شندور افواہوں کی زد میں

shandur controversy

تحریر: ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

ضلع اپر چترال خیبر پختونخوا کا سیاحتی مقام شندور ان دنوں افواہوں کی زد میں ہے۔ نوجوان سکالر ذاکر اللہ کا کھواری ویب سائٹ پر گزشتہ دنوں شائع شدہ مضمون “شندور تنازعے سے متعلق تاریخی دستاویزات” نظر سے گذرا۔ اس کا عنوان بہت جاذب نظر اور پُرتجسس ہے۔

اس عنوان کو پڑھ کر نفس مضمون کے بارے میں اُمید پیدا ہوتی ہے کہ 1914 سے لیکر 2011 تک جرگوں، کمیشنوں اور عدالتوں میں پیش کی گئی دستاویزات کا جائزہ لیا ہوگا لیکن مضمون کو غور سے پڑھنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ دستاویزات سے مراد شاہ خیر اللہ، سلیمان شاہ، گوہر امان خوشوقیتہ اور امان الملک کٹور کی حکومتوں کا جائزہ، انگریزوں کے اقتدار میں شجاع الملک اور انگریزوں کی اُسی خط و کتابت کا جائزہ ہے جو یاسین، غذر، اشکومن اور پنیال کے علاقے پہلے کی طرح چترال کی ریاست کو دینے کے سلسلے میں ہوئی تھی۔

گلگت بلتستان کی شندور کی قریب ترین آبادی برست جبکہ چترال کی سور لاسپور میں ہے

میرے فاضل دوست نے چترال اور غذر، یاسین، اشکومن اور پنیال پر سابق ریاست چترال کے حکمران خاندان کی دو شاخوں خوش وقت اور کٹور کے اقتدار میں آنے والے اتار چڑ ھاؤ کا تفصیل سے ذکر کیا ہے جو ”اُدھر تم ادھر ہم“ کے مصداق جاری رہتا تھا یا رسہ کشی کی کیفیت سے گذرتا تھا۔ جب خوش وقت خاندان اقتدار میں آتا تو اپر چترال مستوج کے علاقے پر اپنا نمائندہ مقرر کرتا، جب کٹور کی حکومت ہوتی تو غذر، یاسین، اشکومن اور پنیال پر مہتر چترال کا نمائندہ حکومت کرتا تھا۔ انگریزوں کے آنے کے بعد ایسے نمائندوں کو باقاعدہ گورنر کا نام دیا گیا۔

فاضل مصنف نے قائداعظم کے نام مہتر چترال کے خط سمیت 9 دستاویزات کا حوالہ دیا ہے جن میں سے ایک بھی شندور تنازعے کے بارے میں نہیں۔ ان فائلوں میں اُس وقت کے انتظامی اور سفارتی تبدیلیوں کو زیر بحث لا یا گیا ہے۔ اپر چترال اور غذر کے درمیان شندور اور لنگر کے دو درے آتے ہیں۔ تاریخ میں ان دروں سے کئی لشکر اور کئی تجارتی کاروان گذرے ہیں۔ تیرہویں صدی میں سوملک کی حکومت کے دوران چترال کے لوگوں نے لنگر کے جنگل سے عمارتی لکڑی کاٹ کر شندور میں 250 گرمائی مکانات تعمیر کئے۔ وقت گذرنے کے ساتھ ان مکانات میں اضافہ ہوتا رہا۔ 2024ء میں 4 الگ الگ مواضعات پر گرمائی مکانوں کی تعداد 700 تک پہنچ گئی ہے۔ گزیٹئیر آن چترال 1908 اور 1928 میں شندور کو چترال کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ تاریخ میں شندور کبھی متنازعہ نہیں رہا البتہ انگریزوں کے دور حکومت میں مشرق کی طرف لنگر کے جنگل کو تحفظ دینے کے لئے قواعد و ضوابط نافذ کئے گئے۔

تنازعہ والی غلط فہمی کا ازالہ ایک دستاویز کے ذریعے کیا جاسکتا ہے۔ یہ 16جولائی 1928 کا ٹیلیگرام ہے جس کی نقل 22 جولائی کی تاریخ میں مہتر چترال کے سیکرٹری کو بھیجی گئی۔ ٹیلیگرام میں لکھا ہے کہ 8 اگست کو گلگت سے کپٹن وائٹ جبکہ چترال سے کپٹن گورینج اور کپٹن سٹاپولٹن شندور میں ملاقات کریں گے۔ ایک عورت کی طلاق اور ایک شخص کے قتل کے دو مقدمات کی سماعت ہوگی۔ لاسپور کے حاکم کو اطلاع دی جائے کہ پولو کے کھلاڑیوں اور مقدمات کے فریقین کو لے کر شندور آجائے۔ ان کے علاوہ کوئی مسئلہ زیر التوا ہو اس پر بھی بات ہو گی۔ جواب میں لکھا گیا کہ اور کوئی مسئلہ زیر التوا نہیں اگر تنازعہ ہوتا تو ضرور اس کا ذکر آجاتا۔

فاضل مضمون نگار کی ایک غلط فہمی یہ بھی ہے کہ شندور میں انگریزوں کا ڈاک بنگلہ تھا۔ حقیقت یہ ہے شندور میں مہتر چترال کا ذاتی بنگلہ تھا۔ مذکورہ ٹیلی گرام کے آخر میں لکھا ہے کہ ہزہائنس مہتر چترال کا بنگلہ اگر رہائش کے لئے دستیاب ہو تو بہت سہولت ہوگی۔ جواب میں لکھا ہے کہ بنگلہ رہائش کے لئے بالکل تیار ہے۔ اس دور میں شندور میں چترال اور گلگت کے درمیان حد بندی پر کبھی تنازعہ نہیں ہوا۔ لنگر کے مقام پر حدبندی تھی۔ 1876ء میں بڈالف اور لوکہارٹ کا استقبال مہتر چترال کے بیٹے شہزادہ نظام الملک نے لنگر کے مقام پر کیا۔ 1895ء میں کرنل کیلی کا لشکر گلگت سے لنگر پہنچا تو غذر کے حا کم نے آگے محافظ اور قلی بھیجنے سے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ ہماری حدبندی ختم ہو گئی ہے۔ یہاں سے آگے چترال والوں کی ذمہ داری ہے۔

Shandur Lake in 1885, Lockhart Mission to Chitral

ینگ ہسبنڈ کی کتاب ریلیف آف چترال میں یہ تفصیل موجود ہے۔ لو کہارٹ پیپرز میں اس کا تفصیلی ذکر آیا ہے۔ اس بنیاد پر ڈاک کی ذمہ داری بھی چترال سے لنگر تک چترال کی ریاست کو دی گئی۔ ڈاک اور پارسل کے لئے جو ریٹ مقرر کئے گئے ان دستاویزات میں چترال سے مستوج، اور مستوج سے لنگر کے الگ الگ ریٹ درج ہیں۔

جہاں تک لنگر کے سلسلے میں دو طرفہ جرگوں کا تعلق ہے لنگر کے جنگل کو تحفظ دینے کے لئے پہلا جرگہ 25 جولائی 1914 کے دن شندور کیمپ میں ہوا۔ جرگہ میں غذر کی نمائندگی راجہ مراد خان نے کی۔ جرگہ نے لکڑی کاٹنے پر محدود پابندی عائد کی جس کا اطلاق غذر اور چترال دونوں جگہوں کے لوگوں پر یکساں کیا گیا۔ جرگے کی دستاویز پر اے پی اے چترال کیپٹن ڈی جی ولسن اور سپیشل اسسٹنٹ گوپس کپٹن اے جی شے کے دستخط ثبت ہیں۔ اس سلسلے کا ایک اور جر گہ 26 اگست 1959 کو منعقد ہوا جس میں راجہ جان عالم، مہترژاو شیرزادہ خان مہترژاو خان بہادر نے گلگت کی نمائندگی کی۔ شہزادہ خوش وقت الملک، شہزادہ برہان الدین، حاکم لنگر مراد خان اور چارویلو صاحب نگین چترال کی طرف سے جرگہ میں بیٹھے۔

اس جرگہ نے جنگل کے لئے ایک واچر چترال کی طرف سے اور ایک واچر گلگت کی طرف سے بطور سرکاری ملازم مقرر کرنے کی سفارش کی۔ نیز خلاف ورزی کرکے جنگل کاٹنے والوں پر جر مانہ عائد کرنے کا حکم دیا۔ حکم میں کہا گیا کہ جرمانے کا آدھا حصہ سرکاری خزانے میں جمع ہو گا آدھا حصہ مقامی انتظامیہ کو دیا جائے گا۔ مزید صراحت کی گئی کہ چترال کا باشندہ خلاف ورزی کرے تو جرمانہ کا آدھا حصہ چترال انتظامیہ کو ملے گا، غذر کا با شندہ اپنے جرمانے کا آدھا حصہ غذر انتظامیہ کو ادا کرے گا۔ جر گہ کی دستاویز پر راجہ حبیب الرحمن پولیٹکل ایجنٹ گلگت اور سید عمران شاہ ایڈیشنل پولیٹکل ایجنٹ چترال نے دستخط کئے۔

سنہ 1975ء میں فیڈرل لینڈ کمیشن نے چترال کے اندر زمینات کی رپورٹ شائع کی جو 31 جولائی 1975 کو سرکاری گیزٹ میں شائع ہوئی جس میں شندور کے دو پو لو گراونڈ اُس وقت کے این ڈبلیو ایف پی کی ملکیت قرار دیئے گئے۔ اس کے خلاف گلگت اور غذر نے کوئی اپیل نہیں کی۔ 1980ء میں شندور کے مقام پر چترال سکاؤٹس کا آفیسرز میس تعمیر ہوا اور شندور کے پولو میلے کو سالانہ جشن کا درجہ دیا گیا۔ اس کے بعد وقتاً فوقتاً ملکیت کے سوالات گلگت کی طرف سے اٹھائے جا نے لگے۔ 19جو لائی 2003ء کو سفیران اور کانا کی دو وزارتوں کے افسروں پر مشتمل وزارتی کمیشن کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا۔ گلگت کی طرف رائے سرفراز شاہ اور چترال کی طرف سے شہزادہ محی الدین کی قیادت میں وفود نے اپنا اپنا موقف پیش کیا۔ وزارتی کمیشن نے معاملے پر “حالت موجودہ” برقرار رکھا۔

گلگت کی طرف سے رائے سرفراز شاہ وغیرہ نے 2019 میں سپریم ایلیٹ کورٹ گلگت میں شندور کا تنازعہ اٹھایا۔ 22 جون 2011 کو عدالت نے حالت موجودہ برقرار رکھا۔

آئندہ جب بھی جہاں بھی جرگہ ہوگا مذکورہ دستاویزات کی روشنی میں بحث ہوگی اور انہی دستاویزات کی بنیاد پر کوئی نتیجہ اخذ کیا جائے گا۔ اگر فاضل مصنف نے 1914ء میں غذر سے ملحقہ علاقے مہتر چترال سے واپس لینے کا ادھورا ذکر کیا ہے اس کی وجہ 1843 کے معاہدہ امرتسر کے سوا کچھ اور نہیں تھی۔ غذر میں شاملاتی اراضی کو اب تک خالصہ کا نام دیا جا تا ہے۔ اگر فاضل مصنف خواہش کرے تو مذکورہ بالا دستاویزات کی نقول بذریعہ ای میل اپنے دوست کی خدمت میں بصد ادب و احترام پیش کروں گا۔

حوالہ جات

۔ محمد غفران مرزا- نئی تاریخ چترال، لطیف برادرز پشاور 1962ء، ص 6
۔ ایضاً، ص 28
۔ ایضاً، ص 37
۔ ایضاً، ص 118
ینگ ہسبنڈ۔جے۔ وی- ریلیف آف چترال، 1895 انگلش بک ہاؤس اسلام آباد، ص 195-189
۔ ریڈز آن گوپس، لاسپور بارڈر- فائل نمبر پی۔22، ص 375
۔ سروے آف پا کستان، میپ پالیسی، فائل نمبر پی۔22 ڈی سی آف چترال، ص 379
۔ این ڈبلیو ایف پی لینڈ کمیشن گزٹ نوٹفکیشن، 5 اگست 1975، ص 210
۔ ڈپٹی کمشنر آفس چترال لوئر فائل نمبر پی آر 22 ص 21
۔ ایضاً، ص 112 معاوضہ زمین
۔ ایضاً ص ص 261۔262
۔ ایضاً ص ص 282۔283
۔ ایضاً ص سفیران کا خط
۔ ایضاً عدالتی فیصلہ
۔ محمد شہاب الدین ایڈوکیٹ، شندور کوکوش لنگر، حقائق نامہ چترال، پرنٹنگ پریس چترال 2016ء
۔ گیزیٹر آن چترال، گورنمنٹ آف انڈیا پریس کلگتہ 1908ء


Posted on 31 March 2024

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *