چترال میں سڑکوں کی تاریخ
گل مراد خان حسرت
چترال میں 1895 سے پہلے چترال میں سڑک نام کی کوئی چیز موجود نہیں تھی ہم نے اپنے بڑوں سے سنا ہے کہ وادیوں میں پگڈنڈیاں تھیں اور جہاں تنگ گھاٹیاں تھیں وہاں پہاڑوں کی چڑھائی اور اترائی کے لئے پہاڑی زینے بنے ہوتے تھے جن پر صرف ایک قدم رکھا جاسکتا تھا۔ لوگ زیادہ تر سفر دریا ئے مستوج کی دائیں طرف سے کرتے تھے جہاں سے گزرنا کچھ آسان تھا۔ بید کی شاخوں کو مروڑ کر رسہ بناتے اور دریاوں کے اوپر ان رسوں سے پل بناتے۔ ان کو ‘تیلی سیری’ کہتے تھے۔
ان پلوں سے گزرنا عام لوگوں کا کام نہیں تھا۔ صرف ماہر ہی ان کو پار کرسکتے تھے۔ ذرا قدم غلط پڑا تو دریا کی موجوں کی نذر ہونے سے کوئی روک نہیں سکتا تھا۔ اسی طرح بہت سے لوگ ان رسوں کو پار کرنے کی کوشش میں دریا برد ہوگئے۔ اس دور کا ذکر کرکے لوگ کہتے ہیں کہ اگر کسی کو یارخون، ڑاسپور، کھوت، ریچ وغیرہ سے چترال جانا ہوتا تو وہ تمام رشتہ داروں اور پڑوسیوں سے خصوصی خدا حافظ کہنے جاتا کہ دوبارہ دیکھنا نصیب ہوگا یا نہیں۔
پر خطر راستوں کے علاوہ قتل کا خطرہ بھی ہوتا تھا اور زیادہ تر پہاڑی چرواہے کسی کی ٹوپی یا شوقہ کے لئے مسافر کو قتل کرتے تھے۔ دوردراز علاقوں سے کوئی اگر چترال جائے تو واپس آنے تک کم و بیش کئی ہفتے لگتے تھے۔ یہی حالات تھے جب 1895ء میں برطانوی ھند نے چترال پر اپنا اقتدار اعلیٰ قائم کیا۔ اس سے پہلے انگریزوں کی چترالیوں کے ساتھ لڑائی کے دوران راستوں کی مشکلات کا تجربہ ہوچکا تھا جس کا ذکر انہوں نے اپنی تحریروں میں تفصیل سے کیا ہے۔ چنانچہ انگریزوں نے نوشہرہ اور گلگت دونوں مقام سے چترال کی طرف سڑک بنانے کا آغاز کیا۔ پروفیسر ممتاز حسین کی تحقیق کے مطابق نوشہرہ سے لائی ہوئی 10 فٹ چوڑی سڑک 1934ء میں سنوغر تک بنی تھی کہ جنگ عظیم دوم کی وجہ سے کام ملتوی کرنا پڑا۔ سنوغر سے آگے سور ڑاسپور تک یہ راستہ کب بنا اس کی کوئی تاریخ مجھے یاد نہیں البتہ برٹش آرمی کے سیپرز اینڈ مائنیرز کے ذریعے سنوغر سے ہرچین تک پانچ جھولا پل بنائے گئے تھے۔
تاو سے لے کر توری پرواک لشٹ: اس کی کچھ باقیات توری لشٹ میں موجود ہیں۔ یہاں سے سڑک کروئی دیری کی طرف لے جاکر نانگو چھت کے بالمقابل بخو پروشٹ کے مقام مستوج کی طرف جانے کے لیے دوسرا پل بنایا گیا اس پل کا نام و نشان باقی نہیں۔
یہ پل دریا میں بہہ گیا تو دریا کے بائیں جانب تاو سے راستہ بناکر کونا میں پل بناکر گراموڑی مستوج کی طرف راستہ نکالا گیا۔ یہ پل بھی سیلاب میں بہ گیا۔
چوتھا پل شائداس اور گشٹ کے درمیان تعمیر کیا گیا جو تا حال موجود ہے اور ہلکی گاڑیاں اس پر گزرتی رہتی ہیں۔
پانچواں پل ڑاسپور میں ہرچین اور رمان کے درمیان موجود ہے۔ اس پر بھی جیپیں چلتی رہی ہیں۔ اس کو تعمیر کرنے والا سیپر مائینرز کا صوبہ دار دوران تعمیر وفات پاگیا تو اسے رمان میں ایک ٹیلے پر دفن کیا گیا۔ اس کی قبر اب تک موجود ہے۔
Uploaded on 1st February 2024