سنہ 74ء میں گورنر صوبہ سرحد کا دورہ بونی
ڈاکٹر محبوب حسین
سن 1974 میں میں اسلامیہ کالج پشاور سے ایف ایس سی کا امتحان دیکر نتائج کے انتظار میں گھر میں چھٹیاں منا رہا تھا۔ اگست کے آخری دنوں میں چترال اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن پشاور یونیورسٹی کے صدر جناب اجمل خان کا ایک خط ملا جس کے ساتھ کچھ ضروی دستاویزات منسلک تھیں۔
مجھے کہا گیا تھا کہ گورنر سرحد بونی تشریف لارہے ہیں آپ ایسوسی ایشن کے مطالبات لیکر گورنر صاحب سے ملاقات کریں۔ میں آوی کے اپنے سینئیر شیر قیوم کو ساتھ لیکر اے سی بونی جناب معراج الدین صاحب سے گورنر صاحب کے ملاقات کا وقت مانگا جو انہوں نے بخوشی دے دی۔
مقررہ دن ہم بنگلہ بونی ڈوک پہنچے۔ بونی کے معتبرات وزیر حیدر احمد کی قیادت میں موجود تھے۔ گورنر میجر جنرل سید غواث تشریف لائے۔ تعارف ہوا تو انہوں نے ہماری بڑی عزت افزائی کی۔ ہمیں اپنے ساتھ کی سیٹ پر بیٹھایا اور اپنے اے ڈی سی سے یہ کہہ کر ہمارا تعارف کیا یہ آپ کے کولیگ ہیں۔ وہ آرمی کے کیپٹن تھے لیکن یونیفارم میں نہیں تھے۔ ہمارے مطالبات کو سن کر تقریباً سب کی منظوری دی جس میں جاگیر فنڈ، دوسرے سکالر شپ اور مختلف کالجز اور ڈیپارٹمنٹ میں مخصوص سیٹوں میں اضافہ شامل تھا۔
عوام کی طرف سے سیکریٹری افضل علی صاحب نے نہایت خوبصورت سپاس نامہ پیش کیا۔ دیگر زعما نے علاقے کے مسائل کے حل پر زور دیا جن میں سرفہرست ضلع اپر چترال کی بحالی، ہسپتال، کالج، بجلی گھر، روڈ اور نہرِ شُپیشون قابل ذکر تھے۔ اے سی صاحب نے مقامی پھل پیش کیے اور اس طرح یہ تقریب اختتام پذیر ہوئی۔