خوش وقت ثالث، ایک برطانوی جاسوس

Picsart_23-04-16_15-05-42-705

تحریر: ہدایت الرحمان

میرے سامنے شاہ خوش وقت کا نام سب سے پہلے 2008ء میں اس وقت ظاہر ہونا شروع ہوا جب راقم الحروف نے برطانوی خفیہ روزنامچوں کو پڑھا۔ انیسویں صدی عیسوی کے آخر کی برطانوی خفیہ رپورٹوں میں “شاہ خوش وقت” کا نام مکرر آتا رہتا ہے۔ شاہ خوش وقت نامی یہ پُر اسرار کردار کون تھا اس کے بارے میں ہم اس آرٹیکل میں پڑھیں گے۔ اس کے نام ساتھ مورخین “خوش وقت ثانی” لگاتے ہیں جو تاریخی طور پر غلط ہے۔ اس خاندان میں یہ بندہ تیسرا شخص تھا جس کا خوش وقت نام رکھا گیا تھا۔خوش وقت ثانی شاہ عظمت اللہ کے بیٹے تھے جو شاہ خیراللہ کے وقت مستوچ کے گورنر تھے اور شاہ خیراللہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد واخان میں پناہ لی تھی (سیر 1810ء)۔ اس لیے اس مضمون میں ہم نے شاہ خوش وقت کے نام کے ساتھ ثانی کے بجائے ثالث لگایا ہے۔

تعارف
شاہ خوش وقت، چترال کے خوش وقتیہ حکمران خاندان کے مہتر سلیمان شاہ (وفات 1829ء) کی اولادوں میں سے تھا۔ مہتر سلیمان شاہ کا شمار چترال اور گلگت کے سب سے بڑے جنگجو حکمرانوں میں ہوتا ہے۔ سلیمان شاہ، بادشاہ بن شاہ عالم کے فرزند تھے۔ ان کی رضاعت یاسین کے اتالیق غفران کے دادا کے ہاں ہوئی تھی (خاور 2009ء:189)۔ مہتر سلیمان شاہ نے گلگت کو اپنی حکمرانی کے دوران کئی دفعہ فتح کیا تھا۔ گلگت کے حکمران گورتھم کو قتل کرکے شاہی خاندان کا خاتمہ بھی ان ہی کے ہاتھوں ہوا تھا۔ سلیمان شاہ کا تعلق ہندوستان سید احمد بریلوی شہید (وفات 1831ء) سے بھی رہا تھا۔ ان دونوں کے درمیان خط وکتابت ہوتی تھیں اور تحائف کا تبادلہ بھی ہوتا تھا۔ ان کی کوششوں سے سید احمد بریلوی شہید کی شادی چترال کے علاقہ ریچ میں ایک سادات خاندان میں ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ سیداحمد بریلوی نے ساداتِ ریچ کے شجرہ نسب کا باقاعدہ مطالعہ کرکے یہ شادی کی تھی۔ مولانا ابوالحسن ندوی بھی اس شادی کی تصدیق کی ہے (ندوی 2011ء: 85)۔

سید احمد بریلوی اور سلیمان شاہ نے مشترکہ طور گلگت کے راستے کشمیر پر حملے کا منصوبہ بنایا تھا (مرتضٰی 1962ء:94؛ خاور 2009ء:179؛ ندوی 2011ء:36)۔ 1829ء میں سلیمان شاہ آزاد خان کے ہاتھوں قتل ہوا۔ اس کے بعد ان کی اولاد گلگت میں جاکر آباد ہوئی۔

شاہ خوش وقت ثالث کا شجرہ نسب (خاور، 2009)

شاہ خوش وقت بادشاہ ثانی کے فرزند تھے۔ کب اور کہاں پیدا ہوئے، اس بابت کوئی تفصیل دستیاب نہیں ہے۔ شاہ خوش وقت کی ہمشیرہ میر غضنفر میر آف ہنزہ کی بیوی تھی (خاور 2009ء:172)۔ شاہ خوش وقت برطانوی جاسوس کیسے بنے اور ان کی جاسوسی کی مہمات کیا تھیں اس بارے میں پڑھنے سے پہلے ہمیں یہاں وسطی ایشیا اور چترال و گلگت میں برطانوی مہمات کے متعلق مختصراً جاننا ہوگا۔

برطانوی جاسوسی مہمات
برطانوی حکام بذات خود ایسٹ انڈیا کمپنی کے ڈومین کے باہر نہیں جاسکتے تھے۔ اس لیے انہوں نے مقامی ہندوستانیوں کو اس مہمات کے لیے بھرتی کیا ہوا تھا۔ ان کو پنڈت، ملا، حاجی، میرزا اور منشی کہا جاتا تھا جو بھیس بدل کر ان دور دراز علاقوں کا دورہ کرتے اور وہاں کے بارے میں جعرافیائی، سیاسی، سماجی، نسلی اور معاشی معلومات حاصل کرتے تھے۔ 1774ء میں سب سے پہلے چترال اور موجودہ شمالی پاکستان کے بارے برطانیہ کی کتابوں اور دستاویزات میں تذکرہ ہونا شروع ہوا۔ اس کے بعد مغل بیگ، اسکارٹ عزت اللہ، راجہ خان، حاجی نجیب، الہ داد، منی سنگھ، میرزا، ملا، بابا جادو، عبدالحمید، پنڈت، مون پھول میر اور حوالدار (اصل نام خفیہ رکھا گیا) وغیرہ نے چترال، گلگت، کاشغر، بخارا اور خیوا میں اپنی مہمات کے ذریعے بہت سی قیمتی معلومات برطانوی حکام تک پہنچائیں۔ جاسوسی کی مہمات میں تیزی تب آئی جب روس اور برطانیہ کے درمیان وسطی ایشیاء میں “گریٹ گیم” شروع ہوئی۔ اس کے بعد چین نے ترکستان میں اپنا اسروروسوخ بڑھانا شروع کیا۔ اس دوران 1870 میں یاسین کے درکھوت درہ میں رائل جیوگرافیکل سوسائٹی کے رکن ہیوارڈ کو قتل کردیا گیا۔ اس قتل کے منصوبہ سازوں کا پتہ چلانے کے لیے مزید مہمات برطانوی حکام کو بھیجنا پڑیں۔

شاہ خوش وقت بطورِ جاسوس
برطانوی ذرائع کے مطابق شاہ خوش وقت ایک تعلیم یافتہ شخص تھا۔ اس کے علاوہ ان کو مختلف زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ ان کی آباواجداد نے سلیمان شاہ کے قتل کے بعد مہاراجہ کشمیر کے ساتھ تعلقات استوار ہونا شروع کرلیے تھے۔ شاہ خوش وقت کو برطانوی انٹلیجنس میں بھرتی کروانے والا برٹش ایجنٹ جان بڈولف تھا۔ بڈلف نے مئی 1878ء میں جان بڈولف نے معلومات حاصل کرنے کے لیے شاہ خوش وقت کو کابل، بخارا، سمرقند اور قوقند بھیجا۔ طویل عرصے تک آپ وہاں رہے (واریکو 1989ء62)۔ وسطی ایشیاء سے واپسی پر ان کو ہنزہ میں راجہ غضنفر نے ان کو کچھ وقت کے لیے قید میں رکھا۔ راجہ غضنفر کو کشمیر کے ایک وزیر نے اپنے ایک نمائندے کے ذریعے شاہ خوش وقت کی مشکوک سرگرمیوں کے بارے بتایا تھا (واریکو 1989ء: 159)۔ شاہ خوش وقت نے ان علاقوں سے کافی اہم معلومات برطانوی حکام کے لیے لے آیا۔

اس مہم کے دوران 1879ء میں قوقند میں ان کی ملاقات چترال، یاسین اور گلگت کے فروخت شدہ غلاموں سے ہوئی۔انہوں نے دیکھا کہ وہاں یہ غلام نسبتاً خوشحال تھے اور کاشت کاری میں مصروف تھے۔ بعض کی دوکانیں وہاں پر تھیں۔ چترال سے تعلق رکھنے والی خواتین وہاں کے بڑے زمینداروں کے حرم میں موجود تھیں (واریکو 1989 ء:104)۔ ان میں زیادہ تر کا تعلق ان ہی کے دادا سلیمان شاہ کے بھیجے ہوئے غلاموں میں سے ہوگا۔

چترال پر سردار نظام الملک کے دورِ حکومت میں آپ 1893ءمیں گلگت سے چترال میں جاسوسی کے غرض سے آئے اور یہاں سے کافی سارا سیاسی مواد گلگت میں سرجارچ رابرٹسن کے پاس لے گئے۔ ان تمام مواد کو رابرٹسن نے چترال پر اپنی خفیہ رپورٹ میں شامل کیا اور “سیکریٹ رپورٹ اِن چترال” کے نام سے اپنے بالائی حکام کو بھیجا۔ اس رپورٹ میں چترال میں اہم شخصیات کے نام اور ان قابلیت کے بارے لکھا گیا تھا۔ اس رپورٹ میں خوش وقت نے چترال کی سیاست کے حوالے سے پیشن گوئیاں بھی کی تھی۔1893ء میں ان کی چند پیشن گوئیوں درج ذیل تھیں،

۔ مہتر سردار نظام الملک کو سارے لوگ چھوڑیں گے سوائے بہادر خان، عنایت خان، بہادر شاہ، وفادار خان، خوشبوئی، عبداللہ خان وغیرہ کے۔ باقی تمام لوگ اُن کے چچا شیرافضل کے چترال دوبارہ آنے کی صورت میں ان کا ساتھ دیں گے۔ تمام مُلا حضرات بھی شیر افضل کا ساتھ دیں گے۔
۔ سردار نظام الملک کے مخالفین کا تذکراہ کرتے ہوئے ان کی فہرست ترتیب دی جس میں نعرہ جنگ، محمد لطیف خان، معظم خان، عبدالرحمن، شمس پناہ، گل بہار شاہ اور محمد رافیع وغیرہ شامل تھے۔ انہوں نے مخالفین کی تعداد 120 سے 200 کے درمیان بتائی۔
۔ شاہ خوش وقت نے سردار نظام الملک کے غیر مقبول ہونے کی وجوہات بھی بیان کی ہے۔
۔ ان کی پیشن گوئی تھی کہ سردار نظام الملک اپنے مخالفین کے ہاتھوں قتل ہوں گے۔ یہ سچ ثابت ہوئی۔ مخالفوں کی سرپرستی خان عمرا خان جندولی کریں گے۔ یہ بھی درست ثابت ہوئی۔

۔ شہزادہ شیر افضل خان اور ان کے حمایتوں اور چترال ملاؤں کے ان ساتھ تعلقات کا بھی ذکر کیا۔
اوپر بیان کی گئی پیشن گوئیوں میں سے اکثر 1895ء میں صحیح ثابت ہوئیں۔

یکم جنوری 1895ء میں جب مہتر نطام الملک قتل کے گئے تو شاہ خوش وقت دوبارہ چترال آئے اور بروز گاؤں میں جنگ کے خاتمے تک قیام کیا۔ ان کی ایک بہن کی چترال کے گاؤں بروز میں شادی ہوئی تھی۔ جنگ کے دوران عمرا خان اور شیر افضل کے افواج کے مکمل جاسوسی کرتے رہے۔ ان پر کسی نے بھی شک نہیں کیا کہ یہ حکومت برطانیہ کا جاسوس ہے۔ چترال میں قیام کے دوران محمد والی بن میر والی اور شاہ خوش وقت کے درمیان شدید قسم کے رقابت موجود تھی۔ جس کا اظہار وہ دونوں مختلف محفلوں میں کرتے تھے (رابرڈسن 1893ء)۔ 1895ء کے بعد ان کی جاسوسی کی سرگرمیاں کیا رہیں اور ان کی زندگی کیسے بسر ہوئی، اس کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چل سکا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *