جشن قاقلشٹ اور ماحولیاتی آلودگی
تحریر: فرید احمد رضا
قاقلشٹ بونی کے سامنے وسیع میدان پر مشتمل چراگاہ، یعنی غیر کاشت رقبہ ہے جو بونی اور موڑکھو کے دونوں دریاوں کے درمیان واقع ہے۔ یہاں پر مارچ اور اپریل کے مہینے میں بارش ہونے کی صورت میں خودرو گھاس اور سبزہ اگتا ہے۔ اس خودرو گھاس اور سبزے کی وجہ سے یہ وسیع میدان ایک خوبصورت اور دلکش منظر پیش کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کافی عرصے سے قاقلشٹ کے مقام پر جشن بہاراں ان مہینوں میں منایا جاتا ہے۔ اس طرح سے چترال میں سردیوں کے ستائے ہوئے لوگ اس پر فضا مقام پر خوش گوار موسم سے لطف اندوز ہونے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔
چترال میں کہیں اور اس طرح کے وسیع میدان یا چراگاہ موجود نہیں ہے۔ یہاں پر ایک دن میں ہزاروں لوگ بھی آجائیں تو کھیل کے میدان سے لے کر خیمہ لگا کر شغل میلہ سجانے تک ہر ایک کومناسب جگہ مل جاتی ہے۔ یہیں وجہ ہے کہ کھیل کود کے شائق، میوزک کا دلدادہ، پیدل چلنے والے اور رات کو اوپن ائر وقت گزارنے کے شوقین حضرات سب یہاں جاتے ہیں۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں چترال میں چترال والوں کے لیے یہ واحد علاقہ ہے جہاں ہر کوئی اپنے ذوق کے مطابق قدرتی مناظر اور سہانے موسم سے لطف اٹھا سکتا ہے۔
اپریل 2024 کو بولان لشٹ بونی کے مقامی نوجوانوں کی طرف سے بونی لشٹ کے (قاقلشٹ) مقام پر ایک جشن کا انعقاد کیا گیا تھا۔ عید کی چھٹیوں کے بدولت اپنوں کے ساتھ مجھے بھی قاقلشٹ یاترا کرنے کا موقع میسر آیا۔ گاوں کے دوستوں، بزرگوں کے ساتھ جشن میں شرکت کرکے دلی خوشی ہوئی۔ اس دن بہت سارے لوگ دوسرے علاقوں کے بھی آئے ہوئے تھے اور خوش گوار موسم کا لطف اٹھا رہے تھے۔
قاقلشٹ جاکے دکھ اس بات کا ہوا کہ سیاح خاص کرکے نوجوان بغیر ضرورت گاڑیاں دوڑا رہے تھے۔ موٹر سائیکل والے ہر ایک ٹیلے پر موجود تھے۔ سیاحوں کے غیر محتاط رویوں کی وجہ سے جہاں جہاں وہ لوگ گئے تھے ان کی نشانی کے طور پر ڈھیر سارے پلاسٹک بیگ، مشروبات کے خالی ڈبے، بوتلیں، آگ جلانے کے بعد کے کچرے، روٹی کے باسی ٹکڑے میدان میں ادھر ادھر بکھرے پڑے تھے۔ گاڑیوں کی غیر ضروری نقل حرکت سے مٹی کا دھواں ایسے اڑ رہا تھا کہ بیان کرنے سے باہر ہے۔
ہم ہروقت آلودگی کے بارے میں باتیں کرتے رہتے ہیں۔ یہی تو آلودگی ہے جوہم قاقلشٹ میں پھیلا رہے ہیں اور زمین، پانی اور فضا کو زہریلے مادوں سے بھر رہے ہیں۔ آلودگی ان طور طریقوں کا مجموعہ ہے جس کی وجہ سے ہم ہرجاندار اور ذی روح کے لیے اپنے ماحول کو ناقابل استعمال بنا دیتے ہیں۔ انسان تو انسان قاقلشٹ میں ہونے والی ماحول کی آلودگی کی وجہ سے گاوں والوں سے یہاں پر چرنے کےلیے لائے گئے بھیڑ،بکریوں کی زندگیوں کو بھی ان ضائع شدہ گندگیوں کے ڈھیر کی وجہ سے خطرات لاحق ہوتے ہیں۔
قاقلشٹ میں گاڑیوں کو بےغیر ضرورت ادھر ادھر دوڑانے سے نہ صرف قاقلشٹ میں موجود گھاس پھوس اور سبزہ تباہ ہوجاتا ہے بلکہ اردگرد کے گلیشیرز کے اوپر بھی ان کا منفی اثر پڑ رہا ہے۔ مٹی کا دھواں یہاں سے اڑ کر جب ان گلیشرز کے اوپر پڑجاتا ہے تو یہ ان کے پگھلنے کے عمل کو تیز کرتا ہے۔ اس سے علاقے میں سیلاب آنے کا خطرہ رہتا ہے۔
ڈسٹرکٹ اپر چترال کی انتظامیہ مندرجہ ذیل اقدامات اٹھاکر قاقلشٹ میں ہونے والی اس ماحولیاتی آلودگی کو بہت حد تک کم کرسکتی ہے۔
سب سے پہلے قاقلشٹ میں اپنی مرضی سے ادھر ادھر گاڑی چلانے کے اوپر پابندی لگائی جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ انتطامیہ سیاحوں کے لیے پارکنگ ایریا مختص کرے۔ ایک پارکنگ ایریا جنالکوچ موڑکھو روڈ سائیڈ پر کہیں بنایا جائے۔ دوسرا پارکنگ ایریا بونی کشم روڈ کے درمیان کہیں مختص ہوں ۔ اس پارکنگ ایریا کے علاوہ قاقلشٹ کے اندر اپنی مرضی سے کہیں بھی گاڑی چلانے کی ممانعت ہو۔
سیاحوں کو پابند کیا جائیں کہ وہ جو چیزیں کھانے کے لیے ساتھ لاتے ہیں اس کے کچرے یعنی کہ پلاسٹک، شاپنگ بیگ، مشروبات کے خالی ڈبے، بوتلیں، وغیرہ قاقلشٹ میں نہ پھینکیں بلکہ اپنے ساتھ لے جاکر کہیں صحیح طریقے سے ان کو ضائع کرے۔ سیاحوں کی آسانی کے لیے قاقلشٹ میں مختلف جگہوں پر انتظامیہ کی طرف سے ڈسٹ بین بھی رکھے جاسکتے ہیں۔
قاقلشٹ میں رات گزارنے کے لیے آنے والوں کے لیے کیمپنگ کے لیے بھی جگہ مختص ہوں۔ سیاحوں کو کہیں بھی اپنی مرضی سے آگ جلانے اور ٹینٹ لگانے پرپابندی لگائی جائے۔
آخر میں ایک بات، ان ساری اقدامات کا مقصد قاقلشٹ میں ہونے والی سرگرمیوں سے ماحول کے اوپر منفی اثر سے بچانے کے لیے ہوں۔ ان اقدامات کا مقصد کسی سیاح کو تنگ کرنا ہرگز نہ ہوں۔ یہ بات عوام کو سمجھائی جائے یہ اقدامات معاشرے کے فلاح کے لیے ہے تو مقامی لوگ اور آنے والےسیاح بھی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں گے۔ اس طرح علاقے میں مثبت سرگرمی بھی جاری رہے گی اور ماحولیاتی آلود گی کے اثر کو بھی کم کیا جا سکے گا۔