پولو کوچ صوبیدار محمد ایاز
تحریر: معیز الدین بہرام
لوگ اچھے ہیں بہت دل میں اتر جاتے ہیں
اک برائی ہے تو بس یہ ہے کہ مر جاتے ہیں۔
(رئیس فروغ)
سن 1942 میں ریاستِ چترال کی تاریخی اور مرکزی قلعہ سے ملحقہ معروف محلہ زرگراندہ میں آنکھ کھولنے والے ریٹائرڈ صوبیدار چترال سکاؤٹس محمد ایاز ابن صوبیدار محمود خان ابن دیوان بیگی فیروزہ ابن دیوان بیگی ہزارہ بیگ، 14رمضان المبارک، 5 اپریل 2023 بروز بدھ صبح تقریباً 11 بجے طویل علالت کے بعد 81 سال کی عمر پاکر انتقال کر گئے اور اپنے لاکھوں چاہنے والوں کو داغِ مفارقت دے گئے۔
آپ کے نام سے چترال اور گلگت بلتستان میں کون واقف نہیں؟ آپ اپنے انتہائی معتبر خاندانی شجرہ سے کہیں بڑھ کر چترال اور گلگت بلتستان میں کھیلے جانے والے منفرد، قدیم اور ابتدائی طرز کی پولو کے نہ صرف کھلاڑی تھے بلکہ ایک تجربہ کار گُھڑ سوار، شہسوار اور استاد یعنی پولو کوچ ہونے کے حوالوں سے جانے اور پہچانے جاتے تھے۔
آپ اس زمانے میں چترال شہر میں موجود واحد سرکاری اسکول سے آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد مکمل یکسوئی سے پولو کی طرف راغب ہوئے۔ سن 1960 میں 18 سال کی عمر میں آپ نے پولو سیکھنا اور کھیلنا شروع کیا۔ چونکہ پولو کئی پشتوں سے اپ کے گھر کا کھیل تھا لھذٰا ایک اچھا کھلاڑی بننے میں آپ کو زیادہ دیر نہیں لگا۔ ابتدائی تربیت اپنے والد سے حاصل کی۔ سن 1965 میں اس وقت کی کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس نے آپ کی پھرتی اور جارحانہ انداز (جوکہ فری سٹائل پولو کھیلنے والوں کا خاصا ہے) سے متاثر ہوکر آپ کو چھاؤنی بلایا اور چترال سکاؤٹس میں بھرتی کی۔ سن 1966میں آپ نے شندور میں اپنا پہلا پولو میچ گلگت کے ناردرن لائٹ اِن فنٹری کے خلاف کھیلا۔ سن 1967میں آپ سیلیکٹ ہوکر چترال ٹیم میں شامل ہوئے اور گلگت کے خلاف پھنڈر میں کھیلنے گئے اور مین آف دی میچ قرار پائے۔ آپ شندور میں کھیلے گئے اپنے کیرئر کے متعدد میچز کے علاوہ چترال اپر/لوئر میں موجود تقریباً تمام فعال پولوگراؤنڈز، چترال سٹی، دروش، آیون، پریئت، ریشن، بونی،سنوغُر، مستوج، ہرچین لاسپور، سورواخت، زانگ لشٹ، کھوت اور شندور پار، ٹیرو، پھنڈر اور گلگت کے بڑے بڑے پولو گراؤنڈز میں اپنے کھیل کے جوہر دکھائے۔
چترال سکاؤٹس میں اپنی ملازمت سے بھرپور فائدہ اٹھاکر آپ نے فری سٹائل پولو کے علاوہ انٹرنیشل پولو میں بھی دلچسپی لینے لگے۔ اس طرح چترال سکاؤٹس کی جانب سے اپ ملکی سطح پر منعقد ہونے والے مختلف پولو ایونٹ میں حصہ لینے والے پہلے چترالی پولو پلیئر بن گئے۔
آپ کو پنڈی، لاہور، کراچی، نوشہرہ، پشاور، پارہ چنار کے پولو گراؤنڈز میں بطورِ کھلاڑی اور رزمک میں بطورِ ٹیم کیپٹین کھیل کر جیتنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ چترال سکاؤٹس کی طرف سے کھیل کر ڈسٹرکٹ پولو کپ کے فائنل میں پی۔آئی۔اے کی ٹیم کے خلاف اور ڈیوک آف ایڈنبرا کی چترال آمد کے موقع پر چترال ٹیم کی طرف سے کھیل کر چترال سکاؤٹس کی ٹیم کے خلاف شو میچ میں اپنی جیت کو اپنی زندگی کے سب سے یادگار کھیلوں میں شمار کرتے تھے۔
آپ نے اپنے کیرئیر کے آخری دو میچز ستمبر/ اکتوبر 2009 میں چترال کے شاہی پولو گراؤنڈ میں پریکٹس سیزن کے دوران کھیلا۔ مذکورہ دو میچز میں مجھ ناچیز کو بھی اپ کے ساتھ گرؤنڈ میں کھیلنے کا موقع ملا جوکہ میرے لئے اعزاز سے کم نہیں۔ پولو سے ریٹائرمنٹ کے بعد آپ تا دم مرگ ڈسٹرکٹ پولو کوچ کے اہم منصب پر فائز رہے۔ ان سب باتوں سے ہٹ کر آپ نہایت ملنسار، خوش طبع اور بزلہ سنج شخصیت کے مالک تھے، آپ صحیح معنوں میں کھو ثقافت کے امین تھے، خود داری میں آپ کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ شکر بجا لانا آپ کے نمایاں اوصاف میں شامل تھا ہر حال میں خوش رہنا گویا آپ اپنا فرض سمجھتے تھے۔ اپنے چاہنے والوں اور دوستوں کی فہرست گنواتے تو شھزادہ سکندرالملک ، ناصر میکی زرگراندہ، شاہ عظمت میکی زرگراندہ، پہلوان بہادر میکی مرحوم زرگراندہ، چیئرمین شوکت علی استاز گولدور ایڈوکیٹ ولی الرحمٰن میکی مرحوم کوغذی، دیوان بیگی ریاض احمد شالدین اور الطاف علی شاہ بَلَچ کو کھبی نہیں بھولتے تھے۔
آپ بابائے پولو لال عمرا خان کے فرزند استاد مظفر علی خان کو چترال میں پولو کے استاد مانتے تھے۔ موجوانوں میں شھزاد احمد شاہ جی، اظہار علی خان اور شجاع الحق اپ کے پسندیدہ کھلاڑی تھے جبکہ اپ کے اپنے بیٹے شان احمد ، نصیر احمد اور سنگین احمد کا شمار بھی چترال کے اچھے کھلاڑیوں میں ہوتا ہے۔
چترال پولو ایسوسی ایشن کو پولو کے لئے آپ کی گران قدر خدمات پر ہمیشہ فخر رہے گی۔ آپ کی نماز جنازہ شاہی مسجد چترال کے سبزہ زار میں ادا کی گئی۔ اللہ اپ کی کامل مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے، اور پسماندگان کو صبرِ جمیل سے نوازے۔ آمین

معیز الدین بہرام
یہ بھی پڑھئے: صوبیدار محمد ایاز خان