چترال میں پہلی گاڑی کی آمد پر نظم
مہتر مظفر الملک اپنی ولس جیپ میں جو امریکی حکومت نے دوسری جنگ عظیم کے دوران انہیں تحفہ دی تھی، تصویر بشکریہ ارشد عرفان
تحریر: ظفر اللہ پرواز
چترال میں پہلی موٹر کار ستمبر 1927 کو مہترِ چترال شجاع الملک کے حکم سے خرید کر سید عبدالرزاق پاشا نے چترال لائی تھی۔ عبد الرزاق پاشا دیر سے تھے مگر مہترِ چترال سے رشتے داریاں تھیں۔ چترال میں ہی مقیم رہے۔ دروش کے گورنر مقرر ہوئے اور قلعہ دروش اور نغر انہوں نے بنائے۔
عبدالرزاق پاشا ہی راؤلپنڈی سے اسلحہ ساز خِرادی چترال لائے اور ساتھ ہی ہندوستان سے گاڑی مع ڈرائیور پیر الدین ساتھ لائے جس نے مقامی لوگوں کو ڈرائیونگ سکھائی۔ چترال کے لوگ اس سے پہلے گاڑی سے نا آشنا تھے اور یہ پہلی موٹر کار تھی جو چترال لائی گی۔
یہ بھی پڑھیے: جب پہلی بار پشاور سے چترال کیلئے ٹریکٹر کار چلی
کابل کے شاعر میرزا شیر احمد خان ان دنوں کابل سے ہجرت کرکے چترال میں موجود تھے۔ اس نے موٹر کی تعریف میں چند اشعار بادشاہ کے خدمت میں پیش کیے جو ذیل ہیں؛
بامر شاہی شاہ عبد الرزاق
بیاور و از ھند با طمطراق
ترجمہ: شاہی حکم پر شاہ عبدالرزاق ہندوستان سے شاندار طریقے سے (جیپ) لے آئے
کہ نام این تختِ نو موتر است
بھندوستان نام او شھرت است
ترجمہ: کہ اس نئی سواری (تخت) کا نام موٹر ہے۔ ہندوستان میں اس کا نام مشہور ہے۔
و لیکن بہ کھسار ھا تا کنوں
نکر دہ است اورا کسی رسمون
ترجمہ: مگر پہاڑی علاقوں میں اب تک نہیں آئی تھی اور کسی نے یہ رسم انجام نہیں دیا تھا
بگفشد شہ را صہفار دکبار
مبارک بود بر تو اے شھریار
ترجمہ: شاہ عبدالرزاق نے (موٹر کے) ڈرائیور کو بلایا (اور کہا) اے بادشاہ! یہ تمہیں مبارک ہو۔
بس این شہ بران تخت رنگین نشست
زما مش ڈرائیور گرفتہ بدست
ترجمہ: پھر اس بادشاہ نے اس رنگین تخت (موٹر) پر سواری کی۔ جس کی باگ ڈور ڈرائیور نے اپنے ہاتھ میں لے رکھی تھی۔
برفتار او چوں کرد امتحان
چو سیلاب در راہ خود شد روان
ترجمہ: جب اس کی رفتار کا امتحان کیا گیا تو وہ اپنے راستے میں سیلاب کی طرح دوڑتی چلی گئی۔
بچترال امروز شد این رواج
کہ دل ھاے مردم گرفت ابتھاج
ترجمہ: آج چترال میں (گاڑی چلانے کا) رواج عام ہو گیا۔ کہ لوگوں کے دلوں میں خوشی بھر گئی۔
شیر احمد کابلی کا دیوان “شاہنامہ چترال” پڑھنے کے لیے کلک کریں
Posted on 24 February 2023
1 thought on “چترال میں پہلی گاڑی کی آمد پر نظم”