جب جہازوں کے ذریعے چترال آنے والی انگریز فوج کو راشن پہنچایا گیا

Picsart_23-04-08_16-50-34-380

پشاور سے چترال آنے والی انگریز فوج کو 1931 میں پہلی مرتبہ حکام نے ہوائی جہازوں کے ذریعے راشن پہنچانے کا فیصلہ کیا گیا۔ پشاور سے چترال کا راستہ دشوار گزار تھا اس لیے سڑک کے ذریعے سامان لے جانا ایک مشکل امر تھا۔ ہوائی جہازوں کے ذریعے چترال جیسے دور دراز علاقے میں راشن پہنچانا ایک نیا تجربہ تھا۔

اس آپریشن میں رائل ائیرفورس کے کل 14 جہاز بروئے کار لائے گئے جن میں ویسٹ لینڈ واپیٹی بائی پلین شامل تھے۔ ہر روز یہ جہاز 56 پیراشوٹوں سے بندھے خوراک لے کر فوجی قافلے کے پڑاؤ کے اوپر پہنچتے۔ نیچے قافلے نے پہلے ہی سے ایک ڈراپنگ ایریا کا تعین کر دیا ہوتا تھا جہاں سامان گرائے جاتے تھے۔ یہ آپریشن کامیابی سے مکمل ہوئی اور کل 3 ٹن ضروری سامان جہازوں سے پیراشوٹ کے ساتھ باندھ کر نیچے فوج کو پہنچایا گیا۔

اس آپریشن کی خبر نیو یارک ٹائمز میں 29 مارچ 1931 کو چھپی تھی جس کا عکس پیشِ خدمت ہے

1 thought on “جب جہازوں کے ذریعے چترال آنے والی انگریز فوج کو راشن پہنچایا گیا”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *