چترال میں نامعلوم زبان کے نام اور قدیم باشندوں کی شناخت

CHITRAL-ANCIENT-POPULATION-KHOWAR-TRIBE

تحر و تحقیق: سرور صحرائی

ہر علاقے میں اس بارے میں روایات موجود ہوتی ہیں کہ اس علاقے کے قدیم ترین باسی کون ہیں۔ کسی بھی علاقے میں جن لوگوں کو قدامت کے حوالے سے اوائل دور کے باشندوں کی حیثیت حاصل ہوتی ہے، انہیں انگریزی میں ’اب اوریجنز‘، اردو میں ابتدائی باشندے اور کھوار میں بومکی کہا جاتا ہے۔

 قدیم مستند تاریخی ذرائع موجود نہ ہونے کی وجہ سے بہت بعد میں یعنی قریباً انیسویں عیسوی صدی میں جب چترال میں خواندگی پھیلی اور بیرونی دنیا سے آشنائی حاصل ہوئی تو چترال کے قدیم باشندوں سے  متعلق چترال کے اندر روایات پر مبنی یہ نظریہ قائم ہوگیا کہ بالائی چترال میں کھوار واحد قدیم زبان ہے اور چونکہ زبان کا نام کھوار لفظ “کھو” سے نکلا ہے اس لئے یہ فرض کرلیا گیا کہ کھو نام سے کوئی نسلی لوگ سب سے پہلے باہر سے یہاں آئے اور اس طرح کھوار بولنے والے یہاں کے ابتدائی باشندے (بومکی) ہیں۔

جب انیسویں صدی کے دوران باہر سے کچھ لوگ یورپی محققین یا پھر برٹش انتظامی افسروں کے روپ میں پہلی بار یہاں آئے اور اس علاقے کی تاریخ کو سمجھنے اور لکھنے کوشش کی تو اسی روایت یا نظریے کو اس وقت کے کھوار بولنے والے مقامی ریاستی حکمرانوں اور دانشوروں نے ان کے سامنے دہرایا اور اس کے بعد کی تحریروں میں اس بابت وہی کچھ آگے بڑھایا گیا جو انہیں سننے کو ملا۔ چنانچہ یہ نظریہ عام ہوگیا کہ کھوار بولنے والے چترال کے انتہائی قدیم (بومکی) باشندے ہیں۔

گو کہ یورپی قلمکاروں خاص کر ماہرین لسانیات نے اس نظریے کو آگے بڑھایا جیسے جان بڈلف، بدروس، آریل سٹین اور جارج مارگنسٹئرن وغیرہ، مگر اس کے ساتھ ساتھ انہی ماہرین لسانیات نے یہ انکشاف بھی کیا کہ کھوار ابتدائی طور تن تنہا پر کوئی الگ زبان نہیں، بلکہ ارد گرد کی مختلف زبانوں کے الفاظ کے میل میلاپ سے ترتیب پا چکی ہے جیسے سنسکرت، کلاشہ، شنا، ترکی، فارسی، غلچہ وغیرہ (جارج مارگنسٹئرن)

اس انکشاف کے بعد یہ تاثر مضبوط طور پر ابھرا کہ کھوار بولنے والے باہر سے نہیں آئے بلکہ کھوار یہاں بالائی چترال میں ہی مختلف اللسان باشندوں کے آپس میں میل جول اور سماجی سرگرمیوں کے نتیجے کے طور پر دھیرے دھیرے بنتی رہی۔ اس نظریے کو یہاں کے کچھ مقامی قلمکار بھی تسلیم کرتے ہیں (ان میں ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی کا حوالہ دیا جاسکتا ہے)۔

chitral map
چترال کا نقشہ

راقم کی اپنی رائے بھی یہی ہے تاہم اس پر اضافی رائے یہ ہے کہ گو کہ کھوار کی تخلیق مختلف زبانیں بولنے والوں کی مشترکہ کاوش ہے اور یہاں بالائی چترال میں ہی بنی ہے، پھر بھی یہ بات ضرور ہے کہ پہلے سے موجود کسی قدیم  زبان کے ڈھانچے پر کھوار کے بننے کے عمل کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ اس کا ثبوت یہ ہے  کہ ماہرین لسانیات کے کہنے کے مطابق کھوار میں ایسے بنیادی ذخیرہ الفاظ موجود ہیں جو ماہرین لسانیات کے مطابق سنسکرت یا کسی دیگر معلوم زبانوں کے اندر نہیں پائے جاتے۔ مجبوراً امکانات کا رخ بروشسکی کی طرف نکلتا ہے (جارج مارگنسٹئرن)۔

یہاں اس لیے کھووں سے پہلے کسی نامعلوم باشندوں کی موجودگی کے علاوہ اس خطے کے بنیادی اور قدیم لوگ بروشو ہونے کے امکانات کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ جان بڈلف  گلگت کے مختلف علاقوں میں بروشسکی بولنے والوں کے پھیلاؤ اور بعد میں شینوں کی آمد اور پھیلاؤ کے پیش نظر بروشو آبادی کے موجودہ وادیوں نگیر، ہنزا اور یسین میں محدود ہونے پر مجبور ہونے کی بابت لکھ چکا ہے۔ یہ بات بھی محققین کے پیش نظر ہے کہ بروشسکی بولنے والے پہلے پہل چترال کے علاقوں میں بھی موجود ہوسکتے ہیں۔

(چترال میں بروشسکی آبادی کی قدیم دور میں موجودگی کے امکانات اور یہاں کی آریئن آبادی میں ضم ہونے کا جائزہ لینے کے لیے راقم کھوار کے اندر موجود بروشسکی الفاظ کی ایک فہرست ترتیب دینے پر کئی سالوں سے کام کر رہا ہے اور کافی مواد جمع بھی ہوچکا ہے مگر یہ کام آج کے موضوع میں شامل نہیں)۔

کسی نسلی گروہ کے دور کا اندازہ لگانے کے لیے اس علاقے میں گاؤں، جنگلات، چراگاہ اور پہاڑ وغیرہ کے لیے لوگوں میں مروج ناموں کا جائزہ لینا اہمیت رکھتا ہے۔

لہذا اس  جستجو میں کہ آیا کھوار بولنے والے واقعی اس علاقے کے ابتدائی (بومکی) باشندوں میں سے ہیں یا ان سے پہلے بھی یہاں کچھ لوگ پہلی بار آکر آباد ہوچکے تھے، ہمیں چترال کے مختلف حصوں میں مروج ایسے مقامات کے ناموں کی تفصیلات اکٹھی کرنی پڑیں جن سے یہ انکشاف ہوا کہ کھوار کی قدامت کے دعووں کے باوجود اب بھی ایسے نام مروج اور سماج کی روز مرہ کا حصہ ہیں جو کھوار کے نہیں بلکہ کسی نامعلوم زبان کے الفاظ ہیں۔

اگرچہ یہ مواد مختصر ہے، ان کی تعداد ہزاروں تک بھی پہنچ سکتی ہے تاہم جتنا بھی مواد جمع ہو چکا ہے وہ نذر قارئین ہے۔ اس مواد میں نامعلوم الفاظ کے ساتھ ساتھ کھوار، فارسی اور سنسکرت، کلاشہ الفاظ بھی شامل ہیں تاہم یہاں صرف نامعلوم زبان کے الفاظ کی علاقہ وار تفصیل دی جارہی ہے:


بالائی چترال

بونی: شیپیشُن، روپھوپ

پارکوسپ/کھوژ: پرکو, کھوژ

پرواک: دوکپیدوک، موری گاڑ، دیپی دیر

زئیت: میموک، چھوکچار، زئیت

بریپ: چھیکان

چرن: چھاشل، لاغوروم، اوخیر، یوغال، پواسن، چرچا نان، الہ، ڑاٹور، جاگال

ریشن گول: اوشول، خورجال، پینڈول، باروک، دراماشیلی، چڑینگ چڑانگ، توڑو وانز، پھس مک، مودار، کورغول، شوشوت، شیڑی، موزیک، موڈال، بتھالوچی، بی یو، گریم شوغ، شا پھاشک، درامہ کوڑ، نژدیر

ریشن: اوہسونو، مرویلی، تاغوئی، چھونور، ایستہ پاردو، ریلنگ، بوماہت، تاغوک، غوب

کشم: گوشین (موٹا شین)، تھوسان، بور چین/ بوہچین، اتروپی، کھونیز

تریچ: لوارزون، سیمتیج، واریمون

موڑیکھو: سہرت، گہرت، وریجن، پالمتی، اوتروک

اویر: برم، بیندو، پرپش، شونگوش (موٹا شین)، چھتر، بوزدون، راموڑ، گھراموڑ، خرچوم، ستوک، ریری، کھوروسن، کوڑاغ، ایوغون، اوسان، اوی، شابرونز (شروع میں موٹا شین)، گہرتو

کھوت: خورپیک، پارسیج، خفت، اوتروک، کشیک، پتامیچ، پرونی، پوچونگ، رابت، کھاشون، اوشنا ٹور، جومبائشل، اندراغچ، تیغدیر، رام تیج، پورغور، خیچار، نسکیت، بیغور، فارداغ، ہونکُت، اوجو، ووزگ، ویرمین، پوتیاں، گیزان، تھروہت، تھیون، جینارپ، ایوان


پائین چترال

دروش گول: تبین، سراسدی، چلی بیچ (موٹا چ کے ساتھ)

برینس: ایونگ، اشتانیز، سوزورم

اویرک لوٹکوہ: اوترائی، شر، ختیج، بیغ، مینجر، کنچا، باوڑ، چخال، کروتس، کشلوک، بیرزاغ، اویرک، ویاک، ژٹاخر، وین، چینوڑ، دوردوغون، نکوشواڑی

کوغوزی: مشکھیل، مشیلک

کاری: ٹھوکیل، کراویل، بیزگوم، ناجورونی، کھایون، ڈومانج، بنجوک، بول متی، گسپارو، کھشنہ غور، نیر دید

چھترارگول: اوترس، میرین، گوردونوغ، دونی، چیمیسان، تیروئیک، کروتس

چمرکھن: ، مخکیل، کنچا، باوڑ، کساویر

چترال ٹاؤن: دینین، ژوغور، برینیس، کوژو، پرئیت، مروئی، گوارہ، بلچ، سینگور، بکامک، شوٹ (موٹا شین)

 پوسٹ میں درج یہ الفاظ راقم کے نزدیک کسی نامعلوم یا معدوم زبان کے الفاظ ہیں کیونکہ کھوار زبان میں انکے کوئی یا معنی مفہوم نہیں بنتا۔

اس تحقیق سے اس بات کا اشارہ مل سکتا ہے کہ یہ ہو نہیں سکتا کہ کھوار زبان اور اس کے بولنے والوں سے پہلے بھی کوئی قبیلہ، کوئی زبان اور کوئی ثقافت والے لوگ چترال کے علاقے میں وجود نہیں رکھتے ہوں۔

اب اگر کوئی اس پر اصرار کرے کہ کھوار اور کھوار بولنے والے سب سے قدیم ہیں اور یہ انجان زبان والا قبیلہ بعد میں کہیں سے آیا تھا اور اگر اس موقف کو مان لیا جائے تو سارے جنگلات، چراگاہوں، پہاڑوں، دیہات اور پبلک مقامات پر اپنی زبان و اصطلاحات کا سکہ بٹھانے والا وہ طاقتور اور غالب آبادی والا طبقہ اناً فناً کہاں غائب ہوا، انہیں آسمان کھاگیا یا پھر زمین نگل گئی؟

کھوار بولنے والے ان کی زبان کے الفاظ استعمال کر رہے ہیں لیکن انہیں جانتے نہیں۔۔! سو یہ بات ممکن لگتی ہے کہ یہ نامعلوم الفاظ کسی ایسی زبان سے تعلق رکھتے ہوں جس کے بولنے والے اس علاقے کے سب سے قدیم باشندے تھے اور کھوار زبان کی بناء اور ارتقاء کے بعد وہ اس نئے سماج میں دھیرے دھیرے ضم ہوتے گئے۔ مگر ان کے الفاظ و اصطلاحات بھی نئی بننے والی زبان کھوار کے ساتھ ساتھ استعمال میں رہے اور اب بھی نا سمجھتے ہوئے بھی روز مرہ کی بول چال کا حصہ ہیں۔


Posted on 17 February 2025

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *