چراغؔ کی ڈائری سے قشقارین بینڈ تک: لیکن اس گیت کا اصل خالق کون؟

WhatsApp Image 2025-09-30 at 7.30.54 PM

تحریر: عطا حسین اطہر

قشقارین بینڈ نے حال ہی میں کھوار کا ایک پرانا گیت “تہ بچین سوم ہوستہ گلسمبر کوری نیشی اسوم” نئے انداز میں میش اپ کی صورت میں پیش کیا ہے۔ اس گیت کی شوٹنگ شاعر کے گاؤں میں کی گئی جس نے چترال اور چترال سے باہر لاکھوں سامعین کے دلوں کو چھو لیا۔ اس کلام کو ماضی میں بھی مختلف گلوکار محفلوں اور ریکارڈنگز میں گا چکے ہیں لیکن اس نئی پیشکش نے خاص طور پر نوجوانوں کو اپنی سحر میں جکڑ لیا۔

تاہم ریلیز ہوتے ہی اس گیت کے اصل خالق کے بارے میں تنازع کھڑا ہوگیا۔ سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں نے دعویٰ کیا کہ یہ گیت دراصل محمد دین چراغؔ مرحوم کا نہیں بلکہ ایک دوسرے شاعر عزیز اللہ عزیز کا ہے جو بقیدِ حیات ہیں۔ کھواری کے اس تفصیلی فیچر میں ہم نے گیت کے اصل تخلیق کار کے بارے جاننے کی کوشش کی اور اس گیت اور کھوار ادب سے جڑے چند اہم شخصیات سے ان کی رائے لی۔

محمد دین چراغؔ مرحوم (1958-1993) کھوار کے معتبر اور مقبول شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔ معروف ادیب یوسف فرہاد نے اپنی ایک تحریر میں ان کے بارے میں لکھا ہے، “چراغ کی شاعری میں محبت پاکیزگی کی انتہا کو چھوتی ہے۔ ان کی خواہشات معصومانہ ہیں اور وارداتِ قلبی نہایت گہرائی سے جھلکتی ہیں۔ ان کا کلام اپنی شیریں دھنوں کے ساتھ سننے والے پر نئی کیفیت  طاری کر دیتا ہے۔ ہجر کی تڑپ رکھنے والا چراغ کبھی صبر کا دامن نہیں چھوڑتا اور ہمیشہ وصال کی امید سے وابستہ رہتا ہے۔ اکثر ان کے گیت اگلے جہاں میں محبوب سے ملن کی آس دلائے رکھتے ہیں۔”

چراغ کا کلام نہ صرف رسالہ جمہورِ اسلام کھوار اور انجمن ترقی کھوار کی شائع کردہ کتاب ققنوز میں شامل ہے بلکہ ریڈیو پاکستان پشاور  پر مختلف گلوکاروں کی آواز میں بھی محفوظ ہے۔

muhammad uddin chiragh khowar poet
محمد الدین چراغ کھوار کے مقبول شاعر تھے جن کے گیت آج بھی زبان زد عام ہیں

دوسری طرف عزیز اللہ عزیزؔ بھی اپنے دور کے ایک باصلاحیت شاعر تھے۔ ان کا تعلق اپر چترال کے علاقے کوشٹ سے ہے۔ کھوار غزل کے سینئر شاعر ذاکر محمد زخمی کے مطابق ایک زمانے میں وہ مشاعروں میں بھرپور شرکت کرتے تھے اور ان کی غزلیں اور نظمیں جمہورِ اسلام کھوار کے مختلف شماروں میں بھی  شائع ہوتی رہیں تاہم اب وہ شاعری سے کنارہ کش ہوچکے ہیں۔

کھوار شاعری کی روایت میں یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی کلام کی نسبت پر اختلاف سامنے آیا ہو۔ ماضی میں بھی کئی اشعار اور گیت نسل در نسل زبانی روایت کے ذریعے منتقل ہوتے رہے اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ طے کرنا مشکل ہو گیا کہ ان کا اصل خالق کون ہے۔

کھواری سے گفتگو کرتے ہوئے انجمن ترقی کھوار چترال کے صدر شہزادہ تنویرالملک اس روایت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ شاعری کی دنیا میں یہ عام بات ہے کہ کوئی شاعر کسی کلام کا دعویٰ کرے یا ایک شاعر کا کلام دوسرے سے منسوب ہو جائے۔ کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ شاعر کسی دوست یا مداح کی فرمائش پر کلام لکھ کر اس کے نام کر دیتا ہے۔”

وہ مزید بتاتے ہیں، “زیارت خان زیرک، گل اعظم خان گل اور شیرِ ملک کے کئی گیتوں میں تفریق کرنا مشکل ہے کیونکہ یہ سب ہم عصر اور قریبی دوست تھے۔ انہوں نے ایک ہی زمین پر شاعری کی، اس لیے ان چیزوں کو تنازع بنانا مناسب نہیں۔”

انہوں نے کہا، “ہمارے بچپن میں امیر گل کے کئی کلام ایسے تھے۔ ان میں سے ایک مشہورِ زمانہ کلام “ژان صداقہ تہ بچین مہ دینارے اخلاص ہردیو ہمیت کھل عبث” کے بارے میں فریدالدین گنج شکر اکثر ایک واقعہ سنایا کرتے تھے۔ ان کے بقول ایک محفل میں ہم سب بیٹھے ہوئے تھے اور امیر گل صاحب بھی وہاں موجود تھے۔ انہوں نے شہزادہ فخرالملک کو کچھ اشعار دے کر کہا کہ میں نے چند اشعار لکھے ہیں، آپ بھی اس میں کچھ اضافہ کریں۔چنانچہ شہزادہ فخرالملک نے کاغذ اور قلم منگوایا اور باہر جا کر یہ بول اس میں شامل کرکے واپس لائے،

ہواؤ رخو اوچے انگارو خوو معشوقو طبیعتو کیہ قرارا

درہاہ وݯھو بونی زوم نیشپوڑنی تہ عشق ہردیار نو بیر پائیدارا

یہ کلام بعد میں امیر گل کے نام سے زبان زدِ عام ہو گیا اور آج یہ کسی تنازع کا باعث نہیں ہے۔”

Amir gul, khowar poet from chitral
امیر گل (ستھار کے ساتھ)
shahzada fakhr ul mulk, khowar poet from chitral
شہزادہ فخرالملک

چراغ مرحوم کے بھتیجے نور خان سے جب ہم نے یہ پوچھا کہ آپ کے پاس کیا ثبوت ہے کہ یہ کلام چراغؔ ہی کا ہے تو انہوں نے جواب دیا، “ہمارے پاس چراغؔ کے ہاتھ سے لکھی ہوئی ان کی اپنی ڈائری موجود ہے۔ اس میں ان کا تمام کلام محفوظ ہے۔ اسی ڈائری میں 15 اکتوبر 1992 کی تاریخ کے نیچے یہ کلام درج ہے اور اس میں چراغ نے اپنا تخلص بھی استعمال کیا ہے،

چراغ ہیش کا نوبوئے زندگیو سہارا

اللہو رحموتے انتظار کوری نیشی اسوم”

نور خان نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چترال کے معروف شاعر فضل الرحمن شاہد نے منصور علی شباب کی آواز میں کیسٹ کی ریکارڈنگ میں گیت کا تعارف کرتے وقت یہ کلام ایک اور شاعر کے نام کر دیا جس سے غلط فہمی کا آغاز ہوا۔ بعد میں جب چراغ کی یاد میں ایک موسیقی کی محفل منعقد کی گئی تو شاہد صاحب اور ذاکر محمد زخمی صاحب بھی اس میں شریک ہوئے۔ اس موقع پر ہم نے وہی ڈائری شاہد صاحب کو دکھائی اور ان سے دریافت کی کہ آپ نے ایسا کیوں کیا مگر انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ چراغ کے چاہنے والوں نے اس پر ریڈیو پاکستان چترال جا کر اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کروایا۔ تنازع کے حل کے حوالے سے ان کا کہنا تھا، “ہم یہ معاملہ کھوار ادب سے متعلقہ شعرا اور ادبا کے سامنے رکھیں گے تاکہ وہ اس پر منصفانہ فیصلہ کر سکیں۔”

ہم نے فضل الرحمن شاہد صاحب سے یہ سوال کیا کہ آپ نے گیت کے تعارف (جسے عموماً ڈائیلاگ کہا جاتا ہے) میں کس بنیاد پر اس کلام کا خالق عزیز اللہ عزیز کو قرار دیا تھا؟ کیا یہ ذاتی تحقیق تھی، زبانی روایت پر مبنی تھی یا اس نسبت کی کوئی تحریری شہادت بھی موجود تھی؟ مگر انتظار کے باوجود اس سوال کا ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا۔

اسی حوالے سے جب ہم نے ذاکر محمد زخمی صاحب سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا، “سوشل میڈیا کوئی سنجیدہ پلیٹ فارم نہیں ہے۔ اس موضوع پر ہم کسی سنجیدہ اور ادبی فورم میں بات کریں گے۔”

zakir muhammad zakhmir and fazlu rehman shahid, khowar poets from chitral
ذاکر محمد زخمی اور فضل الرحمان شاہد، 2016

کھوار موسیقی کے معتبر نام منصور علی شباب سے جب اس حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا، “میرے 17 نمبر کیسٹ میں یہ گانا عزیز اللہ عزیز کے نام سے ریکارڈ ہوا ہے۔ یہ محفل نذیر میوزک سنٹر کے مالک کے گھر میں رکھی گئی تھی، جس میں آفتاب عالم آفتاب، فضل الرحمن شاہد، محمد ولی اور کئی دوسرے احباب بھی شریک تھے۔ فضل الرحمن شاہد نے اپنے ڈائیلاگ میں اس گانے کو عزیز اللہ عزیز کے ساتھ منسوب کیا۔”

یوسف فرہاد کھوار اور اردو کے معروف لکھاری ہیں اور کھو موسیقی پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں۔ اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، “میں اس گیت کو چراغ سے اس لیے منسوب کرتا ہوں کیوں کہ میرا چراغ کے ساتھ برسوں کا ساتھ رہا ہے۔ ہم نے کئی محفلیں ایک ساتھ کی ہیں اور فنکار رحمت اللہ روشن ہمارے مشترکہ دوست تھے۔ میں اس بات کا گواہ ہوں کہ رحمت اللہ روشن یہ گانا چراغ کے نام سے محفلوں میں گایا کرتے تھے۔ حال ہی میں رحمت اللہ روشن نے ایک ویڈیو کلپ میں بھی اس بات کی وضاحت کی ہے۔ اسی لیے میں یقین سے کہتا ہوں کہ یہ کلام چراغ ہی کا ہے۔”

اس طرح کے تنازعات کے حل کے بارے میں پوچھنے پر یوسف فرہاد نے کہا، “مجھے اس کا کوئی خاص حل نظر نہیں آتا۔ اس طرح کے مسائل مختلف ثقافتوں میں عام ہیں اور چترالی ثقافت میں بھی اس سے پہلے کئی گانوں کے ساتھ یہی ہوا ہے کہ اصل شاعر کوئی اور تھا مگر نسبت کسی اور کو دی گئی۔ اصل سوال دراصل ظرف کا ہے۔ اگر کسی کے نام پر غلطی سے کوئی کلام منسوب ہو بھی جائے تو یہ دیکھنا ضروری ہے کہ وہ شخص اس نسبت کو کیوں قبول کرتا ہے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی پرکھنا چاہیے کہ جس کے  ساتھ کلام کو منسوب کیا جا رہا ہے کیا وہ واقعی اس درجے کا شاعر ہے یا نہیں۔”

انہوں نے مزید کہا، “یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر شاعر کا اپنا ایک مخصوص اسلوب ہوتا ہے۔ ادب سے معمولی شغف رکھنے والا شخص بھی اندازِ بیان اور اسلوب دیکھ کر پہچان سکتا ہے کہ یہ کس شاعر کا کلام ہے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ منظم تحقیق کے ذریعے اس طرح کے تنازعات کا تدارک کیا جائے۔”

اس کلام کو سب سے پہلے موسیقی کی صورت میں پیش کرنے والے  گلو کار رحمت اللہ روشن کی ایک ویڈیو کلپ بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔ اس میں وہ کہتے ہیں کہ یہ کلام چراغ کا ہے اور 1992 میں پہلی بار میری آواز میں ریکارڈ ہوا تھا، اسے میں نے چراغ کے ساتھ بیٹھ کر کمپوز کیا تھا۔

mansoor shabab chitral khowar music
منصور شباب
farhad yousfi
یوسف فرہاد

اس قضیے کے حوالے سے ہم نے مئیر چترال کے صدر فرید احمد رضا سے رابطہ کیا اور ان سے سوال کیا کہ ایسے تنازعات سامنے کیوں آتے ہیں؟ اس پر انہوں نے کہا کہ پرانے زمانے میں رابطے کی کمی کی وجہ سے شاعر  کا نام  گلوکاروں تک زیادہ نہیں پہنچ پاتا تھا۔ اس لیے  گلوکار بعض اوقات کسی ایک شاعر کا کلام کسی دوسرے کے نام سے پیش کرتے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان تنازعات کی ایک بڑی وجہ ہماری تنگ نظری بھی ہے۔ اسی تنگ نظری کے باعث ہم اکثر غیر ضروری طور پر شاعر کے کلام کو متنازعہ بنا دیتے ہیں۔ تاہم ان کے خیال میں یہ تنازعات اب بتدریج ختم ہو جائیں گے کیونکہ سوشل میڈیا، تعلیم اور تحقیق کے فروغ کے ساتھ یہ مسائل حل کی طرف بڑھ رہے ہیں اور نئے شعرا کے لیے یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں رہے گا۔

اصل شاعر کی شناخت کے حوالے سے جب ان سے  تجاویز مانگی گئیں تو انہوں نے کہا کہ ہر شاعر کا اپنا ایک مخصوص انداز اور طرزِ تحریر ہوتی ہے اس لیے یہ تعین کرنا ناممکن نہیں ہے۔ اچھے شاعر کا کلام زبان زدِ عام ہوتا ہے اور اس کی تحریریں عموماً ڈائری کی شکل میں محفوظ رہتی ہیں۔ اس کی شاعری میں تسلسل ہوتا ہے، لہٰذا اگر کسی کلام کے حوالے سے شبہ پیدا ہو تو اس ڈائری کے پچھلے اور اگلے کلام کا مطالعہ کرکے تصدیق کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب  ہماری موسیقی میں ڈائیلاگ کو خاص اہمیت حاصل تھی۔ اسی دوران کئی کلام اصل شاعر کے بجائے دوسروں کے نام سے مشہور ہو گئے تھےجن پر اب دوبارہ تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔

انجمن ترقیِ کھوار چترال کے صدر شہزادہ تنویرالملک سے جب یہ سوال کیا گیا کہ یہ کلام کس کا ہے تو انہوں نے کہا کہ محمد دین چراغ دنین کالونی میں رہتے تھے اور میرے والد صاحب کے ساتھ افغان ریفیوجی کیمپ میں کام بھی کرتے تھے، اس لیے میں انہیں قریب سے جانتا تھا۔ اُس زمانے میں رحمت اللہ روشن ان کے کلام کو گایا کرتے تھے۔ یہ گانا ہمیں یاد ہے کہ روشن نے چراغ کے نام ہی سے گایا تھا اور اس بات کی تصدیق روشن کے ویڈیو کلب سے بھی ہوتی ہے۔

محمد الدین چراغ کی ڈائری جس میں مذکورہ گیت موجود ہے

انہوں نے جناح الدین پروانہ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے محمد دین چراغ کی زندگی میں ہی ان کی ڈائری میں یہ کلام اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ ان شواہد کی بنیاد پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ کلام چراغ کا ہی ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ شاید عزیز اللہ عزیز اور چراغ دوست تھے اور دونوں نے مل کر یہ کلام تخلیق کیا ہو، کیونکہ اس زمانے میں ایسا رواج موجود تھا۔ اس حوالے سے اصل حقیقت کی تصدیق عزیز اللہ عزیز سے کی جا سکتی ہے جو بفضلِ خدا بقیدِ حیات ہیں۔

اس گانے کو دوبارہ منظرِ عام پر لانے والے قشقارین بینڈ کے ایک نمائندے سے جب یہ پوچھا گیا کہ جب آپ نے یہ کلام ریکارڈ کرنے کا فیصلہ کیا تو اس کے انتساب کی صورتحال کتنی واضح تھی اور کیا آپ نے اس حوالے سے پہلے تحقیق کی تھی یا نہیں؟ تو انہوں نے کہا، “کسی بھی میوزک پراجیکٹ کا آغاز کرنے سے پہلے ہم مکمل تحقیق کرتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ شاعر کون ہے، اس کی زندگی کے واقعات کیا ہیں اور یہ کلام کس پس منظر میں تخلیق ہوا۔ یہ تحقیق اس لیے بھی ضروری ہوتی ہے کہ موسیقی کو بہتر طور پر ترتیب دینے کے لیے ہمیں خیالات اور سمت ملتی ہے۔”

“اس کلام کے بارے میں ہمیں ابتدا میں معلوم نہیں تھا کہ یہ کس شاعر کا ہے۔ چراغ کا نام بچپن سے سن رکھا تھا لیکن یہ نہیں جانتے تھے کہ یہ کلام انہی کا ہے۔ اس لیے ہم نے مختلف شعرا اور اہلِ علم سے معلومات حاصل کیں۔ بعدازاں شاعر کے خاندان اور دوستوں سے رابطہ کیا۔ انہوں نے چراغ کی ڈائری ہمارے حوالے کی اور کلام کی اصل آہنگ بھی سمجھائی۔ اسی بنیاد پر ہم نے اس پر کام شروع کیا اور شاعر کے گاؤں جا کر ویڈیو ریکارڈنگ کی۔ یہ خبر جب  فیس بک پر شیئر کی گئی تو عزیز اللہ عزیز کے صاحبزادے نے ہم سے رابطہ کیا اور کہا کہ یہ کلام ہمارے والد صاحب کا ہے۔ یہ بات ہمارے لیے حیران کن تھی اس لیے ہم نے پراجیکٹ روک کر دوبارہ تحقیق شروع کی۔”

ان کا کہنا تھا، “ریڈیو پاکستان چترال سے معلومات لیں تو معلوم ہوا کہ یہ کلام غالباً 1997 یا 1998 میں منصور علی شباب کی آواز میں ریکارڈ ہوا تھا۔ رجسٹر میں یہ کلام عزیز اللہ عزیز کے نام سے درج تھا تاہم ریکارڈنگ میں شاعر کا نام شامل نہیں تھا۔ اس صورتِ حال میں ہم نے ایک بیک اَپ آڈیو تیار کیا جس میں چراغ کا نام شامل نہیں کیا گیا۔ اس سے ہمارے کام میں بھی اضافہ ہوا لیکن یہ طے کیا کہ اگر بعد میں یہ کلام چراغ کا ثابت نہ ہوا تو ہم اسے عزیز اللہ عزیز کے نام سے منظرِ عام پر لائیں گے۔”

ان کے مطابق، “مزید تحقیق کے لیے منصور علی شباب سے رابطہ کیا تو انہوں نے شاہد صاحب کے ڈائیلاگ کے بارے میں تفصیل فراہم کی۔ اصل حقیقت اس وقت واضح ہوئی جب رحمت اللہ روشن نے ویڈیو پیغام کے ذریعے بتایا کہ یہ کلام چراغ کا ہی ہے۔ اس دوران یہ بھی پتہ چلا کہ شاہد صاحب نے چمرکھن میں ڈائیلاگ کے ذریعے اسے عزیز اللہ عزیز کے نام کیا تھا اور بعد میں  میراگرام  جاکے  چراغ کے ساتھ منسوب کیا تھا۔”

qashqarian band khowar chitrali music
قشقارین بینڈ جس کے یوٹیوب پر 50 ہزار سے زائد سبسکرائبرز ہیں

“ان تمام شواہد کی روشنی میں ہمیں یہ یقین ہو گیا کہ یہ کلام چراغ ہی کا ہے۔ بعدازاں ہم نے عزیز اللہ عزیز کے صاحبزادے سے دوبارہ درخواست کی کہ اگر ان کے پاس ڈائری یا کوئی اور تحریری مواد موجود ہے تو فراہم کریں لیکن انہوں نے کوئی مواد فراہم نہیں کیا  اور پھر رابطہ بھی نہیں کیا۔”

اس سوال کے جواب میں کہ شاعروں اور فنکاروں کو ایسے معاملات میں کیا احتیاط کرنی چاہیے، قشقارئین بینڈ کے گٹار نواز نوید نے کہا کہ شاعر اور فنکار دونوں کو چاہیے کہ وہ اپنے کام کو لازمی طور پر کاپی رائٹ کریں۔ اگر یہ نہ کیا  گیا تو ایسے مسائل ہمیشہ سامنے آتے رہیں گے اور دوسرے لوگ آپ کے کام کو اپنی ملکیت قرار دیتے رہیں گے۔”

ان کا کہنا تھا، “جہاں تک اس کلام کا تعلق ہے اصل میں یہ پبلک ڈومین شاعری ہے اور اس پر کاپی رائٹ لاگو نہیں ہوتا اس لیے کوئی بھی اسے عوامی سطح پر گانے یا پیش کرنے کا حق رکھتا ہے۔ اس کے باوجود ہم نے باقاعدہ تحقیق کی اور شواہد کی بنیاد پر اصل تخلیق کار کو کریڈٹ دیا۔”

انہوں نے کہا، “ہمارے لیے یہ بحث اہم نہیں کہ کلام محمد دین چراغ کے نام ہو یا عزیز اللہ عزیز کے۔ دونوں ہمارے لیے یکساں طور پر قابلِ احترام ہیں۔ اگر آئندہ تحقیق سے یہ بات واضح ہو جائے کہ یہ کلام عزیز اللہ عزیز کا ہے تو ہم بلا جھجک انہیں ہی اصل تخلیق کار کا کریڈٹ دیں گے۔”

کھوار ادب اور موسیقی میں کسی کلام کی نسبت پر اختلاف کوئی نئی بات نہیں۔ اصل خالق کی شناخت تحقیق اور شواہد سے ہی ممکن ہے لیکن یہ بات طے ہے کہ یہ اشعار اور دھنیں ہماری مشترکہ تہذیبی  ورثہ ہیں۔ شاعر اور فنکار کی پہچان اپنی جگہ اہم ہے مگر اس سے بھی بڑھ کر یہ ضروری ہے کہ یہ کلام زندہ رہے، گایا جائے اور نئی نسل تک پہنچے۔

جب تک یہ روایت آگے منتقل ہوتی رہے گی تب تک ہمارا ورثہ اپنی اصل شناخت کے ساتھ قائم رہے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ایسے مباحث، ادب اور موسیقی کے دائرے میں ہی رہیں۔ انہیں علاقائیت اور برادری کی بنیاد پر تنازعہ بنا کر واٹس ایپ گروپوں یا فیس بک پر ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی کی شکل نہیں دینی چاہیے۔

آخر میں یہ سمجھنا چاہیے کہ چراغ ہو یا عزیز یا کوئی اور شاعر سب نے اپنے اپنے انداز میں ادب اور موسیقی کو سنوارا ہے۔ اصل مقصد یہی ہونا چاہیے کہ ان کی تخلیقات زندہ رہیں محبت اور یکجہتی کے پیغام کو آگے بڑھائیں اور ہماری نئی نسل ان سے  لطف  حاصل کرے۔


Posted on 30 September 2025

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *