذا انتظامی تربیت کے لئے وہ پاکستان ایڈمنسٹریٹو اکیڈمی لاہور منتقل ہوئے تو اپنے ساتھ چھوٹے بھائی عزیز الرحمان کو بھی ساتھ لے گئے۔ یہاں پر عزیز الرحمان نے ایچی سن کالج میں داخلہ لیا۔ لیکن 1950 میں مہتر سیف خاندان کے کئی افراد کو لیکر افغانستان منتقل ہوئے۔ اس وقت شہزادہ عزیز کو فارسی اور پشتو سے کوئی آشنائی نہ ہونے کی وجہ سے تعلیمی سلسلے کو منقطع کرنا پڑا لیکن دو سال بعد جب وطن واپس آئے تو انھوں نے تعلیمی سلسلے کا دوبارہ آغاذ کیا۔ 1954 میں مہتر سیف الرحمن جہاذ کے حادثے میں وفات پاگئے۔ شائد اس حا دثے سے شہزادہ عزیز اس قدر دلبرداشتہ ہوگئے کہ واپس افغانستان چلے گئے اور اس بار انھوں نے پورے 21 سال کابل میں گزارے۔ اسی دوران 1952 میں اُنھوں نے جلالہ خان صاحب کی صاحبزادی سے رشتہ اذواج میں منسلک ہوئے جن سے انکی 3 اولاد شہزادہ فہام، شہزادہ فرہاد (مرحوم) اور ایک بیٹی ہیں۔
سُننے میں آتا ہے کہ افغانستان میں گُزارے ان 21 سالوں کو بیغیش اپنی ذندگی کے بہترین سال قرار دیتے تھے۔ گو کہ انکی شاعری میں وطن سے دُوری کا دُکھ صاف نظر آتا ہے لیکن شائد یہ وجہ بھی ہو کہ انہی برسوں نے اُنکے قلم کو زبان دی اور اُنکے اندر کے حساس شاعر کو جگایا۔ انہی 21 سالوں کے دوران انھوں نے فارسی ادب کے کئی کتابوں کا مُطالعہ کیا اور اس میں شک نہیں کہ وہ اپنے وقت کے بہترین کھوار اور فارسی شاعر کہلائے۔
کھوار ادب سے انکی محبت کا انداذہ آپ اس بات سے لگاسکتے ہیں کہ جب ریڈیو پاکستان کا آغاز ہُوا تو وہ کابل سے بذریعہ خطوط اس پروگرام میں شرکت کیا کرتے تھے۔ پھر جب جمہور اسلام کھوار رسالے کا آغاز ہوا تو وہ باقاعدگی سے اپنا کلام اس ماہنامہ رسالے کو بھیجا کرتے جنھیں بہت پسند کیا جانے لگا تھا۔پھر جب وطن واپس آئے تو وہ باقاعدگی سے کھوار مشاعروں میں شرکت کیا۔
بیغیش ؔ کی شاعری کی اہم بات یہ ہے کہ جسطرح انکا اسلوب بیان سادہ ہے بالکل اُسی طرح الفاظ کا چُناوٗ اور استعمال بھی نہایت سادہ اور قابل فہم ہے۔ نہ صرف آپ اس شاعری کو پڑھ پاتے ہیں بلکہ اسکو سمجھنے کے لئے مزید کسی تشریح کی ضرورت نہیں رہتی۔ آپ اس ایک شعر سے اس بات کا بخوبی انداذہ لگاسکتے ہیں۔

(ع۔ کھیو لوو دوم ہردیو ویرانیو،    میدان خالی ہوئے کاروان بغانی۔۔)
یعنی دل کی ویرانی کا کیا حال بتاوٗں، کارواں گزرچکے ہیں اور میدان خالی پڑا ہے۔ یعنی بیغیش اپنے مغموم دل کو اس میدان یا بیاباں سے مشابہ قرار دے رہے ہیں جو قافلے گزرنے کے بعد سنسان پڑا ہوتا ہے اور وحشت کا نظارہ پیش کرتا ہے۔ بیغیش کی شاعری میں آپکو مادری علاقہ چترال سے اُنکی والہانہ محبت کے ساتھ وطن عزیز پاکستان اور عساکرَ پاکستان سے محبت کے خوبصورت جذبات پڑھنے کو میلیں گے۔ بیغیش کسی جگہ اقبال کی طرح اﷲسے شکوہ کرتے ہوئے بھی دکھائی دیتے ہیں لیکن اس شکوے میں کوئی بے ادبی یا کسی کفریہ کلمے کی جھلک تک نظر نہیں آتی۔ بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی معصوم بچہ ماں سے گلے شکوے کر رہا ہو۔ ان چند متفرق اشعار سے آپ اس بات کا اندازہ لگاسکتے ہیں۔۔

(اَ چی ہدایت کوروسن، خوران چکھے تُو متے،    کھیو بچین ذندگی پراو، ڈقی پراو، شباب متے پراؤ)
اسی طرح ایک اور جگہ فرماتے ہیں
( ذندگیو مُقابلہ ای مہ بِرک،   مہ حقو بو اسانی ارو)
ایک اور جگہ بیغیش خود سے ہمکلام ہیں اور کچھ اسطرح گویا ہیں۔ یہ غزل مُلاحظ ہو۔
وفا کوروئی لڑیسی عمر رائیگاں کلاپت
ژانوژیبونی آخر مہ ہمی ارمان کلاپت،
کلاپت جسمو خفس دنیو ذندان کلاپت،
کلا پت اے ذندگی مہ پونگا کھشان کلہ پت،
اف چھوریک پھری شار کہ ہایا ذندگیو باغہ،
ہوسیرو ٹمبکیو غون اوا دی حیران کلہ پت،
بوسنو وارو بوشیا بوہت دی توغو لی انگونیان،
فلک کیڑی اوچ کوروئی ہمی دار بیتان کلہ پت،
ٹینز دونی خوشانیار مست بیتی مور کندوری ،
اوچ بیتی روغو نکار شیونی میدان کلہ پت،
اژیلی ڈق ہونی بی کوست غلامی ارینی،
بے رحمی کوئی لڑیسی عزیز، اسپہ نان کلہ پت

بیغیش ؔ اس غزل میں خود سے ہمکلام ہیں اور خود سے سوال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دیکھتے ہیں یہ فانی زندگی کب تک ہمارا ساتھ دے گی کب تک وفا نبھائے گی، اور ہم نے دل میں جو ہزارو خواہشیں پالی ہوئی ہیں یہ آخر کب تک ہمیں ترسائیں گی۔ نجانے میں ذندگی کے اس قید سے کب رہا ہوجاوں اور میرے پاوں سے لپٹی حیات کی یہ تنگ زنجیریں کب ٹوٹیں گی۔ موت تو برحق ہے ہی، دیکھنا یہ ہے کہ زندگی کے اس گلستان میں کسی باغ میں موجود مسکراتے پھولوں کی طرح کب تک ہم بدلتے موسموں پر حیران رہیں گے؟
ْجب بہار آتی ہے تو باریشیں پتھروں ( پہاڑوں ) پر بھی سبزہ اُگاتی ہیں،دیکھتے ہیں کہ آسمان کب تک اسی طرح رو رو کر ان پہاڑوں اور ٹہنیوں کو سرسبز و شاداب کرتی رہے گا،اور یہ ہرن کب تک شباب کے نشے میں مخمور رہیں گے اور کب تک بہار ان ویران میدانوں میں لہلاتی نظر آئیگی،
آخری شعر میں وہ با حا لت مجبوری پردیس جا کر بسنے والے نوجوانوں کا ذکر کرتے ہوئے وطن کو ایک بے رحم ماں سے تشبیہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ دیکھتے ہیں ہمارے بچے جوان ہوتے ہی کب تک غیروں کی غلامی پر مجبور ہوتے رہیں گے اور ہماری ماں (وطن) بے رحمی کا یہ ناروا سلوک ہمارے ساتھ کب تک جاری رکھے گی۔
چونکہ بیغیش خود بھی ۲۱ سال وطن سے دور رہے تھے تو اُن کی شاعری میں وطن سے دوری کا سوذ بہت ذیادہ ملتا ہے۔
ایک اور جگہ بیغشؔ پوری دنیا سے اس قدر اُکتائے ہوئے نظر آتے ہیں کہ اُنکا سارا دُکھ اس غزل کے پہلے ہی شعر میں قید ہوکر رہ گیا ہے۔اس غزل میں بیغش بالکل اینگر ی ینگ مین کی طرح پوری دُنیا سے روٹھے ہوئے لگتے ہیں۔
غزل ۔
دُنیو تونجے رویان سم ای خور جہاں کوریلک
کیڑیمان اے نوح کینو مہ دی طو فان کوریلک
انگیلیک غیچ غیچا ای کمہ پاک اشرُوان
ہردیو نس نس نے کوستے ارمان کوریلک
اُشک شار استنیم ای دربت کیڑیم
توری شیر متے ، عشقو اشت کیڑیم
مہ رُسوا ارُو اے نو تھیلیک ہردی
تت کیڑیم اے ہردی اوا تت کیڑیم

اس غزل میں بیغش دل کے ہاتھوں انتہائی بے بس نظر آتے ہیں پہلے شعر میں حضرت نوحؑ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں
کہ اے نوح! حالنکہ آج مجھے بھی طوفان اُٹھانا چاہیے لیکن میں محض رونے پہ اکتفا کر رہا ہوں،
جی تو چاہتا ہے کہ اس جہاں کو اسکے لوگوں سمیت ہمیشہ کے لئے چھوڑ جاؤں اور اپنی نئی دُنیا تخلیق کروں،
جی چاہتا ہے اپنی آنکھیں پاک انسوؤں سے بھر لوں اور اس دل کے ہزار ٹکرے کرکے کسی کی خدمت میں پیش کروں۔
آج میں کچھ ٹھنڈی آہیں بھروں گا اور کچھ دیر جی بھر کے رولوں گا ۔عشق کے سفر میں آج جو غم مجھے ملا ہے میرا یہ رونا تو حق بنتا ہے،
آخر میں اپنے دل کو مُخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اے میرے نادان اور شریر دل تم نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا،مجھے خوار کرچکے ہو آج میں صرف تمھاری وجہ سے دُکھی ہوں اور رونے پہ مجبور ہوں۔
مزے کی بات یہ ہے کہ بیغشؔ کا ہر اگلا شعر آپکو ایک نئے راستے پہ ڈال دیتا ہے ایک جگہ اگر وہ اﷲسے ناراض دِکتے ہیں تو اگلے شعر میں وہ بیشمار نعمتوں کا شکر بھی ادا کر رہے ہوتے ہیں۔
بیغشؔ کی شاعری کی اہم بات یہی ہے کہ آپ کو کتاب کے پہلے صفحے سے آخری صفحے تک مُحض محبوب کے صفات یا محبت کا رونا دھونا ہی نہیں ملے گا بلکہ انکی شاعری کو پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ واقعی ’’ اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا‘‘ یعنی اُنھوں نے محض محبت اور محبوب کو
شاعری کا پیمانہ نہیں بنایا بلکہ یہ کتاب زندگی کے ہر رنگ کا احاط کئے ہوئے ہے۔
سب سے اہم بات جو بیغیشؔ کی شاعری میں بہت ذیادہ نظر آتی ہے وہ یہ کہ ایک تو وطن سے بے تحاشہ محبت اور وطن کی قدر و قیمت کا بہت ذیادہ سبق ملتا ہے،دوم انکی شاعری میں خودداری کا اور غلامی سے بچنے کا پیغام بہت ذیادہ ملتا ہے۔ ان دونوں پیغامات کی آج کے دور میں واقعتاّ بہت ذیادہ ضرورت ہے۔
ماضی کے یہ حساس اور مُنفرد شاعر 8 جنوری 1998 کو اپنی خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ گو کہ انکی یہ خوبصورت کاوش انکی زندگی میں شائع نہ ہوسکی لیکن انجمنِ ترقی کھوار کا یقیناًہم مشکور ہیں کہ اُنھوں نے انکے وفات کے بعدبھی اپنی ذاتی کوششوں سے اس کتاب کی اشاعت کرکے اسے ہم تک پہنچایا اور ہم یہ جان پائے کہ ادب کے سنہرے ناموں میں ایک نام ’’شہزادہ عزیز الرحمن بیغیشؔ ‘‘ کا بھی ہے جو شاہی خاندان کے سپوت ہونے کے باوجود عجز و انکساری کا پیکر تھے وطن پہ جان نثار غریب پرور اور سب کے غم خوار تھے۔ جب انکی رحلت ہوئی تو ہر آنکھ اشکبار تھی ہرزبان پر ایک ہی جملہ تھا کہ آج ہم ایک غم گُسار بھائی سے محروم ہوگئے۔
آج بیغیشؔ ہم میں نہیں مگر شاعری کی صورت میں جو پیغام وہ قوم کو دے گئے ہیں وہ یقیناًاُنکی یاد کو تا قیامت ذندہ رکھے گی۔۔بیغیش ؔ جیسے بڑے شاعر پر اور اُنکی شاعری پر تو کو ئی بڑا نقاد ہی تبصرہ کرسکتا ہے میں نے محض ایک قاری کے انکے بارے میں اپنی رائے لکھنے کی اور آج یوم مادری ذبان کے موقع پر انکے یاد کو تازہ کرنے کی کوشش کی ہے کیونکہ موجودہ دور کے معروف شاعروں کی اہمیت اپنی جگہ مگر درحقیقت یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے ہمیں شاعری کی الف بے سکھائی جنکی وجہ سے کھوار ادب پروان کو چڑھا ۔
بے شک قلم پر فرض ہے کہ وہ بیغیشؔ جیسے شاعروں اور ادیبوں کی یاد نہ صرف ذندہ رکھیں بلکہ نسل در نسل آگے تک پہنچائیں۔

1 thought on “کھوار ادب کا ایک منفرد شاعر عزیز الرحمن بیغشؔ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *