میرزا حیدر دوغلت اور چترال
میرزا حیدر دوغلت
تحریر: ہدایت الرحمان
میرزا حیدر دوغلت ایک چغتائی شہزادہ، مورخ، فوجی جنرل اور مہم جو تھے۔ وہ شہنشاہ بابر کے خالہ زاد بھائی تھے اور 11 سال تک کشمیر کے گورنر رہے۔ میرزا حیدر کے والد محمد حسین نے غالباً 1492-1493 میں مغلستان کے حکمران یونس خان کی تیسری بیٹی شہزادی خوب نگار سے شادی کی تھی۔ بابر کی ماں قطلوغ نگار خانم اور میرزا حیدر کی ماں خوب نگار خانم سگی بہنیں تھیں۔ 1499ء میں محمد حسین کے ہاں تاشقند میں ایک بیٹا حیدر دوغلت پیدا ہوا۔ محمد حسین اس وقت وہاں گورنر تھے۔ بلات نے لکھا ہے کہ ان کی پیدائش ترک قازقوں اور ازبکوں کے درمیان ہوئی تھی مگر اس نے ان کے بیچ اپنی نسلی انفرادیت برقرا رکھی۔ والد کی وفات کے وقت ان کی عمر صرف 9 سال تھی چنانچہ بابر نے ان کی دیکھ بھال کی۔
میرزا کی لکھی گئی کتاب “تاریخ رشیدی” وسطی ایشیا کے مغلوں اور ترکوں کی ایک اہم اور قابل قدر تاریخ ہے۔ تاریخِ رشیدی سے پتہ چلتا ہے کہ حیدر کے دو چھوٹے بھائی عبداللہ اور محمد شاخ کے ساتھ ساتھ بہنیں بھی تھیں۔ کشمیر کے بعض سرداروں کی دعوت پر مرزا حیدر نے 1540 میں وادی کشمیر کو فتح کیا اور وہاں امن قائم کیا۔ 1551ء میں بھیربل (کشمیر) کے باشندوں نے اسے اس وقت قتل کر دیا جب وہ امن و امان کی بحالی کے لیے وہاں گیا تھا۔
تاریخ رشیدی دو حصوں میں لکھی گئی ہے، پہلا حصہ 951 اور 952 ہجری (1544 اور 1545 عیسوی) اور دوسرا 948 ہجری (1541ء) میں لکھا گیا تھا۔ درحقیقت دوسرا حصہ تالیف کے وقت کا پہلا خاکہ ہے اور اس میں مصنف کی زندگی کے حالات شامل ہیں۔ جب تاریخ رشیدی مکمل ہوئی تو میرزا نے اسے کاشغر کے عبدالفتح سلطان سید کے بیٹے عبدالرشید خان کے نام کر دیا۔ تاریخ رشیدی کا آغاز تغلق تیمر مغل خاقان کے بیان سے ہوتا ہے جنہوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا تھا۔ میرزا حیدر وہ واحد مورخ ہیں جنہوں نے ہمیں قازق خانیت کی بنیاد کی تاریخ دی ہے – 1465، 1466، ان کی تفصیل کے مطابق، “مورخ کووتون نے کہا۔ “دغلات نے بیان کیا کہ کس طرح قازق ریاست کے بانی خانوں جانی بیک اور کیری نے ابوالخیر خان کے ذریعے بنائے گئے وسطی ایشیائی قبائل کے اتحاد کو چھوڑ دیا اور جدید جنوب مشرقی قازقستان کے ایک کونے میں دریائے زیتیسو کے کنارے اپنی آزاد خانیت قائم کی۔ تقریباً 50 سال بعد، دغلت اس علاقے میں سفر کر رہا تھا، جو اس وقت مغل سلطنت کی سرحد پر تھا۔ انہوں نے قازق خان قاسم سے ملاقات کی اور اس وقت کی نوزائیدہ ریاست کی تاریخ لکھی۔ انہوں نے اپنی کتاب میں وسطی ایشیا کی سیاست پر بحث کرنے اور بابر اور ہمایوں کی تاریخ پر بات کرنے کے لئے بہت زیادہ جگہ وقف کی۔ وہ بابر کی عظیم شخصیت اور کردار کی طاقت کی تعریف کرتا ہے اور اس کا شکریہ ادا کرتا ہے۔ وہ ہمایوں کی ہندوستان میں سرگرمیوں کے بارے میں مزید تفصیلات دیتا ہے۔ ہمیشہ ہمایوں کے وفادار مرزا حیدر نے جنگ قنوج میں شاہی فوج کے ایک ونگ کی کمان کی۔ لہٰذا اس جنگ کے بارے میں ان کی رائے ایک عینی شاہد کا بیان ہے۔ تاریخ رشیدی کا انگریزی میں ترجمہ سر ای ڈینسن راس نے کرکے 1898ء میں شائع کیا۔
تاریخ رشیدی اور بلور
میرزا حیدر دوغلت نے چترال اور یاسین کے لیے “بلور” کا لفظ استعمال کیا ہے۔ بلور کا لفظ آٹھویں صدی عیسوی سے چینی دستاویزات میں ملتا ہے۔ اس کا مطلب ہے “پہاڑی”۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ “بالا” سے آیا ہے جس کا مطلب ہے اونچا یا بالائی۔ اس طرح اس کا مطلب پہاڑیوں کی سرزمین ہے۔ چینی مورخ فاہیان نے اس کا پولو یا پالولو کے نام سے ذکر کیا۔ تبتی اسے نانگ کھود کہتے ہیں۔ عرب مورخین نے اسے بلورستان کہا۔ مزید یہ کہ تھیوڈرے فوسٹر نے لندن کے سہ ماہی ریویو میں کہا ہے کہ مسلمان جغرافیہ دانوں کو اس علاقے کا نام معلوم نہیں تھا۔ بہت کم صورتوں میں نام پایا جاتا ہے۔ تاریخ راشیدی کا سب سے پہلے استعمال علاقہ گلگت بلتستان کے معروف مورخ عبدالحمید خاور نے کیا تھا۔ خاور بھی گلگت میں اسلام کا آغاز 1528ء بیان ہے۔
میرزا حیدر دوغلت نے بلور کی تہذیب و تمدن کا یوں نقشہ کھینچا ہے کہ بلور کی تمام آبادی غیر مسلم ہے۔ تمام لوگ کوہ پیما ہے۔ مختلف وادیوں میں مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ہر گاؤں کے لوگ دوسرے گاؤں سے ہمیشہ لڑتے رہتے ہیں۔ بلور میں میدانی علاقے اور چراگاہیں کم ہیں اس لیے لوگ بہت کم تعداد میں مال ماویشی پالتے ہیں۔ بلور میں انار کی ایک خاص قسم پائی جاتی ہے جن کے بیج سفید رنگ کے ہوتے ہیں۔ (یہ انار اب بھی چترال کے گاؤں سین اور چمرکھن میں پایا جاتا ہے)۔ وہاں کا شہد بھی بہت مشہور ہے۔ بلور میں باغات بہت ہی خوبصورت ہوتے ہیں۔ اس کے شمال میں یارکند اور مغرب میں کابل واقع ہے۔ سب پہلے 1528ء میں خان کے حکم پر رشید سلطان کے ساتھ میرزا حیدردوغلت بلور میں غزہ یعنی جنگ کے غرض گیا تھا۔ تاریخِ اسد اللہ بیگ کے مطابق ان کی فوج کو چترال میں سین لشٹ کے قریب سین ڈوک نامی جگہ شکست ہوئی۔ اس وقت چترال پر کالاشوں کی حکومت تھی۔ ان کی فوج کو قید کیا گیا اور پھر ان سے کھیتی باڑی میں مشقت کا کام لیا گیا۔ دوسری دفعہ 1537/38ء میں کاشغاری فوج کو بلور میں فتح نصیب ہوئی اور وہاں کافی مقدار میں مال غنیمت لے کر واپس سیر چوہان کے لیے روانہ ہوئی۔ میرزا حیدر دوغلت نے چترال اور گلگت کے مہمات کے بعد بلتستان میں بھی جنگوں میں حصہ لیا۔ وہ بتاتے ہیں کہ بلوریوں کا کوئی خاص مذہب ہے نہ حلال و حرام کا تمیز کرتے ہیں۔ بلور کی تمام آبادی کی غیر مسلم ہونے کی تصدیق اطالوی سیاح مارکو پولو نے بھی کی ہے۔
جدید تحقیق کے مطابق اس جنگ میں چترال کے آخری کھو حکمران بلہ سنگھ مارا گیا (وزیر علی شاہ 1961ء) اور چترال میں ایک اسلامی حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا۔ نئی تاریخ چترال کے مطابق بلہ سنگھ کی شکست یارکند کے ترکوں کے ہاتھوں 1320ء میں ہوئی۔ یہ تاریخ انہوں نے مولوی حشمت اللہ خان کی تاریخ جموں سے لی ہے جسے جدید مورخین اور محقیقن نے غلط ثابت کردیا ہے۔ شاہ نادر ممکنہ طور پر اس دور میں حکمران بن گئے ہوں گے۔ چترال کی آبادی میں کسی بڑی پیمانے پر مذہب کی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اس وجہ سے اخوند داروازہ 1580ء میں فرماتے ہیں کہ چترال کا حکمران ترک زبان بولتا ہے اور سنی مسلمان ہے اور رعایا غیر مسلم ہیں۔ یعنی میرزا حیدر دوغلت کے حملے کے 40 سال بعد میں بھی چترال میں اسلام نہیں پھیل سکا۔ اس طرح مصنف سلوک غزات تذکراہ لشکریان 1650ء میں لکھتا ہے کہ چترال کی آبادی کی اکثریت غیر مسلم ہے اور وہ خود چترال میں اسلام پھیلانے کے لیے مختلف جنگوں حصہ لیا تھا۔ (ایم ایم 1650ء)
میرزا حیدر دوغلت چترال کے جنوبی حصے میں کہاں تک ٖفتح کیا اس بابت مشہور یورپی لکھاری بیرو لکھتا ہے کہ ایون چترال میں ترکستانی عملداری کی آخری حد بند ی تھی۔(بیرو1887ء) وہاں پر ترکستانی افواج کا ایک قلعہ بھی تھا جسے “بنجو نغور” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ خوشحال خان خٹک (1613ء:1669ء) نے اپنی کتاب “سوات نامہ” میں چترال میں غزات (جنگوں) کا ذکر کیا ہے جو سوات کی یوسف زئیوں نے چترال میں کافروں سے کی تھی۔
اس دور میں چترال کے مرکزی قلعے کو بالاحصار اوچوشٹ سے جنگ بازار چترال منتقل کیا گیا۔ چترال میں خوشے، ماجے، کنڈوے، شامے، میر کلے، خسروے، مغلے، سرورےبعض قاضیان قبائل کی آمد بھی اسی دور میں ہوئی ہوگی اور چترال میں پانی اور چراگاہوں کی تقسیم کا موجودہ نظام بھی غالباً اسی دور میں بنا کیونکہ یہ طریقہ کار یارکند کے مغلوں کی طرز پر ہے۔ مساجد کے ساتھ قبرستان بنانے کا رواج اس دور میں پروان چڑھا ہوگا۔ کاشغر میں امراء کی قبریں مساجد کے احاطے میں بنوانے کا رواج پہلے سے تھا مگر چترال میں قبرستان گاؤں سے دور پہاڑوں واقع ہوتے تھے۔ لوک روایات کے مطابق چترال کی اولین مساجد “شاہی مسجد جنگ بازار” اس دور میں تعمیر کروائی گئی تھی (شومبرگ 1938ء) جسے بعد میں متعدد بار دوبارہ تعمیر کی گئی۔چترال میں کاشغر کے چغتائی مغلوں کی حکومت 1540ء سے 1620ء تک جاری رہی۔ (ہولزورتھ 1990ء)۔ چترال کے جنوبی علاقے لاوی میں شہزادہ جہانگیر بن اکبر کے ساتھ جنگ بھی اسی دور میں لڑی گئی۔(گارڈن 1903ء) مغلوں کے بعد بدخشان کے شاہ بابر بن شاہ قزل نے حکومت پر قبضہ کرلیا۔ اسی طرح چترال اسی سالوں تک کاشغر کے حکمرانوں کی باج گزاری میں رہی۔ اس وجہ سے چترال کا نام بھی کاشغر کے نام سے پکارا جانے لگا۔ 1620ء کے بعد چترال بلخ کی ماتحتی میں آگئی۔ (ایضا”)
میرزا حیدر دوغلت نے افغانستان کے علاقہ خوست بقلان سے کافرستان (چترال) کے علاقے کو “کٹور” کا نام دیا ہے۔
بلور کی جغرافیہ پروفیسر وولف گینگ ہولزورتھ اور ایلس راس نے کابل سے کشمیر تک کا علاقہ بتائی ہے۔ ہولزورتھ مزید لکھتے ہیں کہ بلور کا اصل علاقہ چترال اور ورشگوم (یاسین، غذر اور اشکومن) تھا۔ (ہولزورتھ 2022ء)
میرزا حیدر دوغلت کشمیر میں گیارہ سالوں تک گورنر رہے۔ اس دور میں ان کے تعلقات مقامی شعیہ کمیونٹی سے بہت خراب رہے۔ انہوں نے ان کے خلاف سخت اقدامات کیے جس کے نتجے میں 1551ء میں مقامی شرفاء نے میرزا حیدردوغلت کو قتل کروادیا۔(ذہن 2015ء) وہ کشمیر کے شہر سری نگر میں دفن ہوئے۔ اُنیسویں صدی عیسوی میں برٹش حکام نے ان کی قبر کی دوبارہ تعمیرکی۔ حال ہی میں انڈین گورنمنٹ نے قبر کی پھر سے تزئین و آرائش کی ہے