گیڈن مُلکی
تحریر: ہدایت الرحمان
انگریز افسر بی ای ایم گارڈن ہندوکش ہمالیہ کی سیاست میں ایک معروف نام تھا۔ ان کو چترال کی لوک روایات میں “گیڈن ملکی یا گیڈن فرنگی” کے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ کا پورا نام “بیرنارڈ ایویلن میلش گارڈن” تھا۔ گارڈن اپنے وقت کے بہترین منتظم تھے اور چترال کے شاہی قلعے کے محاصرے کے بعد مشہور ہوئے۔

پیدائش، خاندانی پس منظر اور فوجی و سیاسی ملازمت
گارڈن 2 ستمبر 1867ء کو شملہ پنجاب انڈیا میں پیدا ہوئے۔ آپ میجر جنرل ایولین پلٹنی گورڈن کے تیسرے بیٹے تھے۔ آپ کے والد نے 1857ء کی جنگ آزادی میں برطانیہ کی طرف سے ہندوستانیوں سے لڑتے ہوئے میڈل حاصل کیا تھا۔ وہ پنجاب انصاف کمیشن کے ممبر رہے۔ عسکری پروفیشن آپ کو ماں اور والد کی طرف سے وراثت میں ملی تھی کیونکہ والد پرانے ہندوستانی فوج میں ایک جنرل تھے اور اس کی والدہ جنرل سنڈیمن کی بیٹی تھیں۔ سر رابرٹ گرووز سینڈمین کے سی ایس آئی (1835–1892) ایک برطانوی ہندوستانی فوج کے افسر اور نوآبادیاتی منتظم تھے۔ وہ بلوچستان میں اپنی سرگرمیوں کے لئے جانے جاتے تھے جہاں انہوں نے “قبائلی امن” کا ایک نظام متعارف کرایا جو 1947ء میں تقسیم ہند تک برقرار رہا۔ آپ کے ننھیالی رشہ داروں میں ایک خاتون نے حکومت آسڑیلیا میں وزیر کا عہدہ حاصل کیا تھا۔ (حوالہ: ایچ ج 1949ء)
گارڈن کو ہیلی بیری امپیریل سروس کالج اور رائل ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ سے تعلیم و تربیت حاصل کرنے کے بعد 25اگست 1886ء کو برٹش انڈین آرمی میں کمیشن ملی ملی۔ ان کی پہلی پوسٹنگ برٹش انڈین آرمی کے فارن اینڈ پولیٹیکل ڈیپارٹمنٹ میں ہوئی۔ 1892ء میں لیفٹیننٹ کی حیثیت سے گارڈن گلگت میں برطانوی ایجنٹ کے اسسٹنٹ کے طور پر تعینات ہوئے۔ 1892ء میں وہ قائم مقام اسسٹنٹ برٹش ایجینٹ گلگت کے طور پر تعینات ہوئے۔ مہتر امان الملک کی موت کے بعد ہنگامہ خیز دور میں چترال میں موجود تھے۔ 1894ء میں ینگ ہاسبنڈ کے بعد چترال میں اے بی اے (اسسٹنٹ برٹش ایجنٹ) مقرر ہوئے۔
یکم جنوری 1895ء میں جب گارڈن چترال گول میں شکار سے واپس ہوکر چائے پی رہے تھے تو ان کو مہتر نظام الملک کے قتل کی خبر دی گئی۔ اس وقت اُن کے پاس بہت ہی کم تعداد میں فوج اور اسلحہ تھا۔ انہوں نے نئے مہتر کی تخت نشینی کے لیے متعدد بار مہراکہ (جرگہ) منعقد کیے لیکن آخر کار گارڈن کی ایماء پر حکومت ہند نے شہزادہ شجاع الملک کو مہتر مقرر کیا۔ اس کے فوراً بعد 1895ء کا محاصرہ شاہی قلعہ کا واقعہ پیش آیا تو وہ اس وقت لیفٹینٹ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ اس نے جنگ کے دوران فعال کردار ادا کیا اور بعد میں اسے کمپینین آف دی ڈسٹنگوئشڈ سروس آرڈر کا خطاب دیا گیا۔
محاصرہ ختم کرنے کے بعد گورڈن 1902ء کے آخر تک ریاست کے اسسٹنٹ پولیٹیکل آفیسر کے طور پر چترال میں تعینات رہے۔ (ایضاً) بعض مغربی اسکالرز گارڈن کی انتظامی قابلیت کو سرچارچ رابراڈسن پر ترجیح دیتے ہیں۔دوران ملازمت ریاست چترال میں موجودگی بہت سیاسی اور اانتظامی طور پر بہت ہی مصروف رہے۔ ان کے چترال میں موجودگی کے دوران 2300 مقدمات کے فیصلہ جات “میجر گارڈن رجسڑ” کے نام سے چترال کے عدلیہ کونسل کے دفتر میں موجود ہیں۔ دوران تحقیق مجھے ان مقدمات کو مطالعہ کرنے کا موقع ملا۔ ان کا مقدمات کے دوران تحقیق کا عمل بھی بہت منفرد تھا۔ ان ہی کے زیر نگرانی مہترچترال شجاع الملک کی انتظامی امور کے لیے تربیت دی گئی تھی۔ ان فیصلہ جات کو بعد کے ادوار میں بہت کم دفعہ تبدیل کروایا گیا۔ انہوں نے چترال کی علاقائی زبانوں پر کام کرنے والوں کی سرپرستی کی۔ اس دوران اوبرائن، عبدالحکیم اور میرزا محمد غفران نے کھوار، فارسی اور یادغہ زبانوں پر مختلف کتابیں اور مضامین لکھیں۔1902ء میں انہوں نے ملٹری رپورٹ اور گیزیٹیئرز (چترال ) لکھی جو اب بھی مختلف عدالتی مقدمات میں ایک بنیادی سند کا درجہ رکھتے ہیں۔ البتہ اس کتاب کے اٹھارویں صدی سے قبل کے واقعات کے بارے انہوں منشی عزیزالدین کے کتاب کے درج شدہ تواریخ کو لیا ہے جوکہ حالیہ تحقیق کے بعد غلط ثابت ہوئی ہیں۔
چترال میں انتظامی امور کے لیے انہوں کافی اصلاحات بھی کیے۔ ان کے دورمیں چترال میں ایک سکول قائم کیا گیا۔ دستاویزات کی ریکارڈ رکھنے کی روایت قائم گئی۔ 1898ء میں محکمہ مالیہ قائم کردیا گیا۔ اسی سال ہی سیبرز اینڈ مانیرز کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔ چترال سکاوٹس کے قیام کے لیے کام کافی پہلے سے ہورہا تھا لیکن گارڈن نے اپنی چترال میں ملازمت کے آخری ادوار میں چترال سکاوٹس کی قیام کی باقاعدہ تجویز دی اور 1903ء میں چترال سکاوٹس کا قیام عمل میں لایا گیا (سی ایس فائلز محکمہ مالیہ 1903ء)۔ چترال میں ہر علاقہ میں زمینات اور چراگاہوں کی تفصیل کا باقاعدہ سروے کروایا گیا۔ اس حوالے سے کوکوکچیرل کا سروے سب سے مشہور ہے۔ (کوکچرل)
ء1903میں انہیں گلگت ایجنسی کا پولیٹیکل ایجنٹ مقرر کیا گیا اور 1906ء تک انہوں نے وہاں خدمات انجام دیں۔ گلگت میں ملازمت کے دوران بہت سے مقدمات کے فیصلے کیے۔ 1908ء میں انہیں پولیٹیکل ایجنٹ خیبر ایجنسی کا عہدہ سونپا گیا۔ ان کی اگلی پوسٹنگ بطور پولیٹیکل ایجنٹ راجپوتانہ ایجنسی تھی۔ 1912ء میں گورڈن کو لیفٹیننٹ کرنل کے طور پر ترقی دی گئی۔ بعد میں انہوں نے 1913ء سے 1916ء تک پلکیان اسٹیٹ ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ان کی ایک اور پروموشن ہونا تھی لیکن خرابی صحت کی وجہ سے 1918ء میں قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی۔
ملازمت سے فراغت کے بعد آپ “ہمالین جرنل” کے انتظامی امور میں سرگرم رہے اور مختلف امور پر مضامین لکھتے رہے۔ 1917ء میں آپ کو الپائن کلب کا رکن منتخب کیا گیا اور اپنی موت تک اس کلب کے ممبر رہے
تحقیقی کام
ملازمت کے دوران اور ملازمت کے بعد مختلف امور پر مضامین، رپورٹز اور کتابیں لکھی ہیں۔ ان میں سے بعض زیرین چترال کے ڈی سی آفس میں موجود ہیں۔ ان کے کچھ تحقیقی اور علمی کام درجہ ذیل ہیں۔
Military Report on Chitral 1903 Book, Gazetteers on Chitral 1903 Book, Slavery in Chitral 1896 Report, Administration of Chitral Report, Wafadar Khan Article, Early Explorers of Kafiristan Article, Chitral Memories 1, Article, Chitral Memories 2, Article, Shuja ul Mulk: IN MEMORIAM Article, Source: (DC Chitral Office)
خطابات
گارڈن کو حکومت برطانیہ کی طرف سے متعدد خطابات سے بھی نوازا گیا جن میں
DSO (Distinguished Service Order)
1896
Most Eminent Order of the Indian Empire
1900
شامل ہیں۔ وہ 6 اکتوبر 1949ء کو 82 سال کی عمر میں لندن میں انتقال کرگئے۔