اُورائے، نستعلیق فونٹ اور ایف ایل آئی

اُورائے، نستعلیق فونٹ اور ایف ایل آئی

تحریر: فرید احمد رضا

اقبال الدین سحر صاحب ایک انٹرویو میں فرماتے ہیں کہ شاعری کا ایک موڈ ہوتا ہے جب اس موڈ میں ہوتاہوں تو کئی نظمیں اور گیت ایک ہی نشست میں لکھ دیتا ہوں۔ تقریباً یہی صورتحال اپنی ہے جب موڈ ہوتا ہے کئی آرٹیکلز ایک ہی ہفتے کے اندر نکال لیتاہوں۔ اگر نہیں تو مہینوں میں بھی کچھ لکھنے کو نہیں ملتا۔ اس آرٹیکلز کا مطلب یہ نا نکالئے کہ اشاعت سے قبل ہی اپنے افسانوی مجموعے “اورائے” کی مشہوری کرنے لگا ہوں، دراصل بات کچھ اور ہے۔

فورم فار لنگویج انیشیٹیوز والوں  نے کھوار کیلئے کتب  کی اشاعت تقریباً ختم کردی ہیں، وہ کہتے ہیں کہ کھوار میں طباعت و اشاعت کافی ہوگئی ہیں اور وہ مزید کسی روایتی موضوع پر کھوار میں کتابوں کو نہیں چھاپیں گے اور اپنی توجہ غیر معروف زبانوں میں اشاعتوں پر دینا شروع کی ہیں۔ ہاں کھوار میں کوئی انوکھا اور اچھوتے موضوع پر کوئی کتاب آجائے تو دیکھا جائے گا۔ اس سے قبل کھوار میں ‘برکش’ کو اسی نظریے کے تحت ایف ایل آئی نے چھاپا، جو کہ واقعی ایک انوکھے موضوع پر کتاب تھی۔

کافی وقت سے کھوار افسانوں پر کام کررہاتھا، ایک دو لکھ لئے ، تو دوستوں نے پڑھنے کے بعد حوصلہ بڑھایا، مزید اضافہ کیا، اور دیکھا کافی افسانے ہوگئے ہیں۔ ایف ایل آئی کو بھیجا کہ اب دیکھو، اچھوتے موضوع کی کتاب ہے، اب ان کے پاس کوئی بہانہ نہیں تھا، کتاب اشاعت کے مرحلے میں ہے، انشاء اللہ جلد آجائے گی۔

اصل موضوع نستعلیق فونٹ کی طرف آتے ہیں، ہم اردو میڈیم کے لوگ نستعلیق کو ہی معیار سمجھتے ہیں، کیونکہ پاکستان بننے کے بعد سرکار نے نستعلیق کو زینہ بنایا۔ سرکاری مواد، نصابی کتب نستعلیق میں چھاپی گئیں اور یوں ہمارے پڑھنے کا ذائقہ نستعلیق سے جڑگیا۔ اخبارات بھی نستعلیق میں پرنٹ ہوئے، ایک طرح سے پاکستان میں اردو اور نستعلیق فونٹ کا چولی دامن کا تعلق بن گیا۔  کمپیوٹر کا دور آیا تو کسی بھارتی کمپنی  نے ہمارے لیے “ان پیج” بنایا اور یہ سافٹ ویئر بھی نستعلیق فونٹ مہیا کرتاتھا، تو پاکستانیوں کی تو ایسے عید ہوگئی، دو دہائیوں تک “ان بیج” نے اردو کا سفر رواں رکھا۔ پھر مائیکرو سافٹ والوں کو اندازہ ہوا کہ دنیا میں انگریزی ہی نہیں بلکہ دیگر زبانیں بھی ان کی توجہ کا متقاضی ہیں، یوں کمپیوٹر پر اردو کا سفر شروع ہوا مگر یہاں ہم پاکستانیوں کو ایک مسئلے کا سامنا ہوا۔

مائیکروسافٹ والوں کیلئے نستعلیق جیسا بھاری بھرکم فونٹ کو سپورٹ کرنا ممکن نہ تھا، وہ انٹرنیٹ پر انگلش کے ٹائمز، رومن اور کیلبری کی قسم کے ہلکے فونٹ مہیا کئے، اور اس کے ساتھ “ان پیج” کے دور کا خاتمہ ہوا، جن سے اردو لکھنے اور پڑھنے کا رواج تو ڈل گیا پر ہم جیسے نستعلیق کے شیدائیوں کی بھوک ختم نہ ہوئی۔ پھر بھلا ہو، کسی اور انڈین کا، جس نے علوی نستعلیق بناکر پاکستانیوں پر احسان کیا اور یہ فونٹ جدید کمپیوٹر پر اردو لکھنے اور پڑھنے والوں کے لیے ایک نعمت مترقبہ ہی تھا۔ اب پاکستانیوں کو بھی جاگنے کا خیال آیا، لاہور کی ایک یونیورسٹی  کا ایک شعبہ، سنٹر فار لینگویج انجینئرنگ یعنی سی ایل ای نے نفیس نستعلیق نام سے ایک فونٹ کا اجراء کیا۔ یوں ہماری اردو کا ذائقہ بحال ہوگیا اور یہ وہ دو ر تھا جب ہم جیسے غیر معروف زبانوں کے لکھاریوں نے بھی اپنی زبانوں میں ادب تخلیق کرنے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔یہاں ایک طرف اردو کا مسئلہ حل ہوگیا، لیکن دوسری طرف یہ فونٹس  ہماری زبانوں کے مخصوص کریکٹرز کو سپورٹ کرنے سے قاصر تھے، چارو ناچار ہم شہرزاد فونٹ استعمال کرتے، نستعلیق کا چسکہ لگانے کیلئے  کبھی علوی فونٹ اور اپنے حروف کیلئے شہرزاد فونٹ۔۔ ایک تکلیف دہ عمل سے گزر کر لکھتے تھے۔

اس صورتحال میں پھر ایف ایل آئی کو درخواست کی کہ ہمارا مسئلہ حل کرادو، یہ احسان ہم  بومکی زبانوں کے لوگ تاابد نہیں بھولیں گے۔ شکر ہے انہوں نے سی ایل ای کے ساتھ مل کر ہمارا یہ مسئلہ بھی حل کردیا۔ اب نفیس نستعلیق فونٹ میں کھوار سمیت شمالی پاکستان کی تمام زبانوں کے لکھاریوں کو نستعلیق میں کتب چھاپنے کا دور آئے گا۔ اپنے افسانوں کا ذکر کرنے کا محل یہ تھا، “اورائے” اسی فونٹ پر چھپے گا، اسی وجہ سے مجھے اس کا بے صبری سے انتظار ہے۔

میں ایف ایل آئی کے اس موقف سے اتفاق کرتا ہوں کہ ان کی زیادہ تر توجہ غیر معروف زبانوں پر ہی ہونی چاہئے، لیکن کچھ گزارشات ضرور پیش کرتاہوں۔ حالیہ دنوں چترال میں بولی جانے والی بارہ زبانوں کے محققین ، شعراء وغیرہ کو پہلی بار ایک جگہ اکھٹا کیا گیا اس کے لیے ایف ایل آئی کا تہہ دل سے مشکور ہوں، ہم اس شعبے سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنی تمام زبانوں کے لوگوں کو جانتے ہیں لیکن عام لوگوں کو چترال کی دیگر زبانوں کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں۔ میں مقامی صحافیوں کو بھی خراج تحسین پیش کرتاہوں جنہوں نے اس ایونٹ میں آئے ہوئے چترال کی دیگر زبانوں کے حوالے سے اچھی کوریج کی۔ ان کے بارے میں لوگوں کو معلومات دیں، بپلک لائبریری چترال ٹاؤن میں ان تمام شرکاء جنہوں نے دیگر زبانوں کے شعراء کی حوصلہ افزائی کیلئے امڈ کر آگئے، میں اس بات سے کافی متاثر ہوں۔ دراصل ایف ایل آئی  اور انجمن نے ہندوکش کانفرنس کی چوتھی  ایڈیشن کو جس پیشہ ورانہ مہارت سے جدید تقاضوں کے مطابق منعقد کیا تھا۔ لوگوں کے ذہنوں میں ایسے ہی ایونٹ کی پرچھائی تھی اس لئے حالیہ ایونٹ بھی کامیاب رہا، چترال میں ایکیڈیمیک سرگرمیوں کو فروغ دینے کا سہرا ضرور ایف ایل آئی کو جاتا ہے۔ عام تقریبات اور تہوار عوامی انداز میں منعقد کئے جاتے ہیں، لیکن یہ دور ایسے عوامی اجتماعات کا نہیں ہے۔ تحقیق کے انداز، اس کو پیش کرنے کے طور طریقے ، شرکاء کی اہمیت وغیرہ ہر مرحلے میں جدت آگئی ہے۔

عرض یہ ہے کہ چترال میں ہرسال انٹرنیشنل کانفرنس منعقد کرنا ممکن نہ ہوگا، لیکن ایف ایل آئی کے اتنے وسائل ضرور ہوں گے کہ حالیہ “چترال کی زبانوں کا مہرکہ” جیسے ایونٹ کو اس وادی کیلئے ایک کیلنڈر ایونٹ بنائے۔ مقام بھی وہی ہو، کیونکہ چترال پبلک لائبریری شہر کی گہما گہمی سے دور ایک پرسکون جگہ پر واقع ہے اور وہاں صرف تحقیق و ادب سے لگاؤ رکھنے والاہی شریک ہوگا، ہمیں عوامی اجتماع نہیں چاہئے۔ مئی کا مہینہ بہت مصروف ثابت ہوا، آئیندہ کیلئے ماہ ستمبر میں ایسے ایونٹ منعقد کئے جائیں تو موسم معتدل ہوتا ہے۔

وسائل کہاں سے آئیں گے، میں ایف ایل آئی کے ساتھ کام کرچکاہوں، میں یہ بات نجی محفل میں بھی ان سے کرسکتاہوں لیکن ایف ایل آئی پر دباؤ بڑھانے کیلئے عوامی پلیٹ فارم پر تجویز دیتاہوں تاکہ وہ اسے عوامی مطالبہ بناکر اپنے ڈونر کو پیش کریں اور ہمارے لئے چترال کی تمام زبانوں کو سال میں کم از کم ایک مرتبہ ملنے کا موقع فراہم کریں۔

گزشتہ پانچ مئی کو منعقد ہونے والے مہرکہ کے وقت کیا حالات تھے اور یہ مہرکہ اس کے باوجود کتنا کامیاب رہا اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ جشن قاقلشٹ اپنے اختتام کو پہنچ رہاتھا، لوگ بالائی چترال کی طرف جوق در جوق جارہے تھے، چترال ٹاؤن کے اندر چترال  میں” شندور “کے موضوع پر بننے والی فلم کی شوٹنگ چل رہی تھی، جس میں شرکت کیلئے لوگوں کو مفت کھانا وغیرہ  بھی افر تھی، اور تو اور ایک دن پہلے بارشوں کی وجہ سے ٹمپریچر صفر تک گر گیا تھا اور اگلے دن بھی بارش کا امکان تھا، پھر بھی اس ایونٹ میں ڈیڑھ سو سے زائد شرکاء جو کہ چترال کے طول و عرض سے آئے تھے ، کا شامل ہونا ہمیں یہ حوصلہ دیتاہے کہ بس ایف ایل آئی ہمارے لئے کوئی موقع فراہم کرے، ہم اس کے لیے وقت نکال لیں گے۔ اس سمیت دیگر محافل  کی کامیابی میں ہماری تنظیم “مئیر” کا بھی چھوٹا سا کردار ہمیشہ شامل رہتاہے، اس پر دلی خوشی ہے، اپنی ٹیم پر ہمیشہ نازاں رہتاہوں۔

وسائل کہاں سے آئیں گے، میرا مشورہ ہے کہ ایف ایل آئی ہر کمیونٹی کو سال میں کچھ نا کچھ تقریبات کی مد میں مدد فراہم کرتا ہے، چترال کے حوالے سے ہر کمیونٹی کو الگ فنڈ کرنے کی بجائے ایک اجتماعی مہرکہ کیلئے استعمال کرے تو اس کے فوائد دو رس ہوں گے۔ ایف ایل آئی نے تحفظ کا کام بہت کیا اب فروغ پر زیادہ توجہ دے تو زیادہ کامیابی ہوگی۔

جاتے جاتے ایک اور مطالبہ کہ، میئر کے پلیٹ فارم سے کھوار کیلئے ایک آن لائن ڈکشنری پرکام ہورہاہے، جو کہ اردو کی “ریختہ” کے انداز میں کام کرے گی، لوگ انٹرنیٹ پر کھوار کے مشکل الفاظ کے معانی سمجھ سکیں گے،یہ  بھی ایک یونیک  آئیڈیا ہے ۔ ہاں یاد آیا  کہ کھوار میں شائع ہونے والا واحد نثری رسالہ “کھوار نامہ ” چودہ شمارہ شائع ہونے کے بعد  فنڈنگ نہ ہونے کی بنا پر انکھوں سے اوجھل ہے اس کےلیے  ایف ایل آئی کے نام کسی دوسرے موقع پر آرٹیکل آئے گا۔ انتظار کیجئے۔


Uploaded on 1 June 2024

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *