چترال سے انگریز فوج کی جانب سے قبضے میں لیے گئے نایاب قرآنی نسخے کی برطانیہ میں نیلامی
یہ نسخہ 1895 میں اپر چترال کے گاؤں سونوغر میں برطانوی افسر کو ملا تھا، تصویر: میلمس
تحریر: فخرعالم
انگریز فوج کی جانب سے 1895ء میں بالائی چترال سے قبضے میں لیے گئے قرآن کے نایاب نسخے کی حال ہی میں آکسفورڈ میں نیلامی کی گئی ہے۔
نسخے کے ساتھ موجود ہاتھ سے لکھے گئے ایک نوٹ کے مطابق یہ 19ویں صدی کے اوائل یا 18ویں صدی کے اواخر کا ایک نایاب قرآنِ پاک ہے جو اپر چترال کے گاؤں سونوغر میں برطانوی افسر لیفٹیننٹ ایچ بی بیتھون کو ملا تھا۔
Also Read: Gilgit Se Chitral TaK, 2022
برطانوی فوج کا یہ دستہ چترال پر حملے کے دوران کرنل کیلی کی قیادت میں گلگت سے چترال قلعے کی جانب پیش قدمی کر رہا تھا۔ اس نوٹ کے مطابق تلاشی کے دوران یہ نسخہ برطانوی افسر کو گاؤں کے مقامی سردار کے گھر سے ملا۔
اس نایاب نسخے کے ہر صفحے پر عربی رسم الخط کی 18 سطور درج ہیں، جبکہ اوقاف سونے کی سیاہی سے بنائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ خوبصورت خطاطی، نفیس روشن کاری والے صفحات اور چرمی جلد بندی اس کے حسن کو مزید نمایاں بناتی ہے۔
حالیہ دنوں میں یہ قرآن برطانیہ کے معروف نیلامی ادارے میلمس کی ملکیت میں موجود تھا اور مختلف نیلامی ویب سائٹس پر پیش کیے جانے کے بعد فروری میں کامیاب بولی کے ذریعے فروخت کر دیا گیا۔ تاہم لیفٹیننٹ بیتھون کے ہاتھ لگنے کے بعد قریباً 130 سال یہ نسخہ کس کس کے پاس رہا اور بالآخر نیلامی تک کیسے پہنچا، اس بارے میں معلومات نہ مل سکیں۔
نوادرات کی باہر منتقلی اور اس سے جڑے سوالات

نوآبادیاتی دور میں مقامی نوادرات کی اُن کے اصل وطن سے باہر منتقلی اور اس سے جڑے اخلاقی اور قانونی سوالات ہمیشہ سے زیرِ بحث رہے ہیں۔ چترال سے تعلق رکھنے والے تاریخ دان ہدایت الرحمان کے مطابق صدیوں پرانے اس نایاب قرآنی نسخے پر ایک فوجی افسر کا قبضہ اور پھر سو سال سے بھی زائد عرصے میں اس کی نیلامی ایک بار کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بدھ مت کے قدیم ترین مخطوطے گلگت سے کیسے ملے اور ان پر جواہر لال نہرو نے کیوں ‘قبضہ’ کیا؟
انہوں نے بتایا کہ خود ان کے اپنے دریافت کردہ ایک تاریخی مخطوطے کو چترال سے برطانیہ منتقل کیا گیا اور ایک بار برطانیہ کی ایک لائبریری میں انہوں نے اس نسخے تک رسائی کی اجازت چاہی تو ان سے بھاری فیس کا مطالبہ کیا گیا۔
حال ہی میں برطانوی بادشاہ چارلس کے دورہ امریکا کے دوران جب نیویارک کے میئر زوہران ممدانی سے پوچھا گیا کہ اگر انہیں برطانوی بادشاہ کے ساتھ نجی گفتگو کا موقع ملا تو وہ انہیں کیا کہیں گے۔ زوہران ممدانی کا کہنا تھا کہ وہ انہیں کوہِ نور ہیرا واپس کرنے کی ترغیب دیں گے۔
واضح رہے کہ مشہورِ زمانہ کوہِ نور ہیرے کا شمار برصغیر کے اُن بیش بہا نوادرات میں ہوتا ہے جو برطانوی نوآبادیات کے دور میں یہاں سے باہر منتقل کیے گئے۔ اس ہیرے کو انگریزوں نے 1849ء میں ایک متنازع معاہدے کے تحت پنجاب کے اس وقت کے 11 سالہ حکمران دلیپ سنگھ سے حاصل کیا تھا۔
چترال سے تعلق رکھنے والا یہ قرآنی نسخہ اس خطے سے باہر منتقل ہونے والا واحد مذہب متن نہیں۔ اس سے قبل گزشتہ صدی کے تیسرے عشرے میں گلگت سے ملنے والے بدھ مت کے نایاب ترین قدیم مخطوطے بھی سری نگر اور بعد میں دہلی منتقل کردیے گئے تھے۔ یہ مخطوطے ‘گلگت مینو اسکرپٹس‘ کے نام سے مشہور ہیں اور ابھی تک بھارت کے قبضے میں ہیں۔
Posted on 2 May 2026