میں پرانے ہتھیاروں کو ایٹم بم پر ترجیح دوں گا، نواب آف دیر شاہ جہاں کا انٹرویو

nawab of dir state shah jahan

نواب آف دیر شاہ جہاں

یہ انٹرویو امریکی اخبار “دی بلیڈ” میں 8 جولائی 1960 کو شائع ہوا۔ انٹرویو کرنے والے صحافی کا نام فرنانڈ فاؤبر تھا جو اسی اخبار سے وابستہ تھے۔

فاؤبر کے مطابق، نوابِ دیر محمد شاہ جہاں ایک لمبے قد کے آدمی تھے۔ ان کی رنگت گہری تھی، مونچھیں گھنی اور کالی تھیں اور انہوں نے موٹے شیشوں والا چشمہ لگا رکھا تھا۔ ان کے لباس میں ایک لمبی خاکی قمیص اور سرمئی رنگ کی ٹوپی شامل تھی۔ ہمارا مکالمہ ایک مترجم کے ذریعے ہوا جو مختصر اور جامع انداز میں ترجمہ کر رہا تھا۔

گفتگو کچھ یوں ہوئی؛

فاؤبر: سر، میں سمجھتا ہوں کہ آپ نے کئی سالوں سے یہاں اجنبیوں کے آنے پر پابندی لگا رکھی ہے۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ دنیا کے واقعات میں دلچسپی نہیں رکھتے؟

نواب: میں دنیا کے ایک گوشے میں رہتا ہوں۔ باقی دنیا مجھے دلچسپ نہیں لگتی۔ میں ایک عام آدمی ہوں اور سفر نہیں کرتا۔ یہ میری اپنی دنیا ہے۔ اگر آپ مجھ سے اس کے بارے میں بات کرنا چاہیں، کھیتوں اور میرے لوگوں کے بارے میں، تو میں بات کروں گا۔

فاؤبر: مجھے بتایا گیا ہے کہ مشہور برطانوی مفکر، مورخ اور مصنف پروفیسر ٹائن بی گزشتہ ہفتے آپ سے ملنے آئے تھے۔ یقیناً آپ کی ان سے دلچسپ گفتگو ہوئی ہوگی؟

نواب: مجھے یاد نہیں کہ ہم نے کیا بات کی۔

فاؤبر: کیا آپ کو لگتا ہے کہ جدید دنیا آپ کو اور آپ کی ریاست دیر کو کچھ پیش کر سکتی ہے؟

نواب: جی ہاں، بیماریاں۔

فاؤبر: لیکن آپ کے بہت سے لوگ وادی میں اور کراچی تک جاتے ہیں۔ وہ تو صحت مند نظر آتے ہیں؟

نواب: وہ بیماریاں اور مسائل واپس لا سکتے ہیں۔

فاؤبر: اگر وہ بس کے ذریعے سفر کریں تو کیا وہ ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں بیماریاں اور وبائیں لا سکتے ہیں؟

نواب: جی ہاں۔

فاؤبر: میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ ایک اسپتال بنا رہے ہیں۔

نواب: جی ہاں، لیکن اگر لوگ وہیں رہیں جہاں ان کا اصل مقام ہے تو اسپتالوں کی ضرورت ہی نہیں ہوگی۔

فاؤبر: کیا آپ کی ریاست میں جدید زرعی طریقے اپنانے سے کوئی فائدہ ہو سکتا ہے؟

نواب: بالکل بھی نہیں۔ جو نئی گندم آپ لوگ امریکہ میں اگاتے ہیں وہ دیکھنے میں خوبصورت ہے، لیکن ہمارے آباؤ اجداد کی گندم زیادہ میٹھی اور مزیدار ہے۔ یہاں لوگ اس کے لیے زیادہ قیمت ادا کرتے ہیں۔

فاؤبر: کیا آپ اُس چیز کے بھی خلاف ہیں جسے ہم ترقی کہتے ہیں؟

نواب: میں پرانے ہتھیاروں کو ایٹم بم پر ترجیح دوں گا۔

فاؤبر: کیا آج کے زمانے میں باقی دنیا کے ساتھ رابطے روکنا ممکن ہے، حتیٰ کہ ایسی خوبصورت جگہ پر جیسے آپ کی ریاست؟

نواب: جی ہاں، یہ ممکن ہے اگر کوئی ایسا چاہے۔ اور جتنا زیادہ وقت گزرے گا اتنا ہی بہتر ہوگا۔

فاؤبر نے ان سے تصویر لینے کی اجازت مانگی۔ نواب نے خوش دلی سے پوز کیا اور رول فلیکس کیمرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، میں نے اپنے چھوٹے بیٹوں کے لیے ایسے تین کیمرے خریدے ہیں۔ اگر یہ لڑکے مجھے خوش کریں تو میں انہیں یہ کیمرے دے دوں گا۔ خدا حافظ!

نواب کی گاڑی کی طرف واپسی کے دوران بجلی کی گرج سنائی دی۔ ان کا بیٹا جو سر شاہ جہاں خان سے زیادہ بے جھجک لگ رہا تھا فاؤبر کو ریاست دیر کے بارے میں مزید بتانے لگا۔

دیر میں 12 گاڑیاں ہیں جو سب نواب کے خاندان کی ملکیت ہیں۔ ان میں سے ایک کیڈیلک بھی ہے۔ ریاست سے گزرنے والی وہ سڑک جو پاکستان کو لیز پر دی گئی ہے۔ اس سے نواب کو آمدنی حاصل ہوتی ہے۔ وہ بسوں کے مسافروں سے فی کس ایک ڈالر پچیس سینٹ وصول کرتے ہیں جن میں اکثر دو سو تک مسافر ہوتے ہیں۔

ان کے بیٹے ان کی موجودگی میں گفتگو نہیں کرتے۔ نواب کا خاندان پانچ سو سال سے دیر پر حکمرانی کر رہا ہے۔ وہ مقامی گندم اور دیگر اجناس کی برآمد پر پابندی لگاتے ہیں تاکہ ریاست میں چیزوں کی قیمتیں کم رہیں۔

فاؤبر لکھتے ہیں، ہم نے پاکستانی کری، آم، کئی اقسام کی مٹھائیاں اور سبز چائے پر مشتمل ایک بہترین دوپہر کا کھانا کھایا۔ پھر ہم سب قیلولہ کرنے چلے گئے۔ جب میں جاگا تو بارش ہو رہی تھی۔ یہ پہلی شدید بارش تھی جب سے میں دو ہفتے پہلے لندن سے روانہ ہوا تھا۔

رخصت ہوتے وقت فاؤبر نے نواب سے پوچھا، کیا آپ چاہیں گے کہ میں آپ کو لندن سے کچھ تمباکو بھیجوں؟

نواب نے کچھ دیر سوچ کر جواب دیا، نہیں، لیکن مجھے واقعی بہت خوشی ہوگی اگر آپ مجھے سوئس پہاڑوں کے پھولوں کے کچھ بیج بھیج سکیں۔


ماخذ
امجد علی اتمانخیل آرکائیوز

The Blade Newspaper, interview by Fernand Fauber
تاریخ: 8 جولائی 1960


Posted on 8 September 2025

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *