بالائی چترال میں تحقیقی کام کی ضرورت

upper chitral historical research

تحریر: سرور صحرائی

چترال سے باہر امریکی، یورپی اور ایشیائی محققین اور مورخین کے لئے ہندو کش کا خطہ بہت عرصے سے توجہ کا خاص مرکز رہا ہے۔ سوچنے پر ان کی اس توجہ، اور دلچسپی کی کئی وجوہات ذہن میں آتی ہیں جن میں سے ایک وجہ یہ نظر آتی ہے کہ یہاں قدیم زبانوں اور ثقافتوں کی بہتات اور رنگا رنگی ہے۔ دوسری وجہ اس خطے میں زمانہ قریب تک بیرونی دنیا کی عدم رسائی اور اس کا گمنامی میں رہنا ہے۔ تاہم تیسری اور سب سے اہم چیز اس خطے کی تاریخ پر لکھی ہوئی قدیم اور ہم عصر کتب یا مسودوں کی عدم دستیابی نظر آتی ہے۔

یہی وجوہات اور پس مناظر ہیں جو اس خطے اور اس کے باسیوں کے نسلی، ثقافتی، تمدنی، مذہبی، معاشی اور سیاسی ارتقاء کے پہلووں کو بہت دیر تک خواندہ دنیا سے اوجھل رکھنے کا باعث بنے رہے۔ بلاشبہ ان میں یہاں کی زبانوں اور بولیوں کے بارے میں معلومات میں فقدان بھی شامل ہے۔ خود اپنے چترال ہی کی مثال لیں تو یہ ایک حیران کن بات ہے کہ تین، ساڑھے تین ہزار سال کی تاریخ رکھنے والا یہ علاقہ انیسویں صدی میں برطانوی ہندوستان کے کرتا دھرتاؤں کی نوٹس میں آتا ہے اور ان کی وساطت سے چترال کا نام پہلی بار انیسویں صدی کے آخر میں یوروپ میں متعارف ہوتا ہے اور وہ بھی یہاں پر 1890 کی دہائی میں یہاں کی حکمرانی کے لئے ہونے والے جنگ و جدل اور انگریزوں کی باقاعدہ مداخلت کے نتیجے میں ممکن ہوسکا تھا۔

چنانچہ چترال سمیت اس خطے پر باقاعدہ تحقیقی کام کا آغاز ہندوکش کلچرل کانفرنس کے نام سے 1970 میں ڈنمارک میں ہوا۔ سارے مقالہ نگار یورپ سے تعلق رکھتے تھے تاہم چترال کی نمائندگی یہاں کے اس وقت کے واحد مقامی محقق وزیر علی شاہ (مرحوم) نے ذاتی طور پر کی اور تین مقالے پیش کئے۔ اس کے علاوہ شہزادہ محمد حسام الملک کے لکھے ہوئے تین مقالے بھی وزیر علی شاہ نے کانفرنس میں پیش کئے۔

ان مقالہ جات میں اکثر قبل از اسلام کے باشگالیوں اور چترال کی کلاش آبادی کے مذاہب اور ثقافتوں کا احاطہ کیا گیا تھا۔ البتہ وزیر علی شاہ کا ایک مقالہ باشگل (کافرستان) کے بعض حصوں پر چترال کے رئیسہ حکمرانوں کے ایک حملے اور انہیں باجگزار بنانے کے بارے میں پیش کیا گیا تھا۔ ان کانفرنسوں کے تسلسل کے طور پر دوسری، تیسری اور چوتھی انٹرنیشنل ہندوکش کلچرل کانفرنسوں کا انعقاد بالترتیب 1990, 1996 اور 2022 میں چترال ہی میں ہوا۔

چترال میں منعقد ہونے والی کانفرنسوں میں بین الاقوامی اور ملکی سطح کے محققین اور مورخین کے ساتھ ساتھ مقامی محققین کو بھی بڑے پیمانے پر شمولیت کرنے اور مختلف موضوعات پر اپنے مقالے پیش کرنے کا موقع ملا۔
ان کے علاوہ حال ہی (اکتوبر 2022) میں اٹلی کے شہر روم میں ایک اور اہم بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں چترال کی نمائندگی تاریخ کے شعبے پر عبور رکھنے والے نوجوان محقق ہدایت الرحمان نے کی۔

حیرت انگیز طور پر اس کانفرنس میں بھی تقریباً تمام تحقیقی مقالے ہندو کش کے خطے کی تاریخ اور تہذیب و تمدن پر پڑھے گئے۔

جہاں تک چترال کا تعلق ہے، اس کی سیاسی تاریخ اور زبانوں پر ان بین الاقوامی کانفرنسوں اور خود چترال میں مقامی سطح کی کانفرنسوں اور مطبوعہ کتابوں میں ایک حد تک کام کیا گیا ہے تاہم ان پر مزید کام کی ضرورت اب بھی باقی ہے لیکن جس شعبہ پر تحقیقی کام بہت ہی کم کیا گیا ہے وہ یہاں کے قدیم اور اولین باشندوں کی نسلیات اور ثقافتی شناخت کے سلسلے میں سائنسی بنیادوں پر کام ہے۔ مثلاً قدیم قبور کی کھدائی اور وہاں سے برآمد ہونے والی اشیاء کا سائنسی اور کاربن تجزیہ اس مقصد کے حصول میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ لیکن اگر دیکھا جائے تو قدیم قبروں اور تاریخی مقامات کی کھدائی کا کام بالائی چترال میں ہنوز باقی ہے یا ہوا ہی نہیں ہے۔ وہاں کی اولین آباد کاری، ثقافت اور قدامت کے تخمینے مقامی روایتی تاریخ میں اب تک ہوا میں لگائے جاچکے ہیں جنہیں تاریخ قبول نہیں کرسکتی۔

جیاں تک زیرین چترال کا تعلق ہے، یہاں پر کچھ مقامات (اوچشٹ اور بکامک) میں کافی عرصہ پہلے کھدائی ہوئی تھی اور قبروں کی کچھ باقیات کے حوالے سے ان کے دور کا تعین کیا گیا تھا۔ تاہم جو کھدائی اب تک سنگور گاؤں میں تین سے چار مختلف مقامات پر ایک بین الاقوامی ادارے اور ہزارہ یونیورسٹی کے اشتراک سے کی گئی وہ سند کے اعتبار سے بہت اہم ہے۔ وہاں پر ملنے والی ہڈیوں اور دیگر اشیاء کا نیوزی لینڈ میں حال ہی میں جدید آلات کی مدد سے تجزیہ کیا گیا ہے۔ نتائج کے مطابق قبل از مسیح کے دور کی باقیات بھی ملی ہیں۔ ایک مقام سے حاصل کی جانے والی باقیات کی تاریخ 900 قبل از مسیح بتائی گئی ہے جو اب تک کی دریافت کے مطابق یہاں کی سب سے قدیم باقیات ہیں۔ اس کے مقابلے میں بالائی چترال کے صرف ایک مقام پرواک میں غالباً 2004 میں اس طرح کی کھدائی ہوئی تھی۔ جدید کاربن ٹیسٹ کے مطابق ان کی قدامت محض 800 عیسوی صدی ہے۔ اس لئے چترال کے قدیم باشندوں کی بابت لکھتے وقت بالائی چترال میں اولین آبادکاروں اور ان کی ثقافت کے بارے میں وثوق سے لکھنا اس وقت تک بہت مشکل ہے جب تک وہاں آثار قدیمہ والوں کی طرف سے متعدد مقامات پر کھدائی اور کاربن ٹیسٹ کا عمل مکمل نہ ہوجائے۔

اسی طرح زیرین چترال میں باہر سے آنے والے قبائل مثلا، عشریتی، دامیڑی، ارندوئی، کتی شیخ، مدکلشٹی، یدغہ، گوجر اور پشتونوں کی آبادکاری کا مواد تقریباً دستاویزی ہے مگر مقابلتاً بالائی چترال کے اکثر قبائل کی آمد اور آبادکاری کے بارے میں معلومات ناکافی ہیں۔

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ بین الاقوامی ہوں کہ ملکی یا مقامی سطح کے محققین، یا محکمہ آثار قدیمہ، ان کی تحقیق و تفتیش کا دائرہ اب تک صرف زیرین چترال، نورستان، کونڑ، گلگت اور بدخشان کے گرد گھومتا رہا ہے مگر بالائی چترال کی ڈیمو گرافی، تاریخی مقامات اور قبل از اسلام دور کی قبروں کی کھدائی اور سائنسی تجزیہ، ثقافتی اور سیاسی حالات، قدیم مذاہب اور اسلام کی آمد وغیرہ کے سلسلے میں تحقیقی کام کی شدید ضرورت ہے تاکہ اس بابت تاریخ کی درستگی ہوسکے۔

یہ بھی پڑھیے: چترال میں بدھ مت کے اثرات

Published on 31 October 2023


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *