رستم خان المعروف “چَرنو لال”
Rustam Khan, Charno Lal, Chitrali Poet
آصفی چترالی
رستم خان المعروف چرنو لال 1921ء کو اپرچترال کے خوب صورت گاوں چرن میں پیدا ہوئے. آغاز جوانی میں شہزادہ خوش احمدالملک آف ایون کے “دیوان بیگی “( مشیر خاص ) مقرر ہو کر قلعہ ایون آئے. اس دوران مولدہ آیون میں صمد خان نامی شخص کی بیٹی سے ان کا ازدواجی رشتہ طے ہوا . اس کے کچھ عرصہ بعد وہ مولدہ بالا میں اس جگہ زمین خرید کر مستقل آباد ہوئے جہاں اٹانی روڈ آکر ایون روڈ سے مل جاتا ہے . اس طرح سے رستم خان ایون ہی کے ہو کر رہ گئے. دیوان بیگی کی ملازمت چھوڑ دینے کے بعد انھوں نے چترال بازار میں اپنا ہوٹل کھولا . جس کا ذکر “فنون لطیفہ اور چترال ” میں بھی آیا ہے . خاندانی ذرائع کے مطابق رستم خان نے ہون چترال میں بھی زمین لے کر گھر بنالیا تھا اور کچھ عرصہ ان کا وہاں گزرا تھا مگر مولین گول میں بار بار سیلاب آنے سے انھوں نے وہ گھر بیچ دیا اور دوبارہ ایون منتقل ہوئے . چترال میں کاروبار اور قیام کے دوراں آپ کی امیر گل امیر, غلام نبی المعروف پھوک برار اور درویش خان سمندر سے خاص صحبت رہی .اپنی ایک گیت میں اس صحبت کا وہ یوں ذکر کرتے ہیں .
” ڈاقو ہردی تہ سوم چوکی عشقو راہہ تہ بچے کورومان ہمیش انتظار
عشقو سلوکان جام کورور ہونو موژا امیر , گولدورا سمندار”
رستم خان ایک بھرپور زندگی گزارنے کے بعد 5 اکتوبر 1995 کو ایون میں انتقال کرگئے اور یہیں دفن ہوئے . رستم خان نے اولاد میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی چھوڑی. بیٹی کی شادی امیر گل امیر کے بیٹے سے ہوئی تھی جب کہ آپ کے بیٹے کو کھوار ادب سے وابستہ لوگ ” ظفرالدین سُرُور ” کے نام سے جانتے ہیں جو کھوار نظم میں طنز و مزاح کے اچھے شاعر ہیں ایون کے مشاعروں کی ایک بڑی رونق آپ کے دم سے ہے . آپ کا ایک مزاحیہ کلام ” چترال اور الحاق پاکستان ” نامی اہم کتاب میں شامل ہے . ظفرالدین سرور کا بڑا بیٹا بابر مولدہ بازار میں کاروبار کرتا ہے اور دوسرا بیٹا اورنگذیب انگریزی ادب میں ماسٹر کر کے ٹیچنگ سے منسلک ہے . ایون میں سرور صاحب کا یہ شعر بہت مشہور ہے
” سلوک سینو دی مہ سوم سرکارو غون
“چھینی آوائے مہ برابر اویونو
یعنی “جس طرح سرکار میرے جنگلات کا صفایا کر رہی ہے اسی طرح دریا میری زمینیوں کی کٹائی میں لگی ہے یوں ایون کی تباہ حالی میں قدرت اور حکومت دونوں شریک ہیں “
رستم خان کی گیت نگاری اور گائیکی:
رستم خان اپنے دور کے معروف گیت نگار اور گائیک گزرے ہیں. شہزادہ تنویرالملک صاحب اپنی کتاب ” فنون لطیفہ اور چترال ” میں رقمطراز ہیں
” رستم خان اصل نام , تاہم چترال کی ثقافتی دنیا میں چرنو لال کے لقب سے معروف تھے . 1950 اور 1960 کی دہائی میں وہ چترال بھر میں اپنی گائیکی, ستار نوازی اور خوب صورت گیتوں کی وجہ سے خاص شہرت رکھتے تھے. آپ کے بعض گانے آج بھی کھوار موسیقی کی محفلوں میں گائے جاتے ہیں” ……(صفحہ, 129)
آگے لکھتے ہیں :
” استاد امیر گل کی طرح رستم خان نے بھی دوستوں کی فرمائش پر گیت کہی ہیں جن میں سے ایک گیت معروف زمانہ گائیک سمندر خان کی فرمائش پر کہی تھی جو بہت مشہور ہے . اس کا ایک مصرع (بول ) حسب ذیل ہے
” اوا کڑوم نیزیکین مہ نام سمندر , عشقو غم مہ ژیبیکین ہردی نوکویان قرار ” ( صفحہ, 130)
ظفرالدین سرور کے بقول آپ کی کچھ شاعری گل نواز خاکی مرحوم کی کتاب میں محفوظ ہے .اس کے علاوہ کھوار کی نمایاں ادبی تنظیم “قلم قبیلہ ” نے 31 دسمبر 2008 کو بونی میں موسیقی کی ایک محفل رستم خان کے نام پر منعقد کر کے ان کی گیتوں کو مشہور فنکاروں بابا فتح اور شجاع الحق کی آواز میں موسیقی کی دنیا میں محفوظ کرلیا ہے . سرور صاحب کے پاس اوراق کی صورت میں رستم خان کی جو گیت تاحال دستیاب ہیں ان کے سر مصرعے (اویلو بول ) ملاحظہ کیجیے.
1 : دوستو صفتان کیچہ نوکوروم اسکیم جورونی ہاتیت پھورینین دانہ دار
2: تہ تھان زیربالیاری واشلی تہ موخ پنجرش ووری ملکھون
3: مشک تہ ووریار شیر, نازک بدان نو اشپرنجاو تتے انتظار کونیان
4: اوا عشقو سوالگار کورومان تان سوالو تہ جوابو انتطار
5: ملکھون نازک اشناری نو بہچور اوشاک ژاغہ , ملکھون مشکھیر نازک ہوا
6: عاشق ہتے روئے عاشق ہتیتان سیکنڈ, منٹ عمرو غونہ ساریر
7: امیدوچے وفو سورا کوری انگومان اعتبار
رستم خان کی کل شاعری اور محفوظ گیت ہمارے مطالعے میں نہیں آئی ہیں مگر چند گیتوں کے مندرجہ بالا مصرعوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو یقینا ان کی گیت نگاری قابل داد ہے . وہ روایتی کھوار گیت نگاری کے فن سے آشنا نظر آتے ہیں. ریاستی دور میں شاعری و عاشقی کی پاکیزہ روایت ان مصرعوں میں نمایاں ہے. پہلے دو مصرعوں میں خوب صورت اور دلکش تشبیہات و استعارات بکھیر دیے ہیں. یہ مصرعے یہ بھی بتاتے ہیں کہ رستم خان جمال دوست گیت نگار ہیں اس کے ہاں ،حسن کی پیکر تراشی اور فنکارانہ بیاں اپنی آب و تاب دکھاتا ہے . اس کے علاوہ رجائیت پسند شاعر ہوں گے جو آخری مصرعے میں پرامید نظر آتے ہیں. ان مصرعوں سے یہ بھی ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ عشق میں وفاداری اور صبروتحمل کا بھرم رکھتے ہیں جو عشق کے خاص تقاضے ہیں. ان کے علاوہ یہ بھی سامنے آرہا ہے کہ آپ نے مختصر اور طویل دونوں بحروں میں گیت نگاری کی ہے . مختصر طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ رستم خان اپنی شاعری اور گائیکی و ستار نوازی میں اپنے زمانے کے یگانہ روزگار ہوں گے . اللہ تعالی انھیں جنت الفردوس سے نوازے. آمین.