چلی کے پہاڑوں کی تین بہنیں اور گرم چشمہ کا بِلاؤر
تحریر: نثار احمد شاہ
اپنی خودنوشت میں چلی کے شاعر پابلو نرودا نے تین فرانسیسی بہنوں کا ذکر کیا ہے جو چلّی کے پہاڑوں میں ایک پر اسرارمکان میں رہتی تھیں۔ ایک بار نیرودا راستہ کھو بیٹھا، پھر پہاڑوں سے آتا ہوا ایک کسان نیرودا کو تیں بہنوں کے گھر کا راستہ بتایا۔ رات کی تاریکی میں دروازہ کھٹکھاٹا نے پر، سفید بالوں والی اک خاتون جو سیاہ لباس میں ملبوس تھی، دروازہ کھولی۔ “کون ہو تم؟ اور کیا چاہتے ہو؟” میں گندم کی کٹائی کیلئے پہاڑوں پہ جارہا تھا، جنگل میں راستہ کھو بیٹھا ہوں۔ رات گزرانے کیلئے ایک گوشہ چاہیئے۔” اندر آجاؤ! اور خود کو گھر میں سمجھو” خاتون بولی۔
نرودا کی کہانی کو ادھر روک لیتے ہیں۔ چھوٹی سی کہانی سناتا ہوں۔ میرے سکول کے راستے میں اخروٹ کا ایک عمر رسیدہ درخت تھا، شاید اب بھی ہے، “سَماگُلو بِرموغ”۔ اس کی دائیں طرف دریا بہتا ہے، جس کےشفاف پانیوں میں ٹراوٹ مچھلیاں تیرتی رہتی ہیں۔ چند قدم آگے، دریا کی اِس طرف “رومین، سِنجور اور تیلی” کے درختوں کے سائے تلے مٹی کا گھر تھا اور بِلاوُر اس گھر کا اکلوتا مکین۔
بِلاوُر نے شادی نہیں کی۔ اس کے اجداد کون تھے، کسی سے پوچھا، نہ کسی نے بتانا گوارہ کیا۔ میں نے بِلاوُر کو جب بھی دیکھا اکیلا ہی دیکھا۔ ایک دن بارش کے دنوں میں سکول جاتے ہوئے بِلاوُر کو اس کے مکان کی چھت پہ دیکھا تھا۔ شاید رات کی بارش سے چھت ٹپکنے لگی ہو اور وہ چھت کی مرمت کر رہا تھا۔ دوسری بار گرمی کی چھٹیوں سے کچھ روز قبل اسے دیکھا۔ بِلاوُر اپنے گھر کے سامنے بناسپتی گھی کے ٹن کے گملوں میں لگے ہوئے گُلسمبَر کے پھولوں کو پانی دے رہا تھا۔ اور آخری بار اس پُل کے قریب، جو یورجوغ گاؤں کو بیشقر سے ملاتا ہے، بِلاوُر میرے قریب سے گزرا۔ اس نے لمبے موزے پہن رکھے تھے۔ سر پہ کھپوڑ پہنا تھا، جو کثرتِ استعمال سے چمک کھو چکا تھا۔ میں نے سلام کیا مگر بِلاوُر سپاٹ چہرہ لیے، جس پر غم، خوشی، تنہائی یا کسی بھی قسم کے جذبات کا اظہار نہ تھا، آہستہ سے گزر گیا۔
فرانسیسی بہنوں کے والدین بہت پہلے مر چکے تھے اور وہ تیس سالوں سے جنگل میں رہتی تھیں۔ انہیں اپنے اجداد کی روایات اور اپنے وطن فرانس کے کھانوں سے عشق تھا۔ وہ پکانے کے فن کی ماہر تھیں۔ اُداس آنکھوں والی خاتون نے پابلو نرودا کوکھانے کے کمرے میں بیٹھا دیا۔ کمرے کے وسط میں گول میز پر، جس پر سفید میز پوش بچھی تھی، اور نقرئی شمع دانوں میں بہت سی موم بتیاں جل رہی تھیں۔ چاندی اور شیشے کے ظروف سلیقے سے سجائے گئے تھے۔ نرودا کچھ دیر پہلے پسینے میں شرابور ایک خچر سوار کسان لگ رہا تھا، اب ایسا محسوس کر رہا تھا، جیسے اسے ملکہ وکٹوریہ نے اپنے محل میں کھانے پر مدعو کیا ہو۔
تھوڑی دیر میں لذیذ اور خوشبودار کھانے سجائے گئے، تہہ خانے سے فرانسیسی شراب لائی گئی۔ باتوں باتوں میں نرودا نے فرانسیسی شاعر “بودلیئر” کا ذکر کیا۔ بودلیئر کا ذکر گویا ایک برقی شعلہ تھا کہ یہ نام سن کر تینوں بہنیں کھِل اٹھیں۔ اُن کے پاس بودلیئر کی کتاب “فلیور ڈو مال” پڑی تھی اور ان ویران جنگلوں میں ان کے سوا کوئی بھی فرانسیسی نہیں جانتا تھا۔ پچھلے تیس سالوں میں اِس گھر میں کل ستائیس مہمان آئے تھے جن میں کچھ کاروباری تھے، کچھ محض تجسّس کی وجہ سے اور کچھہ نرودا کی طرح اتفاقیہ مہمان تھے۔ ان بہنوں کے پاس سب مہمانوں کی ذاتی فائل تھی جس میں آنے کی تاریخ اور وہ کھانا جو پیش کیا تھا، درج تھا۔پینتالیس برس بعد اپنی یادیں قلمبند کرتے ہوئے نرودا لکھتا ہے، “اس کنوارے جنگل میں رہنے والی
ان دیس بدر خواتین اور بودلیئر کی کتاب کا کیا بنا؟ شمعوں سے روشن ان کی شاندار کھانے کی میز کا کیا ہوا۔ ان کی شراب کی بوتلوں کا کیا بنا اور درختوں میں گم وہ سفید مکان؟ سادہ ترین قسمت، موت اور فراموشی”۔
بلاوُر کا فرانسیسی بہنوں سے کوئی تقابل نہیں۔ بِلاوُر اپنی ہستی میں گُم ایک عام آدمی تھا جس نے شاید ہی کوئی نمایاں کارنامہ سر انجام دیا ہو۔ اگست 1948 کے فاتحینِ سکردو جن کی قیادت ‘گورنر شغور’ کرنل شہزادہ مطاعُ الملک کر رہا تھا، میں بِلاوُر شامل نہیں تھا۔ میرزا محمد غفران، اور منشی عزیزالدین کی تاریخِ چترال میں اُس کا کوئی ذکر نہیں۔ ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی نےدادِ بیداد میں کبھی اس کا نام نہیں لیا۔ کیپٹن گارڈن کی خفیہ رپورٹ اور کرنل جی۔جے ینگ ہَزبنڈ کی کتاب بِلاوُر کے ذکر سے یکسر خالی ہیں۔ المختصر، بِلاوُر کو یاد رکھنے کی کوئی توجیہہ نہیں، بھلائے جانے کے ہزار بہانے ہیں۔
میرے گھر کا راستہ اب بھی وہی ہے۔ سکول کو الوداع کیے ہوئے اُنیس سال بیت چکے ہیں مگر جب بھی اس راستے سے گُزر ہوا، دل کے نہاں خانے میں ایک انجان سی اُداسی محسوس کی۔ بِلاوُر کون تھا؟ اس نے شادی کیوں نہیں کی؟ زندگی، موت، غم اور تنہائی کے بارے میں اس کے خیالات کیا تھے؟ زندگی سے جڑی بِلاوُر کی سب سے بڑی خواہش کیا تھی؟ سنا ہے سردیوں کی طویل راتوں میں، رات کے آخری پہر بِلاوُر ہڑبڑا کر اٹھتا تھا، دیوارپہ لٹکتا ڈھول اٹھاتا اور اک شورِ قیامت بپا کرتا تھا۔ رات کی آخری ساعتوں میں ڈھول پیٹنے کے کیا معنی تھے؟۔۔۔ اور تنہائیوں کا اس کے واحد ساتھی، اُس ڈھول کا کیا بنا؟