جب یوریا کھاد جہازوں میں چترال لائی گئی
Agriculture in Chitral
ڈاکٹر محبوب حسین
اکتوبر 1969 کی ایک صبح ہم گورنمنٹ ہائی اسکول بونی جارہے تھے کہ جہاز کی گڑگڑاہٹ کی آواز آئی۔ اس زمانے میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان حالات کشیدہ تھے۔ جہاز کافی نچلی پرواز کررہا تھا۔ پہلے ہم ڈر گئے۔ پھر جہاز کے پچھلے حصے پر بنا پاکستان کا جھنڈا دیکھ کر اطمینان ہوا۔ اتنے میں جہاز کا دروازہ کھُلا اور کچھ چیزیں فضا میں بکھر گئیں۔ پھر پیراشوٹ کھلتے گئے۔ ایک عجیب منظر ہم پہلی مرتبہ دیکھ رہے تھے۔ بونی گاؤں کے آخری سرے پر ایک ریتیلا میدان تھا۔ اس میں کچھ پیراشوٹ بغیر کھلے گر گئے اور کچھ صحیح حالت میں۔ ہم دوڑ کر وہاں پہنچے تو پولیس اسسٹنٹ کمشنر، زراعت آفیسر اور متعلقہ سٹاف بھی پہنچے۔ ہر طرف گندم، یوریا اور ڈی اے پی کی بوریا بکھری ہوئی تھیں۔ ہم یوریا اور ڈی اے پی پہلی مرتبہ دیکھ رہے تھے۔ پولیس نے بلند آواز میں بولا ہاتھ مت لگائیں! یہ زہر ہیں۔
بوریوں کو جمع کیا گیا اور اعلان ہوا جہاز دوبارہ آئے گا۔ ہم نے اسکول کی چھٹی کی اور دوسرے فلائٹ کا انتظار کیا۔ اے سی صاحب مرحوم معراج جغور، زراعت آفیسر پینین شاہ اور مرحوم بخاری شمس یار نے کھاد اور گندم کے بیچ جمع کیے۔ دوسری فلائٹ آگئی۔ پھر وہی عمل دہرایا گیا۔ الغرض دوسرے دن گندم کی نمائش کے لیے پلاٹ بنانے کا عمل شروع ہوا۔ مرحوم بخاری صاحب نے خود بیچ اور ڈی اے پی کھیت میں ڈالی۔ ہر کھیت کے ساتھ بورڈ لگایا گیا۔
اگلے سال بہار میں یوریا کا استعمال کیا گیا اور فصل تیار ہوگئی۔ جب کٹائی اور تھریشنگ ہوئی تو لوگ حیران رہ گئے۔ پیداوار ناقابل یقین حد تک بڑھ گیا تھا۔ اس کے بعد زمینی راستے سے کھاد کی سپلائی شروع ہوئی۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسی سال چترال کی ریاست کی حیثیت ختم کرکے اسے ضلع بنایا گیا تھا۔ جنرل یحیٰی کا مارشل لا تھا اور معراج الدین صاحب پہلے اے سی مستوج بنے تھے۔